دوسری آیت میں اللہ خوفی کی دعوت دیتے ہوئے حکم دیا گیا کہ ہر مطلقہ عورت کو رخصت کرتے وقت کچھ نہ کچھ سامان ضرور دیا جائے : وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ” جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر ۔ “
بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ چونکہ مطلقات کے بارے میں سابقہ آیات میں تفصیلی احکام آچکے ہیں ، اس لئے یہ آیت ان آیات کی وجہ سے منسوخ تصور ہوگی ۔ لیکن یہاں اسے منسوخ سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اس لئے کہ متاع یعنی کچھ نہ کچھ دے دینا نفقات واجبہ سے علیحدہ ایک چیز ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن مجید نے جو احکامات اب تک دیئے ہیں ، ان کی حقیقت پر غور کیا جائے تو ہر مطلقہ عورت کے لئے تحفہ کیے طور پر کچھ نہ کچھ دئیے جانے کی گنجائش رکھنا اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے ۔ چاہے اس کے ساتھ مباشرت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ اس کا مہر مقرر کیا گیا ہو یا مقرر نہ کیا جاسکا ہو۔ اس لئے طلاق کی وجہ سے فریقین کے تعلقات میں خشکی پیدا ہوجاتی ہے ، دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف وحشت اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے ، چناچہ ایسے موقع پر اس قسم کے حسن سلوک سے تعلقات میں تازگی پیدا ہو سکتی ہے ، دلوں کی باہمی وحشت دور ہوسکتی ہے ۔ یہ واحد گارنٹی ہے ، جس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ اور جس سے جماعت مسلمہ کے تعلقات درست ہوسکتے ہیں۔
آیت 241 وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌم بالْمَعْرُوْفِ ط حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ ۔ واضح رہے کہ یہ ہدایت عدت کے وقت تک کے لیے ہے ‘ اس کے بعد نہیں۔ اسی معاملے میں کلکتہ ہائی کو رٹ نے شاہ بانو کیس میں جو ایک فیصلہ دیا تھا اس پر ہندوستان میں شدید احتجاج ہوا تھا۔ اس نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ کوئی مسلمان اگر اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ بیوی اگر تو دوسری شادی کرلے تب تو بات دوسری ہے ‘ ورنہ جب تک وہ زندہ رہے گی اس کا نان نفقہ طلاق دینے والے کے ذمے ّ رہے گا۔ اس پر بھارت کے مسلمانوں نے کہا کہ یہ ہماری شریعت میں دخل اندازی ہے ‘ شریعت نے مطلقہ کے لیے صرف عدت تک نان نفقہ کا حق رکھا ہے۔ چناچہ مسلمانوں نے اس مسئلے پر احتجاجی تحریک چلائی ‘ جس میں بہت سے لوگوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آخر کار راجیو گاندھی کی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور پھر وہاں یہ قانون بنا دیا گیا کہ ہندوستان کی کوئی عدالت بشمول سپریم کو رٹ مسلمانوں کے عائلی قوانین میں دخل نہیں دے سکتی۔ اس پر میں مسلمانان بھارت کی عظمت کو سلام پیش کیا کرتا ہوں۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں یہ ہوا کہ ایک فوجی آمر نے عائلی قوانین بنائے جن کے بارے میں سنی ‘ شیعہ ‘ اہل حدیث ‘ دیوبندی ‘ بریلوی تمام علماء اور جماعت اسلامی کی چوٹی کی قیادت سب نے متفقہ طور پر یہ کہا کہ یہ قوانین خلاف اسلام ہیں ‘ مگر وہ آج تک چل رہے ہیں۔ ایک اور فوجی آمر گیارہ برس تک یہاں پر کو سِ لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ بجاتا رہا اور اسلام اسلام کا راگ بھی الاپتارہا ‘ لیکن اس نے بھی ان قوانین کو جوں کا توں برقرار رکھا۔ اسی بنیاد پر میں نے اس کی شوریٰ سے استعفا دیا تھا۔ لیکن ہندوستان کے مسلمانوں نے وہاں پر یہ بات نہیں ہونے دی۔
مطلقہ عورت کو فائدہ دینے کے بارے میں لوگ کہتے تھے کہ اگر ہم چاہیں دیں، چاہیں نہ دیں، اس پر یہ آیت اتری، اسی آیت سے بعض لوگوں نے ہر طلاق والی کو کچھ نہ کچھ دینا واجب قرار دیا، اور بعض دوسرے بزرگوں نے اسے ان عورتوں کے ساتھ مخصوص مانا ہے جن کا بیان پہلے گزر چکا ہے یعنی جن عورتوں سے صحبت نہ ہوئی اور مہر بھی نہ مقرر ہوا ہو اور طلاق دے دی جائے لیکن پہلی جماعت کا جواب یہ ہے کہ عام میں سے ایک خاص صورت کا ذکر کرنا اسی صورت کے ساتھ اس حکم کو مخصوص نہیں کرتا جیسا کہ مشہور اور منصوص مذہب ہے واللہ اعلم،