سورۃ البقرہ: آیت 228 - والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء... - اردو

آیت 228 کی تفسیر, سورۃ البقرہ

وَٱلْمُطَلَّقَٰتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَٰثَةَ قُرُوٓءٍ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ ٱللَّهُ فِىٓ أَرْحَامِهِنَّ إِن كُنَّ يُؤْمِنَّ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ ۚ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِى ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوٓا۟ إِصْلَٰحًا ۚ وَلَهُنَّ مِثْلُ ٱلَّذِى عَلَيْهِنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

اردو ترجمہ

جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور اُن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے اُن کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو، اُسے چھپائیں اُنہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے، اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتی ہیں اُن کے شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں، تو وہ اِس عدت کے دوران اُنہیں پھر اپنی زوجیت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا موجود ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waalmutallaqatu yatarabbasna bianfusihinna thalathata qurooin wala yahillu lahunna an yaktumna ma khalaqa Allahu fee arhamihinna in kunna yuminna biAllahi waalyawmi alakhiri wabuAAoolatuhunna ahaqqu biraddihinna fee thalika in aradoo islahan walahunna mithlu allathee AAalayhinna bialmaAAroofi walilrrijali AAalayhinna darajatun waAllahu AAazeezun hakeemun

آیت 228 کی تفسیر

اپنے آپ کو روکیں رکھیں ذرا اپنے جذبات پر کنٹرول کریں۔ تین مرتبہ ایام ماہواری تک یا تین مرتبہ ایام ماہواری سے پاک ہونے تک ، اپنے آپ کو روکیں رکھیں۔ میں نے قرآن مجید کی اس تعبیر اور انداز بیان پر بہت غور کیا ، لطیف نفسیاتی حالت کی یہ عجیب تصویر کشی ہے ۔ مفہوم اور مقصد یہ ہے کہ تین دفعہ ایام ماہواری آنے یا ان سے پاک ہونے تک دوسری شادی کرنے سے باز رہیں ۔ لیکن اس عقلی اور قانونی مفہوم کے علاوہ قرآن کریم کا طرز تعبیر کچھ اور بھی بتاتا ہے ۔ انداز تعبیر روکے رکھیں ، لگام کھینچ لیں باوجود اچھلنے کودنے کے روکے رکھیں ، اس تعبیر سے اس نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جو ایسے حالات میں پائی جاتی ہے ۔ ایسے حالات میں بالعموم مطلقہ عورت کو اس بات کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد نئی زندگی کا آغاز ایک نئے شوہر کی قیادت میں کردے ۔ یہ کیفیت فطری ہے ۔ ایسے حالات میں عورت پر شدید اعصابی دباؤ ہوتا ہے ۔ وہ چاہتی ہے کہ وہ ثابت کردکھائے کہ سابقہ تجربہ ازدواج میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔۔ اس میں کوئی جسمانی نقص نہیں ہے ۔ وہ کسی وقت بھی ، دوسرے شوہر کے لئے پرکشش بن سکتی ہے اور جدید ازدواجی زندگی کا آغاز کرسکتی ہے جبکہ یہ جذبہ اور احساس مرد میں نہیں ہوتا ، اس لئے طلاق کا حق اس کے ہاتھ میں ہے ، طلاق کا وار اس نے کیا ہے اور عورت نے اس وار کو برداشت کیا ہے ۔ اس لئے عورت سے یہ کہا گیا ہے کہ ذرا نفس کو روکے رکھو ، اس کی لگام کو کم ازکم تین ماہ تک کھینچے رکھو ۔ یوں قرآن مجید ایک لفظ اور ایک انداز تعبیر سے نفسیاتی کیفیت کی فضا ظاہر کردیتا ہے ۔ اس نفیساتی کیفیت کو ملحوظ خاطر رکھ کر ہدایات دیتا ہے اور ضابطہ بندی کرتا ہے۔

وہ اس عرصہ کے لئے اپنے نفوس کو روکھے رکھیں تاکہ ان کے رحم سابق زوجیت کے آثار سے پاک ہوجائیں اور پھر وہ نئے سرے سے ازدواجی زندگی کا آغاز کرسکیں ، اگر چاہیں لا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ” اور ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں کو کچھ خلق فرمایا ہو ، اسے چھپائیں ۔ انہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہئے اگر وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ “

ان کے رحم میں حالت حمل ہے یا حالت حیض ان کے لئے جائز نہیں ہے کہ اسے چھپائیں ۔ رحم میں جو کچھ ہے ، اسے اللہ تعالیٰ کی خالقیت سے وابستہ کردیا گیا ہے ۔ تاکہ ان کے دلوں میں اللہ خوفی پیدا ہو ۔ انہیں اللہ اور یوم آخرت پر ایمان و یقین کی غیرت دلا کر کہا جاتا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو تمہیں ہرگز کسی چیز کو چھپانا نہیں چاہئے ۔ یہاں یوم آخرت کا ذکر اس لئے ہوا کہ یوم آخرت یوم الجزاء ہے ۔ اس دنیا میں جو چیز احکام خداوندی کے بجالاتے ہوئے فوت ہوجائے وہ ایک مومن کو وہاں بطور اجر ملتی ہے ۔ یہاں چونکہ عورتوں کے لئے حکم ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کے جذبات کو ٹھیس لگی ہے وہپ اپنے نفوس کو روکے رکھیں ۔ اس لئے کہا گیا ہے کہ جزاء آنے والی ہے ۔ ہاں اگر وہ پردہ داری کریں گی اور جو کچھ ان کے رحم میں ہے صاف صاف اس کا اظہار نہ کریں گی تو اس پر سزا بھی ہے ۔ اس سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے ۔ کیا کوئی چیز اللہ سے چھپائی جاسکتی ہے ؟ لہٰذا مت چھپاؤ۔ کسی بات سے اثر لے کر ، کسی مطلب کے لئے ۔ کسی خواہش سے مغلوب ہوکر ، کہیں خلق اللہ کو نہ چھپا لو۔

یہ تو تھا ایک پہلو ، دوسرا پہلو یہ ہے کہ قطعی جدائی سے پہلے ، ایک وقفہ کی ضرورت ہے ۔ معقول وقفہ ۔ اس وقفے میں فریقین جدائی کے بعد اپنے جذبات کو اچھی طرح آزمالیں ۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے دل میں محبت کی کوئی چنگاری باقی ہو اور پھر محبت سلگ اٹھے ۔ ہوسکتا ہے کہ جذبات محبت میں پھر طلاطم برپا ہوجائے اور وہ ایک دوسرے سے آملیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان کی سوچ جذبات ، کوتاہی یا کبر و غرور کے نیچے دب گئی ہو اور وقفے میں انہیں سوچ آجائے ۔ جب غصہ فرو ہوجائے ، جب طیش اترجائے ، جب نفس مطمئن ہوجائے اور وہ اسباب جو موجب فراق بن گئے تھے دب جائیں ، کچھ عقل کی باتیں سامنے آجائیں ، سوچ کی نئی راہیں کھل جائیں ۔ جب اسباب کو عظیم سمجھ کر فراق کا فیصلہ کرلیا گیا تھا وہ اس وقفے میں مومعمولی نظر آنے لگ جائیں اور فریقین میں از سر نو زندگی کا آغاز کرنے کا داعیہ پیدا ہوجائے ۔ یا اس عرصہ میں کسی اور حسن عمل اور حسن تدبیر سے حالات کا رخ بدل جائے ۔ اس لئے یہ بات نہایت ضروری تھی کہ ایک طلاق کے بعد متعلقہ تین ایام ماہواری یا ان کے پاک ہونے کا انتظار کرے ۔ اسلام میں طلاق مشروع ہے ۔ لیکن اللہ اور رسول کو سخت ناپسندیدہ بھی ہے ۔ یہ کاٹ دینے کا عمل ہے اور اسے صرف اس وقت اختیار کرنا چاہئے ، جب علاج کا کوئی طریقہ ، جوڑنے کا کوئی حربہ کام نہ آسکے ۔ (قرآن مجید میں دوسری جگہ تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے کہ طلاق واقع ہونے سے پہلے صلح وصفائی کے لئے سخت کوشش ہونی چاہئے ۔ نیز یہ بھی ہدایت ہے کہ طلاق ایسی حالت میں دینی چاہئے کہ عورت ایام ماہواری سے پاک ہوچکی ہو ، اور ابھی مرد نے اس کے ساتھ مباشرت نہ کی ہو ، محض اس لئے طلاق دینے یا یا طلاق کا آخری شکل دیتے وقت مرد کو سوچ بچار کی کافی مہلت ملے ۔ اگر حیض کی حالت ہے تو مرد طلاق دینے کے لئے طہر کا انتظار کرے گا۔

جہاں تک پہلی طلاق کا تعلق ہے ، یہ ایک تجربہ ہے ۔ اس تجربہ سے میاں بیوی دونوں یہ معلوم کرلیتے ہیں کہ ان کے جذبات اور احساسات کیا رخ اختیار کرتے ہیں ۔ اگر دوران عدت انہوں نے محسوس کرلیا کہ وہ ایک دوسرے کی رفاقت میں زندگی کا آغاز نئے سرے سے کرسکتے ہیں تو راستہ کھلا وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلاحًا ” ان کے شوہر تعلقات درست کرلینے پر آمادہ ہوں ۔ تو وہ اس عدت کے دوران پھر انہیں اپنی زوجیت میں واپس لینے کے حق دار ہیں ۔ “

فِي ذَلِكَیعنی اس میں ، اس سے مراد عدت کے دوران میں انتظار اور تربص کے زمانے میں ۔ بشرطیکہ تعلقات زوجیت کو نئے سرے سے اختیار کرنے کا اراہ ہو محض عورت کو اذیت دینا مقصود نہ ہو ، محض انتقام لینے کی خاطر اسے ایسی زندگی کی طرف لوٹانا مقصود نہ ہو ، جس میں کانٹے ہی کانٹے ہوں ۔ یا محض غرور کی خاطر یہ رجوع نہ ہو ۔ یا محض اس لئے نہ ہو کہ اگر میں نے رجوع نہ کیا تو اسے کوئی دوسرا خاوند نکاح میں لے لے گا ، جو میرے لئے شرم کی بات ہے : وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ” عورتوں کے لئے بھی معروف طریقے پر وہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں ۔ “ یعنی اس حالت میں مطلقات کے لئے ایسے حقوق ہیں جس طرح ان پر واجبات ہیں وہ مکلف ہیں کے دوران عدت میں اپنے آپ کو روکے ہوں ، ان کے رحموں میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ خلق فرمایا ہے اسے چھپائیں نہیں ۔ خاوند کا فرض ہے کہ اگر وہ رجوع کرتا ہے تو خالص نیت سے ہو ، اس سے عورتوں کو تکلیف دینا مقصود نہ ہو ، نہ اذیت دینا ہو ، اس پر مزید یہ کہ دوران عدت نان ونفقہ کی بھی حق دار ہوں گی جیسا کہ عنقریب بیان ہوگا ۔ اس لئے کہ وہ ازروئے قانون کی رو سے ہوئی ہیں ۔ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ” البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔ “ اس درجہ سے مراد یہ ہے کہ مردوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوران عدت اگر چاہیں تو مطلقہ عورت کو دوبارہ اپنی زوجیت میں لوٹاسکتے ہیں۔ یہ حق اللہ تعالیٰ نے مرد کو اس لئے دیا ہے کہ طلاق کا حق مرد کا ہے ۔ بعض لوگوں نے اس فقرے سے یہ مفہوم لیا ہے کہ عمومی طور پر مردوں کو عورتوں پر برتری حاصل ہے ۔ یہ حضرات اس سے مراد یہ نہیں لیتے کہ صرف مرد کو حق مراجعت حاصل ہے چانچہ وہ حق مراجعت عورت کو بھی دیتے ہیں کہ عورت کو بھی اختیار ہے کہ وہ واپس چلی آئے اور مرد کو اپنی زوجیت میں لے لے ، لیکن ان حضرات کا یہ استدلال نہایت ہی سقیم ، بےمحل اور بےموقع ہے ۔ یہ حق ، حق طلاق کے ساتھ وابستہ ہے اور صرف مرد ہی کو حاصل ہے ۔

اب آخری تبصرہ اور نتیجہ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ” اللہ سب پر غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم ودانا ہے۔ “ یعنی اللہ قوت اور اقتدار اعلیٰ کا مالک ہے ۔ لہٰذا وہ ہر قسم کا حکم نافذ کرنے کا مجا زہے ۔ اور پھر یہ کہ حکیم ودانا ہے ۔ اس کے احکام بھی حکیمانہ ہیں ۔ اس آخری تبصرے کا اثر یہ ہے کہہ مختلف وجوہات اور مختلف حالات سے متاثر ہوکر تم اللہ کے احکام سے منحرف نہ ہوجاؤ ، انہیں پس پشت نہ ڈال دو ۔

اب آنے والا حکم طلاقوں کی تعداد کی تحدید کے بارے میں ہے ۔ یہ کہ مطلقہ کو یہ حق ہے کہ وہ پورا مہر حاصل کرے ۔ یہ حرام ہے کہ وہ مرد طلاق کے وقت اس سے کچھ لے سکتا ہے ۔ ہاں ایک صورت ایسی ہے جس میں مرد کو حق ہے کہ وہ اگر چاہے تو واپس لے سکتا ہے ۔ اگر صورتحال یہ ہو کہ عورت کو مرد سے سخت نفرت ہو ، اور وہ اس کے ساتھ حدود الٰہی کی پابندی کرتے ہوئے زندگی گزارنے کے اہل نہ ہو ، خطرہ ہو کہ وہ کسی معصیت میں مبتلاہوجائے یعنی خلع کی وہ حالت جس میں عورت ، فدیہ کے بدلے اپنی آزادی خریدنا چاہتی ہو۔ اس صورت میں مرد کو حق ہے کہ وہ کچھ لے لے ۔

آیت 228 وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْءٍ ط۔ طلاق کے بعد عورت کے لیے تین ماہ کی عدت ہے۔ اس عدت میں شوہر چاہے تو رجوع کرسکتا ہے ‘ اگر اس نے ایک یا دو طلاقیں دی ہوں۔ البتہ تیسری طلاق کے بعد رجوع کا حق نہیں ہے۔ طلاق رجعی کے بعد ابھی اگر عدت ختم ہوجائے تو اب شوہر کا رجوع کا حق ختم ہوجائے گا اور عورت آزاد ہوگی۔ لیکن اس مدت کے اندر وہ دوسری شادی نہیں کرسکتی۔ وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ اَنْ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیْ اَرْحَامِہِنَّ اِنْ کُنَّ یُؤْمِنَّ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط۔ تین حیض کی مدت اسی لیے مقرر کی گئی ہے کہ معلوم ہوجائے کہ عورت حاملہ ہے یا نہیں۔ اگر عورت حاملہ ہو لیکن وہ اپنا حمل چھپا رہی ہو تاکہ اس کے پیٹ میں پلنے والا اس کا بچہ اس کے پاس ہی رہے ‘ تو یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے۔وَبُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیْ ذٰلِکَ اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلاَحًا ط اسے رجعت کہتے ہیں۔ شوہروں کو حق حاصل ہے کہ وہ عدت کے اندر اندر رجوع کرسکتے ہیں ‘ لیکن یہ حق تیسری طلاق کے بعد حاصل نہیں رہتا۔ پہلی یا دوسری طلاق کے بعد عدت ختم ہونے سے پہلے شوہر کو اس کا اختیار حاصل ہے کہ وہ رجوع کرلے۔ اس پر بیوی کو انکار کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ تم تو مجھے طلاق دے چکے ہو ‘ اب میں تمہاری بات ماننے کو تیار نہیں ہوں۔ وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بالْمَعْرُوْفِص یعنی ان کے لیے جو حقوق ہیں وہ ان کی ذمہ داریوں کی مناسبت سے ہیں۔وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ ط اور مردوں کے لیے ان پر ایک درجہ فوقیت کا ہے۔ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ ۔ اس زمانے میں اس آیت کی بہت غلط تعبیر بھی کی گئی ہے اور اس سے مساوات مردد و زن کا فلسفہ ثابت کیا گیا ہے۔ چناچہ بعض مترجمین نے وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بالْمَعْرُوْفِص کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ عورتوں کے حقوق بھی مردوں پر ویسے ہی ہیں جیسے َ مردوں کے ان پر حقوق ہیں۔ یہ ترجمہ درست نہیں ہے ‘ اس لیے کہ اسلامی شریعت میں مرد اور عورت کے درمیان یعنی شوہر اور بیوی کے درمیان مساوات نہیں ہے۔ اس آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے عربی میں ل اور عَلٰیکا استعمال معلوم ہونا چاہیے۔ لِ کسی کے حق کے لیے اور عَلٰی کسی کی ذمہ داری کے لیے آتا ہے۔ چناچہ اس ٹکڑے کا ترجمہ اس طرح ہوگا : لَھُنَّان کے لیے حقوق ہیں۔ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ جیسی کہ ان پر ذمہّ داریاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جیسی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے ویسے حقوق اس کو دیے ہیں اور جیسی ذمہّ داری عورت پر ڈالی ہے اس کی مناسبت سے اس کو بھی حقوق دے دیے ہیں۔ اور اس بات کو کھول دیا کہ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ ط یعنی مردوں کو ان پر ایک درجہ فوقیت کا حاصل ہے۔ اب مساوات کیونکر ہوسکتی ہے ؟ آخر میں فرمایا :وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے ‘ حکمت والا ہے۔ خواہ تمہیں یہ بات پسند ہو خواہ ناپسند ہو ‘ یہ اس کا حکم ہے۔ وہ عزیز ہے ‘ زبردست ہے ‘ جو چاہے حکم دے۔ اور حکیم ہے ‘ حکمت والا ہے ‘ اس کا ہر حکم حکمت پر مبنی ہے۔اس آیت میں جو مضمون بیان ہوا ہے اس پر قدرے تفصیلی گفتگو کی ضرورت ہے۔ دیکھئے ‘ انسانیّ تمدن کا اہم ترین اور بنیادی ترین مسئلہ کیا ہے ؟ ایک ہے انسانی زندگی کا مسئلہ۔ انسانی زندگی کا سب سے پہلا مسئلہ تو وہی ہے جو حیوانی زندگی کا بھی ہے ‘ یعنی اپنی مادی ضروریات۔ ہر حیوان کی طرح انسان کے ساتھ بھی پیٹ لگا ہوا ہے جو کھانے کو مانگتا ہے۔ لیکن اس کے بعد جب دو انسان ملتے ہیں اور اس سے تمدن کا آغاز ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا مسئلہ انسان کی شہوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت دو جنسیں بنا دی ہیں اور ان دونوں کے مابین تعلق سے نسل آگے چلتی ہے۔ اب اس معاملے کو کیسے منظم کیا جائے ‘ اس کی کیا حدود وقیود ہوں ؟ یہ جذبہ واقعۃً بہت زور آور potent ہے۔ اس کے بارے میں فرائیڈ نے جو کچھ کہا ہے وہ بالکل بےبنیاد نہیں ہے۔ بس یوں سمجھئے کہ اس نے ذرا زیادہ مرچ مسالا لگا دیا ہے ‘ ورنہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کا جنسی جذبہ نہایت قوی اور زورآور جذبہ ہے۔ اور جو شے جتنی قوی ہو اسے حدود میں رکھنے کے لیے اس پر اسی قدر زیادہ قدغنیں عائد کرنی پڑتی ہیں۔ کوئی گھوڑا جتنا منہ زور ہو اتنا ہی اسے لگام دینا آسان نہیں ہوتا ‘ اس کے لیے پھر مشقت کرنی پڑتی ہے۔ چناچہ اگر اس جنسی جذبے کو بےلگام چھوڑ دیا جاتا تو تمدن میں فساد ہوجاتا۔ لہٰذا اس کے لیے شادی کا معاملہ رکھا گیا کہ ایک عورت کا ایک مرد کے ساتھ رشتہ قائم ہوجائے ‘ سب کو معلوم ہو کہ یہ اس کی بیوی ہے یہ اس کا شوہر ہے ‘ تاکہ اس طرح نسب کا معاملہ بھی چلے اور ایک خاندانی ادارہ وجود میں آئے۔ ورنہ آزاد شہوت رانی free sex سے تو خاندانی ادارہ وجود میں آہی نہیں سکتا۔ چناچہ نکاح کے ذریعے ازدواجی بندھن کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو سکھایا اور اس طرح خاندانی ادارہ وجود میں آیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس ادارے میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں ؟ اس نظریے سے بڑی حماقت اور کوئی نہیں ہے۔ اس لیے کہ سیدھی سی بات ہے کہ کسی بھی ادارے کے دو برابر کے سربراہ نہیں ہوسکتے۔ اگر آپ کسی محکمے کے دو ڈائریکٹر بنا دیں تو وہ ادارہ تباہ ہوجائے گا۔ اوپر مینیجنگ ڈائریکٹر ایک ہی ہوگا ‘ اس کے نیچے آپ دس ڈائریکٹر بھی بنا دیں تو کوئی حرج نہیں۔ کسی ادارے کا جنرل مینیجر ایک ہی ہوگا ‘ اس کے ماتحت آپ ہر شعبے کا ایک مینیجر بنا دیجیے۔ کسی بھی ادارے میں اگر نظم قائم کرنا ہے تو اس کا چوٹی top کا سربراہ ایک ہی ہونا چاہیے۔ لہٰذا جب ایک مرد اور ایک عورت سے ایک خاندانی ادارہ وجود میں آئے تو اس کا سربراہ کون ہوگا مرد یا عورت ؟ مرد اور عورت انسان ہونے کے ناطے بالکل برابر ہیں ‘ ایک ہی باپ کے نطفے سے بیٹا بھی ہے اور بیٹی بھی۔ ایک ہی ماں کے رحم میں بہن نے بھی پرورش پائی ہے اور بھائی نے بھی۔ لہٰذ اس اعتبار سے شرف انسانیت میں ‘ نوع انسانیت کے فرد کی حیثیت سے ‘ دونوں برابر ہیں۔ لیکن جب ایک مرد اور ایک عورت مل کر خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں تو اب یہ برابر نہیں رہے۔ جیسے انسان سب برابر ہیں ‘ لیکن ایک دفتر میں چپڑاسی اور افسر برابر نہیں ہیں ‘ ان کے الگ الگ اختیارات اور فرائض ہیں۔ قرآن حکیم میں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ تفصیل کے ساتھ جو احکام دیے گئے ہیں وہ خاندانی نظام اور عائلی معاملات ہی سے متعلق ہیں۔ اس لیے کہ انسانی تمدن کی جڑ بنیاد اور یہی ہے۔ یہاں سے خاندان بنتا ہے اور خاندانوں کے اجتماع کا نام معاشرہ ہے۔ پاکستانی معاشرے کی مثال لے لیجیے۔ اگر ہماری آبادی اس وقت چودہ کروڑ ہے اور آپ ایک خاندان کے سات افراد شمار کرلیں تو ہمارا معاشرہ دو کروڑ خاندانوں پر مشتمل ہے۔ خاندان کا ادارہ مستحکم ہوگا تو معاشرہ مستحکم ہوجائے گا۔ خاندان کے ادارے میں صلاح اور فلاح ہوگی تو معاشرے میں بھی صلاح و فلاح نظر آئے گی۔ اگر خاندان کے ادارے میں فساد ‘ بےچینی ‘ ظلم اور ناانصافی ہوگی ‘ میاں اور بیوی میں جھگڑے ہو رہے ہوں گے تو پھر وہاں اولاد کی تربیت صحیح نہیں ہوسکتی ‘ ان کی تربیت میں یہ منفی چیزیں شامل ہوجائیں گی اور اسی کا عکس پورے معاشرے پر پڑے گا۔ چناچہ خاندانی ادارے کی اصلاح اور اس کے استحکام کے لیے قرآن مجید میں بڑی تفصیل سے احکام دیے گئے ہیں ‘ جنہیں عائلی قوانین کہا جاتا ہے۔اس ضمن میں طلاق ایک اہم معاملہ ہے۔ اس میں مرد اور عورت کو برابر کا اختیار نہیں دیا گیا۔ جہاں تک شادی کا تعلق ہے اس میں عورت کی رضامندی ضروری ہے ‘ اسے شادی سے انکار کرنے کا حق حاصل ہے ‘ اس پر جبر نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن ایک مرتبہ جب وہ نکاح میں آگئی ہے تو اب شوہر کا پلڑا بھاری ہے ‘ وہ اسے طلاق دے سکتا ہے۔ اگر ظلم کے ساتھ دے گا تو اللہ کے ہاں جواب دہی کرنی پڑے گی اور پکڑ ہوجائے گی۔ لیکن بہرحال اسے اختیار حاصل ہے۔ عورت خود طلاق نہیں دے سکتی ‘ البتہ طلاق حاصل کرسکتی ہے ‘ جسے ہم خلع کہتے ہیں۔ وہ عدالت کے ذریعے سے یا خاندان کے بڑوں کے ذریعے سے خلع حاصل کرسکتی ہے ‘ لیکن اسے مرد کی طرح طلاق دینے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اسی طرح اگر مرد نے ایک یا دو طلاقیں دے دیں اور ابھی عدت پوری نہیں ہوئی تو اسے رجوع کا حق حاصل ہے۔ اس پر عورت انکار نہیں کرسکتی۔ یہ تمام چیزیں ایسی ہیں جو موجودہ زمانے میں خواتین کو اچھی نہیں لگتیں۔ اس لیے کہ آج کی دنیا میں مساوات مرد و زن کا فلسفہ شیطان کا سب سے بڑا فلسفہ اور معاشرے میں فتنہ و فساد اور گندگی پیدا کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اور اب ہمارے ایشیائی ممالک خاص طور پر مسلمان ممالک میں خاندانی نظام کی جو بچی کھچی شکل باقی رہ گئی ہے اور جو کچھ رہی سہی اقدار موجود ہیں انہیں تباہ و برباد کرنے کی سرتوڑ کوششیں ہو رہی ہیں۔ قاہرہ کانفرنس اور بیجنگ کانفرنس کا مقصد یہی ہے کہ ایشیا کا مشرق اور مغرب دونوں طرف سے گھیراؤ کیا جائے تاکہ یہاں کی عورت کو آزادی دلائی جائے۔ مرد و عورت کی مساوات اور عورتوں کی آزادی emancipation کے نام پر ہمارے خاندانی نظام کو اسی طرح برباد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس طرح ان کے ہاں برباد ہوچکا ہے۔ امریکی صدر بل کلنٹن نے اپنے سال نو کے پیغام میں کہا تھا کہ جلد ہی ہماری قوم کی اکثریت حرام زادوں born without any wedlock پر مشتمل ہوگی۔ وہاں اب محض one parent family رہ گئی ہے۔ ماں کی حیثیت باپ کی بھی ہے اور ماں کی بھی۔ وہاں کے بچے اپنے باپ کو جانتے ہی نہیں۔ اب وہاں ایک مہم زور و شور سے اٹھ رہی ہے کہ ہر انسان کا حق ہے کہ اسے معلوم ہو کہ اس کا باپ کون ہے۔ یہ عظیم تباہی ہے جو مغربی معاشرے پر آچکی ہے اور ہمارے ہاں بھی لوگ اس معاشرے کی نقالی اختیار کر رہے ہیں اور یہ نظریۂ مساوات مرد و زن بہت ہی تابناک اور خوشنما الفاظ کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔البتہ اس معاملے کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیے ہیں بدقسمتی سے ہم مسلمانوں نے وہ بھی ان کو نہیں دیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ذہنوں پر ابھی تک ہمارا ہندوانہ پس منظرّ مسلط ہے اور ہندوؤں کے معاشرے میں عورت کی قطعاً کوئی حیثیت ہی نہیں۔ وراثت کا حق تو بہت دور کی بات ہے ‘ اسے تو اپنے شوہر کی موت کے بعد زندہ رہنے کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔ اسے تو شوہر کی چتا کے ساتھ ہی جل کر ستی ہوجانا چاہیے۔ گویا اس کا تو کوئی قانونی وجود legal entity ہے ہی نہیں۔ ہمارے آباء و اَجداد مسلمان تو ہوگئے تھے ‘ لیکن اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کی تربیت نہیں ہوسکی تھی ‘ لہٰذا ہمارے ذہنوں پر وہی ہندوانہ تصوراتّ مسلط ہیں کہ عورت تو مرد کے پاؤں کی جوتی کی طرح ہے۔ یہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں کہ ان کے جائز حقوق بھی ان کو نہیں دیتے ‘ اس کے نتیجے میں ہم اپنے اوپر ہونے والی مغربی یلغار کو مؤثرّ کرنے میں خود مدد دے رہے ہیں۔ اگر ہم اپنی خواتین کو وہ حقوق نہیں دیں گے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں تو ظاہر بات ہے کہ آزادئ نسواں ‘ حقوق نسواں اور مساوات مرد و زن جیسے خوش نما عنوانات سے جو دعوت اٹھی ہے وہ لازماً انہیں کھینچ کرلے جائے گی۔ لہٰذا اس طرف بھی دھیان رکھیے۔ ہمارے ہاں دین دار گھرانوں میں خاص طور پر عورتوں کے حقوق نظر انداز ہوتے ہیں۔ اس کو سمجھنا چاہیے کہ اسلام میں عورتوں کے کیا حقوق ہیں اور ان کی کس قدر دلجوئی کرنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ وَاَنَا خَیْرُکُمْ لِاَھْلِیْ 28 تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھے ہوں۔ اور جان لو کہ میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے اچھا ہوں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک ہو ‘ ان کی دلجوئی ہو ‘ ان کے احساسات کا بھی پاس کیا جائے۔ البتہ جہاں دین اور شریعت کا معاملہ آجائے وہاں کسی لچک کی گنجائش نہ ہو ‘ وہاں آپ شمشیر برہنہ ہوجائیں اور صاف صاف کہہ دیں کہ یہ معاملہ دین کا ہے ‘ اس میں میں تمہاری کوئی رعایت نہیں کرسکتا ‘ ہاں اپنے معاملات کے اندر میں ضرور نرمی کروں گا۔اس ساری بحث کو ذہن میں رکھیے۔ ہمارے جدید دانشور اس آیت کے درمیانی الفاظ کو تولے لیتے ہیں : وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بالْمَعْرُوْفِص اور اس سے مساوات مرد و زن کا مفہوم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ لیکن ان سے پہلے والے الفاظ اور وَبُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ اور بعدوالے الفاظ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ سے صرف نظر کرلیتے ہیں۔ یہ طرز عمل بالکل غلط ہے۔ ایک مرد اور ایک عورت سے جو خاندانی ادارہ وجود میں آتا ہے ‘ اسلام اس کا سربراہ مرد کو ٹھہراتا ہے۔ یہ فلسفہ زیادہ وضاحت سے سورة النساء میں بیان ہوگا جہاں الفاظ آئے ہیں : اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ۔۔ آیت 34۔ یہاں اس کی تمہید آگئی ہے تاکہ یہ کڑوی گولی خواتین کے حلق سے ذرا نیچے اترنی شروع ہوجائے۔ اس آیت کا ترجمہ ایک بار پھر دیکھ لیجیے : اور ان کے شوہر اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ انہیں لوٹا لیں اس عدت کے دوران میں اگر وہ واقعۃً اصلاح چاہتے ہوں۔ اور عورتوں کے لیے اسی طرح حقوق ہیں جس طرح ان پر ذمہ داریاں ہیں دستور کے مطابق۔ اور مردوں کے لیے ان پر ایک درجہ فوقیت کا ہے۔ اور اللہ زبردست ہے ‘ حکیم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو ذمہ داریاں عورت کے حوالے کی ہیں ‘ جس طرح کے اس پر فرائض عاید کیے ہیں ویسے ہی اس کو حقوق بھی عطا کیے ہیں۔ یہ دنیا کا مسلّمہ اصول ہے کہ حقوق و فرائض باہم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اگر آپ کی ذمہ داری زیادہ ہے تو حقوق اور اختیارات بھی زیادہ ہوں گے۔ اگر آپ پر ذمہّ داری بہت زیادہ ڈال دی جائے لیکن حقوق اور اختیارات اس کی مناسبت سے نہ ہوں تو آپ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرسکتے۔ جہاں ذمہ داری کم ہوگی وہاں حقوق اور اختیارات بھی کم ہوں گے۔ یہ دونوں چیزیں متناسب proportionate چلتی ہیں۔

طلاق کے مسائل : ان عورتوں کو جو خاوندوں سے مل چکی ہوں اور بالغہ ہوں، حکم ہو رہا ہے کہ طلاق کے بعد تین حیض تک رکی رہیں پھر اگر چاہیں تو اپنا نکاح دوسرا کرسکتی ہیں، ہاں چاروں اماموں نے اس میں لونڈی کو مخصوص کردیا ہے وہ دو حیض عدت گزارے کیونکہ لونڈی ان معاملات میں آزاد عورت سے آدھے پر ہے لیکن حیض کی مدت کا ادھورا ٹھیک نہیں بیٹھتا، اس لئے وہ دو حیض گزارے۔ ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ لونڈی کی طلاقیں بھی دو ہیں اور اس کی عدت بھی دو حیض ہیں۔ (ابن جریر) لیکن اس کے راوی حضرت مظاہر ضعیف ہیں، یہ حدیث ترمذی، ابو داؤد اور ابن ماجہ بھی ہے۔ امام حافظ دارقطنی فرماتے ہیں گو اس کی نسبت بھی امام دارقطنی یہی فرماتے ہیں کہ یہ حضرت عبداللہ کا اپنا قول ہی ہے۔ اسی طرح خود خلیفۃ المسلمین حضرت فاروق اعظم سے مروی ہے، بلکہ صحابہ میں اس مسئلہ میں اختلاف ہی نہ تھا، ہاں بعض سلف سے یہ بھی مروی ہے کہ عدت کے بارے میں آزاد اور لونڈی برابر ہے، کیونکہ آیت اپنی عمومیت کے لحاظ سے دونوں کو شامل ہے اور اس لئے بھی کہ یہ فطری امر ہے لونڈی اور آزاد عورت اس میں یکساں ہیں۔ محمد بن سیرین اور بعض اہل ظاہر کا یہی قول ہے لیکن یہ ضعیف ہے۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب سند والی روایت میں ہے کہ حضرت اسماء بن یزید بن سکن انصاریہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، اس سے پہلے طلاق کی عدت نہ تھی۔ سب سے پہلے عدت کا حکم ان ہی کی طلاق کے بعد نازل ہوا۔ قروء کے معنی میں سلف خلف کا برابر اختلاف رہا ہے۔ ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد طہر یعنی پاکی ہے۔ حضرت عائشہ کا یہی فرمان ہے چناچہ انہوں نے اپنی بھتیجی حضرت عبدالرحمن کی بیٹی حفصہ کو جبکہ وہ تین طہر گزار چکیں اور تیسرا حیض شروع ہوا تو حکم دیا کہ وہ مکان بدل لیں۔ حضرت عروہ نے جب یہ روایت بیان کی تو حضرت عمرہ نے جو صدیقہ کی دوسری بھتیجی ہیں، اس واقعہ کی تصدیق کی اور فرمایا کہ لوگوں نے حضرت صدیقہ پر اعتراض بھی کیا تو آپ نے فرمایا اقراء سے مراد طہر ہیں (موطا مالک) بلکہ موطا میں ابوبکر بن عبدالرحمن کا تو یہ قول بھی مروی ہے کہ میں نے سمجھدار علماء فقہاء کو قروء کی تفسیر طہر سے ہی کرتے سنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر بھی یہی فرماتے ہیں کہ جب تیسرا حیض شروع ہوا تو یہ اپنے خاوند سے بری ہوگی اور خاوند اس سے الگ ہوا (موطا) امام مالک فرماتے ہیں ہمارے نزدیک بھی مستحق امر یہی ہے۔ ابن عباس، زید بن ثابت، سالم، قاسم، عروہ، سلیمان بن یسار، ابوبکر بن عبدالرحمن، ابان بن عثمان، عطاء، قتادہ، زہری اور باقی ساتوں فقہاء کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک، امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے۔ داؤد اور ابو ثور بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام احمد سے بھی ایک روایت اسی طرح کی مروی ہے اس کی دلیل ان بزرگوں نے قرآن کی اس آیت سے بھی نکالی ہے کہ آیت (فطلقوھن لعدتھن) یعنی انہیں عدت میں یعنی طہر میں پاکیزگی کی حالت میں طلاق دو ، چونکہ جس طہر میں طلاق دی جاتی ہے وہ بھی گنتی میں آتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ آیت مندرجہ بالا میں بھی قروء سے مراد حیض کے سوا کی یعنی پاکی حالت ہے، اسی لئے یہ حضرات فرماتے ہیں کہ جہاں تیسرا حیض شروع ہو اور عورت نے اپنے خاوند کی عدت سے باہر ہوگئی اور اس کی کم سے کم مدت جس میں اگر عورت کہے کہ اسے تیسرا حیض شروع ہوگیا ہے تو اسے سچا سمجھا جائے۔ بتیس دن اور دو لحظہ ہیں، عرب شاعروں کے شعر میں بھی یہ لفظ طہر کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد تین حیض ہیں، اور جب تک تیسرے حیض سے پاک نہ ہو لے تب تک وہ عدت ہی میں ہے۔ بعض نے غسل کرلینے تک کہا ہے اور اس کی کم سے کم مدت تینتیس دن اور ایک لحظہ ہے اس کی دلیل میں ایک تو حضرت عمر فاروق کا یہ فیصلہ ہے کہ ان کے پاس ایک مطلقہ عورت آئی اور کہا کہ میرے خاوند نے مجھے ایک یا دو طلاقیں دی تھیں پھر وہ میرے پاس اس وقت آیا جبکہ اپنے کپڑے اتار کر دروازہ بند کئے ہوئے تھی (یعنی تیسرے حیض سے نہانے کی تیاری میں تھی تو فرمائے کیا حکم ہے یعنی رجوع ہوجائے گا یا نہیں ؟) آپ نے فرمایا میرا خیال تو یہی ہے رجوع ہوگیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس کی تائید کی۔ حضرت صدیق اکبر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت ابو درداء، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت انس بن مالک، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت معاذ، حضرت ابی بن کعب، حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ سعید بن مسیب، علقمہ، اسود، ابراہیم، مجاہد، عطاء، طاؤس، سعید بن جبیر، عکرمہ، محمد بن سیرین، حسن، قتاوہ، شعبی، ربیع، مقاتل بن حیات، سدی، مکحول، ضحاک، عطاء خراسانی بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام احمد سے بھی زیادہ صحیح روایت میں یہی مروی ہے آپ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ کے بڑے بڑے صحابہ کرام سے یہی مروی ہے۔ ثوری، اوزاعی، ابن ابی لیلی، ابن شیرمہ، حسن بن صالح، ابو عبید اور اسحاق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت فاطمہ بن ابی جیش سے فرمایا تھا نماز کو اقراء کے دنوں میں چھوڑ دو۔ پس معلوم ہوا کہ قروء سے مراد حیض ہے لیکن اس حدیث کا ایک راوی منذر مجہول ہے جو مشہور نہیں۔ ہاں ابن حبان اسے ثقہ بتاتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں لغتاً قرء کہتے ہیں ہر اس چیز کے آنے اور جانے کے وقت کو جس کے آنے جانے کا وقت مقرر ہو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ کے دونوں معنی ہیں حیض کے بھی اور طہر کے بھی اور بعض اصولی حضرات کا یہی مسلک ہے واللہ اعلم۔ اصمعی بھی فرماتے ہیں کہ قرء کہتے ہیں وقت کو ابو عمر بن علاء کہتے ہیں عرب میں حیض کو اور طہر کو دونوں کو قرء کہتے ہیں۔ ابو عمر بن عبدالبر کا قول ہے کہ زبان عرب کے ماہر اور فقہاء کا اس میں اختلاف ہی نہیں کہ طہر اور حیض دونوں کے معنی قرء کے ہیں البتہ اس آیت کے معنی مقرر کرنے میں ایک جماعت اس طرف گئی اور دوسری اس طرف۔ (مترجم کی تحقیق میں بھی قرء سے مراد یہاں حیض لینا ہی بہتر ہے) پھر فرمایا ان کے رحم میں جو ہوا اس کا چھپانا حلال نہیں حمل ہو تو اور حیض آئے تو۔ پھر فرمایا اگر انہیں اللہ اور قیامت پر ایمان ہو، اس میں دھمکایا جا رہا ہے کہ حق کیخلاف نہ کہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خبر میں ان کی بات کا اعتبار کیا جائے گا کیونکہ اس پر کوئی بیرونی شہادت قائم نہیں کی جاسکتی اس لئے انہیں خبردار کردیا گیا کہ عدت سے جلد نکل جانے کیلئے (حیض نہ آیا ہو) اور کہہ نہ دیں کہ انہیں حیض آگیا یا عدت کو بڑھانے کیلئے (حیض) آیا مگر اسے چھپا نہ لیں اسی طرح حمل کی بھی خبر کردیں۔ پھر فرمایا کہ عدت کے اندر اس شوہر کو جس نے طلاق دی ہے لوٹا لینے کا پورا حق حاصل ہے جبکہ طلاق رجعی ہو یعنی ایک طلاق کے بعد اور دو طلاقوں کے بعد، باقی رہی طلاق بائن یعنی تین طلاقیں جب ہوجائیں تو یاد رہے کہ جب یہ آیت اتری ہے تب تک طلاق بائن ہی نہیں بلکہ اس وقت تک جب چاہے طلاق ہوجائے سب رجعی تھیں طلاق بائن تو پھر اسلام کے احکام میں آئی کہ تین اگر ہوجائیں تو اب رجعت کا حق نہیں رہے گا۔ جب یہ بات خیال میں رہے گی تو علماء اصول کے اس قاعدے کا ضعف بھی معلوم ہوجائے گا کہ ضمیر لوٹانے سے پہلے کے عام لفظ کی خصوصیت ہوتی ہے یا نہیں اس لئے کہ اس آیت کے وقت دوسری شکل تھی ہی نہیں، طلاق کی ایک ہی صورت تھی واللہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے کہ جیسے ان عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں ویسے ہی ان عورتوں کے مردوں پر بھی حقوق ہیں۔ ہر ایک کو دوسرے کا پاس ولحاظ عمدگی سے رکھنا چاہئے، صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجتہ الوداع کے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو تم نے اللہ کی امانت کہہ کر انہیں لیا ہے اور اللہ کے کلمہ سے ان کی شرمگاہوں کو اپنے لئے حلال کیا ہے، عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے فرش پر کسی ایسے کو نہ آنے دیں جس سے تم ناراض ہو اگر وہ ایسا کریں تو انہیں مارو لیکن مار ایسی نہ ہو کہ ظاہر ہو، ان کا تم پر یہ حق ہے کہ انہیں اپنی بساط کے مطابق کھلاؤ پلاؤ پہناؤ اوڑاؤ، ایک شخص نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ ہماری عورتوں کے ہم پر کیا حق ہیں، آپ نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے منہ پر نہ مارو اسے گالیاں نہ دو ، اس سے روٹھ کر اور کہیں نہ بھیج دو ، ہاں گھر میں رکھو، اسی آیت کو پڑھ کر حضرت ابن عباس فرمایا کرتے تھے کہ میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی بیوی کو خوش کرنے کیلئے بھی اپنی زینت کروں جس طرح وہ مجھے خوش کرنے کیلئے اپنا بناؤ سنگار کرتی ہے۔ پھر فرمایا کہ مردوں کو ان پر فضیلت ہے، جسمانی حیثیت سے بھی اخلاقی حیثیت سے بھی، مرتبہ کی حیثیت سے بھی حکمرانی کی حیثیت سے بھی، خرچ اخراجات کی حیثیت سے بھی دیکھ بھال اور نگرانی کی حیثیت سے بھی، غرض دنیوی اور اخروی فضیلت کے ہر اعتبار سے، جیسے اور جگہ ہے آیت (اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاۗءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ) 4۔ الرجال :34) یعنی مرد عورتوں کے سردار ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک کو ایک پر فضیلت دے رکھی ہے اور اس لئے بھی کہ یہ مال خرچ کرتے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں سے بدلہ لینے پر غالب ہے اور اپنے احکام میں حکمت والا۔

آیت 228 - سورۃ البقرہ: (والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ۚ ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن إن كن يؤمن بالله...) - اردو