پہلی آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو ، اپنی وفات سے پہلے وہ اپنی عورت کے بارے میں ضرور یہ وصیت کرجائے کہ اسے گھر سے ایک سال کے عرصہ تک کم ازکم نہ نکالاجائے اور ایک سال تک اسے اجازت ہو کہ وہ اس کے مال سے اخراجات کرے۔ گھر سے نہ نکلے اور اگر وہ مناسب سمجھتی ہے کہ اس کے حالات ابھی نکاح ثانی کے لئے مناسب نہیں یا اس کے جذبات ابھی تک مجروح ہیں تو ایک سال تک گھر میں رکی رہے ۔ لیکن یہ حق عورت کا ہے اور چار ماہ دس دن کی عدت گزارنے کے بعد بہرحال وہ آزاد ہوجاتی ہے اور اگر وہ گھر سے نکلنا چاہے تو نکل سکتی ہے کیونکہ عدت تو اس پر فرض ہے اور گھر میں رہنا اس پر فرض نہیں ہے بلکہ یہ اس کا حق ہے جس کا استعمال کرنا اس پر لازمی نہیں ہے ۔ بعض مفسرین نے یہ کہا کہ یہ آیت ، آیت عدت کے ذریعہ منسوخ ہوگئی ہے ۔ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ نسخ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دونوں آیات کے محل میں اختلاف ہے ۔ جیسا کہ ہم کہہ آئے ہیں عدت اس کے ذمہ ایک فریضہ ہے ، جو اس نے ادا کرنا ہے اور ایک سال کا عرصہ اس کا حق ہے جس کا استعمال کرنا اس پر لازم نہیں ہے ۔
فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ ” پھر اگر وہ خود نکل جائیں ، تو اپنی ذات کے معاملے میں ، معروف طریقے سے ، وہ جو کچھ بھی کریں ، اس کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہے ۔ “ علیکم (تم پر) سے مراد مسلمانوں کا اجتماعی نظام ہے ، جو ہر فعل کا ذمہ دار ہے جو اسلامی معاشرہ میں وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی میں ، ہر نظریے کا معاملہ ، ہر فرد کا معاملہ ، اور ہر واقعہ کی ذمہ داری معاشرے پر ہے ۔ اگر اسلامی معاشرے میں بھلائی ہو یا برائی دونوں کا اجر اور باز پرس اسلامی معاشرے سے بھی ہوگی۔ اسلامی جماعت کی حقیقت اور اس کے فرائض کی نوعیت کا اندازہ اس اشارے سے بھی اچھی طرح ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک اسلامی کا قیام ضروری ہے تاکہ اسلامی نظام زندگی کا قیام عمل میں آسکے ۔ قیام کے بعد پھر اس نظام کی حفاظت کی جاسکے اور یہ نگرانی ہوتی رہے کہ اسلامی معاشرے کا کوئی فرد اس نظام کی خلاف ورزی یا اس سے بغاوت کا ارتکاب تو نہیں کررہا ہے ۔ اس لئے کہ افراد جماعت کے ہر چھوٹے بڑے کام کی آخری مسؤلیت اسلامی جماعت ہی کے کاندھوں پر ڈالی گئی ہے ۔ یہاں لفظ ” تم پر “ استعمال کرکے اس حقیقت کو اسلامی جماعت کے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ حقیقت اسلامی جماعت اور اس کے ہر فرد کے حس و شعور میں اچھی طرح جاگزیں ہوجائے اور آخری تبصرہ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ” اللہ مقتدر اعلیٰ ودانا ہے۔ “ وہ مقتدر اعلیٰ ہے اس لئے اسے حق ہے جو قانون بنائے لیکن جو قانون بنائے گا ، حکیمانہ ہوگا۔ مقتدر ہے ، صاحب قوت ہے ، نافرمانی پر تمہیں سزا دے سکتا ہے ۔
آیت 240 وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا ج وَّصِیَّۃً لِاَّزْوَاجِہِمْ مَّتَاعًا اِلَی الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ ج۔ مثال کے طور پر ایک شخص فوت ہوا ہے اور اس کی چار بیویاں ہیں ‘ جن میں سے ایک کے ہاں اولاد ہے ‘ جبکہ باقی تین اس اولاد کی سوتیلی مائیں ہیں۔ اب یہ اولاد سگی ماں کو تو اپنی ماں سمجھ کر اس کی خدمت کرے گی اور باقی تین کو خواہ مخواہ کی ذمہّ داری liability سمجھے گی۔ تو فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ ان بیواؤں کو فوراً گھر سے نکال دو ‘ کہ جاؤ اپنا راستہ لو ‘ جس سے تمہاری شادی تھی وہ تو فوت ہوگیا ‘ بلکہ ایک سال کے لیے انہیں گھر سے نہ نکالا جائے اور ان کا نان نفقہ دیا جائے۔ ان آیات کے نزول تک قانون وراثت ابھی نہیں آیا تھا ‘ لہٰذا بیواؤں کے بارے میں وصیت کا عبوری حکم دیا گیا ‘ جیسا کہ قبل ازیں آیت 180 میں والدین اور قرابت داروں کے لیے وصیت کا عبوری حکم دیا گیا۔ سورة النساء میں قانون وراثت نازل ہوا تو اس میں والدین کا حق بھی معینّ کردیا گیا اور شوہر کی وفات کی صورت میں بیوی کے حق کا اور بیوی کی وفات کی صورت میں شوہر کے حق کا بھی تعینّ کردیا گیا اور اب والدین و عزیز و اقارب اور بیوگان کے حق میں وصیت کی ہدایات منسوخ ہوگئیں۔فَاِنْ خَرَجْنَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْ اَنْفُسِہِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ ط۔ اگر کوئی عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری شادی کر کے کہیں بسنا چاہے تو تم اسے سال بھر کے لیے روک نہیں سکتے۔ وہ اپنے حق میں معروف طریقے پر جو بھی فیصلہ کریں وہ اس کی مجاز ہیں ‘ اس کا کوئی الزام تم پر نہیں آئے گا۔
بیوگان کے قیام کا مسئلہ : اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت اس سے پہلے کی آیت اس سے پہلے کی آیت یعنی چار مہینے دس رات کی عدت والی آیت کی منسوخ ہوچکی ہے، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت ابن زبیر نے حضرت عثمان سے کہا کہ جب یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے تو پھر آپ اسے قرآن کریم میں کیوں لکھوا رہے ہیں، آپ نے فرمایا بھتیجے جس طرح اگلے قرآن میں یہ موجود ہے یہاں بھی موجود ہی رہے گی، ہم کوئی تغیر و تبدیل نہیں کرسکتے، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں پہلے تو یہی حکم تھا کہ سال بھر تک نان نفقہ اس بیوہ عورت کو میت کے مال سے دیا جائے اور اسی کے مکان میں یہ رہے، پھر آیت میراث نے اسے منسوخ کردیا اور خاوند کو اولاد ہونے کی صورت میں مال متروکہ کا آٹھواں حصہ اور اولاد نہ ہونے کے وقت چوتھائی مال ورثہ کا مقرر کیا گیا اور عدت چار ماہ دس دن مقرر ہوئی۔ اکثر صحابہ اور تابعین سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے، سعید بن مسیب کہتے ہیں سورة احزاب کی آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَسَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا) 33۔ الاحزاب :49) نے اسے منسوخ کردیا، حضرت مجاہد فرماتے ہیں سات مہینے بیس دن جو اصلی عدت چار مہینے دس دن کے سوا کے ہیں اس آیت میں اس مدت کا حکم ہو رہا ہے، عدت تو واجب ہے لیکن یہ زیادتی کی مدت کا عورت کو اختیار ہے خواہ وہیں بیٹھ کر یہ زمانہ گزار دے خواہ نہ گزارے اور چلی جائے، میراث کی آیت نے رہنے سہنے کے مکان کو بھی منسوخ کردیا، وہ جہاں چاہ عدت گزارے مکان کا خرچ خاوند کے ذمہ ہیں، پس ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت نے سال بھر تک کی عدت کو واجب ہی نہیں کیا پھر منسوخ ہونے کے کیا معنی ؟ یہ تو صرف خاوند کی وصیت ہے اور اسے بھی عورت پورا کرنا چاہے تو کرے ورنہ اس پر جبر نہیں، وصیتہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے جیسے آیت (يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ) 4۔ النسآء :11) اس کا نصب فلتو صوالھن کو محذوف مان کر ہے۔ وصیتہ کی قرأت یہی ہے یعنی آیت (کتب علیکم وصیتہ) پس اگر عورتیں سال بھر تک اپنے فوت شدہ خاوندوں کے مکانوں میں رہیں تو انہیں نہ نکالا جائے اور اگر وہ عدت گزار کر جانا چاہیں تو ان پر کوئی جبر نہیں، امام ابن تیمیہ بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں اور بھی بہت سے لوگ اسی کو اختیار کرتے ہیں اور باقی کی جماعت اسے منسوخ بتاتی ہے، پس اگر ان کا ارادہ اصلی عدت کے بعد کے زمانہ کے منسوخ ہونے کا ہے تو خیر ورنہ اس بارے میں ائمہ کا اختلاف ہے، وہ کہتے ہیں خاوند کے گھر میں عدت گزارنی ضروری ہے اور اس کی دلیل موطا مالک کی حدیث ہے کہ حضرت ابو سعید خدری کی ہمشیرہ صاحبہ فریعہ بن مالک رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور کہا ہمارے غلام بھاگ گئے تھے جنہیں ڈھونڈنے کیلئے میرے خاوند گئے قدوم میں ان غلاموں سے ملاقات ہوئی لیکن انہوں نے آپ کو قتل کردیا ان کا کوئی مکان نہیں جس میں عدت گزاروں اور نہ کچھ کھانے پینے کو ہے اگر آپ اجازت دیں تو اپنے میکے چلی جاؤں اور وہیں عدت پوری کروں، آپ نے فرمایا اجازت ہے، میں لوٹی ابھی تو میں حجرے میں ہی تھی کہ حضور ﷺ نے مجھے بلوایا یا خود بلایا اور فرمایا تم نے کیا کہا، میں نے پھر قصہ بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا اسی گھر میں ہی ٹھہری رہو یہاں تک کہ عدت گزر جائے، چناچہ میں نے وہیں عدت کا زمانہ پورا کیا یعنی چار مہینے دس دن۔ حضرت عثمان کے زمانہ میں آپ نے مجھے بلوایا اور مجھ سے یہی مسئلہ پوچھا، میں نے اپنا یہ واقعہ حضور ﷺ کے فیصلے سمیت سنایا، حضرت عثمان نے بھی اسی کی پیروی کی اور یہی فیصلہ دیا، اس حدیث کو امام ترمذی حسن صحیح کہتے ہیں۔