” میں قریب ہوں۔ “ پکارنے والا جب بھی مجھے پکارے میں اس کی پکار سنتا ہوں۔ کیا نرمی ہے ؟ ذرا نظرکرم ملاحظہ ہو ؟ الفاظ و معانی کی صفائی دیکھو ! انس و محبت دیکھو ! روزے کی تکالیف کیا ۔ بلکہ تمام عبادات کی تکالیف مشقتیں اس قریب و محبت کے مقابلے میں کہاں رہتی ہیں ؟ اس انس اور محبت کے ٹھنڈے سایے میں احساس مشقت کہاں باقی رہتا ہے ؟
اس آیت کے لفظ لفظ پر انس و محبت کی تازہ شبنم ہے ۔” میرے بندے ! اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں تو انہیں بتادیجئے کہ میں تو ان سے قریب ہوں پکارنے والا جب پکارتا ہے تو میں اس کی پکارسنتا ہوں اور جواب دیتا ہوں ۔ “ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
عجیب آیت ہے یہ ! دل مومن کو میٹھی تازگی ، خوشگوار محبت ، پرسکوں ورضامندی اور یقین محکم سے بھردیتی ہے ۔ مومن تسلیم ورضا کی جنت میں پہنچ جاتا ہے ۔ اسے پر شفقت وصال نصیب ہوتا ہے ۔ وہ پرامن پناہ گاہ اور پرسکون آرام گاہ میں پہنچ جاتا ہے انس و محبت کی اس فضا میں پرجوش باریابی کے اس ماحول میں اور الہامی قبولیت کے اس پس وپیش میں ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہدایت فرماتے ہیں کہ وہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ ایمان اور یہ اطاعت انہیں راہ ہدایت اور راہ مستقیم پر پہنچادے ۔ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ
” لہٰذا انہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لے آئیں شاید وہ راست پالیں ۔ “
تسلیم ورضا اور ایمان باللہ کا آخری فائدہ بھی بندوں کا ہے یعنی ہدایت و راہنمائی اور اصلاح حال ۔ خود اللہ کو ایمان اور بندگی سے کیا فائدہ ۔ وہ تو دونوں جہانوں سے مستغنی ہے ۔
غرض ہدایت وہی ہے جو اللہ پر ایمان اور اللہ کی اطاعت پر مبنی ہو۔
صرف اسلامی نظام ہی انسان کو راہ ہدایت دے سکتا ہے اور اسلامی نظام ہی صحیح راہ ہے ۔ اس کے علاوہ تمام نظام عین جاہلیت ہیں۔ عین حماقت ہیں ۔ کوئی حق پسند ان پر راضی نہیں ہوسکتا ۔ نہ ان نظاموں کے ذریعے انسان راہ ہدایت پاسکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمان برداری بھی تب ہی ممکن ہے کہ جب لبیک کہنے والا راہ ہدایت پر ہو ۔ متلاشیان راہ حق کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو پکاریں ، لیکن قبولیت دعا میں جلدی نہ کریں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی حکیمانہ مصلحتوں کے مطابق اور ہر پکار کا جواب اپنے وقت اور مناسب انداز میں دیتے ہیں ۔
ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ نے ابن میمون کی حدیث اپنی سند کے ساتھ حضرت سلمان فارسی ؓ سے روایت کی ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ کے سامنے اگر کوئی ہاتھ پھیلائے اور اللہ سے خیر کا طلب گار ہو تو اللہ تعالیٰ ان ہاتھوں کو نامراد لوٹانے سے بہت حیاء کرتے ہیں ۔ “
ترمذی نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن کے ذریعہ سے ابن ثوبان کی حدیث اپنی سند سے اور اسی حدیث کو عبداللہ بن امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبادہ ابن الصامت سے روایت کیا ہے ۔ دونوں نے کہا کہ رسول ﷺ نے فرمایا :” اس روئے زمین پر جو شخص بھی اللہ کو پکارے اور کوئی خیر طلب کرے ، اللہ تعالیٰ یا تو اس کو وہ چیز عطا کردیتا ہے یا اس مطلوب کے مطابق اس سے کوئی درپیش آنے والی مصیبت کو دور کردیتا ہے بشرطیکہ وہ کسی بری چیز یا قطع صلہ رحمی کا طالب نہ ہو۔ “
بخاری ومسلم نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہاری دعا قبول نہ ہوگی بشرطیکہ تم نے جلد بازی نہ کی ۔ مثلاً کوئی کہے :” میں نے تو اللہ کو بہت پکارا مگر میری دعا قبول نہ کی گئی۔ “
صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” بندے کی دعا ضرور قبول ہوگی بشرطیکہ وہ گناہ قطع رحمی کا طلب گار نہ ہو اور جلد بازی نہ کرے ۔ صحابہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ! جلد بازی کیسے ہوتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :” یہ کہے کہ میں نے بار بار اللہ کو پکارا ، مجھے یقین نہیں ہے کہ میری دعاق قبول ہوگی ۔ یوں وہ دعاچھوڑ کر خسارے میں پڑجائے۔ “
روزہ دار تو ہوتا ہی مستجاب الدعوات ہے ۔ امام ابوداؤد (رح) اپنی مسند میں ، اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں ۔ فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا ہے کہ ” افطار کے وقت ہر روزہ دار ایک دعا کی قبولیت کا حق دار ہوتا ہے۔ “ چناچہ عبداللہ بن عمر ؓ جب بھی افطار کرتے تو اہل خاندان کو بلاتے اور دعا کرتے۔
ابن ماجہ نے اپنے سنن میں اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن عمررضی اللہ سے روایت کی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” ہر روزہ دار کے لئے افطار کے وقت ایک دعا کی قبولیت کا حق ہے۔ “
مسند احمد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت فرمائی ہے ۔ فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” تین افراد ایسے ہیں جن کی دعا مسترد نہیں ہوتی ۔ امام عادل ، روزہ دار یہاں تک کہ افطار کرے اور مظلوم کی پکار ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے بادلوں کے اوپر اٹھائے گا اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا :” میری عزت کی قسم میں ضرور تمہاری امداد کروں گا اگرچہ قدرے دیر سے ۔ “ یہی وجہ ہے کہ ذکر صیام میں دعا کا ذکر خصوصیت سے کیا گیا ہے۔
اب اہل ایمان کے لئے رواے کے ضروری احکام بیان کردیئے جاتے ہیں ۔ روزہ دار کو اس بات کی اجازت مل جاتی ہے کہ ماہ رمضان میں مغرب سے لے کر طلوع فجر تک اپنی بیویوں کے پاس جاسکتے ہیں ، اسی طرح اس عرصہ میں کھانا بھی کھاسکتے ہیں ۔ روزے کا وقت بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک ہے ۔ اسی طرح مدت اعتکاف کے دوران بیویوں کے پاس جانے کا حکم بھی دے دیا جاتا ہے ۔
آیت 186 وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ط میرے نزدیک یہ دنیا میں حقوق انسانی کا سب سے بڑا منشور Magna Carta ہے کہ اللہ اور بندے کے درمیان کوئی فصل نہیں ہے۔ فصل اگر ہے تو وہ تمہاری اپنی خباثت ہے۔ اگر تمہاری نیت میں فساد ہے کہ حرام خوری تو کرنی ہی کرنی ہے تو اب کس منہ سے اللہ سے دعا کرو گے ؟ لہٰذا کسی پیر کے پاس جاؤ گے کہ آپ دعا کردیجیے ‘ یہ نذرانہ حاضر ہے۔ بندے اور خدا کے درمیان خود انسان کا نفس حائل ہے اور کوئی نہیں ‘ ورنہ اللہ تعالیٰ کا معاملہ تو یہ ہے کہ : ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں راہ دکھلائیں کسے ‘ راہ رو منزل ہی نہیں !اس تک پہنچنے کا واسطہ کوئی پوپ نہیں ‘ کوئی پادری نہیں ‘ کوئی پنڈت نہیں ‘ کوئی پروہت نہیں ‘ کوئی پیر نہیں۔ جب چاہو اللہ سے ہم کلام ہوجاؤ۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے : کیوں خالق و مخلوق میں حائل رہیں پردے ؟پیران کلیسا کو کلیسا سے اٹھا دو !اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے کہ میرا ہر بندہ جب چاہے ‘ جہاں چاہے مجھ سے ہم کلام ہوسکتا ہے۔ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ لا اجابت کے مفہوم میں کسی کی پکار کا سننا ‘ اس کا جواب دینا اور اسے قبول کرنا ‘ یہ تینوں چیزیں شامل ہیں۔ لیکن اس کے لیے ایک شرط عائد کی جا رہی ہے : فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ یہ یک طرفہ بات نہیں ہے ‘ بلکہ یہ دو طرفہ معاملہ ہے۔ جیسے ہم پڑھ چکے ہیں : فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ پس تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا تم میرا شکر کرو گے تو میں تمہاری قدردانی کروں گا۔ تم میری طرف چل کر آؤ گے تو میں دوڑ کر آؤں گا۔ تم بالشت بھر آؤ گے تو میں ہاتھ بھر آؤں گا۔ لیکن اگر تم رخ موڑ لو گے تو ہم بھی رخ موڑ لیں گے۔ ہماری تو کوئی غرض نہیں ہے ‘ غرض تو تمہاری ہے۔ تم رجوع کرو گے تو ہم بھی رجوع کریں گے۔ تم توبہ کرو گے تو ہم اپنی نظر کرم تم پر متوجہ کردیں گے۔ سورة محمد ﷺ میں الفاظ آئے ہیں : اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ یَنْصُرْکُمْ آیت 7 اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔ لیکن اگر تم اللہ کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھاؤ ‘ ان کے ساتھ تمہاری ساز باز ہو اور کھڑے ہوجاؤ قنوت نازلہ میں اللہ سے مدد مانگنے کے لیے تو تم سے بڑا بیوقوف کون ہوگا ؟ پہلے اللہ کی طرف اپنا رخ تو کرو ‘ اللہ سے اپنا معاملہ تو درست کرو۔ اس میں یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ پہلے ولی کامل بن جاؤ ‘ بلکہ اسی وقت خلوص نیت سے توبہ کرو ‘ سارے پردے ہٹ جائیں گے۔ آیت کے آخر میں فرمایا :لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ ۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے اور اس کے احکام پر چلنے کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ وہ رشد و ہدایت کی راہ پر گامزن ہوجائیں گے۔
دعا اور اللہ مجیب الدعوات ایک اعرابی نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ہمارا رب قریب ہے ؟ اگر قریب ہو تو ہم اس سے سرگوشیاں کرلیں یا دور ہے ؟ اگر دور ہو تو ہم اونچی اونچی آوازوں سے اسے پکاریں، نبی ﷺ خاموش رہے اس پر یہ آیت اتری (ابن ابی حاتم) ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ ؓ کے اس سوال پر کہ ہمارا رب کہاں ہے ؟ یہ آیت اتری (ابن جریر) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جب آیت (رَبُّكُمُ ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ) 40۔ غافر :60) نازل ہوئی یعنی مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کرتا رہوں گا تو لوگوں نے پوچھا کہ دعا کس وقت کرنی چاہئے ؟ اس پر یہ آیت اتری (ابن جریج) حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے ہر بلندی پر چڑھتے وقت اور ہر وادی میں اترتے وقت بلند آوازوں سے تکبیر کہتے جا رہے تھے نبی ﷺ ہمارے پاس آکر فرمانے لگے لوگو ! اپنی جانوں پر رحم کرو تم کسی کم سننے والے یا دور والے کو نہیں پکار رہے بلکہ جسے تم پکارتے ہو وہ تم سے تمہاری سواریوں کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس ! سن لو ! جنت کا خزانہ لاحول ولاقوۃ الا باللہ ہے (مسند احمد) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ میرے ساتھ جیسا عقیدہ رکھتا ہے میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرتا ہوں جب بھی وہ مجھ سے دعا مانگتا ہے میں اس کے قریب ہی ہوتا ہوں (مسند احمد) حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جب مجھے یاد کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر میں ہلتے ہیں میں اس کے قریب ہوتا ہوں اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔ اس مضمون کی آیت کلام پاک میں بھی ہے فرمان ہے آیت (اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ) 16۔ النحل :128) جو تقویٰ واحسان وخلوص والے لوگ ہوں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے، حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) سے فرمایا جاتا ہے آیت (اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى) 20۔ طہ :46) میں تم دونون کے ساتھ ہوں اور دیکھ رہا ہوں، مقصود یہ ہے کہ باری تعالیٰ دعا کرنے والوں کی دعا کو ضائع نہیں کرتا نہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ اس دعا سے غافل رہے یا نہ سنے اس نے دعا کرنے کی دعوت دی ہے اور اس کے ضائع نہ ہونے کا وعدہ کیا ہے، حضرت سلمان فارسی ؓ فرماتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا بندہ جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ بلند کر کے دعا مانگتا ہے تو وہ ارحم الراحمین اس کے ہاتھوں کو خالی پھیرتے ہوئے شرماتا ہے (مسند احمد) حضرت ابو سعید خدر ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسی دعا کرتا ہے جس میں نہ گناہ ہو نہ رشتے ناتے ٹوٹتے ہوں تو اسے اللہ تین باتوں میں سے ایک ضرور عطا فرماتا ہے یا تو اس کی دعا اسی وقت قبول فرما کر اس کی منہ مانگی مراد پوری کرتا یا اسے ذخیرہ کر کے رکھ چھوڑتا ہے اور آخرت میں عطا فرماتا ہے یا اس کی وجہ سے کوئی آنے والی بلا اور مصیبت کو ٹال دیتا ہے، لوگوں نے یہ سن کر کہا کہ حضور ﷺ پھر تو ہم بکثرت دعا مانگا کریں گے آپ ﷺ نے فرمایا پھر اللہ کے ہاں کیا کمی ہے ؟ (مسند احمد) عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ روئے زمین کا جو مسلمان اللہ عزوجل سے دعا مانگے اسے اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے یا تو اسے اس کی منہ مانگی مراد ملتی ہے یا ویسی ہی برائی ٹلتی ہے جب تک کہ گناہ کی اور رشتہ داری کے کٹنے کی دعا نہ ہو (مسند احمد) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک کوئی شخص دعا میں جلدی نہ کرے اس کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے جلدی کرنا یہ کہ کہنے لگے میں تو ہرچند دعا مانگی لیکن اللہ قبول نہیں کرتا (موطا امام مالک) بخاری کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اسے ثواب میں جنت عطا فرماتا ہے، صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ نامقبولیت کا خیال کر کے وہ ناامیدی کے ساتھ دعا مانگنا ترک کرے دے یہ جلدی کرنا ہے، ابو جعفر طبری کی تفسیر میں یہ قول حضرت عائشہ ؓ کا بیان کیا گیا ہے حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دل مثل برتنوں کے ہیں بعض بعض سے زیادہ نگرانی کرنے والے ہوتے ہیں، اے لوگوں تم جب اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرو تو قبولیت کا یقین رکھا کرو، سنو غفلت والے دل کی دعا اللہ تعالیٰ ایک مرتبہ بھی قبول نہیں فرماتا (مسند احمد) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ایک مرتبہ حضور ﷺ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے دعا کی کہ الہ العالمین ! عائشہ کے اس سوال کا کیا جواب ہے ؟ جبرائیل ؑ آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے مراد اس سے وہ شخص ہے جو نیک اعمال کرنے والا ہو اور سچی نیت اور نیک دلی کے ساتھ مجھے پکارے تو میں لبیک کہہ کر اس کی حاجت ضرور پوری کردیتا ہوں (ابن مردویہ) یہ حدیث اسناد کی رو سے غریب ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا اے اللہ تو نے دعا کا حکم دیا ہے اور اجابت کا وعدہ فرمایا ہے میں حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے لاشریک اللہ میں حاضر ہوں حمد و نعمت اور ملک تیرے ہی لئے ہے تیرا کوئی شریک نہیں میری گواہی ہے کہ تو نرالا یکتا بےمثل اور ایک ہی ہے تو پاک ہے، بیوی بچوں سے دور ہے تیرا ہم پلہ کوئی نہیں تیری کفو کا کوئی نہیں تجھ جیسا کوئی نہیں میری گواہی کہ تیرا وعدہ سچا تیری ملاقات حق جنت ودوزخ قیامت اور دوبارہ جینا یہ سب برحق امر ہیں (ابن مردویہ) حضرت انس ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے اے ابن آدم ! ایک چیز تو تیری ہے ایک میری ہے اور ایک مجھ اور تجھ میں مشترک ہے خالص میرا حق تو یہ ہے کہ ایک میری ہی عبادت کرے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ گویا میرے لیے مخصوص یہ ہے کہ تیرے ہر ہر عمل کا پورا پورا بدلہ میں تجھے ضرور دوں گا کسی نیکی کو ضائع نہ کروں گا مشترک چیز یہ ہے کہ تو دعا کر اور میں قبول کروں تیرا کام دعا کرنا اور میرا کام قبول کرنا (بزار) دعا کی اس آیت کو روزوں کے احکام کی آیتوں کے درمیان وارد کرنے کی حکمت یہ ہے کہ روزے ختم ہونے کے بعد لوگوں کو دعا کی ترغیب ہو بلکہ روزہ افطار کے وقت وہ بکثرت دعائیں کیا کریں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ روزے دار افطار کے وقت جو دعا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ افطار کے وقت اپنے گھر والوں کو اور بچوں کو سب کو بلا لیتے اور دعائیں کیا کرتے تھے (ابوداود طیالسی) ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے اور اس میں صحابی کی یہ دعا منقول ہے دعا اللہم انی اسألک برحمتک اللتی وسعت کل شئی ان تغفرلی یعنی اے اللہ میں تیری اس رحمت کو تجھے یاد دلا کر جس نے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے گناہ معاف فرما دے اور حدیث میں تین شخصوں کی دعا رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ، روازے دار اور مظلوم اسے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ بلند کرے گا مظلوم کی بددعا کے لئے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری مدد ضرور کروں گا گو دیر سے کروں (مسند، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ)