سورۃ البقرہ: آیت 220 - في الدنيا والآخرة ۗ ويسألونك... - اردو

آیت 220 کی تفسیر, سورۃ البقرہ

فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ ۗ وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْيَتَٰمَىٰ ۖ قُلْ إِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ ۖ وَإِن تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ ٱلْمُفْسِدَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَأَعْنَتَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اردو ترجمہ

پوچھتے ہیں: یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ کہو: جس طرز عمل میں ان کے لیے بھلائی ہو، وہی اختیار کرنا بہتر ہے اگر تم اپنا اور اُن کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے، دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے اللہ چاہتا تو اس معاملے میں تم پر سختی کرتا، مگر وہ صاحب اختیار ہونے کے ساتھ صاحب حکمت بھی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fee alddunya waalakhirati wayasaloonaka AAani alyatama qul islahun lahum khayrun wain tukhalitoohum faikhwanukum waAllahu yaAAlamu almufsida mina almuslihi walaw shaa Allahu laaAAnatakum inna Allaha AAazeezun hakeemun

آیت 220 کی تفسیر

اب اس اگلی آیات میں ، اسلامی اصول حیات کے بارے میں چند سوالات کا جواب دیا گیا ہے ۔ یہ سوالات مختلف لوگوں نے مسائل سمجھنے کے لئے کئے تھے :

اس سے پہلے بھی انہوں نے سوال کیا تھا ، کہ وہ کیا خرچ کریں ؟ اس کے جواب میں خرچ کی نوعیت اور مصرف کی تشریح کردی گئی ۔ یہاں بھی سوال تو وہی ہے ، جواب میں خرچ کی مقدار اور اس کا درجہ بتایا گیا ہے ۔ عفو کے معنی عربی میں فاضل اور زیادہ کے ہوتے ہیں ۔ جو مال ذاتی ضروریات سے زیادہ ہو ۔ ضروریات سے مراد ایسی ضروریات جو عیاشی اور نمائشی نہ ہوں ۔ اسے خرچ کیا جاسکتا ہے اور مصرف کی ترتیب وہی ہے جو اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے۔ قریب سے قریب تر کا حق زیادہ ہے اور اس کے بعد دوسرے لوگ درجہ بدرجہ ہیں ۔

انفاق کا حکم صرف ادائیگی زکوٰۃ ہی سے پورا نہیں ہوجاتا۔ کیونکہ اس آیت کو نہ تو زکوٰۃ نے منسوخ کیا ہے اور نہ مخصوص کیا ہے ۔ جیسا کہ میں سمجھا ہوں ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی سے ایک فرض ادا ہوجاتا ہے لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ادا کنندہ بس دوسری معاشرتی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوگیا بلکہ زکوٰۃ کے بعد بھی انفاق کا حکم علی حالہ باقی رہتا ہے ۔ زکوٰۃ مسلمانوں کے بیت المال کا حق ہے اور اسے وہ حکومت حاصل کرے گی جو اللہ کی شریعت نافذ کرے ۔ اور یہ حکومت بھی اسے اس کے معلوم ومعروف مصارف پر خرچ کرے گی۔ لیکن اس کے بعد بھی مسلمانوں کی جانب سے اور خود مسلمان بھائیوں کی جانب سے عائد شدہ ذمہ داریاں بدستور قائم رہتی ہیں ۔ پھر زکوٰۃ تو ایک خاص شرح سے فرض کی گئی ہے ۔ اور یہ ممکن نہیں ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے تمام فاضل دولت سرمایہ دار کے ہاتھ سے نکل جائے ۔ لیکن آیت زیر بحث تو واضح طور پر بتاتی ہے کہ العفو پورا کا پورا خرچ ہونا چاہئے ۔

اس سلسلے میں ایک واضح حدیث بھی موجود ہے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : اِنَّ فِی المَالِ حَقًّا سَوِی الزَّکوٰۃٍ ” بیشک دولت میں زکوٰۃ کے سوا بھی حق ہے۔ “

ایسا حق ، جسے صاحب ثروت اللہ کی رضا کے لئے خود مناسب جگہ خرچ کرتا ہے اور یہ خرچ کی اعلیٰ صورت ہے ، کامل صورت۔ اگر وہ خود خرچ نہیں کرتا اور اسلامی نظام کو نافذ کرنے والی حکومت کو اس کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے اختیار ہے کہ وہ یہ دولت اس صاحب ثروت سے حاصل کرے اور اسلامی جماعت کے ان افراد پر خرچ کردے جو امداد کی مستحق ہیں ۔ تاکہ صاحب ثروت نہ اسے عیش و عشرت اور عیاشی کے کاموں میں استعمال کرسکے اور نہ ہی ذخیرہ کرکے معطل کردے۔ دولت کی گردش روک دے اور اس پر سانپ بن کر بیٹھ جائے كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ ، فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ” اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے ۔ شاید کہ تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو۔ “

اس آیت میں فرمایا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے احکام بیان کرتا ہے اور اس لئے بیان کرتا ہے کہ تم لوگ دنیا وآخرت دونوں کے بارے میں غوروفکر سے کام لو۔ اس لئے کہ صرف دنیا کے بارے میں غور وفکر کرنے سے ، وجود انسانی کی حقیقت ، انسان کی زندگی اور اس کے فرائض کے درمیان باہمی ربط کی اصل حقیقت کے بارے میں نہ عقل انسانی صحیح تجزیہ کرسکتی ہے۔

اور نہ ہی اسلام کے قلب ونظام زندگی اور اس کی قدروں کی صحیح تصویر بنائی جاسکتی ہے ۔ اس لئے کہ دنیا تو زندگی کا ایک حصہ ہے ۔ اور بہت ہی ادنیٰ اور مختصر حصہ ہے ۔ اگر انسان اپنے نظریات اور اپنے نظام کی اساس اس مختصر اور سطحی نقطہ نظر پر رکھے تو اس کے نتیجے میں کبھی انسان نہ کسی صحیح تصور حیات تک پہنچ سکتا ہے اور نہ زندگی میں کوئی صحیح طرزعمل اختیار کرسکتا ہے ۔ پھر انفاق کا ذاتی طور پر دنیا سے بھی تعلق ہے ۔ اور آخرت سے بھی تعلق ہے ۔ انفاق سے اس کی دولت میں جو کمی آتی ہے اس کے نتیجے میں اسے دل کی صفائی اور قلب ونظر کی پاکیزگی ، اس دنیا میں نصیب ہوجاتی ہے ۔ پھر انفاق کرنے والا جس معاشرے میں رہتا ہے اس معاشرے کے ساتھ اس کی آشتی ہوجاتی ہے ، صلح ہوجاتی ہے اور افراد کے درمیان تعلقات مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ لیکن ابنائے معاشرہ کا ہر فرد ہوسکتا ہے یہ باتیں نہ سوچ سکے اس لئے ، آخرت کا عقیدہ اور شعور اور جزائے اخروی کی امید اور آخرت میں جو درجات ہیں اور جو قدریں ہیں ان کا خیال تو ہر شخص کے ذہن میں وزن رکھتا ہے اور اس سے انفاق کا پلڑا بھاری ہوجاتا ہے ۔ اس سے نفس انسانی مطمئن ہوجاتا ہے ، اسے سکون و آرام نصیب ہوتا ہے ۔ ترازو نفس انسانی کے ہاتھ میں آجاتا ہے جو ہر وقت معتدل رہتا ہے اور کسی وقت بھی کھوئی قدروں اور آنکھوں کو چکاچوند کرنے والے دنیاوی معیارات سے اس کے ترازو کو ہلکا نہیں کرسکتے ۔

اجتماعی تکافل (Social Security) اسلامی معاشرے کا سنگ اول ہے ۔ اسلامی جماعت کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے نادار اور ضعیف لوگوں کو خیال رکھے ، یتیموں کا بالخصوص ، جو نابالغ ہیں اور ماں باپ کے سائے سے محروم ہوگئے ہیں ۔ چونکہ وہ کمزور ہیں اس لئے وہ اجتماعی امداد اور اجتماعی حمایت کے مستحق ہیں ۔ اسلامی معاشرے کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کی پرورش کرے اور ان کے اموال اور ان کی جائدادوں کی حفاظت کرے ۔ بعض اولیاء (Guardians) ایسے تھے جو یتیموں اور خود اپنے کھانے پینے کا انتظام یکجا کرتے تھے ۔ نیز انہوں نے اپنے اور یتیموں کے اموال یکجا کرکے تجارت میں لگایا ہوا تھا۔ بعض اوقات اس طرح یتیموں کو نقصان ہوتا تھا ۔ اس پر قرآن مجید کی آیات اتریں جن میں مسلمانوں کو یتیموں کا مال کھانے سے سخت ڈرایا گیا ۔ اس پر بعض نیک لوگوں نے اس قدر احتیاط شروع کردی کہ انہوں نے یتیموں کا مال کھانا بھی الگ کردیا۔ اب صورتحال یہ ہوگئی کہ کسی کے پاس اگر یتیم ہوتا تو وہ یتیم کے مال سے اس کے لئے کھانا تیار کرتے ۔ اگر کچھ بچ جاتا تو وہ دھرا رہتا اور دوسرے وقت اسے کھاتا یا ضائع ہوجاتا اور پھینک دیا جاتا۔ یہ اس قدر زیادہ تشدد تھا جسے اسلام کا مزاج گوارا نہ کرتا تھا۔

علاوہ ازیں بعض اوقات اس میں یتیم کو نقصان بھی ہوتا چناچہ ، یہ آیات نازل ہوئیں اور مسلمانوں کو تلقین کردی گئی کہ وہ اعتدال اور آسانی کا راستہ اختیار کریں ، جس میں اس کی مصلحت ہو۔ درحقیقت ان کے لئے خیر خواہی کا جذبہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں الگ تھلگ کردیا جائے ۔ اگر اکھٹا رہنے سہنے اور کھانے پینے کے انتظام میں یتیم کی بھلائی ہے تو ساتھ رکھنا چاہئے ۔ کیونکہ یتیم بھی بہرحال اولیاء کے بھائی بند ہی تو ہیں ہیں ۔ تمام مسلمان ہیں اور بھائی بھائی ہیں۔ سب کے سب ایک عظیم اسلامی خاندان کے افراد ہیں ۔ اللہ بھلائی کرنے والے اور برائی کرنے والے دونوں کے حال سے باخبر ہے۔ اللہ کے ہاں ظاہری شکل و صورت پر ہی فیصلے نہ ہوں گے ، نیت اور نتائج کو بھی دیکھاجائے گا ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تکلیف میں ڈالنا پسند نہیں کرتا نہ امر ونہی میں ان پر کوئی تکلیف لانا چاہتا ہے یا ان کو مشقت میں ڈالنا چاہتا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تکلیف میں ڈال دیتا ، لیکن اللہ کا یہ ارادہ نہ تھا ، وہ تو عزیز و حکیم ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے لیکن وہ حکیم ہے ۔ آسان بھلائی اور اصلاح کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا۔

یوں تمام معاملات کا ربط خدائے لایزل سے قائم ہوجاتا ہے ۔ تمام معاملات کو اس اصلی محور کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے ۔ جس کے گرد پورا نظریہ حیات گھومتا ہے ۔ جس کے گرد پوری زندگی گھومتی ہے ۔ یہ ہوتا ہے حال اس نظام قانون کا جو کسی نظریہ حیات پر مبنی ہوتا ہے۔ اس قانون کے نفاذ کی ضمانت ، انسان کے خارج ، انسان کی ذات سے علیحدہ کسی اور ذریعہ سے فراہم نہیں ہوتی ۔ بلکہ انسان کے ضمیر کے اندر گہرائیوں میں سے اس قانون پر عمل کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور ہر شخص اس پر از خود عمل کرتا ہے۔

آیت 220 فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِط۔ تمہارا یہ غور و فکر دنیا کے بارے میں بھی ہونا چاہیے اور آخرت کے بارے میں بھی۔ دنیا میں بھی اسلام رہبانیت نہیں سکھاتا۔ اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے کہ نہ کھاؤ ‘ نہ پیو ‘ چلے کشی کرو ‘ جنگلوں میں نکل جاؤ ! نہیں ‘ اسلام تو متمدن زندگی کی تعلیم دیتا ہے ‘ گھر گھرہستی اور شادی بیاہ کی ترغیب دیتا ہے ‘ بیوی بچوں کے حقوق بتاتا ہے اور ان کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمہیں آخرت کی بھی فکر کرنی چاہیے ‘ اور دنیا و آخرت کے معاملات میں ایک نسبت و تناسب ratio proportion قائم رہنا چاہیے۔ دنیا کی کتنی قدر و قیمت ہے اور اس کے مقابلے میں آخرت کی کتنی قدر و قیمت ہے ‘ اس کا صحیح طور پر اندازہ کرنا چاہیے۔ اگر یہ اندازہ غلط ہوگیا اور کوئی غلط تناسب قائم کرلیا گیا تو ہرچیز تلپٹ ہوجائے گی۔ مثال کے طور پر ایک دوا کے نسخے میں کوئی چیز کم تھی ‘ کوئی زیادہ تھی۔ اگر آپ نے جو چیز کم تھی اسے زیادہ کردیا اور جو زیادہ تھی اسے کم کردیا تو اب ہوسکتا ہے یہ نسخۂ شفا نہ رہے ‘ نسخہ ہلاکت بن جائے۔وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْیَتٰمٰی ط قُلْ اِصْلاَحٌ لَّہُمْ خَیْرٌ ط ان کی مصلحت کو پیش نظر رکھنا بہتر ہے ‘ نیکی ہے ‘ بھلائی ہے۔ اصل میں لوگوں کے سامنے سورة بنی اسرائیل کی یہ آیت تھی : وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ الاَّ بالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ آیت 34 اور مال یتیم کے قریب تک نہ پھٹکو ‘ مگر ایسے طریقے پر جو یتیم کے حق میں بہتر ہو۔ چناچہ وہ مال یتیم کے بارے میں انتہائی احتیاط کر رہے تھے اور انہوں نے یتامٰی کی ہنڈیاں بھی علیحدہ کردی تھیں کہ مبادا ان کے حصے کی کوئی بوٹی ہمارے پیٹ میں چلی جائے۔ لیکن اس طرح یتامٰیکی دیکھ بھال کرنے والے لوگ تکلیف اور حرج میں مبتلا ہوگئے تھے۔ کسی کے گھر میں یتیم پرورش پا رہا ہے تو اس کا خرچ الگ طور پر اس کے مال میں سے نکالا جا رہا ہے اور اس کے لیے الگ ہنڈیا پکائی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ اس حکم سے یہ مقصد نہیں تھا ‘ مقصد یہ تھا کہ تم کہیں ان کے مال ہڑپ نہ کر جاؤ ‘ ان کے لیے اصلاح اور بھلائی کا معاملہ کرنا بہتر طرزعمل ہے۔وَاِنْ تُخَالِطُوْہُمْ فَاِخْوَانُکُمْ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ط۔ وہ جانتا ہے کہ کون بدنیتی سے یتیم کا مال ہڑپ کرنا چاہتا ہے اور کون یتیم کی خیر خواہی چاہتا ہے۔ یہ ہنڈیا علیحدہ کر کے بھی گڑبڑ کرسکتا ہے اور یہ وہ شخص ہے جو ہنڈیا مشترک کر کے بھی حق پر رہ سکتا ہے۔وَلَوْ شَاء اللّٰہُ لَاَعْنَتَکُمْ ط۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں مشقت اور سختی سے بچایا اور تم پر آسانی فرمائی۔اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ وہ انتہائی مشقت پر مبنی سخت سے سخت حکم بھی دے سکتا ہے ‘ اس لیے کہ وہ زبردست ہے ‘ لیکن وہ انسانوں کو مشقت میں نہیں ڈالتا ‘ بلکہ اس کے ہر حکم کے اندر حکمت ہوتی ہے۔ اور جہاں حکمت نرمی کی متقاضی ہوتی ہے وہاں وہ رعایت دیتا ہے۔

آیت 220 - سورۃ البقرہ: (في الدنيا والآخرة ۗ ويسألونك عن اليتامى ۖ قل إصلاح لهم خير ۖ وإن تخالطوهم فإخوانكم ۚ والله يعلم المفسد...) - اردو