وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ” یہ گنتی کے چند روز ہیں جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہئیں ۔ پھر جو کوئی جلدی کرے دوہی دن میں واپس ہوگیا تو کوئی حرج نہیں ، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھہر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں ۔ بشرطیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کئے ہوں۔ اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے ۔ “
راجح بات یہ ہے کہ ایام ذکر یوم عرفہ ، یوم نحر اور پھر ایام تشریق ہیں ۔ ابن عباس ؓ عنہمافرماتے ہیں کہ ایام معدودات سے مراد ایام تشریق ہیں ۔ عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ معدود دنوں میں ذکر سے مراد تکبیریں ہیں جو ایام تشریق میں ہر فرض نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں ۔ اللہ اکبر ، اللہ اکبر ۔ پہلے ہم عبدالرحمن بن معمر دیلمی کی حدیث نقل کر آئے ہیں کہ ” منیٰ کے دن تین ہیں ۔ اب اگر کوئی دوہی دنوں میں شتاب واپس ہوگیا تو بھی کوئی حرج نہیں ہے اور اگر کوئی تاخیر کرکے پورے وقت کے بعد آئے تو بھی کوئی حرج نہیں ۔ غرض عرفہ ، حج اور ایام تشریق سب میں مناسب ہے کہ اللہ کا ذکر زیادہ سے زیادہ ہو ، چاہے ان میں پہلے دونوں کو منتخب کیا جائے یا دوسرے دو دنوں کو ، لیکن ہر معاملے میں اللہ خوفی اور پرہیز گاری پیش نظر رہے۔” بشرطیکہ یہ دن تقویٰ کے ساتھ بسر کئے۔ “ لِمَنِ اتَّقَى۔
حج کی گہماگہمی کی مناسبت سے ، اب یہاں یوم حشر کا ذکر کیا گیا جہاں تمام مخلوق حساب و کتاب کے لئے جمع ہوگی ۔ وہاں ایک خوفناک منظر ہوگا لہٰذا اس مقام کی تیاری کرو اور پرہیزگاری کا راستہ اختیار کرو وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ” اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے۔ “
ان آیات کے مطالعے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عربوں کے مروجہ حج کو کس طرح ایک اسلامی فریضہ قرار دیا۔ اس کا ربط جاہلیت کے پس منظر سے ٹوٹ گیا ۔ اب وہ اسلامی زندگی کا ایک جزو بن گیا ۔ اسے بداخلاقیوں اور گندگیوں سے پاک کردیا ۔ اسلام نے زندگی کے تمام معاملات میں یہی طریقہ اختیار کیا ہے ، جس رسم ، جس عبادت کو بھی باقی رکھا ہے اسے جاہلیت کے شوائب سے پاک کرکے رکھا ہے ۔ اس کی وہ شکل بدل گئی ہے جو ایام جاہلیت میں ہوا کرتی تھی ۔ یوں نظر آتا ہے جیسا کہ جدید لباس میں ایک موزوں ٹکڑا۔ اب حج معروف معنوں میں اہل عرب کا ایک عادی اور رسمی فعل نہ رہا بلکہ اب وہ ایک اسلامی عبادت قرار دے دی گئی ہے کیونکہ اب اسلام ہی معیار ہے۔ اسلام کو ہی یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی مفید رسم کو باقی رکھے۔
آیت 203 وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِیْ اَ یَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ ط اس سے مراد ذوالحجہ کی گیارہویں ‘ بارہویں اور تیرہویں تاریخیں ہیں جن میں یوم نحر کے بعد منیٰ میں قیام کیا جاتا ہے۔ اِن تین دنوں میں کنکریاں مارنے کے وقت اور ہر نماز کے بعد تکبیر کہنے کا حکم ہے۔ دیگر اوقات میں بھی ان دنوں میں تکبیر اور ذکر الٰہی کثرت سے کرنا چاہیے۔فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ ج۔ یعنی جو کوئی تین دن پورے نہیں کرتا ‘ بلکہ دو دن ہی میں واپسی اختیار کرلیتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔وَمَنْ تَاَخَّرَ یعنی منیٰ میں ٹھہرا رہے اور تین دن کی مقدار پوری کرے۔فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنِ اتَّقٰی ط۔ اصل چیز تقویٰ ہے۔ جو کوئی زمانۂ حج میں پرہیزگاری کی روش اختیار کیے رکھے تو اس پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ منیٰ میں دو دن قیام کرے یا تین دن۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا اجر محفوظ ہے۔ اگر کسی شخص نے منیٰ میں قیام تو تین دن کا کیا ‘ لیکن تیسرے دن اس نے کچھ اور ہی حرکتیں شروع کردیں ‘ اس لیے کہ جی اکتایا ہوا ہے اور طبیعت کے اندر ٹھہراؤ نہیں ہے تو وہ تیسرا دن اس کے لیے کچھ خاص مفید ثابت نہیں ہوگا۔ اصل شے جو اللہ کے ہاں قبولیت کے لیے شرط لازم ہے ‘ وہ تقویٰ ہے۔ آگے پھر فرمایا :وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّکُمْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ تم سب کے سب ہانک کر اسی کی جناب میں لے جائے جاؤ گے۔
ایام تشریق آیت (ایام معدودات) سے مراد ایام تشریق اور ایام معلومات سے مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں، ذکر اللہ سے مراد یہ ہے کہ ایام تشریق میں فرض نمازوں کے بعد اللہ اکبر اللہ اکبر کہیں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں عرفے کا دن قربانی کا دن اور ایام تشریق ہمارے یعنی اہل اسلام کی عید کے دن ہیں اور یہ دن کھانے پینے کے ہیں (احمد) اور حدیث میں ہے ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے ہیں (احمد) پہلے یہ حدیث بھی بیان ہوچکی ہے کہ عرفات کل ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایام تشریق سب قربانی کے دن ہیں، اور یہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے کہ منی کے دن تین ہیں دو دن میں جلدی یا دو دیر کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں، ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے کہ ایام تشریق کھانے اور ذکر اللہ کرنے کے دن ہیں، حضور ﷺ نے عبداللہ بن حذافہ ؓ کو بھیجا کہ وہ منی میں گھوم کر منادی کردیں کہ ان دنوں میں کوئی روزہ نہ رکھیں یہ دن کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے ہیں، ایک اور مرسل روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ مگر جس پر قربانی کے بدلے روزے ہوں اس کے لئے یہ زائد نیکی ہے، ایک اور روایت میں ہے کہ منادی بشر بن سحیم ؓ تھے اور حدیث میں ہے کہ آپ نے ان دنوں کے روزوں کی ممانعت فرمائی ہے ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی ؓ نے حضور ﷺ کے سفید خچر پر سوار ہو کر شعب انصار میں کھڑے ہو کر یہ حکم سنایا تھا، کہ لوگو یہ دن روزوں کے نہیں بلکہ کھانے پینے اور ذکر اللہ کرنے کے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ایام معدودات ایام تشریق ہیں اور یہ چار دن ہیں دسویں ذی الحجہ کی اور تین دن اس کے بعد کے یعنی دس سے تیرہ تک، ابن عمر، ابن زبیر، ابو موسیٰ ، عطاء مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، ابو مالک، ابراہیم نخعی، یحییٰ بن ابی کثیر، حسن، قتادہ، سدی، زہری، ربیع بن انس، ضحاک، مقاتل بن حیان، عطاء خراسانی، امام مالک وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں، حضرت علی ؓ فرماتے ہیں یہ تین دن ہیں دسویں گیارہویں اور بارہویں ان میں جب چاہو قربانی کرو لیکن افضل پہلا دن ہے مگر مشہور قول یہی ہے اور آیت کریمہ کے الفاظ کی ظاہری دلالت بھی اسی پر ہے کیونکہ دو دن میں جلدی یا دیر معاف ہے تو ثابت ہوا کہ عید کے بعد تین دن ہونے چاہئیں اور ان دنوں میں اللہ کا ذکر کرنا قربانیوں کے ذبح کے وقت ہے، اور یہ بھی پہلے بیان ہوچکا ہے کہ راجح مذہب اس میں حضرت امام شافعی کا ہے کہ قربانی کا وقت عید کے دن سے ایام تشریق کے ختم ہونے تک ہے، اور اس سے مراد نمازوں کے بعد کا مقررہ ذکر بھی ہے اور ویسے عام طور پر یہی اللہ کا ذکر مراد ہے، اور اس کے مقررہ وقت میں گو علماء کرام کا اختلاف ہے لیکن زیادہ مشہور قول جس پر عمل درآمد بھی ہے یہ ہے کہ عرفے کی صبح سے ایام تشریق کے آخر دن کی عصر کی نماز تک، اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی دار قطنی میں ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں واللہ اعلم، حضرت عمر ؓ اپنے خیمہ میں تکبیر کہتے اور آپ کی تکبیر پر بازار والے لوگ تکبیر کہتے ہیں یہاں تک کہ منی کا میدان گونج اٹھتا اسی طرح یہ مطلب بھی ہے کہ شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے وقت تکبیر اور اللہ کا ذکر کیا جائے جو ایام تشریق کے ہر دن ہوگا، ابو داود وغیرہ میں حدیث ہے کہ بیت اللہ کا طواف صفا مروہ کی سعی شیطانوں کو کنکریاں مارنی یہ سب اللہ تعالیٰ کے ذکر کو قائم کرنے کے لئے ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے حج کی پہلی اور دوسری واپسی کا ذکر کیا اور اس کے بعد لوگ ان پاک مقامات کو چھوڑ کر اپنے اپنے شہروں اور مقامات کو لوٹ جائیں گے اس لئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور یقین رکھو کہ تمہیں اس کے سامنے جمع ہونا ہے اسی نے تمہیں زمین میں پھیلایا پھر وہی سمیٹ لے گا پھر اسی کی طرف حشر ہوگا پس جہاں کہیں ہو اس سے ڈرتے رہا کرو۔