سورۃ البقرہ: آیت 233 - ۞ والوالدات يرضعن أولادهن حولين... - اردو

آیت 233 کی تفسیر, سورۃ البقرہ

۞ وَٱلْوَٰلِدَٰتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَٰدَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ ٱلرَّضَاعَةَ ۚ وَعَلَى ٱلْمَوْلُودِ لَهُۥ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۚ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَا تُضَآرَّ وَٰلِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَلَا مَوْلُودٌ لَّهُۥ بِوَلَدِهِۦ ۚ وَعَلَى ٱلْوَارِثِ مِثْلُ ذَٰلِكَ ۗ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَن تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا ۗ وَإِنْ أَرَدتُّمْ أَن تَسْتَرْضِعُوٓا۟ أَوْلَٰدَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُم مَّآ ءَاتَيْتُم بِٱلْمَعْرُوفِ ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

اردو ترجمہ

جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولا د پوری مدت رضاعت تک دودھ پیے، تو مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں اِس صورت میں بچے کے باپ کو معروف طریقے سے انہیں کھانا کپڑا دینا ہوگا مگر کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالنا چاہیے نہ تو ماں کو اِس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچہ اس کا ہے، اور نہ باپ ہی کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے دودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا بچے کے باپ پر ہے ویسا ہی اس کے وارث پر بھی ہے لیکن اگر فریقین باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں بشر طیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کرو، وہ معروف طریقے پر ادا کر دو اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waalwalidatu yurdiAAna awladahunna hawlayni kamilayni liman arada an yutimma alrradaAAata waAAala almawloodi lahu rizquhunna wakiswatuhunna bialmaAAroofi la tukallafu nafsun illa wusAAaha la tudarra walidatun biwaladiha wala mawloodun lahu biwaladihi waAAala alwarithi mithlu thalika fain arada fisalan AAan taradin minhuma watashawurin fala junaha AAalayhima wain aradtum an tastardiAAoo awladakum fala junaha AAalaykum itha sallamtum ma ataytum bialmaAAroofi waittaqoo Allaha waiAAlamoo anna Allaha bima taAAmaloona baseerun

آیت 233 کی تفسیر

مطلقہ والدہ ، اپنے بچوں کے بارے میں بالخصوص دودھ پینے والے بچوں کے بارے میں بری الذمہ نہیں ہے ۔ اس پر اس سلسلے میں فرائض عائد ہوتے ہیں ۔ یہ فرائض اللہ تعالیٰ کی جانب سے عائد ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو آزاد نہیں چھوڑدیا کیونکہ ایسے حالات میں ، اگر عورت کو ................ اپنی فطرت کے مطابق آزاد چھوڑدیا جائے تو کشیدہ تعلقات کی وجہ سے کوئی غلط فیصلہ بھی کرسکتی ہے اور اس غلط فیصلے کے نتیجے میں بچہ ضائع ہوسکتا ہے ، اسے نقصان پہنچ سکتا ہے ، چناچہ اللہ تعالیٰ یہاں بچوں کے لئے ضابطہ وضع فرماتے ہیں اور والدہ پر فرض کردیتے ہیں کہ وہ ایسے حالات میں کوئی ایسا رویہ اختیار نہ کرے جس سے بچے کو نقصان پہنچے ۔ اللہ ہم سے بھی ، ہمارے ساتھ زیادہ محبت ہے ۔ وہ سب سے زیادہ مہربان ہے بلکہ والدین سے بھی زیادہ رحیم وکریم ہے ۔ ماں کا فرض ہے کہ وہ پورے دو سال تک بچے کو دودھ پلائے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ اس بات سے واقف ہیں کہ اصول صحت کے لحاظ سے بچے کے لئے دو سال کے عرصہ تک دودھ پینا ضروری ہے ۔ صحت کے اصولوں کے لحاظ سے بھی اور نفسیاتی اصولوں کے اعتبار سے بھی لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ” جو لوگ پوری مدت رضاعت تک دودھ پلانا چاہیں۔ “ جدید اصول صحت اور جدید اصول نفسیات کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت اور نفسیات دونوں اعتبار سے بچے کو اپنی ماں کی گود میں ہونا ضروری ہے ۔ تاکہ دونوں لحاظ سے وہ صحیح نشوونما پاسکے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی نعمت نے اس وقت کا انتظار نہ کیا کہ مسلمان از خود ، اصول فطرت کے ان رازوں تک رسائی حاصل کریں اور پھر ان پر عمل پیرا ہوں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صدیوں تک بچوں کی قیمتی نسل کو انسان کی جہالت کے حوالے نہیں فرماسکتے تھے ۔ اللہ تو اپنے بندوں پر بےحد مہربان ہے ۔ بالخصوص ان چھوٹے اور بےبس بچوں پر تو وہ بہت مہربان ہے ۔ کیونکہ وہ اس کے رحم و شفقت کے زیادہ محتاج ہیں ۔

لیکن والدہ پر جو فرض عائد کیا گیا ہے ، اس کے مقابلے میں اسے حق بھی دیا گیا ہے اور یہ حق والد کے ذمہ ہے یہ کہ وہ والدہ کو معروف طریقے کے مطابق نفقہ اور لباس فراہم کرے ۔ اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرے ، کیونکہ بچوں کے معاملے میں دونوں شریک ہیں ۔ اور دودھ پینے والے اس چھوٹے بچے کے مقابلے میں دونوں مسئول ہیں ، وہ اسے دودھ پلائے گی اور دیکھ بھال کرے گی اور والد اس کی ماں کو نفقہ اور لباس فراہم کرے گا ۔ دونوں اپنے فرائض ادا کریں گے۔ اپنی اپنی طاقت کی حدود میں۔ لا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلا وُسْعَهَا ” کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالاجائے۔ “

اور یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ والدین میں کوئی بھی اس بچے کو اذیت وانتقام کا وسیلہ بنائے لا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ ” نہ تو ماں کو اس وجہ سے تکلیف میں ڈالاجائے کہ بچہ اس کا ہے ، نہ ہی باپ کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے ۔ “

ماں کو بچے سے بےحد محبت ہوتی ہے ۔ وہ بچے کے سوا زندہ نہیں رہ سکتی ۔ باپ کے لئے یہ مناسب نہیں کہ ماں کی محبت سے ناجائز فائدہ اٹھائے اور اسے ایسی شرائط پر مجبور کردے جو معروف نہ ہوں۔ نہ ہی ماں کے لئے یہ مناسب ہے کہ وہ والد کی مجبوری اور اس کی محبت سے غلط فائدہ اٹھائے اور اس پر ایسا بوجھ ڈالے جو اس کی قوت برداشت سوے زیادہ ہو ، یا ضد میں آکر سرے سے انکار کردے۔

اگر والد فوت ہوجائے تو اس کے ورثاء پر یہی فرائض عائد ہوتے ہیں جو بچے کے والد پر عائد ہوتے ہیں ۔ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ ” اور وارث پر بھی اس کے ورثاء کے ایسے ہی حقوق ہیں جس طرح والد پر ہیں ۔ “ وارث کا یہ فرض ہے کہ وہ دودھ پلانے والی کو خرچہ اور کپڑے دے ، معروف طریقے کے مطابق اور حسن سلوک کے ساتھ ۔ اس لئے معاشرہ کی اجتماعی ذمہ داریاں پوری کی جاسکیں ۔ ایک طرف میت کی میراث وارثوں کو ملے تو دوسری طرف میت کے ذمہ جو عائد فرائض ہیں وہ بھی وارثوں پر عائد ہوں۔ اس طرح اگر کبھی ایسا ہو کہ بچے کا والد فوت ہوجائے تو بچہ ضائع نہ ہو ۔ یوں اسلامی نظام میں ایسے بچے اور اس کی والدہ دونوں کے حقوق ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجاتے ہیں۔

ان تمام احتیاطی تدابیر کے بعد اب قرآن مجید حالت رضاعت کی ایک دوسری صورت کی طرف متوجہ ہوتا ہے فَإِنْ أَرَادَا فِصَالا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا ” اگر فریقین باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں ، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ “ اگر والد اور والدہ یاوارث اور والدہ باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرلیں کہ دو سال کا عرصہ پورا ہونے سے پہلے ہی بچے کا دودھ چھڑا لیں ، اس لئے کہ اسی میں بچے کی مصلحت ہے ، مثلاً اصول صحت کے اعتبار سے یا اور کسی وجہ سے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بشرطیکہ یہ فیصلہ دونوں فریقوں کی رضامندی اور مشورے سے ہو۔ اور اس میں بچے کے لئے کوئی مصلحت ہو ، جس کی تربیت ان دونوں کے حوالہ سے ہے ، جس کی دیکھ بھال ان دونوں پر منجانب اللہ فرض ہے ۔

یہی حکم اس صورت میں ہے کہ والدہ کی خواہش یہ ہو کہ وہ اجرت پر کسی بچے کو کسی کا دودھ پلائے۔ بشرطیکہ بچے کا مفاد اس میں ہو ، بشرطیکہ وہ دودھ پلانے والی کو طے شدہ اجرت ادا کرے ۔ اور اس کے ساتھ بھی حسن سلوک اختیارکرکے ۔ وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلادَكُمْ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ ” اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہو ، تو اس میں کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کردو ، معروف طریقے سے ادا کرو۔ “ یہ ادائیگی اس بات کی ضمانت ہوگی کہ دودھ پلانے والی بچے کے ساتھ اچھا سلوک رکھے گی ۔ اس کی خدمت کرے گی اور اس کی ہر ضرورت کو پوری کرے گی ۔ اور آخر کار پھر اس سارے معاملہ کو اللہ کے ساتھ وابستہ کردیا جاتا ہے۔ تقویٰ کے ساتھ وابستہ کردیا جاتا ہے۔ اس گہرے اور لطیف شعور سے وابستہ کردیا جاتا ہے ، جو وہ کام کرسکتا ہے جو دوسرے ذرائع سے نہ کیا جاسکتا ہو یا نہ کرایا جاسکتا ہو وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ” اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ کام تم کرتے ہو ، سب اللہ کی نظر میں ہے۔ “ یہ ہے وہ آخری ضمانت ۔ پختہ گارنٹی اور یہی وہ آخری ضمانت ہے جو قابل اعتماد ہے ۔

مطلقات یعنی مطلقہ عورتوں کے بارے میں احکام بیان کرنے اور طلاق کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاملات کے بارے میں قانون سازی کے بعد ، اب اس عورت کا حکم بیان ہوتا ہے ، جس کا خاوند فوت ہوجائے ۔ اس کی عدت کا حکم ، عدت کے اختتام کے بعد اسے نکاح ثانی کی پیشکش دینے کے بارے میں اور دوران عدت کنایوں سے خواہش نکاح کرنے کے سلسلے میں احکام :

آیت 233 وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلاَدَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ ط اگر طلاق دینے والا شوہر یہ چاہتا ہے کہ مطلقہّ عورت اس کے بچے کو دودھ پلائے اور رضاعت کی مدت پوری کرے تو دو سال تک وہ عورت اس ذمہّ داری سے انکار نہیں کرسکتی۔ وَعَلَی الْمَوْلُوْدِ لَہٗ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بالْمَعْرُوْفِ ط اس مدت میں بچے کے باپ پر مطلقہّ کے کھانے اور کپڑے کی ذمہ داری ہے ‘ جسے ہم نان نفقہ کہتے ہیں ‘ اس لیے کہ قانوناً اولاد شوہر کی ہے۔ اس سلسلے میں دستور کا لحاظ رکھنا ہوگا۔ یعنی مرد کی حیثیت اور عورت کی ضروریات کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ ایسا نہ ہو کہ مرد کروڑ پتی ہو لیکن وہ مطلقہ بیوی کو اپنی خادماؤں کی طرح کا نان نفقہ دینا چاہے۔ لَا تُکَلَّفُ نَفْسٌ الاَّ وُسْعَہَا ج لاَ تُضَآرَّ وَالِدَۃٌم بِوَلَدِہَا وَلاَ مَوْلُوْدٌ لَّہٗ بِوَلَدِہٖق یعنی دونوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے ‘ جیسا کہ حدیث نبوی ﷺ ہے : لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ 30 یعنی نہ تو نقصان پہنچانا ہے اور نہ ہی نقصان اٹھانا ہے۔ وَعَلَی الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِکَ ج اگر بچے کا باپ فوت ہوجائے تو بچے کو دودھ پلانے والی مطلقہ عورت کا نان نفقہ مرحوم کے وارثوں کے ذمے ّ رہے گا۔ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالاً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْہُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا ط وَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلاَدَکُمْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ اگر بچے کا باپ یا اس کے ورثاء بچے کی والدہ کی جگہ کسی اور عورت سے بچے کو دودھ پلوانا چاہتے ہوں تو بھی کوئی حرج نہیں ‘ انہیں اس کی اجازت ہے ‘ بشرطیکہ۔۔اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَیْتُمْ بالْمَعْرُوْفِ ط۔ یہ نہ ہو کہ نان نفقہ بچانے کے لیے اب تم مدت رضاعت کے درمیان بچے کی ماں کے بجائے کسی اور عورت سے اس لیے دودھ پلوانے لگو کہ اسے معاوضہ کم دینا پڑے گا۔ اگر تم کسی دایہ وغیرہ سے دودھ پلوانا چاہتے ہو تو پہلے بچے کی ماں کو بھلے طریقے پر وہ سب کچھ ادا کر دو جو تم نے طے کیا تھا۔

مسئلہ رضاعت : یہاں اللہ تعالیٰ بچوں والیوں کو اشاد فرماتا ہے کہ پوری پوری مدت دودھ پلانے کی دو سال ہے۔ اس کے بعد دودھ پلانے کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس سے دودھ بھائی پنا ثابت نہیں ہوتا اور نہ حرمت ہوتی ہے۔ اکثر ائمہ کرام کا یہی مذہب ہے۔ ترمذی میں باب ہے کہ رضاعت جو حرمت ثابت کرتی ہے وہ وہی ہے جو دو سال پہلے کی ہو۔ پھر حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وہی رضاعت حرام کرتی ہے جو آنتوں کو پر کر دے اور دودھ چھوٹھنے سے پہلے ہو۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اکثر اہل علم صحابہ وغیرہ کا اسی پر عمل ہے کہ دو سال سے پہلے کی رضاعت تو معتبر ہے، اس کے بعد کی نہیں۔ اس حدیث کے راوی شرط بخاری و مسلم پر ہیں۔ حدیث میں فی الثدی کا جو لفظ ہے اس کے معنی بھی محل رضاعت کے یعنی دو سال سے پہلے کے ہیں، یہی لفظ حضور ﷺ نے اس وقت بھی فرمایا تھا جب آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تھا کہ وہ دودھ پلائی کی مدت میں انتقال کر گئے ہیں اور انہیں دودھ پانے والی جنت میں مقرر ہے۔ حضرت ابراہیم کی عمر اس وقت ایک سال اور دس مہینے کی تھی۔ دار قطنی میں بھی ایک حدیث دو سال کی مدت کے بعد کی رضاعت کے متعبر نہ ہونے کی ہے۔ ابن عباس بھی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔ ابو داؤد طیالسی کی روایت میں ہے کہ دودھ چھوٹ جانے کے بعد رضاعت نہیں اور بلوغت کے بعد یتیمی کا حکم نہیں۔ خود قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت (وَّفِصٰلُهٗ فِيْ عَامَيْنِ اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ) 31۔ لقمان :14) دودھ چھٹنے کی مدت دو سال میں ہے۔ اور جگہ ہے آیت (وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا) 46۔ الاحقاف :15) یعنی حمل اور دودھ (دونوں کی مدت) تین ماہ ہیں۔ یہ قول کہ دو سال کے بعد دودھ پلانے اور پینے سے رضاعت کی حرمت ثابت نہیں ہوتی، ان تمام حضرات کا ہے۔ حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعود، حضرت جابر، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عمر، حضرت ام سلمہ رضوان اللہ علیھم اجمعین، حضرت سعید بن المسیب، حضرت عطاء اور جمہور کا یہی مذہب ہے۔ امام شافعی، امام احمد، امام اسحق، امام ثوری، امام ابو یوسف، امام محمد، امام مالک رحمھم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ گو ایک روایت میں امام مالک سے دو سال دو ماہ بھی مروی ہیں اور ایک روایت میں دو سال تین ماہ بھی مروی ہیں۔ امام ابوحنیفہ ڈھائی سال کی مدت بتلاتے ہیں۔ زفر کہتے ہیں جب تک دودھ نہیں چھٹا تو تین سالوں تک کی مدت ہے، امام اوزاعی سے بھی یہ روایت ہے۔ اگر کسی بچہ کا دو سال سے پہلے دودھ چھڑوا لیا جائے پھر اس کے بعد کسی عورت کا دودھ وہ پئے تو بھی حرمت ثابت نہ ہوگی اس لئے کہ اب قائم مقام خوراک کے ہوگیا۔ امام اوزاعی سے ایک روایت ہی بھی ہے کہ حضرت عمر، حضرت علی سے مروی ہے کہ دودھ چھڑوا لینے کے بعد رضاعت نہیں۔ اس قول کے دونوں مطلب ہوسکتے ہیں یعنی یا تو یہ کہ دو سال کے بعد یا یہ کہ جب بھی اس سے پہلے دودھ چھٹ گیا۔ اس کے بعد جیسے امام مالک کا فرمان ہے، واللہ اعلم، ہاں صحیح بخاری، صحیح مسلم میں حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ وہ اس کے بعد کہ، بلکہ بڑے آدمی کی رضاعت کو حرمت میں مؤثر جانتی ہیں۔ عطاء اور لیث کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت عائشہ جس شخص کا کسی کے گھر زیادہ آنا جانا جانتیں تو وہاں حکم دیتیں کہ وہ عورتیں اسے اپنا دودھ پلائیں اور اس حدیث سے دلیل پکڑتی تھیں کہ حضرت سالم کو جو حضرت ابو حذیفہ کے مولیٰ تھے آنحضرت ﷺ نے حکم دیا تھا کہ وہ ان کی بیوی صاحبہ کا دودھ پی لیں، حالانکہ وہ بڑی عمر کے تھے اور اس رضاعت کی وجہ سے پھر وہ برابر آتے جاتے رہتے تھے لیکن حضور ﷺ کی دوسری ازواج مطہرات اس کا انکار کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ یہ واقعہ خاص ان ہی کیلئے تھا ہر شخص کیلئے یہ حکم نہیں، یہی مذہب جمہور کا ہے یعنی چاروں اماموں، ساتوں فقیہوں، کل کے کل بڑے صحابہ کرام اور تمام امہات المومنین کا سوائے حضرت عائشہ کے اور ان کی دلیل وہ حدیث ہے جو بخاری و مسلم میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا دیکھ لیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہیں، رضاعت اس وقت ہے جب دودھ بھوک مٹا سکتا ہو، باقی رضاعت کا پورا مسئلہ آیت (وامھا تکم اللاتی ارضعنکم) کی تفسیر میں آئے گا انشاء اللہ، پھر فرمان ہے کہ بچوں کی ماں کا نان نفقہ بچوں کے والد پر ہے۔ اپنے اپنے شہروں کی عادت اور دستور کے مطابق ادا کریں، نہ تو زیادہ ہو نہ کم بلکہ حسب طاقت و وسعت درمیانی خرچ دے دیا کرو جیسے فرمایا آیت (وَاُمَّھٰتُكُمُ الّٰتِيْٓ اَرْضَعْنَكُمْ) 4۔ النسآء :23) یعنی کشادگی والے اپنی کشادگی کے مطابق اور تنگی والے اپنی طاقت کے مطابق دیں، اللہ تعالیٰ طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، عنقریب اللہ تعالیٰ سختی کے بعد آسانی کر دے گا۔ ضحاک فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اس کے ساتھ بچہ بھی ہے تو اس کی دودھ پلائی کے زمانہ تک کا خرچ اس مرد پر واجب ہے۔ پھر ارشاد باری ہے کہ عورت اپنے بچے کو دودھ پلانے سے انکار کر کے اس کے والد کو تنگی میں نہ ڈال دے بلکہ بچے کو دودھ پلاتی رہے اس لئے کہ یہی اس کی گزارن کا سبب ہے۔ دودھ سے جب بچہ بےنیاز ہوجائے تو بیشک بچہ کو دے دے لیکن پھر بھی نقصان رسانی کا ارادہ نہ ہو۔ اسی طرح خاوند اس سے جبراً بچے کو الگ نہ کرے جس سے غریب دکھ میں پڑے۔ وارث کو بھی یہی چاہئے کہ بچے کی والدہ کو خرچ سے تنگ نہ کرے، اس کے حقوق کی نگہداشت کرے اور اسے ضرر نہ پہنچائے۔ حنفیہ اور حنبلیہ میں سے جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ رشتہ داروں میں سے بعض کا نفقہ بعض پر واجب ہے انہوں نے اسی آیت سے استدلال کیا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب اور جمہور سلف صالحین سے یہی مروی ہے۔ سمرہ والی مرفوع حدیث سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے جس میں ہے کہ جو شخص اپنے کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہوجائے تو وہ آزاد ہوجائے گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ دو سال کے بعد دودھ پلانا عموماً بچہ کو نقصان دیتا ہے، یا تو جسمانی یا دماغی۔ حضرت علقمہ نے ایک عورت کو دو سال سے بڑے بچے کو دودھ پلاتے ہوئے دیکھ کر منع فرمایا۔ پھر فرمایا گیا ہے اگر یہ رضامندی اور مشورہ سے دو سال کے اندر اندر جب کبھی دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کوئی حرج نہیں ہاں ایک کی چاہت دوسرے کی رضامندی کے بغیر ناکافی ہوگی اور یہ بچے کے بچاؤ کی اور اس کی نگرانی کی ترکیب ہے۔ خیال فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کس قدر رحیم و کریم ہے کہ چھوٹے بچوں کے والدین کو ان کاموں سے روک دیا جس میں بچے کی بربادی کا خوف تھا، اور وہ حکم دیا جس سے ایک طرف بچے کا بچاؤ ہے دوسری جانب ماں باپ کی اصلاح ہے۔ سورة طلاق میں فرمایا آیت (فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ) 65۔ الطلاق :6) اگر عورتیں بچے کو دودھ پلایا کریں تو تم ان کی اجرت بھی دیا کرو اور آپس میں عمدگی کے ساتھ معاملہ رکھو۔ یہ اور بات ہے کہ تنگی کے وقت کسی اور سے دودھ پلوا دو ، چناچہ یہاں بھی فرمایا اگر والدہ اور والد متفق ہو کر کسی عذر کی بنا پر کسی اور سے دودھ شروع کرائیں اور پہلے کی اجازت کامل طور پر والد والدہ کو دے دے تو بھی دونوں پر کوئی گناہ نہیں، اب دوسری کسی دایہ سے اجرت چکا کر دودھ پلوا دیں۔ لوگو اللہ تعالیٰ سے ہر امر میں ڈرتے رہا کرو اور یاد رکھو کہ تمہارے اقوال و افعال کو وہ بخوبی جانتا ہے۔

آیت 233 - سورۃ البقرہ: (۞ والوالدات يرضعن أولادهن حولين كاملين ۖ لمن أراد أن يتم الرضاعة ۚ وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف ۚ...) - اردو