ھل ، کے لفظ کے ساتھ عربی میں ایسا سوال ہوتا ہے جس میں ناپسندیدگی کا اظہار بھی ہو۔ اس کے جواب میں وہ وجوہات بیان کی گئیں ہیں جن کی وجہ سے بعض مخالفین ، اسلام کو قبول کرنے میں پش وپیش کررہے ہیں اور پورے کے پورے اسلام میں داخل نہیں ہوتے ۔ وہ کیا وجہ ہے جس کی وجہ سے وہ اسلام کی اس دعوت کو قبول نہیں کرتے ؟ وہ کس چیز کا انتطار کررہے ہیں ۔ یہ اسی طرح بغیر کسی وجہ کے انتظار کرتے رہیں گے ، اور اللہ تعالیٰ بادلوں کا کا چتر لگائے آجائے گا۔ فرشتے آجائیں گے ؟ بالفاظ دیگر کیا یہ لوگ اس خوفناک دن کا انتظارکر رہے ہیں ۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے ہوئے آئیں گے اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے ہوں گے کوئی بات نہ کرے گا ۔ مگر وہ شخص جسے بات کی اجازت ہوگی اور وہ بات بھی درست کررہا ہوگا۔
اچانک ........ ہم اس تہدید آمیز سوال کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ گویا وہ دن پہنچ ہی گیا اور فیصلہ ہو ہی گیا ۔ معاملہ ختم ہی ہوگیا ۔ لوگوں کے سامنے اچانک وہ منظر آجاتا ہے ، جس سے انہیں ڈرایا جارہا تھا۔ جس کی طرف اشارہ ہورہا تھا۔ قُضِيَ الأمْرُ (” اور فیصلہ ہو ہی گیا) “ وقت کا دفتر لپیٹ کر رکھ دیا گیا ۔ فرصت کے اوقات ختم ہوگئے ۔ نجات مشکل ہوگئی ۔ اب تو گویا لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس اللہ کے سامنے جس کے آگے سارے معاملات کو پیش ہونا ہے : وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ ” تمام امور نے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے ۔ “
یہ قرآن مجید کا انوکھا انداز ہے ۔ تمام دوسری تقاریر اور تحریروں سے یہ انداز اسے امتیازی حیثیت دیتا ہے ۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید ، چند لمحوں کے اندر اندر کسی بھی منظر کو زندہ ومتحرک صورت میں پیش کرتا ہے ۔ انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ اس منظر کے سامنے کھڑا ہے اور وہ دیکھتا ہے ، سنتا ہے ، اور اپنی آنکھوں سے گویا اس منظر کا معائنہ کررہا ہے۔
کب تک یہ لوگ پیچھے رہیں گے اور اس سلامتی میں داخل نہ ہوں گے ۔ خوفناک دن ان کے انتظار میں ہے ۔ بلکہ وہ اچانک ان پر آنے ہی والا ہے ۔ اور سلامتی ان کے قریب ہے ۔ دنیا کی سلامتی اور آخرت کی سلامتی ، جس دن آسمان پر بادل پھٹے پھٹے ہوں گے اور فرشتے اتر رہے ہوں گے ۔ جس دن روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے ، کوئی نہ بولے گا سوائے اس کے جسے رحمان اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے ، وہ دن جب فیصلہ اللہ کرے گا ۔ وہ دیکھو گویا اس نے معاملات چکا دئیے اور سب معاملات کو آخر کار اللہ کے حضور پیش ہونا ہی ہے ۔ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ
اب اس اندازکلام میں اچانک ایک اور تبدیلی آتی ہے ۔ روئے سخن رسول اللہ ﷺ کی طرف جاتا ہے ۔ آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ ذرا بنی اسرائیل سے تو پوچھئے ، بنی اسرائیل ان لوگوں کے سرخیل تھے جو دعوت اسلامی کو قبول کرنے میں متردد تھے اور پس وپیش کرتے تھے ۔ اسی صورت میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے ” اللہ نے بیشمار واضح نشانیاں انہیں دکھائیں لیکن پھر بھی انہوں نے دعوت کو قبول نہ کیا۔ لیکن انہوں نے ایمان کی نعمت اور سلامتی کے مقابلے میں کفر کو اختیار کیا ۔ حالانکہ یہ انعامات بذریعہ رسول خود ان کے ہاں بھیجی گئیں تھیں۔ “
آیت 210 ہَلْ یَنْظُرُوْنَ الاَّ اَنْ یَّاْتِیَہُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآءِکَۃُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ ط یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح احکامات اور تنبیہات آجانے کے بعد بھی کج روی سے باز نہیں آتے تو کیا وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنا جلال دکھائے اور فرشتوں کی افواج قاہرہ کے ساتھ ظاہر ہو کر ان کا حساب چکا دے ؟انسان کا نفس اسے ایک تو یہ پٹی پڑھاتا ہے کہ دین کے اس حصے پر تو آرام سے عمل کرتے رہوجو آسان ہے ‘ باقی پھر دیکھا جائے گا۔ گویا میٹھا میٹھا ہپ اور کڑوا کڑوا تھو۔ دوسری پٹی یہ پڑھاتا ہے کہ ٹھیک ہے یہ بھی اللہ کا حکم ہے اور دین کا بھی تقاضا ہے ‘ لیکن ابھی ذرا ذمہ داریوں سے فارغ ہوجائیں ‘ ابھی ذرا بچوں کے معاملات ہیں ‘ بچے برسر روزگار ہوجائیں ‘ بچیوں کے ہاتھ پیلے ہوجائیں ‘ میں ریٹائرمنٹ لے لوں اور اپنا مکان بنا لوں ‘ پھر میں اپنے آپ کو دین کے لیے خالص کرلوں گا۔ یہ نفس کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔ اس طرح وقت گزرتے گزرتے انسان موت کی وادی میں چلا جاتا ہے۔ کیا معلوم موت کی گھڑی کب آجائے ! یہ مہلت عمر تو اچانک ختم ہوسکتی ہے۔ پوری دنیا کی قیامت بھی جب آئے گی اچانک آئے گی اور ہر شخص کی ذاتی قیامت تو اس کے سر پر تلوار کی طرح لٹکی ہوئی ہے۔ ازروئے حدیث نبوی ﷺ : مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ 25جو مرگیا تو اس کی قیامت تو آگئی !تو کیا تمہارے پاس کوئی گارنٹی ہے کہ یہ سارے کام کرلو گے اور یہ سارے کام کر چکنے کے بعد زندہ رہو گے اور تمہارے جسم میں توانائی کی کوئی رمق بھی باقی رہ جائے گی کہ دین کا کوئی کام کرسکو ؟ تو پھر تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو ؟ ہوسکتا ہے اچانک اللہ کی طرف سے مہلت ختم ہوجائے۔
تذکرہ شفاعت اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کفار کو دھمکا رہا ہے کہ کیا انہیں قیامت ہی کا انتظار ہے جس دن حق کے ساتھ فیصلے ہوجائیں گے اور ہر شخص اپنے کئے کو بھگت لے گا، جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (كَلَّآ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا) 89۔ الفجر :21) یعنی جب زمین کے ریزے ریزے اور تیرا رب خود آجائے گا اور فرشتوں کی صفیں کی صفیں بندھ جائیں گی اور جہنم بھی لا کر کھڑی کردی جائے گی اس دن یہ لوگ عبرت و نصیحت حاصل کریں گے لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ اور جگہ فرمایا آیت (هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ) 6۔ الانعام :158) یعنی کیا انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود اللہ تعالیٰ آئے یا اس کی بعض نشانیان آجائیں اگر یہ ہوگیا تو پھر انہیں نہ ایمان نفع دے نہ نیک اعمال کا وقت رہے، امام ابن جریر ؒ نے یہاں پر ایک لمبی حدیث لکھی ہے جس میں صور وغیرہ کا مفصل بیان ہے جس کے راوی حضرت ابوہریرہ مسند وغیرہ میں یہ حدیث ہے اس میں ہے کہ جب لوگ گھبرا جائیں گے تو انبیاء (علیہم السلام) سے شفاعت طلب کریں گے حضرت آدم ؑ سے لے کر ایک ایک پیغمبر کے پاس جائیں گے اور وہاں سے صاف جواب پائیں گے یہاں تک کہ ہمارے نبی اکرم ﷺ سے لے کر ایک ایک پیغمبر کے پاس جائیں گے اور وہاں سے صاف جواب پائیں گے یہاں تک کہ ہمارے نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچیں گے آپ جواب دیں گے میں تیار ہوں میں ہی اس کا اہل ہوں، پھر آپ جائیں گے اور عرش تلے سجدے میں گرپڑیں گے اور اللہ تعالیٰ سے سفارش کریں گے کہ وہ بندوں کا فیصلہ کرنے کے لئے تشریف لائے اللہ تعالیٰ آپ کی شفاعت قبول فرمائے گا اور بادلوں کے سائبان میں آئے گا دنیا کا آسمان ٹوٹ جائے گا اور اس کے تمام فرشتے آجائیں گے پھر دوسرا بھی پھٹ جائے گا اور اس کے فرشتے بھی آجائیں گے اسی طرح ساتوں آسمان شق ہوجائیں گے اور ان کے فرشتے بھی آجائیں گے، پھر اللہ کا عرش اترے گا اور بزرگ تر فرشتے نازل ہوں گے اور خود وہ جبار اللہ جل شانہ تشریف لائے گا فرشتے سب کے سب تسبیح خوانی میں مشغول ہوں گے ان کی تسبیح اس وقت یہ ہوگی۔ دعا (سبحان ذی الملک والملکوت، سبحان ذی العزۃ والجبروت سبحان الحی الذی لا یموت، سبحان الذی یمیت الخلائق ولا یموت، سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح، سبوح قدوس، سبحان ربنا الاعلیٰ سبحان ذی السلطان والعطمۃ، سبحانہ سبحانہ ابدا ابدا) ،۔ حافظ ابوبکر بن مردویہ بھی اس آیت کی تفسیر میں بہت سی احادیث لائے ہیں جن میں غراب ہے واللہ اعلم، ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو اس دن جمع کرے گا جس کا وقت مقرر ہے وہ سب کے سب کھڑے ہوں گے آنکھیں پتھرائی ہوئی اور اوپر کو لگی ہوئی ہوں گی ہر ایک کو فیصلہ کا انتظار ہوگا اللہ تعالیٰ ابر کے سائبان میں عرش سے کرسی پر نزول فرمائے گا، ابن ابی حاتم میں ہے عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ جس وقت وہ اترے گا تو مخلوق اور اس کے درمیان ستر ہزار پردے ہوں گے نور کی چکا چوند کے اور پانی کے اور پانی سے وہ آوازیں آرہی ہوں گی جس سے دل ہل جائیں، زبیر بن محمد فرماتے ہیں کہ وہ بادل کا سائبان یا قوت کا جڑا ہوا اور جوہر وزبرجد والا ہوگا، حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ بادل معمولی بادل نہیں بلکہ یہ وہ بادل ہے جو بنی اسرائیل کے سروں پر وادی تیہ میں تھا، ابو العالیہ فرماتے ہیں فرشتے بھی بادل کے سائے میں آئیں گے اور اللہ تعالیٰ جس میں چاہے آئے گا، چناچہ بعض قرأتوں میں یوں بھی ہے آیت (ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ) 2۔ البقرۃ :210) جیسے اور جگہ ہے آیت (وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاۗءُ بالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰۗىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا) 25۔ الفرقان :25)۔ یعنی اس دن آسمان بادل سمیت پھٹے گا اور فرشتے اتر آئیں گے۔