پھر مزید یہ کہ اگر ایک بیچاری کو تم نے طلاق دے دی ہے ، اپنی رفاقت کے لائق نہیں سمجھا تو اسے پابند نہ بناؤ ۔ اگر وہ عدت پوری کردیتی ہے تو اب اسے ہر طرح سے ، ہر طرف سے آزاد چھوڑ دو ۔ اگر وہ اس سابق خاوند کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے اور دونوں اس پر راضی ہوگئے ہیں تو تم اسے اپنی عزت کا مسئلہ نہ بناؤ اور اسے ایسا کرنے دو وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ” اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں ، تو پھر اس میں مانع نہ ہو ، کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کرلیں ، جبکہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں۔ “
ترمذی میں معقل بن یسار سے روایت ہے کہ اس نے اپنی بہن کا نکاح مسلمانوں میں سے کسی سے کرادیا تھا۔ وہ اس کے پاس کچھ عرصہ رہی پھر اس نے اسے ایک طلاق دے دی لیکن رجوع نہ کیا اور عدت ختم ہوگئی ۔ اس کے بعد وہ اسے چاہنے لگا اور عورت اسے چاہنے لگی ۔ اب دوسرے پیغام دینے والوں کے ساتھ اس نے بھی دوبارہ اس کا پیغام دیا ۔ اس پر معقل نے اسے کہا : اے ذلیل بن ذلیل ، میں نے تجھے اپنی بہن دے کر تمہیں اعزاز بخشا ، تجھے نکاح کرکے دے دی لیکن تو نے اسے ناحق طلاق دے دی ۔ اللہ کی قسم ! اب وہ کبھی تمہارے پاس نہ لوٹے گی۔ اور قیامت تک ، معقل کہتا ہے : اللہ کو اس بات کا علم تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہیں اس لئے یہ آیات نازل ہوئیں وَإِذَا طَلَّقْتُمُ................ لا تَعْلَمُونَجب معقل نے سنا کہ یہ آیات نازل ہوگئی ہیں تو اس نے کہا : میرا رب سنتا ہے ۔ میں مطیع فرمان ہو۔ اس کے بعد اس نے اس شخص کو بلایا اور کہا کہ میں تمہیں اپنی بہن نکاح کرکے دیتا ہوں اور میں تمہارا احترام کرتا ہوں۔
اللہ نے جان لیا کہ میاں بیوی دونوں صدق دل سے ازدواجی زندگی کا آغاز کرنا چاہتے ہیں ۔ اور ایک دوسرے کی طرف مائل ہیں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فوراً ہمدردانہ انداز میں ان کی خواہش کو قبول کرلیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں پر کس قدر شفقت و رحمت ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ کس نرمی چاہتا ہے ۔ جماعت مسلمہ کو کس قدر تربیت دی جارہی ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کے زیر سایہ وہ مہذب انسان بن رہے ہیں اور اسلامی نظام کے زیر سایہ ان پر ربانی عنایات کی بارش ہورہی ہے ۔ زندگی کے پر موڑ پر ان کی بہترین راہنمائی کی جارہی ہے ۔
اس ممانعت اور تنبیہ کے بعد اب مسلمانوں کے ضمیر اور ان کے وجدان کو جگایا جارہا ہے ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ ” تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا ، اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان لانے والے ہو ، تمہارے لئے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ “
اللہ و رسول پر ایمان ہی وہ عامل ہے جس کی وجہ سے یہ نصیحت دلوں کی تہوں تک پہنچ جاتی ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب یہ دل اس دنیا سے زیادہ تر وسیع دنیا یعنی دار آخرت سے معلق ہوں۔ جب دلوں کی پسند وناپسند اللہ کی رضا کے تابع ہوجاتی ہے ۔ جب دلوں میں یہ شعور پیدا ہوجاتا ہے کہ اللہ ، جو طرزعمل اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے ، وہی اعلیٰ ہوتا ہے ، وہی شائستہ ہوتا ہے اور وہی پاکیزہ ہوتا ہے لہٰذا اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ اسے اپنائیں اور پاکیزگی اور شائستگی اختیار کریں ، اپنے لئے بھی اور اپنے پورے معاشرے کے لئے بھی ۔ آخر میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جو ذات تمہارے لئے لائحہ عمل کا انتخاب کرتی ہے ، وہ ذات وہ ہے ، جو سب کچھ جانتی ہے لہٰذا تمہارا فرض ہے کہ تسلیم ورضا کی حالت میں اس کی ہر بات پر لبیک کہو۔
یو اللہ تعالیٰ عائلی زندگی کے ان چھوٹے چھوٹے معاملات کو بلند کرکے عبادت کے مقام تک پہنچادیتے ہیں ۔ ان معاملات کا تعلق بھی اللہ کی رسی سے ہوجاتا ہے۔ ان کو زمین کی آلودگیوں سے پاک کردیا جاتا ہے ۔ زندگی کی گندگیوں سے صاف کردیا جاتا ہے اور یہ معاملات اب محض دنیاوی کھینچاتانی یا محض خاندانی اور معاشرتی کشمکش نہیں رہتے جو بالعموم طلاق کے وقت ایک فضابن جاتی ہے ، بلکہ ان کو پاک کرکے خدائی تعلیم کے ساتھ وابستہ کردیا جاتا ہے۔
اگلا حکم طلاق کے بعد ، بچے کی پرورش اور دودھ پلانے کے بارے میں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات محض تکمیل طلاق سے میاں بیوی کے باہمی معاملات ختم نہیں ہوجاتے ۔ اکثر اوقات بچے رہ جاتے ہیں جن کی پرورش میں دونوں نے حصہ لیا ہوتا ہے ۔ جواب بھی دونوں کے لئے باہمی رابطے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ اگر والدین کی باہم نہیں نبھتی تو چھوٹے لوگوں کا قصور کیا ہے ؟ ان کے لئے تو مناسب اور تفصیلی گارنٹی ہونی چاہئے تاکہ وہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کے قابل بن سکیں ، ایسی گارنٹی جو سب حالات میں ان کے لئے مفید ہو :
آیت 232 وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلاَ تَعْضُلُوْہُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَہُمْ بالْمَعْرُوْفِ ط جو عورت طلاق پا کر اپنی عدت پوری کرچکی ہو وہ آزاد ہے کہ جہاں چاہے اپنی پسند سے نکاح کرلے۔ اس کے اس ارادے میں طلاق دینے والے شوہر یا اس کے خاندان والوں کو کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دی اور عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو اب عدت کے بعد عورت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو اسی شوہر سے نکاح ثانی کرسکتی ہے۔ آیت 228 کے ذیل میں یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان ہوچکی ہے کہ ایک یا دو طلاق کی صورت میں شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہے۔ لیکن اگر عدت پوری ہوگئی تو اب یہ طلاق رجعی نہیں رہی ‘ طلاق بائن ہوگئی۔ اب شوہر اور بیوی کا جو رشتہ تھا وہ ٹوٹ گیا۔ اب اگر یہ رشتہ پھر سے جوڑنا ہے تو دوبارہ نکاح کرنا ہوگا اور اس میں عورت کی مرضی کو دخل ہے۔ عدت کے اندر اندر رجوع کی صورت میں عورت کی مرضی کو دخل نہیں ہے۔ لیکن عدت کے بعد اب عورت کو اختیار ہے ‘ وہ چاہے تو اسی سابق شوہر سے نکاح ثانی کرلے اور چاہے تو اپنی مرضی سے کسی اور شخص سے نکاح کرلے۔ البتہ طلاق مغلظّ تیسری طلاق کے بعد جب تک اس عورت کا نکاح کسی اور مرد سے نہ ہوجائے اور وہ بھی اسے طلاق نہ دے دے ‘ سابق شوہر کے ساتھ اس کا نکاح نہیں ہوسکتا۔ اس آیت میں یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ طلاق بائن کے بعد اگر وہی عورت اور وہی مرد پھر سے نکاح کرنا چاہیں تو اب کسی کو اس میں آڑے نہیں آنا چاہیے۔ عام طور پر عورت کے قریبی رشتے دار اس میں رکاوٹ بنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے پہلے بھی تمہیں ستایا تھا ‘ اب تم پھر اسی سے نکاح کرنا چاہتی ہو ‘ ہم تمہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے۔ذٰلِکَ یُوْعَظُ بِہٖ مَنْ کَانَ مِنْکُمْ یُؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ط جن کے اندر ایمان ہی نہیں ہے ان کے لیے تو یہ ساری نصیحت گویا بھینس کے آگے بین بجانا ہے جس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ذٰلِکُمْ اَزْکٰی لَکُمْ وَاَطْہَرُ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ لہٰذا تم اپنی عقل کو مقدم نہ رکھو ‘ بلکہ اللہ کے احکام کو مقدم رکھو۔ مرد اور عورت دونوں کا خالق وہی ہے ‘ اسے مرد بھی عزیز ہے اور عورت بھی عزیز ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اَلْخَلْقُ عَیَال اللّٰہِ 29 یعنی تمام مخلوق اللہ کے کنبے کی مانند ہے۔ لہٰذا اللہ کو تو ہر انسان محبوب ہے ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ہو۔ انسان اس کی تخلیق کا شاہکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا علم بھی کامل ہے ‘ وہ جانتا ہے کہ عورت کے کیا حقوق ہونے چاہئیں اور مرد کے کیا ہونے چاہئیں۔
ورثاء کے لئے طلاق کی مزید آئینی وضاحت : اس آیت میں عورتوں کے ولی وارثوں کو ممانعت ہو رہی ہے کہ جب کسی عورت کو طلاق ہوجائے اور عدت بھی گزر جائے پھر میاں بیوی اپنی رضامندی سے نکاح کرنا چاہیں تو وہ انہیں نہ روکیں۔ اس آیت میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ عورت خود اپنا نکاح نہیں کرسکتی اور نکاح بغیر ولی کے نہیں ہوسکتا چناچہ ترمذی اور ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث وارد کی ہے کہ عورت عورت کا نکاح نہیں کرسکتی نہ عورت اپنا نکاح آپ کرسکتی ہے۔ وہ عورتیں زنا کار ہیں جو اپنا نکاح آپ کرلیں۔ دوسری حدیث میں ہے نکاح بغیر راہ یافتہ کے اور دو عادل گواہوں کے نہیں، گو اس مسئلہ میں بھی اختلاف ہے لیکن اس کے بیان کی جگہ تفسیر نہیں۔ ہم اس کا بیان کتاب الاحکام میں کرچکے ہیں فالحمداللہ۔ یہ آیت حضرت معقل بن یسار اور ان کی ہمشیرہ صاحبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے بیان میں ہے کہ حضرت معقل بن یسار فرماتے ہیں میری بہن کا منگیتر میرے پاس آتا تھا۔ میں نے نکاح کردیا۔ اس نے کچھ دنوں بعد طلاق دے دی۔ پھر عدت گزر جانے کے بعد نکاح کی درخواست کی، میں نے انکار کردیا۔ اس پر یہ آیت اتری جسے سن کر حضرت معقل نے باوجود یہ کہ قسم کھا رکھی تھی کہ میں تیرے نکاح میں نہ دوں گا، نکاح پر آمادہ ہوگئے اور کہنے لگے میں نے اللہ کا فرمان سنا اور میں نے مان لیا اور اپنے بہنوئی کو بلا کر دوبارہ نکاح کردیا اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔ ان کا نام جمیل بنت یسار تھا۔ ان کے خاوند کا نام ابو البداح تھا۔ بعض نے ان کا نام فاطمہ بن یسار بتایا ہے۔ سدی فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت جابر بن عبداللہ اور ان کے چچا کی بیٹی کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ صحیح ہے۔ پھر یہ فرمایا یہ نصیحت و وعظ کیلئے ہے جنہیں شریعت پر ایمان ہو، اللہ کا ڈر ہو، قیامت کا خوف ہو، انہیں چاہئے کہ اپنی ولایت میں جو عورتیں ہوں انہیں ایسی حالت میں نکاح سے نہ روکیں، شریعت کی اتباع کر کے ایسی عورتوں کو ان کے خاوندوں کے نکاح میں دے دینا اور اپنی حمیت و غیرت کو جو خلاف شرع ہو، شریعت کے ماتحت کردینا ہی تمہارے لئے بہتری اور پاکیزگی کا باعث ہے۔ ان مصلحتوں کا علم جناب باری تعالیٰ کو ہی ہے، تمہیں معلوم نہیں کہ کس کام کے کرنے میں بھلائی ہے اور کس کے چھوڑنے میں۔ یہ علم حقیقت میں اللہ رب العزت ہی کو ہے۔