وَلا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةًکی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ تم اپنی قسم کو اس لئے استعمال نہ کرو کہ تم بھلائی کے کچھ کام نہ کروگے بلکہ قسم کا کفارہ ادا کرو اور بھلائی کرتے چلے جاؤ۔ یہی تفسیر مسروق ، شعبی ابراہیم نخعی مجاہد ، طاؤس ، سعید بن جبیر ، عطاء ، عکرمہ ، مکحول ، زہری ، حسن ، قتادہ ، مقاتل بن حیان ، ربیع بن انس ، ضحاک ، عطاخراسانی ، السدی سے منقول ہے ۔ تفصیل دیکھئے ابن کثیر میں۔
اسی کی تائید میں امام مسلم (رح) کی روایت ہے جو کہ ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ” جو کوئی ایسی قسم کھابیٹھے کہ اس کے توڑ میں خیر ہو ، اسے چاہئے کہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرے ۔ اور وہ کام کرتا رہے جس میں بھلائی ہے۔ “
اسی طرح امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے ، رسول ﷺ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم تم میں سے کوئی شخص اپنے اہل و عیال کے بارے میں قسم کو پوراکرے ۔ تو وہ زیادہ گناہ گار ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ کفارہ دے دے ، جو اللہ نے فرض کیا ہے ۔
ان احادیث کی روشنی میں مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ کے نام کی قسم کھالینا تمہیں نیکی ، تقویٰ اور اصلاح بین الناس کے کاموں سے کہیں روک نہ دے ۔ اگر تم اس قسم کی کوئی قسم کھابیٹھے ہو تو اسے توڑ دو ، نیکی کے کام جاری رکھو اور حلف توڑنے کا کفارہ ادا کرو۔ کیونکہ نیکی ، تقویٰ اور بھلائی کے کاموں پر عمل کرنا اس سے بہتر ہے کہ کوئی اپنی قسم کو پورا کرے ۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ایسا ہی واقعہ پیش آیا ۔ آپ کے رشتہ دار کا نام مسطح تھا ، آپ ان کے ساتھ امداد و تعاون فرمایا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ ؓ پر افک کے معاملے میں غیر شعوری طور پر یہ بھی شریک ہوگیا تھا ، اور اس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ قسم اٹھالی کہ وہ اس کے ساتھ کوئی امداد نہ کریں گے ۔ اس پر سورة النور کی یہ آیت نازل ہوئیوَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ” تم میں سے جو لوگن صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھابیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار ، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انہیں معاف کردینا چاہئے ، درگزر کرنا چاہئے ۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے ۔ “ اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے اپنی قسم کو توڑ دیا اور کفارہ ادا کیا ۔
آیت 224 وَلاَ تَجْعَلُوا اللّٰہَ عُرْضَۃً لِاَّیْمَانِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَتَتَّقُوْا وَتُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ ط یعنی اللہ تعالیٰ کے عظیم نام کو استعمال کرتے ہوئے ایسی قسمیں مت کھاؤ جو نیکی وتقویٰ اور مقصد اصلاح کے خلاف ہوں۔ کسی وقت غصے ّ میں آکر آدمی قسم کھا بیٹھتا ہے کہ میں فلاں شخص سے کبھی حسن سلوک اور بھلائی نہیں کروں گا ‘ اس سے روکا گیا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رض نے بھی اسی طرح کی قسم کھالی تھی۔ مِسطَح ایک غریب مسلمان تھے ‘ جو آپ رض کے قرابت ‘ دار بھی تھے۔ ان کی آپ رض مدد کیا کرتے تھے۔ جب حضرت عائشہ صدیقہ رض پر تہمت لگی تو مسطح بھی اس آگ کے بھڑکانے والوں میں شامل ہوگئے۔ حضرت ابوبکر رض ان کے طرز عمل سے بہت رنجیدہ خاطر ہوئے کہ میں تو اس کی سرپرستی کرتا رہا اور یہ میری بیٹی پر تہمت لگانے والوں میں شامل ہوگیا۔ آپ رض نے قسم کھائی کہ اب میں کبھی اس کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ واقعہ سورة النور میں آئے گا۔ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ تم ایسا نہ کرو ‘ تم اپنی نیکی کے دروازے کیوں بند کرتے ہو ؟ جس نے ایسی قسم کھالی ہے وہ اس قسم کو کھول دے اور قسم کا کفارہ دے دے۔ اسی طرح لوگوں کے مابین مصالحت کرانا بھی ضروری ہے۔ دو بھائیوں کے درمیان جھگڑا تھا ‘ آپ نے مصالحت کی کوشش کی لیکن آپ کی بات نہیں مانی گئی ‘ اس پر آپ نے غصے میں آکر کہہ دیا کہ اللہ کی قسم ‘ اب میں ان کے معاملے میں دخل نہیں دوں گا۔ اس طرح کی قسمیں کھانے سے روکا گیا ہے۔ اور اگر کسی نے ایسی کوئی قسم کھائی ہے تو وہ اسے توڑ دے اور اس کا کفارہّ دے دے۔
قسم اور کفارہ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی اور صلہ رحمی کے چھوڑنے کا ذریعہ اللہ کی قسموں کو نہ بناؤ، جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ) 24۔ النور :22) یعنی وہ لوگ جو کشادہ حال اور فارغ البال ہیں وہ قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے پر قسمیں نہ کھا بیٹھیں، انہیں چاہئے کہ معاف کرنے اور درگزر کرنے کی عادت ڈالیں، کیا تمہاری خود خواہش نہیں اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے، اگر کوئی ایسی قسم کھا بیٹھے تو اسے چاہئے کہ اسے توڑ دے اور کفارہ ادا کر دے، صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ ہم پیچھے آنے والے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے بڑھنے والے ہیں، فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ایسی قسم کھالے اور کفارہ ادا نہ کرے اور اس پر اڑا رہے وہ بڑا گنہگار ہے، یہ حدیث اور بھی بہت سی سندوں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں۔ حضرت مسروق وغیرہ بہت سے مفسرین سے بھی یہی مروی ہے، جمہور کے ان اقوال کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم انشاء اللہ میں اگر کوئی قسم کھا بیٹھوں گا اور اس کے توڑنے میں مجھے بھلائی نظر آئے گی تو میں قطعاً اسے توڑ دوں گا اور اس قسم کا کفارہ ادا کروں گا، حضور ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن بن سمرہ سے فرمایا اے عبدالرحمن سرداری امارت اور امامت کو طلب نہ کر اگر بغیر مانگے تو دیا جائے گا تو اللہ کی جانب سے تیری مدد کی جائے گی اور اگر تو نے آپ مانگ کرلی ہے تو تجھے اس کی طرف سونپ دیا جائے گا تو اگر کوئی قسم کھالے اور اس کے خلاف بھی بھلائی دیکھ لے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور اس نیک کام کو کرلے (بخاری و مسلم) صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ جو شخص کوئی قسم کھالے پھر اس کے سوا خوبی نظر آئے تو اسے چاہئے کہ اس خوبی والے کام کو کرلے اور اپنی اس قسم کو توڑ دے اس کا کفارہ دے دے، مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ اس کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔ ابو داؤد میں ہے نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ہی ہے نہ رشتوں ناتوں کو توڑتی ہے جو شخص کوئی قسم کھالے اور نیکی اس کے کرنے میں ہو تو وہ قسم کو چھوڑ دے اور نیکی کا کام کرے، اس قسم کو چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔ امام ابو داؤد فرماتے ہیں کل کی کل صحیح احادیث میں یہ لفظ ہیں کہ اپنی ایسی قسم کا کفارہ دے، ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ ایسی قسم کا پورا کرنا یہی ہے کہ اسے توڑ دے اور اس سے رجوع کرے، ابن عباس سعید بن مسیب مسروق اور شعبی بھی اسی کے قائل ہیں کہ ایسے شخص کے ذمہ کفارہ نہیں۔