جس طرح موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اگر اللہ نے زندگی لکھی ہوئی ہے تو موت آہی نہیں سکتی ، اسی طرح مال انفاق فی سبیل اللہ سے نہیں جاتا ۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے نام قرض حسن ہوتا ہے ۔ اللہ اس کا ضامن ہے اور وہ اس قرض کو بڑھا چڑھا کر کئی گنادے گا۔ دنیا میں بھی ایسے شخص کا مال بڑھے گا اسے سعادت و برکت نصیب ہوگی اور آخرت میں بھی سکون اور راحت نصیب ہوگی ۔ اور آخرت میں تو ایسے شخص کے لئے بیشمار سازوسامان اور انعام واکرام ہوگا۔ اسے اللہ کا قرب نصیب ہوگا اور اللہ راضی ہوگا۔
انسان حرص اور بخل کی وجہ سے غنی نہیں ہوتا۔ غنا وفقر تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ انفاق اور خرچ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے : وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُط ” گھٹانا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور بڑھانا بھی ۔ “
اور آخر کار تم سب نے اللہ کی طرف پلٹ کرجانا ہے ۔ جب تم چار وناچار اللہ کی طرف روانہ ہوگئے اور اس دنیا سے رخصت ہوگے ، تو اس وقت تمہیں مال و دولت سے کیا فائدہ ہوگا : وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ” اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے ۔ “ اور اگر اسی کی طرف بہرحال جانا ہے تو پھر موت سے ڈرنا کیا ؟ جزع وفزع سے کیا حاصل ؟ نہ موت کا ڈر اس لئے کہ اللہ کی طرف تو جانا ہے ۔ نہ فقر ومسکنت کا ڈر ، اس لئے کہ بہرحال اس دنیا کو چھوڑ کر جانا ہی ہے۔ تو پھر مومنین کو چاہئے کہ وہ اللہ کی راہ میں زور وشور کے ساتھ جہاد شروع کریں ۔ وہ جان بھی پیش کریں اور مال بھی ۔ وہ یقین کرلیں کہ اس دنیا میں ان کے گنے چنے سانس ہیں ۔ زندگی محدود ہے ۔ ان کا رزق مقرر ہے ۔ ان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ جرأت وبہادری کی زندگی گزاریں ۔ شریفانہ اور آزادانہ زندگی بسر کریں ۔ آخر کار جانا انہوں نے اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے ہے ۔
ان آیات کی تشریح ، ایمانی ہدایات کی توضیح اور تربیتی ہدایات کے اظہار کے بعد مناسب ہے کہ قرآن مجید کے حسن ادا اور اظہار خیال کی فنی خوبیوں کو بھی کچھ وقت دیں ۔ مناسب نہیں کہ یوں ہی گزرجائیں أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ ” کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ؟ جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکلے ۔ انداز تعبیر ایسا ہے ، جیسا کہ یہ لوگ ہزارہا کی تعداد میں صفیں باندھیں کھڑے ہیں اور ان کا معائنہ ہورہا ہے۔ (جس طرح گارڈ آف آنر کا معائنہ ہوتا ہے) ، قرآن نے صرف دو الفاظ استعمال کرکے ان لوگوں کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے أَلَمْ تَرَکیا آپ نے نظر نہیں ڈالی ۔ ان دو الفاظ کے سوا ، کوئی اور انداز تعبیر وہ نقشہ نہیں کھینچ سکتا تھا جو ان دو الفاظ نے پردہ تخیل پر منقش کردیا ۔ یوں لگتا ہے کہ گویا یہ لوگ صف بستہ کھڑے ہیں اور ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔
ان کی حالت یہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں ۔ گھروں سے نکل پڑے ہیں ، ڈرے سہمے ، پھٹی پھٹی نظروں سے ادہر ادہر دیکھ رہے ہیں ۔ اب قرآن مجید صرف ایک لفظ استعمال کرتا ہے اور یہ تمام لوگ میدان معائنہ کی بجائے اب میدان مقتل میں پہنچ جاتے ہیں۔ گویا گارڈ آف آنر کیا معائنہ کرنے والا حاکم مطلق ایک کاشن دیتا ہے مُوتُوا ” مرجاؤ “ اور نقشہ بدل جاتا ہے ۔ اس لفظ سے احساس دلایا جاتا ہے کہ موت کے سامنے بند نہیں باندھے جاسکتے ۔ تمہارا طرز عمل غلط ہے ۔ یہ لفظ بتاتا ہے کہ اللہ کے فیصلے کا کاشن کی طرح نافذ ہوتے ہیں ۔ ادہر لفظ نکلتا ہے ، ادہر اس پر عمل ہوجاتا ہے۔ جس طرح پریڈ کے میدان میں ہوتا ہے۔
ثُمَّ أَحْيَاهُمْ ” پھر ان کو زندہ کردیا۔ “ کیونکر ؟ اس کی کوئی تفصیل یہاں نہیں ۔ اللہ قادر ہے ، مالک ہے ۔ موت وحیات کی زمام اس کے ہاتھ میں ہے ۔ بندوں کے ہر معاملے میں خود وہ متصرف ہے ۔ اس کا کوئی ارادہ مسترد نہیں ہوسکتا۔ وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ یہ انداز تعبیر ہی بتا دیتا ہے کہ اللہ کے ہاں موت وحیات کے فیصلے کس طرح ہوتے ہیں اور امر الٰہی کے نفاذ کا منظر کیا ہوتا ہے۔ یوں جیسے پریڈ کا میدان اور کاشن پر کاشن ۔
اوپر ہمارے پردہ تخیل پر موت وحیات کا منظر تھا۔ روح کو مٹھی میں لے لینے ، قبض کرنے اور پھر یکلخت اسے آزاد کرنے کے مناظر تھے ۔ اس کے متصلاً مابعد جب رزق کا معاملہ آتا ہے تو قرآن مجید اس کے لئے قبض اور بسط کے الفاظ استعمال کرتا ہے وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ ” اللہ مٹھی بند کرتا ہے اور کھولتا ہے۔ “ تنگی رزق وفراخی رزق کی یہ تعبیر اس لئے اختیار کی تاکہ قبض روح اور اعادہ روح کے سابقہ مضامین سے متناسق الفاظ آجائیں ۔ یہ دونوں جگہ الفاظ کا اختصار ، معانی کا استحضار قرآن مجید کا عظیم الشان اعجاز ہے ۔
ایک طرف عجیب منظر کشی ہے ۔ دوسری طرف استعمال الفاظ میں عجیب تناسق اور ہم آہنگی ہے ۔ معانی چلتے پھرتے نظرآتے ہیں اور حسن ادا کی تو کوئی انتہاء نہیں ہے ۔
اب قرآن مجید دوسرا تجربہ امت مسلمہ کے سامنے رکھتا ہے ۔ اس کے کردار بنی اسرائیل ہیں ۔ واقعہ حضرت موسیٰ کے زمانہ مابعد کا ہے :
آیت 245 مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً ط جو انفاق خالص اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے کیا جاتا ہے اسے اللہ اپنے ذمے ّ قرض حسنہ سے تعبیر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تم میرے دین کو غالب کرنا چاہتے ہو ‘ میری حکومت قائم کرنا چاہتے ہو ‘ تو جو کچھ اس پر خرچ کرو گے وہ مجھ پر قرض ہے ‘ جسے میں کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کروں گا۔ وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَبْصُطُ اور اللہ تنگ دستی بھی دیتا ہے اور کشادگی بھی دیتا ہے۔ اللہ ہی کے اختیار میں ہے کسی چیز کو سکیڑ دینا اور کھول دینا ‘ کسی کے رزق کو تنگ کردینا یا اس میں کشائش کردینا۔ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ یہاں دیکھئے جہاد بالنفس اور جہاد بالمال دونوں چیزوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ جہاد بالنفس کی آخری شکل قتال ہے اور جہاد بالمال کے لیے پہلے لفظ انفاق آ رہا تھا ‘ اب قرض حسنہ لایا جا رہا ہے۔
اللہ کی راہ میں خرچ کرو : پھر پروردگار اپنے بندوں کو اپنی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دے رہا ہے جو جگہ بہ جگہ دی جاتی ہے، حدیث نزول میں بھی ہے کون ہے جو ایسے اللہ کو قرض دے جو نہ مفلس ہے نہ ظالم، اس آیت کو سن کر حضرت ابو الاصداح انصاری نے کہا تھا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض طلب فرماتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا ہاں۔ فرمایا اپنا ہاتھ دیجئے، پھر ہاتھ میں ہاتھ لے کر کہا حضور ﷺ میں اپنا باغ جس میں چھ کھجور کے درخت ہیں اللہ کو قرض دیا اور وہاں سے سیدھے اپنے باغ میں آئے اور باہر ہی کھڑے رہ کر اپنی بیوی صاحبہ کو آواز دی کہ بچوں کو لے کر باہر آجاؤ میں نے یہ باغ اللہ کی راہ میں دے دیا ہے (ابن ابی حاتم) قرض حسن سے مراد فی سبیل اللہ خرچ ہے اور بال بچوں کا خرچ بھی ہے اور تسبیح و تقدیس بھی ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ اسے دوگنا چوگنا کر کے دے گا جیسے اور جگہ ہے آیت (مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ) 2۔ البقرۃ :261) یعنی اللہ کی راہ کے خرچ کی مثال اس دانہ جیسی ہے جس کی سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سات دانے ہوں اور اللہ اس سے بھی زیادہ جسے چاہے دیتا ہے۔ اس آیت کی تفسیر بھی عنقریب آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ ، حضرت ابوہریرہ سے ابو عثمان نہدی پوچھتے ہیں میں نے سنا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ ایک ایک نیکی کا بدلہ ایک ایک لاکھ نیکیوں کا ملتا ہے، آپ نے فرمایا اس میں تعجب کیا کرتے ہو، میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ دو لاکھ کے برابر ملتا ہے (مسند احمد) لیکن یہ حدیث غریب ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت ابو عثمان نہدی فرماتے ہیں مجھ سے زیادہ حضرت ابوہریرہ کی خدمت میں کوئی نہیں رہتا تھا، آپ حج کو گئے پھر پیچھے سے میں بھی گیا، بصرے پہنچ کر میں نے سنا کہ وہ لوگ حضرت ابوہریرہ کی روایت سے مندرجہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں میں نے ان سے کہا اللہ کی قسم سب سے زیادہ آپ کا صحبت یافتہ میں ہوں میں نے تو کبھی بھی آپ سے یہ حدیث نہیں سنی، پھر میرے جی میں آئی کہ چلو چل کر خود حضرت ابوہریرہ سے پوچھ لوں، چناچہ میں وہاں سے چلا یہاں آیا تو معلوم ہوا کہ وہ حج کو گئے ہیں، میں صرف اس ایک حدیث کی خاطر مکہ کو چل کھڑا ہوا، وہاں آپ سے ملاقات ہوئی میں نے کہا حضرت یہ بصرہ والے آپ سے کیسی روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا واہ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے، پھر یہی آیت پڑھی اور فرمایا کے ساتھ ہی یہ قول باری بھی پڑھو آیت (فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِيْلٌ) 9۔ التوبہ :38) یعنی ساری دنیا کا اسباب بھی آخرت کے مقابلہ میں حقیر چیز ہے۔ اللہ کی قسم میں نے تو رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ایک نیکی کے بدلے اللہ تعالیٰ دو لاکھ نیکیاں عطا فرماتا ہے۔ اسی مضمون کی ترمذی کی یہ حدیث بھی ہے کہ جو شخص بازار میں جائے اور وہاں دعا (لا الہ الا اللہ واحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ھو علی کلی شئی قدیر) پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور ایک لاکھ گناہ معاف فرماتا ہے، ابن ابی حاتم میں ہے آیت (مثل الذین) الخ، کی آیت اتری آپ نے پھر بھی یہی دعا کی تو آیت (انما یوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب) کی آیت اتری، حضرت کعب احبار سے ایک شخص نے کہا میں نے ایک شخص سے یہ سنا ہے کہ جو شخص سورة آیت (قل ھو اللہ) الخ، کو ایک دفعہ پڑھے اس کیلئے موتی اور یاقوت کے دس لاکھ محل جنت میں بنتے ہیں، کیا میں اسے سچ مان لوں، آپ نے فرمایا اس میں تعجب کی کون سی بات ہے، بلکہ بیس اور بھی اور بیس لاکھ اور بھی اور اس قدر کہ ان کی گنتی بجز جناب باری کے کسی کو معلوم ہی نہ ہو، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا جب اللہ تعالیٰ آیت (اضعافا کثیرۃ) فرماتا ہے تو پھر مخلوق اس کی گنتی کی طاقت کیسے رکھے گی ؟ پھر فرمایا رزق کی کمی بیشی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے بخیلی نہ کرو، وہ جسے دے اس میں بھی حکمت ہے اور نہ دے اس میں بھی مصلحت ہے، تم سب قیامت کے دن اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔