سورۃ البقرہ: آیت 286 - لا يكلف الله نفسا إلا... - اردو

آیت 286 کی تفسیر, سورۃ البقرہ

لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا ٱكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ إِن نَّسِينَآ أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦ ۖ وَٱعْفُ عَنَّا وَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَآ ۚ أَنتَ مَوْلَىٰنَا فَٱنصُرْنَا عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

اردو ترجمہ

اللہ کسی متنفس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے، اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے، اس کا وبال اسی پر ہے (ایمان لانے والو! تم یوں دعا کیا کرو) اے ہمارے رب! ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہو جائیں، ان پر گرفت نہ کر مالک! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے پروردگار! جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے، وہ ہم پر نہ رکھ، ہمارے ساتھ نرمی کر، ہم سے در گزر فرما، ہم پر رحم کر، تو ہمارا مولیٰ ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

La yukallifu Allahu nafsan illa wusAAaha laha ma kasabat waAAalayha ma iktasabat rabbana la tuakhithna in naseena aw akhtana rabbana wala tahmil AAalayna isran kama hamaltahu AAala allatheena min qablina rabbana wala tuhammilna ma la taqata lana bihi waoAAfu AAanna waighfir lana wairhamna anta mawlana faonsurna AAala alqawmi alkafireena

آیت 286 کی تفسیر

یو ایک مسلمان کی سوچ ہی میں یہ بات ہوتی ہے کہ اس کا رب رحیم ہے ، وہ بطور خلیفہ اس پر جو فرائض وواجبات عائد کرتا ہے وہ نہایت ہی عادلانہ اور منصفانہ ہیں ۔ اس کی جانب سے ڈالی جانے والی آزمائشیں بھی عادلانہ ہیں اور آخرکار قیامت کے دن بھی اس کے ساتھ ٹھیک ٹھیک انصاف ہوگا ۔ اور وہ پوری طرح مطمئن ہوگا۔ اس لئے وہ اللہ کی جانب سے عائد کردہ فرائض پر کوئی تنگی اور دشواری محسوس نہیں کرتا ۔ وہ انہیں بوجھ نہیں سمجھتا ۔ اس لئے کہ اس کا یہ پختہ یقین ہوتا ہے کہ جس اللہ نے یہ فرائض عائد کئے ہیں وہ خوب جانتا ہے کہ میرے اندر ان کے سر انجام دینے کی استطاعت فی الواقعہ ہے ۔ اگر طاقت نہ ہوتی تو وہ فرض ہی نہ کرتا ۔ اس تصور سے ایک طرف تو دل مومن اطمینان اور انس و محبت سے بھرجاتا ہے ، دوسری جانب اس کے اندر ان فرائض وواجبات کو سر انجام دینے کے لئے عزم اور ولولہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرائض اس پر عائد کردیئے ہیں تو لامحالہ وہ اس ڈیوٹی کا حصہ ہیں ۔ اور جب بھی وہ ضعف محسوس کرتا ہے ، کبھی تھکاوٹ محسوس کرتا ہے ، یہ فرائض بھاری ہونے لگتے ہیں تو وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ اس کی ذاتی کمزوری ہے ۔ بوجھ زیادہ نہیں ہے ۔ چناچہ وہ اپنے عزم کو از سر نو تازہ کرتا ہے ۔ اپنی کمزوری کو دور کرتا ہے اور از سر نو فرائض پورے کرنے کا عزم صمیم کرلیتا ہے ۔ جب تک وہ ایسا کرسکتا ہے ۔ ازسر نو عزم کرنے کے لئے مومن کے لئے یہ اشارہ ہے کہ اگر راہ طویل ہوجائے تو از سر نو عزم کرو چناچہ تصور روح مومن اور اس کی ہمت مردانہ کے لئے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ اور اس طرح اس کی ہمت اور اس کے ارادے میں پختگی آجاتی ہے ۔ اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

اس تصور حیات کا دوسرا اہم حصہ ہے ۔ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ................ ” ہر شخص نے جو نیکی کمائی اس کا پھل اسی کے لئے ہے اور جو برائی سمیٹی اس کا وبال اسی پر ہے۔ “

ہر فرد اپنے کئے کا ذمہ دار ہے ۔ اس لئے اسے وہی کچھ ملے گا جو اس نے خود کمایا ۔ نیز سزا بھی کسی کو صرف اس کے جرم کی ملے گی جو وہ خود کرے گا ۔ ہر کوئی اپنے کئے کا ذمہ دار خود ہوگا۔ ہر شخص اپنے رب کے سامنے خود اپنا اعمال نامہ لے کر جائے گا۔ اور اس میں وہی کچھ ہوگا جو اس نے کمایا ، جس کا اس نے ارتکاب کیا ۔ کوئی شخص وہاں حیلہ بہانہ نہ کرسکے گا ۔ نہ وہاں کسی کو کسی کی امداد یا سفارش کی امید ہوگی ۔ انسان بحیثیت فرد اپنے رب کے سامنے ہوگا۔

جب انفرادی مسئولیت کا یہ تصور کسی مومن کے قلب میں جاگزین ہوجاتا ہے ، تو ہر فرد اپنے اللہ کے جو حقوق اس کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ۔ ان کا ذمہ دار بن جاتا ہے ۔ وہ دوسرے انسانوں کی وجہ سے کسی صورت میں بھی ان حقوق الٰہیہ سے دست بردار نہیں ہوتا الا یہ کہ شریعت کے مطابق یہ دست برداری ہو ۔ اب ہر انسان مومن کی ذات کے ساتھ جو حقوق اللہ وابستہ ہوتے ہیں وہ اس بارے میں ہر دھوکے ، ہر حدود شکنی ، ہر گمراہی اور ہر فساد کے مقابلے میں سینہ سپر ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ اپنے نفس اور اس کے ساتھ وابستہ حقوق اللہ کے بارے میں ذاتی طور پر خود جوابدہ ہے ۔ اور ہر نفس کے ساتھ اللہ کے جو حقوق وابستہ ہیں وہ صرف وہی ہیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے یا جن سے اس نے منع فرمایا ہے۔ یعنی ہر فرد اپنے طرز عمل اور اپنے شعور میں صرف اللہ وحدہ کی بندگی بجالائے ۔ اگر وہ ان حقوق میں کسی انسان کی وجہ سے کمی کرتا ہے ۔ مثلاً یوں کہ اسے کوئی گمراہ کردے ، اسے دھوکہ دیدے ، یا اسے مجبور کرے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ انسان اس مومن کی کوئی امداد نہ کرسکیں گے ۔ (ہاں اگر یہ نافرمانی وہ بحالت جبر کرتا ہے اور دل اس کا اسلامی فرائض حقوق پر مطمئن ہے ، تو پھر یہ معذور تصور ہوگا۔ ) غرض ایسے اشخاص قیامت کے دن نہ اس مومن کی مدافعت کرسکیں گے نہ سفارش کرسکیں گے ، نہ وہ اس پوزیشن میں ہوں گے کہ اس شخص کا بوجھ اتاردیں یا خود اٹھائیں۔

مسؤلیت کے اس ذاتی تصور کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر شخص بڑی جرأت کے ساتھ خود اپنی اور اس کے ساتھ وابستہ حقوق اللہ کی مدافعت کرتا ہے ۔ اسی لئے کہ اس کی سزاصرف اسے ہوگی ۔ اور وہ خود اپنے کئے کا ذمہ دار ہوگا ۔ یاد رہے کہ یہاں انفرادی مسؤلیت کے نظریہ سے مراد یہ خطرہ نہیں ہے کہ کوئی شخص معاشرہ کے اندر اپنی اجتماعی ذمہ داریاں پوری کرنے سے پہلوتہی کرے ۔ اس لئے کہ اجتماعی ذمہ داریاں بھی شریعت نے ایک فرد پر بحیثیت فرد ڈالی ہیں ۔ اگر معاشرہ میں اجتماعی ذمہ داریاں پوری نہ ہوں گی تو بھی فردذمہ دار ہوگا۔ کیونکہ یہ بھی اللہ کی جانب سے اس پر انفرادی طور پر ڈالی گئی ہیں ۔ مثلاً ہر فرد اللہ کی جانب سے مامور ہے کہ وہ اپنے مال اور اپنی دولت سے اجتماعی ذمہ داریہ ادا کرے ۔ نیز اسے یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ دوسروں کو تواصی بالحق کرے ، معاشرہ میں عدل و انصاف قائم کرے ، اپنے معاشرے سے باطل کو مٹانے کی کوشش کرے ۔ معاشرے میں سچائی اور بھلائی کو مستحکم کرے اور شر اور منکر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے ۔ اس کے اعمال نامہ میں اجتماعی معاملات کے حوالے سے بھی اس کی تمام کارکردگیاں اور کو تاہیاں درج ہوں گی ۔ اور جزا وسزاکا وہ انفرادی طور پر ذمہ دار یا حقدار ہوگا۔

اہل ایمان نے جب انفرادی ذمہ داری کے حکم کو سن لیا اور سمجھ لیا ۔ تو اب ان کے دلوں سے یہ دعانکلی ، جو بڑی جامع اور پر از اخلاص ہے ۔ اس دعا کو قرآن کریم اپنے خاص انداز تصویر کشی میں بیان کرتا ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ اہل ایمان ہاتھ اٹھائے ہمارے سامنے کھڑے ہیں ۔ صفیں باندھی ہوئی ہیں ۔ اور خشوع و خضوع کے ساتھ وہ یہ دعا پڑھ رہے ہیں ۔ (خصوصاً فرائض وذمہ داریوں کی حقیقت پاکر)

یہ ایسی دعا ہے جو اہل ایمان اور ان کے رب کے ساتھ ان کے تعلق کی خوب تصویر کشی کرتی ہے ۔ وہ اپنے عجز اور ناتوانی کا گہرا دراک رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو اپنے رب کی رحمت اور درگزر کا محتاج پاتے ہیں ۔ وہ اس کی درگاہ میں پناہ کے خواستگار ہیں۔ وہ اپنے آپ کو صرف اللہ کے حوالے کرتے ہیں ۔ اسی سے تعلق جوڑ رہے ہیں اور ماسوا اللہ سے کٹ رہے ہیں ۔ وہ اس کی راہ میں جہاد کے لئے تیار ہیں ۔ اور اسی سے نصرت کے طلبگار ہیں ۔ اور ان کی یہ دعا ایک انتہائی دلدوز اور ملال انگیز نغمے کی صورت میں ہے ۔ جس کے صوتی زیروبم میں ان کے دل کی دھڑکن اور ان کے روح کی بےقراری صاف سنائی دیتی ہے اور صاف نظر آتی ہے۔

رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا

” اے ہمارے رب ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہوجائیں ان پر گرفت نہ کر ۔ “

اگر انسان اس قدر کمزور ہوجائے اور اس سے ایسی بھول چوک ہوجائے جس میں اس کا کوئی دخل نہ ہو اور یہ بھول چوک کبھی کبھار ہو ہی جاتی ہے تو ایسی غلطیاں ، خطاء اور نسیان کے حکم میں ہون گی ۔ ان پر ایک مؤمن کے لئے صحیح طریقہ کار یہ ہے کہ وہ فوراً اللہ سے معفی مانگے ۔ اپنے رب کی طرف متوجہ ہو ۔ بھول چوک وہ ہوتی ہے کہ اس میں کوئی شخص غلطی پر مصر نہ ہو ۔ یا وہ قصداً حکم عدولی نہ کررہا ہو۔ یا وہ کبر وغرور کی وجہ سے نافرمانی نہ کررہا ہو یا بالارادہ ٹیڑھے راستے پر نہ چل رہا ہو ۔ ان حالات میں کوئی صورت حال بھی وہ نہیں ہے جو ایک مومن اپنے رب کی بارگاہ میں اختیار کرتا ہے ۔ نہ ایسے حالات میں وہ اللہ کی جانب سے عفو و درگزر کا مستحق ہوگا ۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ وہ تائب ہوجائے اور ٹھیک طور پر اللہ کی طرف رجوع کرلے ۔ غرض مومنین نے بھول چوک کے بارے میں جو درخواست معافی گزاری ، اسے اللہ نے قبول فرمالیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” میری امت سے خطاء اور نسیان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا جب تک انہوں نے ایسے افعال کو برا سمجھا۔ “ (طبرانی وغیرہ)

رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا

” اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تونے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ “

یہ دعا مرد مومن کی زبان پر اس احساس ذمہ داری کی وجہ سے آتی ہے جو امت مسلمہ پر تمام رسولوں کی رسالت کے سلسلے میں اٹھائی گئی ہے ، یہ امت تمام رسالتوں کے بار امانت کے نیچے آگئی ہے ۔ جیسا کہ ان کے رب نے اس قرآن کریم میں اس امت کو جابجا بتلایا کہ اس سے قبل جن امتوں کے پاس رسول بھیجے گئے انہوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ کیا کیا سلوک کئے اور ان امتوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر کیا کیا بوجھ ڈالے گئے ۔ اور یہ بوجھ ان پر ان کے بعض جرائم کی وجہ سے ڈالے گئے ۔ مثلا ً بنی اسرائیل کی بعض بد اعمالیوں کی وجہ سے ان پر بعض پاکیزہ قسم کی غذائیں حرام کردی گئیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔” اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے اور گائے اور چربی بھی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے ۔ “ (146 : 6) یا جس طرح سورة البقرہ میں ہے کہ انہوں نے بچھڑے کی عبادت شروع کردی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ ایک دوسرے کو قتل کریں ۔ اسی طرح ان کی اس بدعملی کا کفارہ ہوسکے ۔ ان پر سبت کے دن تجارت اور شکار کو حرام قرار دیا گیا ۔ اسی وجہ سے یہاں اہل ایمان کو دعا سکھائی گئی کہ وہ دست بدعا ہوں کہ ان پر اللہ تعالیٰ وہ بوجھ نہ ڈالے جو ان سے پہلے لوگوں پر ڈالے گئے ۔ اس لئے کہ نبی آخرالزماں کی بعثت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ وہ ان کے ذریعہ اہل ایمان اور پوری انسانیت سے وہ بوجھ اتاردیں جو انسانیت پر ڈالے گئے تھے ۔ اور وہ بندھن توڑدیں جن میں بشریت خوامخواہ جکڑی ہوئی تھی اور جس کے نتیجے میں اسلامی نظریہ ٔ حیات سیدھا سادھا نظریہ بن کر آیا ، جو آسان بھی ہے اور نرم بھی ہے ۔

فطرت انسانی کے عین مطابق شاہری فطرت سے ہمقدم اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ سے فرمایا ۔ وَنُیَسِّرُکَ لِلیُسرٰی ................” اور ہم تیری راہنمائی سہولت کے ساتھ ۔ سہل فرائض کی طرف کریں گے ۔ “

وہ عظیم بوجھ کیا ہے جو امم سابقہ کے کاندھوں پر ڈالا گیا تھا اور اس لئے ڈالا گیا تھا کہ انہوں نے خلیفۃ اللہ فی الارض ہونے کے ناطے اپنے عہد کی خلاف ورزی کی تھی اور عہد توڑ دیا تھا اور وہ عظیم بوجھ جو اب امت مسلمہ کے کاندھوں سے اتار دیا گیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ وہ کیا ہے اور اس کی ماہیت کیا ہے ؟ یہ عظیم بوجھ انسان کے انسان کی غلامی کا بوجھ ہے ۔ جس میں بندہ بندے کا غلام ہوتا ہے ، جس میں انسان کے لئے دوسرا انسان ضابطہ حیات ہوتا ہے ۔ اس طرح ایک نسل انسانی دوسرے انسان کی ذات کے تابع ہوتی ہے ، یا انسان ایک طبقے کے غلام ہوتے ہیں یا جس میں انسان ایک نسل کے غلام ہوتے ہیں ۔ یہ ہے وہ عظیم بوجھ جس سے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو رہائی دلائی ۔ اور ان تمام غلامیوں سے انہیں چھڑا کر صرف اپنی بند گی اور غلامی اور اپنی اطاعت میں داخل کردیا ۔ اس آزادی کے بعد اب اہل ایمان صرف اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے ضابطہ حیات اخذ کرنے لگے ۔ یوں انہیں ایک اللہ وحدہ کی غلامی میں داخل کرکے ، ان کی روح ، ان کی عقل اور ان کی پوری زندگی کو دوسرے انسانوں کی غلامی سے نکالا گیا ۔

اللہ جل شانہٗ کی بندگی اور غلامی بایں مفہوم کہ انسان اپنی اقدار حیات نیک وبد کا معیار اور اجتماعی زندگی کے قوانین صرف اللہ سے اخذ کرے گا ۔ پوری انسانیت کے لئے آزادی کا نقطہ آغاز ہے ۔ یوں ایک انسان دوسرے جبار وقہار انسانوں کی غلامی اور بندگی سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح وہ مذہبی پروہتوں ، کاہنوں اور پیشواؤں کی غلامی سے بھی آزاد ہوجاتا ہے ۔ مزید یہ کہ ایک انسان اوہام و خرافات اور رسوم ورواجات کے بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ ایک انسان ہوائے نفس اور جسمانی شہوات ومرغوبات کے بندھنوں سے بھی چھٹکارا پاتا ہے ۔ انسان ہر کھوئی ہوئی غلامی سے آزاد ہوجاتا ہے جو ناحق انسان کے کاندھوں پر سوار ہوتی ہے اور تاریخ شاہد ہے ایسی غلامیوں نے انسانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی ۔ اور جس کی وجہ سے لوگوں کے سر اللہ واحد القہار کے مقابلے میں دوسرے جباروں کے سامنے جھکتے تھے ۔

رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ

” پروردگار ، جس بوجھ کو ہم اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے وہ ہم سے نہ اٹھوا۔ “

اس دعا سے اہل ایمان کے اس شعور کا اظہار ہوتا ہے کہ اب وہ انسان کی غلامی سے آزاد ہوگئے ہیں ۔ نیز اب وہ خائف ہیں کہ کہیں وہ اپنی کوتاہیوں کے سبب دوبارہ غلامی میں واپس نہ چلے جائیں جو نہایت ہی برا دور تھا۔

” اے ہمارے رب ، ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کے اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے۔ “ ایک ایسی دعا ہے جس سے مکمل طور پر سر تسلیم خم کردینے کی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے ۔ اہل ایمان کے دل سے اب یہ ارادہ اور نیت ہی نکل گئی ہے کہ وہ احکام خداوندی کی خلاف ورزی کریں گے ۔ چاہے جو احکام بھی ہوں ، وہ صرف یہ درخواست پیش کرتے ہیں کہ وہ ضعیف ہیں ۔ یہ توقع رکھتے ہیں ۔ اجرائے احکام میں ان کی صفت کو مدنظر رکھاجائے گا۔ پروردگار ، ہم پر رحم کر اور تکلیف مالایطاق سے ہمیں بچا تاکہ ان سے تعمیل احکام میں عجز و قصور کا ارتکاب نہ ہو ، ورنہ وہ تو پختہ ارادہ کئے ہیں کہ مکمل تسلیم وانقیاد کا مظاہرہ کریں گے ۔ صرف بندہ ناتواں کی امید یہ ہے کہ مالک الملک ان کے ساتھ مہربانی کرے۔ اور جس طرح وہ اپنے بندوں کے ساتھ جودوکرم ، نرمی اور محبت کا رویہ رکھنے کے عادی ہیں وہی سلوک ہم سے جاری رکھاجائے ۔ ہم اپنی تقصیرات کا اعتراف کرتے ہیں اور وہ تقصیریں صرف اسی صورت میں معاف اور بےاثر ہوسکتی ہیں جب اللہ کا فضل شامل حال ہو۔

وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا

” ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما ، ہم پر رحم فرما۔ “

اس لئے کہ اس امتحان میں کامیاب ہونے کی یہ واحد گارنٹی صرف اسی صورت میں اللہ کی رضامندی حاصل ہوسکتی ہے ۔ انسان جس قدر محنت سے بھی وفاداری کرے ، اس کے کام میں کوئی نہ کوئی کمی رہ جاتی ہے اور اگر اللہ کا فضل شامل حال نہ ہو وہ عفو و درگزر اور رحمت نرمی سے کام لے گا ۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے ، فرماتی ہیں ۔ رسول ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص بھی صرف اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں داخل نہ ہوگا ۔ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا ، رسول اللہ ﷺ آپ بھی ؟ تو رسول ﷺ نے فرمایا ۔” اور میں بھی ، الا یہ کہ اللہ نے مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لیا ہے۔ “

ایک صحیح مومن کے احساس میں یہی اصل بات ہے ۔ وہ حتی المقدور عمل کرتا ہے لیکن اپنی تقصیرات کا اسے پوری طرح احساس ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد اسے پوری امید ہوتی ہے کہ اللہ اس کی تقصیرات سے عفو و درگزر فرمائے گا ۔ اور اس کے ساتھ نرمی برتی جائے گی ۔

سب سے آخر میں اہل ایمان اللہ کے مضبوط سہارے کو پکڑتے ہیں ، وہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ کا ارادہ ہے کہ حق کا بول بالا ہو ، دین اسلام اور اسلامی نظام زندگی اس کرہ ارض پر غالب ہو ، اور صورت حال یہ ہو کہ ” کوئی فتنہ نہ رہے اور دین صرف اللہ کا چلے ۔ “ اب اہل ایمان اللہ کا مضبوط سہارا لیتے ہیں ۔ وہ اپنے سروں پر اسلام کے جھنڈے بلند کرتے ہیں ۔ وہ صرف انہی جھنڈوں سے اپنی پہچان کراتے ہیں ۔ جبکہ جاہلیت کی علامات اور جھنڈے بہت ہی مختلف ہیں ، اب وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے طلبگار ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کا وہی والی اور وارث ہے ۔ وہ اہل کفر کے ساتھ صرف اللہ کے لئے لڑتے ہیں ۔ جو دین اسلام سے خارج ہیں۔

أَنْتَ مَوْلانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (286)

” تو ہمارا مولیٰ ہے کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “

یہ ہے اس عظیم سورت کا خاتمہ جس میں اس پوری سورت کے مضامین کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے ۔ اس خلاصے میں اسلامی تصور حیات کا خلاصہ بیان ہوا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ایک سچے مومن کا اپنے رب کے ساتھ ہر حال میں کیا تعلق ہوتا ہے۔

آیت 286 لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَا ط یہ آیت اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے فضل و کرم کا مظہر ہے۔ میں نے آیت 186 کے بارے میں کہا تھا کہ یہ دنیا میں حقوق انسانی کا سب سے بڑا منشور Magna Carta ہے کہ اللہ اور بندے کے درمیان کوئی فصل نہیں ہے : اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ میں تو ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی اور جہاں بھی وہ مجھے پکارے۔ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ پس انہیں بھی چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں۔ گویا دو طرفہ بات چلے گی ‘ یک طرفہ نہیں۔ میری مانو ‘ اپنی منواؤ ! تم دعائیں کرو گے ‘ ہم قبول کریں گے ! لیکن اگر تم ہماری بات نہیں مانتے تو پھر تمہاری دعا تمہارے منہ پردے ماری جائے گی ‘ خواہ قنوت نازلہ چالیس دن تو کیا اسّی دن تک پڑھتے رہو۔ یہی وجہ ہے کہ تمہاری دعاؤں کے باوجود تمہیں سقوط ڈھا کہ کا سانحہ دیکھنا پڑا ‘ تمہیں یہودیوں کے ہاتھوں شرمناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اگرچہ ان مواقع پر حرمین شریفین میں قنوت نازلہ پڑھی جاتی رہی ‘ لیکن تمہاری دعائیں کیونکر قبول ہوتیں ! تمہارا جرم یہ ہے کہ تم نے اللہ کو پیٹھ دکھائی ہوئی ہے ‘ اس کے دین کو پاؤں تلے روندا ہوا ہے ‘ اللہ کے باغیوں سے دوستی رکھی ہوئی ہے۔ کسی نے ماسکو کو اپنا قبلہ بنا رکھا تھا تو کسی نے واشنگٹن کو۔ لہٰذا تمہاری دعائیں تمہارے منہ پردے ماری گئیں۔لیکن آیت زیر مطالعہ اس اعتبار سے بہت بڑی رحمت کا مظہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اندھے کی لاٹھی والا معاملہ نہیں ہے کہ تمام انسانوں سے محاسبہ ایک ہی سطح پر ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ کس کی کتنی وسعت ہے اور اسی کے مطابق کسی کو ذمہّ دارٹھہراتا ہے۔ اور یہ وسعت موروثی اور ماحولیاتی عوامل پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہر شخص کو جو genes ملتے ہیں وہ دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور ان genes کی اپنی اپنی خصوصیات properties اور تحدیدات ‘ limitations ہوتی ہیں۔ اسی طرح ہر شخص کو دوسرے سے مختلف ماحول میسرّ آتا ہے۔ تو ان موروثی عوامل hereditary factors اور ماحولیاتی عوامل environmental factors کے حاصل ضرب سے انسان کی شخصیت کا ایک ہیولیٰ بنتا ہے ‘ جس کو مستری لوگ پاٹن کہتے ہیں۔ جب لوہے کی کوئی شے ڈھالنی مقصود ہو تو اس کے لیے پہلے مٹی یا لکڑی کا ایک سانچہ pattern بنایا جاتا ہے۔ اس کو ہمارے ہاں کاریگر اپنی بولی میں پاٹن کہتے ہیں۔ اب آپ لوہے کو پگھلا کر اس میں ڈالیں گے تو وہ اسی صورت میں ڈھل جائے گا۔ قرآن کی اصطلاح میں یہ شاکلہ ہے جو ہر انسان کا بن جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : قُلْ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖط فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ ھُوَ اَھْدٰی سَبِیْلاً بنی اسرائیل کہہ دیجیے کہ ہر کوئی اپنے شاکلہ کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ پس آپ کا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سیدھی راہ پر ہے۔ اس شاکلہ کے اندر اندر آپ کو محنت کرنی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس کا شاکلہ وسیع تھا اور کس کا تنگ تھا ‘ کس کے genes اعلیٰ تھے اور کس کے ادنیٰ تھے ‘ کس کے ہاں ذہانت زیادہ تھی اور کس کے ہاں جسمانی قوت زیادہ تھی۔ اسے خوب معلوم ہے کہ کس کو کیسی صلاحیتیں ودیعت کی گئیں اور کیسا ماحول عطا کیا گیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ماحولیاتی عوامل اور موروثی عوامل کو ملحوظ رکھ کر اس کی استعدادات کے مطابق حساب لے گا۔ فرض کیجیے ایک شخص کے اندر استعداد ہی 20 درجے کی ہے اور اس نے 18 درجے کام کر دکھایا تو وہ کامیاب ہوگیا۔ لیکن اگر کسی میں استعداد سو درجے کی تھی اور اس نے 50 درجے کام کیا تو وہ ناکام ہوگیا۔ حالانکہ کمیت کے اعتبار سے 50 درجے 18 درجے سے زیادہ ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ کا محاسبہ جو ہے وہ انفرادی سطح پر ہے۔ اس لیے فرمایا گیا : وَکُلُّھُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا مریم اور سب لوگ قیامت کے دن اس کے حضور فرداً فرداً حاضر ہوں گے۔ وہاں ہر ایک کا حساب اکیلے اکیلے ہوگا اور وہ اس کی وسعت کے مطابق ہوگا۔ لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا الاَّ وُسْعَہَا ط کے الفاظ میں جو ایک اہم اصول بیان کردیا گیا ہے ‘ بعض لوگ دنیا کی زندگی میں اس کا غلط نتیجہ نکال بیٹھتے ہیں۔ وہ دنیا کے معاملات میں تو خوب بھاگ دوڑ کرتے ہیں لیکن دین کے معاملے میں کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اندر صلاحیت اور استعداد ہی نہیں ہے۔ یہ محض خود فریبی ہے۔ استعداد و استطاعت اور ذہانت و صلاحیت کے بغیر تو دنیا میں بھی آپ محنت نہیں کرسکتے ‘ کوئی نتائج حاصل نہیں کرسکتے ‘ کچھ کما نہیں سکتے۔ لہٰذا اپنے آپ کو یہ دھوکہ نہ دیجیے اور جو کچھ کرسکتے ہوں ‘ وہ ضرور کیجیے۔ اپنی شخصیت کو کھود کھود کر اس میں سے جو کچھ نکال سکتے ہوں وہ نکالیے ! ہاں آپ نکال سکیں گے اتنا ہی جتنا آپ کے اندر ودیعت ہے۔ زیادہ کہاں سے لے آئیں گے ؟ اور اللہ نے کس میں کیا ودیعت کیا ہے ‘ وہ وہی جانتا ہے۔ تمہارا محاسبہ اسی کی بنیاد پر ہوگا جو کچھ اس نے تمہیں دیا ہے۔ اس مضمون کی اہمیت کا اندازہ کیجیے کہ یہ قرآن مجید میں پانچ مرتبہ آیا ہے۔ لَھَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ ط۔ اس مقام پر بھی ل اور عَلٰی کے استعمال پر غور کیجیے۔ لَھَا مَا کَسَبَتْ سے مراد ہے جو بھی نیکی اس نے کمائی ہوگی وہ اس کے لیے ہے ‘ اس کے حق میں ہے ‘ اس کا اجر وثواب اسے ملے گا۔ وَعَلَیْھَا مَا اکْتَسَبَتْ ط سے مراد ہے کہ جو بدی اس نے کمائی ہوگی اس کا وبال اسی پر آئے گا ‘ اس کی سزا اسی کو ملے گی۔ اب وہ دعا آگئی ہے جو قرآن مجید کی جامع ترین اور عظیم ترین دعا ہے : رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا ج ایمان اور عمل صالح کے راستے پر چلتے ہوئے اپنی شخصیت کے کونوں کھدروں میں سے امکان بھر اپنی باقی ماندہ توانائیوں residual energies کو بھی نکال نکال کر اللہ کی راہ میں لگا لیں ‘ لیکن اس کے بعد بھی اپنی محنت پر ‘ اپنی نیکی ‘ اپنی کمائی اور اپنے کارناموں پر کوئی غرّہ نہ ہو ‘ کوئی غرور نہ ہو ‘ کہیں انسان دھوکہ نہ کھاجائے۔ بلکہ اس کی کیفیت تواضع ‘ عجز اور انکساری کی رہنی چاہیے۔ اور اسے یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اے پروردگار ! ہماری بھول چوک پر ہم سے مؤاخذہ نہ فرمانا۔ انسان کے اندر خطا اور نسیان دونوں چیزیں گندھی ہوئی ہیں : اَلْاِنْسَانُ مُرَکَّبٌ مِنَ الْخَطَاأ وَالنِّسْیَانِ خطا یہ ہے کہ آپ نے اپنی امکانی حد تک تو نشانہ ٹھیک لگایا تھا ‘ لیکن نشانہ خطا ہوگیا۔ اس پر آپ کی گرفت نہیں ہوگی ‘ اس لیے کہ آپ کی نیت صحیح تھی۔ ایک اجتہاد کرنے والا اجتہاد کر رہا ہے ‘ اس نے امکانی حد تک کوشش کی ہے کہ صحیح رائے تک پہنچے ‘ لیکن خطا ہوگئی۔ اللہ معاف کرے گا۔ مجتہد مخطی بھی ہو تو اس کو ثواب ملے گا اور مجتہد مصیب ہو ‘ صحیح رائے پر پہنچ جائے تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا۔ اور نسیان یہ ہے کہ بھولے سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : اِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ عَنْ اُمَّتِی الْخَطَأَ وَالنِّسْیَانَ 37 اللہ تعالیٰ نے میری امتّ سے خطا اور نسیان معاف فرما دیا ہے۔رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَیْنَآ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا ج۔ ایک حمل بوجھ وہ ہوتا ہے جس کو لے کر انسان چلتا ہے۔ اسی سے حمال بنا ہے جو ایک بوری کو یا بوجھ کو اٹھا کر چل رہا ہے۔ جو بوجھ آپ کی طاقت میں ہے اور جسے لے کر آپ چل سکیں وہ حمل ہے ‘ اور جس بوجھ کو آپ اٹھا نہ سکیں اور وہ آپ کو بٹھا دے اس کو اصر کہتے ہیں۔ یہ لفظ سورة الاعراف آیت 157 میں پھر آئے گا : وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ط ان الفاظ میں ٌ محمد رسول اللہ ﷺ کی یہ شان بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے لوگوں کے وہ بوجھ جو ان کی طاقت سے بڑھ کر تھے ‘ ان کے کندھوں سے اتار دیے۔ ہم سے پہلے لوگوں پر بڑے بھاری بوجھ ڈالے گئے تھے۔ شریعت موسوی ہماری شریعت کی نسبت بہت بھاری تھی۔ جیسے ان کے ہاں روزہ رات ہی سے شروع ہوجاتا تھا ‘ لیکن ہمارے لیے یہ کتنا آسان کردیا گیا کہ روزے سے رات کو نکال دیا گیا اور سحری کرنے کی تاکید فرمائی گئی : تَسَحَّرُوْا فَاِنَّ فِی السُّحُوْرِ بَرَکَۃً 38 سحری ضرور کیا کرو ‘ اس لیے کہ سحریوں میں برکت رکھی گئی ہے۔ پھر رات میں تعلق زن و شو کی اجازت دی گئی۔ ان کے روزے میں خاموشی بھی شامل تھی۔ یعنی نہ کھانا ‘ نہ پینا ‘ نہ تعلق زن و شو اور نہ گفتگو۔ ہمارے لیے کتنی آسانی کردی گئی ہے ! ان کے ہاں یوم سبت کا حکم اتنا سخت تھا کہ پورا دن کوئی کام نہیں کرو گے۔ ہمارے ہاں جمعہ کی اذان سے لے کر نماز کے ادا ہوجانے تک ہر کاروبار دنیوی حرام ہے۔ لیکن اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ کاروبار کرسکتے ہیں۔ رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَۃَ لَنَا بِہٖ ج وَاعْفُ عَنَّاوقفۃ ہماری لغزشوں کو معاف کرتا رہ !وَاغْفِرْ لَنَاوقفۃ ہماری خطاؤں کی پردہ پوشی فرما دے !مغفرت کے لفظ کو سمجھ لیجیے۔ اس میں ڈھانپ لینے کا مفہوم ہے۔ مِغْفَرْ ’ خود ‘ ہیلمٹ کو کہتے ہیں ‘ جو جنگ میں سر پر پہنا جاتا ہے۔ یہ سر کو چھپا لیتا ہے اور اسے گولی یا تلوار کے وار سے بچاتا ہے۔ تو مغفرت یہ ہے کہ گناہوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ڈھانپ دے ‘ ان کی پردہ پوشی فرما دے۔وَارْحَمْنَآوقفۃ اَنْتَ مَوْلٰٹنَا تو ہمارا پشت پناہ ہے ‘ ہمارا والی ہے ‘ ہمارا حامی و مددگار ہے۔ ہم یہ آیت پڑھ آئے ہیں : اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْالا یُخْرِجُھُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ ط آیت 257۔فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ انہی الفاظ پر وہ دعا ختم ہوئی تھی جو طالوت کے ساتھیوں نے کی تھی۔ اب اہل ایمان کو یہ دعا تلقین کی جا رہی ہے ‘ اس لیے کہ مرحلہ سخت آ رہا ہے۔ گویا : ؂تاب لاتے ہی بنے گی غالب مرحلہ سخت ہے اور جان عزیز !اب کفار کے ساتھ مقابلے کا مرحلہ آ رہا ہے اور اس کے لیے مسلمانوں کو تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ درحقیقت غزوۂ بدر کی تمہید ہے۔بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیم۔

آیت 286 - سورۃ البقرہ: (لا يكلف الله نفسا إلا وسعها ۚ لها ما كسبت وعليها ما اكتسبت ۗ ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو...) - اردو