اس صفحہ میں سورہ Al-Baqara کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ البقرة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
۞ لَّيْسَ ٱلْبِرَّ أَن تُوَلُّوا۟ وُجُوهَكُمْ قِبَلَ ٱلْمَشْرِقِ وَٱلْمَغْرِبِ وَلَٰكِنَّ ٱلْبِرَّ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةِ وَٱلْكِتَٰبِ وَٱلنَّبِيِّۦنَ وَءَاتَى ٱلْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ ذَوِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينَ وَٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ وَٱلسَّآئِلِينَ وَفِى ٱلرِّقَابِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَٰهَدُوا۟ ۖ وَٱلصَّٰبِرِينَ فِى ٱلْبَأْسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَحِينَ ٱلْبَأْسِ ۗ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُوا۟ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُتَّقُونَ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِصَاصُ فِى ٱلْقَتْلَى ۖ ٱلْحُرُّ بِٱلْحُرِّ وَٱلْعَبْدُ بِٱلْعَبْدِ وَٱلْأُنثَىٰ بِٱلْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِىَ لَهُۥ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌ فَٱتِّبَاعٌۢ بِٱلْمَعْرُوفِ وَأَدَآءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَٰنٍ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ۗ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُۥ عَذَابٌ أَلِيمٌ
وَلَكُمْ فِى ٱلْقِصَاصِ حَيَوٰةٌ يَٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا ٱلْوَصِيَّةُ لِلْوَٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَبِينَ بِٱلْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلْمُتَّقِينَ
فَمَنۢ بَدَّلَهُۥ بَعْدَمَا سَمِعَهُۥ فَإِنَّمَآ إِثْمُهُۥ عَلَى ٱلَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
سچ بات یہ ہے کہ یہ آیت بھی تحویل قبلہ کے احکام اور ان پر یہودیوں کے طویل اعتراضات وجوابات کے ساتھ مربوط ہیں ۔ تحویل قبلہ کی حکمت کے بارے میں تو ہم اس سے پہلے بیان کر آئے ہیں ۔ یہاں اللہ تعالیٰ ۔ عبادات اور شعائر دین کی ظاہری شکل و صورت کے بارے میں یہودیوں کی ظاہر بینی اور تقشف پرستی کو بےنقاب کرتے ہوئے ، حسن وقبح کا ایک عظیم معیار اور نیکی اور بدی کی اصلی حقیقت بیان کررہے ہیں۔ کیونکہ یہودی ان ظاہری امور کے بارے میں بےحد حساس تھے اور جھگڑتے تھے ۔
تحویل قبلہ یا تمام عبادات میں غرض وغایت یہ نہیں کہ لوگ مشرق کی طرف رخ کریں یا مغرب کی طرف چہرہ کرکے عبادت سر انجام دیں۔ بیت المقدس کی طرف رخ کریں یا مسجد حرام کی طرف ۔ یا یہ کہ عبادات کی موجودہ شکل و صورت ہی عین خیر وبھلائی نہیں ہے ۔ بلکہ ان کے لئے بہت ضروری ہے کہ دل کے اندر محسوس کیا جانے والاتصور اور اسلامی نظریہ حیات کا زندہ شعور ضروری ہے ۔ ان ذہنی امور کے ساتھ ساتھ مخصوص طرز عمل اپنانا بھی ضروری ہے ۔ ورنہ نیکی وبھلائی کے حصول اور حسن وخیر کو بروئے کار لانے کا اصل مقصد پورا نہ ہوسکے گا۔ نیکی دراصل ایک تصور ہے ، ایک شعور ہے ، کچھ اعمال ہیں ، ایک طرز عمل ہے ۔ یہ ایک تصور حیات ہے ۔ جو ایک فرد اور ایک جماعت کے ضمیر پر اثر انداز ہو ، وہ ایک عمل ہے جو فرد وجماعت کی زندگیوں میں پسندیدہ اثرات پیدا کرے ۔ صرف مشرق ومغرب کی طرف سے رخ پھیر دینے سے زندگی میں یہ انقلاب کیونکر آسکتا ہے ۔ منہ کوئی ادھر کرے یا ادھر کرے ، فرق کیا پڑتا ہے ، اصل مقصد تو رجوع قلب ہے ۔ جو اللہ کے احکام مانتا ہے ، منزل پالیتا ہے ۔ یہی معاملہ ہے تمام دینی شعائر کی ظاہری شکل و صورت کا ، جنہیں یہ ادا کرتے ہیں ۔ جو اللہ کے احکام مانتا ہے ، منزل پالیتا ہے ۔ یہی معاملہ ہے تمام دینی شعائر کی ظاہری شکل و صورت کا ، جنہیں یہ ادا کرتے ہیں۔ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ ” بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے ۔ “
یہ ہے بھلائی کا وہ معیار جو تمام بھلائیوں کا مجموعہ ہے ۔ اس معیار میں نیکی کی جو اقدار مقرر کی گئی ہیں وہ بہت ہی وزنی ہیں ۔ اللہ ایمان ، یو آخر پر ایمان اور ملائکہ وکتب اور انبیاء پر ایمان کی قدر و قیمت اسلامی نقطہ نظر سے کیا ہے ؟
اللہ پر ایمان لانا انسانی زندگی میں ایک نقطہ انقلاب ہے ۔ اس کے ذریعے انسان مختلف قوتوں ، مختلف چیزوں اور مختلف پسندیدہ تصورات کی بندگی اور غلامی سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ اور صرف ایک بندگی اور غلامی قبول کرلیتا ہے ۔ یوں انسان تمام دوسرے انسانوں کے ساتھ ، ایک ہی صف میں کھڑا ہوکر ، ایک ہی معبود کے سامنے جھک کر ، اخوت و مساوات کا بلند مقام حاصل کرلیتا ہے ۔ ایمان وہ مقام ہے جہاں طوائف الملوکی کی بجائے ایک نظام قائم ہوتا ہے ۔ انتشار کی جگہ یکسوئی اور اختلاف کی جگہ اتحاد قائم ہوجاتا ہے نیز گمراہی کے بجائے ایک اونچا نصب العین سامنے آجاتا ہے ۔ اگر انسان کے دل میں ایک واحد لاشریک خدا پر ایمان نہ ہو تو ، اس دنیا میں اس کا کوئی نصب العین نہیں ہوتا ، جس پر دلجمعی کے ساتھ اپنی قوتوں کو مرتکز کرسکے اور جس پر مساوات کے ساتھ وہ مجتمع ہوسکے ۔ بعینہ اس طرح جس طرح وجود کائنات ایک نقطہ کے اردگرد مرتکز ہے ۔ اس کے اجزا کا باہمی ربط ہے ۔ اور ان کے مابین واضح نسبت موجود ہے ۔ اور جس کے مختلف اجزاء کے باہمی علائق اور مقاصد بالکل واضح اور معلوم اور مربوط ہیں ۔
آخرت پر ایمان کا مقصد یہ ہے کہ انسان جزا وسزا میں اللہ تعالیٰ کی عدالت کو یقین کے ساتھ تسلیم کرے ۔ یہ جانے کہ اس کرہ ارض پر انسان کو یونہی بےمقصد نہیں پیدا کیا گیا ۔ وہ غیر ذمہ دار نہیں ہے بلکہ اسے حساب دینا ہوگا اگر کوئی بھلائی کرے تو وہ ختم نہیں ہوسکتی اگرچہ اس کی جزا اس دنیا میں نہ ملے ۔ ملائکہ پر ایمان بھی غیب پر ایمان کا ایک حصہ ہے ۔ انسانی فہم وادراک اور ایک حیوان کے فہم وادراک میں یہی فرق ہے ۔ انسانی تصور حیات اور حیوانی تصور حیات میں یہی فرق ہے کہ انسان محسوسات سے آگے کی بھی بعض چیزوں پر ایمان لاتا ہے اور ان کا ادراک کرسکتا ہے ۔ جبکہ حیوان کا احساس صرف محسوسات کے دائرے میں محدود ہوتا ہے کتاب اور نبیوں پر ایمان کا مقصدیہ ہے کہ انسان تمام رسولوں پر ایمان لائے بلاتفریق ۔ یعنی انسانیت بھی ایک ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے ۔ اس کا خدا بھی ایک ہے ۔ اس کے لئے دین اور نظام زندگی بھی ایک ہے ۔ اس طرح مومن انبیاء ورسل کے اعلیٰ خیالات کا وارث ہوجاتا ہے ۔ لہٰذ اکتب ورسل پر ایمان ایک مومن کو بہت قیمتی شعور عطا کرتا ہے۔
مال کے ساتھ انسان کو بڑی محبت ہے لیکن مال قربان کرنے کی بھی بڑی اہمیت ہے ۔ غریب رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، مسافروں اور گردن چھڑانے اور غلامی سے نجات دلانے کے لئے مال خرچ کرنا یہ سبھی کام انسان کو بلند مرتبہ بناتے ہیں ۔
انفاق فی سبیل اللہ کا یہ اثر ہوتا ہے کہ انسان لالچ ، خود غرضی اور بخل کے بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ مال کی محبت ہاتھوں کو انفاق سے کھینچ لیتی ہے ۔ انسان بلند ہمتی ، اولوالعزمی ، جودوسخا اور دادوہش کے مقام بلند سے گرجاتا ہے اور روح انسانی میں کشادگی نہیں رہتی ۔ اسلامی نظام میں انفاق کا ایک روحانی مقام ہے ۔ اس لئے یہ ان مسلمانوں کو بھی حکم دیا جاتا ہے کہ مال کی محبت کے باوجود اپنا محبوب ترین اور پسندیدہ ترین مال کو دل وجان کی آمادگی اور کشادگی کے ساتھ خرچ کریں ۔ اس کی بڑی روحانی اہمیت ہے اور اس طریقہ سے مومن اپنے آپ کو دولت کی پوجا اور دولت کی غلامی سے چھڑالے گا ۔ دولت کی پوجا سے انسان بالیقین ذلیل ہوجاتا ہے۔ سرفرازی کی بجائے سرنگوں ہوتا ہے اور انفاق سے وہ لالچ اور حرص کی غلامی سے آزاد ہوجائے گا ۔ اسلامی نقطہ نظر سے سرنگوں ہونے کے بجائے وہ گردن فراز ہوجائے گا لیکن اگر وہ انفاق نہ کرے توذلیل ہوگا ۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی بہت بڑی قدر و قیمت ہے ۔ کیونکہ اسلامی نظام کی غایت یہ ہے کہ انسان کو سب سے پہلے نفسیاتی پریشانیوں ، اخلاقی کمزوریوں اور طمع و لالچ سے نجات دلائے ۔ یہ کام انسان کے لئے معاشرتی آزادی سے بھی پہلے کیا جاتا ہے ۔ شخصی وسیاسی آزادی سے بھی پہلے کیوں ؟ اس لئے کہ جو شخص اپنے نفس کا غلام ہو وہ بسہولت طاغوت کی غلامی کے لئے بھی تیار ہوتا ہے۔ لیکن جو شخص خواہشات نفسانیہ کے قید وبند سے آزاد ہوجاتا ہے وہ اپنے معاشرے اور سوسائٹی میں بھی آزاد ہوتا ہے ۔ کسی کی غلامی کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔ انسانی معاشرے میں انفاق فی سبیل اللہ کی ایک معاشرتی قدر و قیمت بھی ہے ۔ اقربا سے صلہ رحمی کی وجہ سے نفس انسانی میں مروت پیدا ہوتی ہے ، خاندان میں شرافت کا چلن فروغ پاتا ہے اور اقرباء کے درمیان تعلقات زیادہ قوی ہوجاتے ہیں ۔ اسلامی معاشرے کی اساس خاندان پر ہے اس لئے یہاں انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعہ خاندانی نظام کو مضبوط کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔ پھر یتیموں کی مالی امداد کا حکم ہے ۔ اس کا مقصد اصل معاشرہ میں امیر و غریب ، طاقتور اور کمزور کے درمیان نظام کفالت کا قیام ہے ۔ یتامی مادری اور پدری شفقت سے محروم ہوجاتے ہیں ۔ ان کے لئے ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ ان کے احساس محرومیت کی تلافی کی جائے ۔ پھر اس تکافل کے نتیجے میں پوری سوسائٹی کو ان خودرو شتر بےمہار اور غیر تربیت یافتہ افراد کی کثرت سے بھی بچایا گیا ہے۔ جو معاشرے کے لئے مسائل پیدا کرتے ہیں ۔ اس کے لئے وبال جان بن جاتے ہیں اور فتنہ سامانیوں کا موجب بنتے ہیں ۔ ایسے لوگ آگے جاکر معاشرے کی لاپرواہی اور بےمروتی کا خوب انتقام لیتے ہیں ۔ مساکین پر انفاق جن کے پاس وسائل زندگی نہیں ہیں ۔ پھر بھی وہ خاموش بیٹھے ہیں ۔ عزت نفس رکھتے ہیں اور سوال نہیں کرتے ۔ یہ انفاق ان کی عزت نفس کے لئے محافظ ہے ۔ انہیں تباہی سے بچاتا ہے ۔ نظام انفاق سے اسلامی معاشرے میں ، ایسے حضرات کے دلوں میں اجتماعی کفالت اور ضمانت کا شعور پیدا ہوتا ہے ۔ اسلامی معاشرہ تو ہوتا ہی وہ ہے جس میں کسی فرد کو بےیارومددگار نہ چھوڑاجائے اور اس کے کسی عضو کو ضائع ہونے نہ دیا جائے ۔ ابن سبیل (مسافر) جو اپنے خاندان سے دور ہو ، جن کے پاس وسائل موجود نہ ہوں ، اچانک مصیبت میں گرفتار ہوجائے ۔ خاندان کے افراد اس سے دور ہوں ، ایسے حالات میں یہ مسافر بھی مصیبت زدہ ہے ۔
یہ انفاق اس کے لئے ایک قسم کی ہنگامی امداد ہے ۔ اس امداد سے اسے یہ شعور دیا جاتا ہے کہ پوری انسانیت اس کا خاندان ہے ۔ ہر ملک اس کا ملک ہے ، ہر جگہ اس کا خاندان موجود ہے ، مسلمان اس کے اہل خاندان ہیں ۔ ہر جگہ اس کے اپنے مال کے بدلے اس کے لئے مال موجود ہے ۔ اس کے لئے صلہ رحمی موجود ہے ۔ اور اس کے لئے آرام کا سامان فراہم ہوسکتا ہے ۔ سائلین پر انفاق ضروری ہے تاکہ ان کی ضرورت پوری ہو ، وہ آئندہ سوال کرنا چھوڑدیں ۔ اسلام بھیک مانگنے کو ناپسند کرتا ہے ۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جس کے پاس بقدر کفالت موجود ہو اس کے لئے سوال کرنا جائز نہیں ہے ۔ جو کام کاج کرسکتا ہے ، اس کے لئے بھی سوال جائز نہیں ہے ۔ ایسے شخص کے لئے خدا کا حکم یہ ہے کہ وہ مزدوری کرے ، بھیک نہ مانگے یا قناعت کرے ، دست سوال دراز نہ کرے ، بھیک مانگنا تب جائز ہے جب کام نہ ہو ، مال نہ ہو ، اس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو ۔
غلامی سے چھڑانے میں انفاق بھی ایک مد ہے ۔ جو بدقسمت اپنی بدعملی کی وجہ سے غلام ہوگیا ، اس نے اسلام کے خلاف تلوار اٹھائی ۔ جنگ کے نتیجے میں اس کی آزادی ختم ہوگئی ۔ اسے عارضی طور پر معاشرے میں مقام شرافت سے محروم کردیا گیا۔ اس پر انفاق یوں ہوگا کہ اس کو خرید کر آزاد کردیا جائے یا غلام اپنے آقا سے معاہدہ آزادی کرے اور اسے رقم معاہدہ ادا کرنے کا پابند ہو ۔ اسلام نے غلاموں کے لئے یہ قانون بنایا تھا کہ غلام جس وقت چاہتا مالک کے ساتھ ایک معاہدہ آزادی کرتا اور آزاد ہوجاتا۔ اس معاہدے کے مطابق اسے وہ رقم ادا کرنی ہوتی ہے جو طے پاجائے ۔ (ایسے معاہدہ کے بعد غلام ) اپنے کام کی اجرت وصول کرنے کا مستحق ہوجاتا ہے جو معاہدے کی رقم میں کٹتی رہتی ہے ۔ علاوہ ازیں وہ مستحق زکوٰۃ ہوجاتا ۔ اسی طرح وہ انفاق فی سبیل اللہ کی تمام مدات میں سے اس کی امداد کی جاسکتی تھی تاکہ وہ جلد از جلد رقم معاہدہ ادا کرکے آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوجائے۔
اقامت صلوٰۃ
نیکی کے اس معیار میں نماز کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ اور اقامت صلوٰۃ صرف مشرق ومغرب کی طرف چہرہ کرکے کھڑے ہوجانے سے اقامت کا مفہوم ادا نہیں ہوجاتا۔ یہ نقطہ وسیع تر مفہوم رکھتا ہے۔ جو یہ ہے کہ انسان کا ظاہر و باطن اور اس کی عقل وروح سب پوری طرح اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجائیں ۔ نماز نہ تو محض جسمانی ورزش کا نام ہے اور نہ ہی صرف صوفیانہ درودوظائف کا نام ہے۔ نماز دراصل اسلام کی بنیادی فکر ونظر کی عکاس ہے۔ اسلام اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے کہ انسان اس ایک وجود میں جسم ، روح اور عقل تین چیزوں کا اجتماع ہے ۔ اسلام اس بات کا بھی قائل نہیں ہے کہ ان تین طاقتوں کی سرگرمیوں اور دائرہ عمل میں باہمی کوئی تضاد پایا جاتا ہے ۔ وہ جسم کو فناکرکے روح کو آزاد کرنا جائز نہیں سمجھتا ۔ کیونکہ روحانی آزادی کے لئے جسمانی فنا یا جسم کو مارنا لازمی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ، اپنی سب سے اہم اور بڑی عبادت یعنی نماز میں ان تین طاقتوں کی سرگرمی کو ہم آہنگ کردیا ہے ۔ نماز میں تینوں قوتیں مکمل نظم کے ساتھ اپنے خالق کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں ۔ قیام ، رکوع اور سجدہ وجسمانی حرکات ہیں جو روح کو رجوع الی اللہ کی طرف راغب کرتی ہیں ۔ قرآن کی تلاوت ، اس میں غوروفکر اور مفہوم کو سمجھنا عقل کا کام ہے اور اس پورے عرصے میں عقل انسانی اس کام میں مصروف ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عزت توجہ اور مکمل تسلیم ورضا اور عجز و انکسار روح کا کام ہے اور اس طرح یہ تینوں قوتیں ایک ہی وقت میں مصروف کار ہوتی ہیں ۔ غرض اس معنی میں اقامت صلوٰۃ پوری اسلامی طرز فکر کی نمائندہ ہے ۔ اور وہ چشم بینا کو یہ سبق یاد دلاتی ہے کہ پوری زندگی کے متعلق اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ ہر نماز اور ہر نماز کی حرکت میں ہم یہ سبق دہراتے ہیں ۔
زکوٰۃ کی ادائیگی
یہ اسلامی نظام میں غرباء و مساکین کے لئے اغنیاء اور اہل ثروت کی دولت پر عائد کردہ ، ایک اسلامی ٹیکس ہے ۔ یہ ٹیکس اللہ تعالیٰ نے عائد کیا ہے ۔ دراصل اللہ تعالیٰ ہی دولت کا حقیقی مالک ہے ۔ بندے کو اس کا مجازاً مالک بنایا گیا ہے ۔ اور اس لئے اسلامی نقطہ نظر سے اس پر کچھ شرائط عائد کی گئی ہیں اور ان میں سے اہم اور لازمی شرط ادائیگی زکوٰۃ ہے ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کا ذکر عام انفاق فی سبیل اللہ کے عام حکم کے بعد کیا گیا ہے جس کا ذکر اوپر ہوگیا ہے کہ دولت محبت کے باوجود اقرباء وغیرہ پر صرف کی جائے گی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ مذکورہ بالا تمام صرف مال اور انفاق فی سبیل اللہ سے علیحدہ ایک مستقل مد ہے ۔ یہ لازمی ٹیکس اور منصوص فرض ہے ۔ جب کہ عام انفاق فی سبیل اللہ صرف ترغیب ہے ۔ لیکن نیکی کا یہ مجموعی معیار جس کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے ، اس وقت تک مکمل نہ ہوگا جبب تک ان دونوں مدات پر حسب حساب وحسب توفیق عمل نہ کیا جائے ۔ یہ دونوں مدیں اسلام کی بنیادی عناصر ترکیبی ہیں ۔ لیکن ہر انسان کی زندگی میں دونوں کا پایا جانا ضروری ہے ۔ ایک پر عمل کرنے سے دوسرا ہرگز ساقط نہیں ہوسکتا۔
وفائے عہد
یہ اسلام کی وہ علامت ہے جس کی حفاظت میں اسلام بےحد کوشش کرتا ہے ۔ قرآن کریم میں بار بار اس کا تذکرہ ہوتا ہے ۔ اسے ایمان کی نشانی گردانا گیا ہے ۔ اسے احسان اور آدمیت کی نشانی قرار دیا گیا ہے اور یوں اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ ایک انسان اور انسان کے تعلقات میں ایک فرد اور جماعت کے تعلقات میں ، ایک قوم اور دوسری قوم کے تعلقات میں اعتماد اور اطمینان پیدا کرنے کے لئے وفائے عہدنہایت ہی ضروری ہے ۔ وفائے عہد کی خشیت اول خود ذات باری تعالیٰ سے اپنے عہد کی وفا ہے۔ اگر ایک مستحق اپنے مالک کا وفادار نہ ہو تو ہمیشہ پریشان اور غیر مطمئن رہے گا اور کوئی عہد پورانہ کرسکے گا ۔ وہ کسی میثاق پر جم نہ سکے گا ۔ کسی انسان پر اعتماد نہ کرے گا ۔
دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ ، وفائے عہد میں اسلام اس مقام بلند تک پہنچا ہے کہ جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں اور کہیں نہیں ملتی ۔ کوئی قوم ، کوئی امت بھی اس مقام بلند تک نہیں پہنچ سکی ۔ یہ مقام انسانیت کو اسلام کے سایہ اور اسلامی نظریہ حیات کی روشنی ہی میں معلوم ہوا۔
حق اور باطل کی کشمکش میں صبر
صبر وہ وصف ہے جو انسان کو مصائب برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے ۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ کوئی مشکل مرحلہ آئے تو انسان بہت ہمت سے اس کا مقابلہ کرے ۔ مصیبت کے وقت آہیں بھرناشروع نہ کردے۔ سختیوں میں جزع وفزع شروع نہ کردے ۔ صبر اور مصابرت اور تحمل وثبات اسی کا نام ہے ۔ صبر مضبوطی سے حق کو پکڑلینے کا نام ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مصائب کے بادل چھٹ جاتے ہیں ۔ مصیبت دور ہوجاتی ہے اور مشکلات کے بعد آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں ۔ یہ اللہ کی مرضی کو قبول کرنا ہے ، اس سے پر امید ہونا ، اس پر اعتماد کرنا ہے ۔ وہ امت جسے پوری انسانیت کی امامت اور نگرانی کا مقام دیا گیا ہو ، جسے دنیا میں عدل قائم کرنا ہے اور پوری انسانیت کی اصلاح کا فرض ادا کرنا ہے ، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ دولت صبر سے مالا مال ہو۔ مشکلات درپیش ہوں ، اس کی راہ میں بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی ہوں۔ اسے تنگیوں ، مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے ۔ باطل کے ساتھ کشمکش برپا ہو اور شدید سے شدید ترحالات پیش آئیں تو صبر و استقامت ہی اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہو۔ مصیبت اور غربت میں صبر ، جسمانی ضعف اور بیماری میں صبر افراد کی قلت اور کمزوری پر صبر ، محاصرے اور مجاہدے میں صبر ، غرض ہر حال میں صبر اور ہر آن میں صبر ۔ صرف یہی ایک صورت ہے جس میں یہ امت اپنا عظیم فرض منصبی ادا کرسکتی ہے ۔ وہ اپنے منصوبے کو پورا کرسکتی ہے ۔ بصورت دیگر اسے کامیابی حاصل نہ ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تنگی ومصیبت کے اور حق و باطل کی کشمکش میں صبر کرنے والوں کو لفظ الصابرین (حالت نصبی) سے مخاطب کیا ہے ۔ جس سے لفظ ” خاص کر “ کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے جن صفات کا ذکر ہوا ہے وہ حالت رفعی (مستقل جملوں) میں ہیں لیکن اس صفت کو حالت منصبی (مفعول ہے اور فعل محذوف ہے) میں ذکر کیا ہے۔ مطلب ہے (میں صابرین کو مخصوص طور پر بیان کرتا ہوں ، نیکی اور بھلائی کی صفات کے ذکر کے ضمن میں یہ ایک خاص اشارہ ہے اور اس کا اپنا ایک مخصوص وزن اور ایک خاص اہمیت ہے ، یعنی اللہ پر ایمان فرشتوں پر ایمان ، کتابوں پر ایمان ، نبیوں پر ایمان ، مال کا خرچ کرنا ، نماز کا قائم کرنا ، زکوٰۃ کا ادا کرنا ۔ اور وفائے عہد کی تمام صفات میں سے صفت صبر اور اس کے حاملین الصابرین کو زیادہ اہمیت حاصل ہے ، اللہ کے ہاں ان کی سب سے زیادہ قدر ہے ۔ صابرین کا مقام سب سے زیادہ برتر وبلند ہے ۔ صابرین کے اس مقام بلند کو دیکھ کر تمام لوگوں کی نگاہیں اس طرف اٹھ جاتی ہیں ۔
ذرا دیکھئے ایک ہی آیت میں نظریہ و عقیدہ کے اصول ، جسمانی فرائض اور مالی ذمہ داریاں اور دولت کے واجبات کو بیان کردیا گیا ہے ۔ نظریہ و حقیقت کو ایک کردیا گیا ہے ۔ ایسی اکائی کی صورت میں جس کو ٹکڑے نہ کیا جاسکتا ہو ، جس کے اجزاء ایک دوسرے سے کبھی جدا نہ ہوسکیں اور زندگی کے ان مختلف شعبوں کا عنوان صرف ایک ہے (نیکی) بعض احادیث میں نیکی کو عین ایمان کہا گیا ہے ۔ غرض یہ آیت اسلامی تصور حیات کا مکمل خلاصہ ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کے اصول اس میں یکجا ہوگئے ہیں ۔ یہ سب ضروری اصول ہیں ایک دوسرے کے مقابل ہیں ۔ اور ان کے بغیر اسلامی نظام کا قیام ہرگز نہیں ہوسکتا۔
جن لوگوں کی صفات یہ ہوں ، ان کا مقام بھی یہاں آخر میں بطور نتیجہ بیان کردیا جاتا ہے۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (177) ” یہ ہیں راست باز لوگ اور یہ ہیں متقی۔ “
یہی لوگ ہیں جنہوں نے اسلام میں ، اپنے رب کے ساتھ بالکل سچ کہا ۔ وہ ایمان و اعتقاد میں بھی سچے ہیں اور اپنے ایمان و اعتقاد کو اپنی زندگی میں عملی شکل دینے میں بھی بالکل وہ سچے ہیں ۔ یہی لوگ دراصل متقی ہیں جو اپنے رب کے ساتھ جڑ جاتے ہیں ، اس سے ڈرتے ہیں ۔ وہ احساس ذمہ داری اور شعور کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔
ان آیات کے درمیان سے ذرا جھانک کر دیکھیں ، ہمیں ایک بلند افق نظر آئے گا ۔ ایک بلند مقام عزت نظر آئے گا ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تک اللہ تعالیٰ ، انسانیت کو اپنے تجویز کردہ اعلیٰ ترین نظام حیات کے ذریعے سرفراز کرنا چاہتا ہے ۔ اور پھر ہم ذرا لوگوں کی حالت زار پر نظر ڈالیں ، تو وہ اس نظام سے دور بھاگتے ہیں ۔ اس سے پہلو تہی کرتے ہیں ۔ اس کا مقابلہ کرتے ہیں ، بلکہ اس کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں ۔ اور اس کے ماننے والوں کے جانی دشمن ہوجاتے ہیں ۔ جب ہم یہ سب کچھ دیکھتے ہیں تو ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسی طرح کہنا پڑتا ہے ۔ یا حسرۃ علی العباد
اور پھر ہم نصب العین کے اس افق بلند پر دوبارہ نظر ڈالتے ہیں ۔ یاس و حسرت کی یہ کیفیت فوراً رفو ہوجاتی ہے ۔ امید کی کرن نظر آتی ہے ۔ اللہ پر یقین پختہ ہوجاتا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کی قوت اور برتری پر غیر متزلزل یقین پیدا ہوجاتا ہے اور جب اپنے مستقبل پر نظر ڈالتے ہیں تو افق پر امید کی کرن موجود پاتے ہیں ۔ وہ روشن تر اور واضح تر ہے ۔ ضروری ہے کہ اس طویل تھکاوٹ اور مصائب نے ایک بار پھر اسلامی نظام زندگی پر ان کا یقین پختہ کردیا ہو۔ امید ہے اس اعلیٰ وارفع نظام کی طرف انسانیت ایک بار پھر بڑھے گی اور یہ مان لے گی کہ اللہ ہی مستعان ہے وہی معین و مددگار ہے ۔
درس 11 ایک نظر میں
اس سبق میں مدینہ طیبہ کے نوزائیدہ اسلامی معاشرہ کے بعض اجتماعی معاملات کی شیرازہ بندی کی گئی ہے ۔ ساتھ ساتھ بعض عبادات جیسے فرض عبادات کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ یہاں یہ دونوں چیزیں اس سورت میں ایک ہی ٹکڑے میں باہم ضم کردی گئی ہیں ۔ دونوں قسم کی تعلیمات کے درمیان رابطہ تقویٰ اور خوف خدا کو بنایا گیا ہے ، جہان اجتماعی معاملات کی شیرازہ بندی کے آخر میں بار بار تقویٰ اور خوف خدا کا ذکر ہے وہاں عبادات مفروضہ کے آخر میں بھی تقویٰ ، شکر اور خشیت اللہ پر زور دیا گیا ہے ، اور پھر اس سبق کو آیات بر کے بعد لایا گیا ہے ، جو ایمانی تصورات زندگی ، ایمانی طرز عمل اور اسلامی طریق کار پر مشتمل ہے ۔ اور جس میں نیکی اور تقویٰ کا اعلیٰ معیار بیان ہوا ہے ۔
اس سبق میں ، مقتولین کے قصاص کے احکام بیان کئے گئے ہیں اور اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کی گئی ہے ۔ موت کے وقت وصیت کے احکام ، روزے کی فرضیت کے احکام اور دعا واعتکاف کے احکام بیان ہوئے ہیں اور آخر میں مالی واجبات کی ادائیگی کے احکام بیان کئے گئے ہیں ۔
احکام قصاص کے بیان کے بعد خاتمہ کلام تقویٰ پر کہا گیا : وَلَکُم فِی القِصَاصِ حَیٰوةٌ یَّاُولی الالبَابِ لَعَلَّکُم تَتَّقُونَ ” عقل وخرد رکھنے والو ! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے ۔ “ اسی طرح جب وصیت کے احکام بیان ہوئے تو یہ بات پھر تقویٰ ہی پر ختم ہوتی ہے۔ کُتِبَ عَلَیکُم اِذَ حَضَرَ اَحَدَکُمُ المَوتَ اِن تَرَکَ خَیرًا الوَصِیَّة لِلوَالِدَینِ وَالاَقرَبِینَ بِالمَعرُوفِ حَقًّا عَلَی المُتَّقِینَ ” تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو ، تو والدین اور رشتہ داروں کے لئے معروف طریقے سے وصیت کرے ۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔ “
اب روزے کی فرضیت کے حکم کا مطالعہ کریں ۔ اس کے آخر میں بھی بتایا گیا ہے کہ یہ فرض ہی اس لئے ہوا ہے کہ تم متقی بن جاؤ۔ اے لوگوجو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کردیئے گئے ہیں ، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروؤں پر فرض کئے گئے تھے ۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوجائے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
احکام روزہ کے آخر میں اعتکاف کے احکام ہیں اور ان کے بعد بھی آخری نتیجہ تقویٰ ہی ہے ۔ یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں ۔ ان کے قریب نہ پھٹکنا ۔ اس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لئے بصراحت بیان کرتا ہے۔ توقع ہے کہ وہ غلط رویے سے بچیں گے تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَقْرَبُوهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
اس کے علاوہ اس سبق میں اختتام مضمون پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ان میں سے کوئی بھی تقویٰ اور دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور جلالت شان کا شعور پیدا کرنے کے مضامین سے خالی نہیں ۔ مثلاً ایک جگہ کہا گیا اور جس ہدایت پر اللہ تعالیٰ نے تمہیں سرفراز کیا ہے ، اس اللہ کی کبریائی کا اظہارواعتراف کرو اور شکر گزار بنوولِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ دوسری جگہ ہے فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ لہٰذا انہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ” بیشک وہ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ “ اِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌرَّحِیمٌ” بیشک بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ “
غرض اس پورے متن میں تسلسل کے ساتھ تقویٰ کا ذکر ہے جس سے ایک نظر میں دین کی حقیقت تک رسائی ہوجاتی ہے اور اندازہ ہوجاتا ہے کہ دین ایک ایسی اکائی ہے جس کے اجزا ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوسکتے ۔ اس کا اجتماعی نظام ، اس کے قانونی اصول ، اس کی رسوم عبادت ، سب کی سب صرف ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی نظریہ کے سرچشمے سے پھوٹتے ہیں ۔ یہ سب شعبے صرف ایک ہی تصور حیات سے نکلتے ہیں اور یہ تصور حیات نظریہ اسلام سے ابھرتا ہے ۔ یہ سب شعبے ایک ہی رسی میں بندھے ہوئے ہیں اور ان کا آخری نقطہ ارتکاز اللہ ہے ۔ سب کی غرض وغایت ایک ہی ہے ، یعنی بندگی ۔ صرف خدائے واحد کی ، جس نے پیدا کیا ، جس نے رزق دیا ، جس نے انسان کو اس زمین میں اپنا جانشین مقرر کیا ۔ مگر یہ جانشین اس شرط کے ساتھ کہ وہ صرف خدائے واحد پر ایمان لائے ، وہ صرف خدائے واحد کی بندگی کرے اور وہ اپنا تصور حیات اپنے اجتماعی نظم کو اپنے قوانین کا ماخذ صرف اللہ ہی کو قرار دے ، صرف اللہ کو !
غرض یہ پورا سبق اور اس کے مضامین اور پھر مضامین کے آخر میں بیان کردہ تبصروں اور نتائج کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کے تمام اجزاء باہمی مربوط ہیں اور ربط کیا ہے ؟ تقویٰ ، بندگی اور ایمان باللہ !
یہ پکار صرف اہل ایمان کے لئے ہے ۔ صفت ایمان کو خطاب میں کیا گیا ، اس صفت کا تقاضا یہ ہے کہ قصاص کے معاملے میں ہدایت صرف اللہ ہی سے حاصل کی جائے ، جس پر تم ایمان لائے ہو۔ اللہ پکار کر اطلاع دیتا ہے کہ تم پر مقتولین کے معاملے میں قصاص فرض کردیا گیا ۔ پہلی آیت قانون سازی کے ضمن میں ہے اور دوسرے میں اس قانون کی حکمت بیان کی گئی ہے ۔ اہل ایمان کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ سمجھنے کی کوشش کریں ، اس طرح مسلمانوں کے دلوں میں خدا خوفی کا احساس پیدا کیا گیا ہے ۔ غرض قتل اور سزا قتل کے معاملے میں اسلام کا نظام قصاص سیفٹی وال (Safty Valve) کی حیثیت رکھتا ہے ۔
منقولہ بالا آیت میں جو قانون بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ قتل کے معاملے میں قصاص یوں ہوگا کہ آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اس آزاد ہی سے بدلہ لیاجائے ، غلام نے قتل کیا ہو تو غلام ہی سے بدلہ لیاجائے گا لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی رعایت کا ذکر کردیا گیا جو انسانی تمدن کی استواری کے لئے ضروری ہے۔
فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ” ہاں اگر قاتل کے ساتھ اس کا بھائی (مقتول کا وارث) نرمی کے لئے تیار ہو ، تو معروف طریقے کے مطابق خون بہا کا تصفیہ ہونا چاہئے اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خون بہا ادا کرے ۔ “
نرمی اور معافی کی صورت یہ ہے کہ مجرم کو قصاص میں قتل کرنے کے عوض مقتول کے ورثا دیت قبول کرنے پر راضی ہوجائیں ۔ جب وہ دیت لینے پر راضی ہوں تو انہیں چاہئے کہ وہ باہمی رضامندی اور معروف اصولوں کے مطابق دیت کی رقم طے کرلیں ۔ اور قاتل اور اس کے اولیاء کا فرض ہے کہ وہ راستی اور حسن و خوبی کے ساتھ دیت ادا کریں ، تاکہ ان کے دلوں میں کدورت دور ہوجائے ۔ تلخی ختم ہوجائے اور مقتول کے خاندان کے جو لوگ زندہ رہ گئے ہیں ، ان کے پھر سے برادرانہ تعلقات قائم ہوسکیں ۔
اللہ تعالیٰ نے اس اہم ترین معاملے میں دیت کی گنجائش رکھ کر مسلمانوں پر تخفیف اور رحمت کی ہے ۔ اسی لئے انہیں توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ اسے اللہ کا ایک عظیم احسان سمجھیں ۔
ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ” یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے ۔ “ یہ گنجائش تورات کے قانون قصاص میں نہ تھی ۔ یہ امت مسلمہ کے ساتھ ایک رعایت ہے ۔ جو محض اس لئے کی گئی کہ اگر فریقین کے درمیان راضی نامہ ہوجائے اور دل ایک دوسرے کے لئے صاف ہوجائیں تو اس صورت میں نہ صرف رنجشیں مٹ جائیں بلکہ ایک شخص کی زندگی بھی بچ جائے۔ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ” اس کے بعد بھی اگر کوئی زیادتی کرے تو اس کے لئے دردناک سزا ہے۔ “
آخرت میں جو سزا ہوگی وہ تو ہوگی ، اس دنیا میں سزا یہ ہوگی کہ اگر قتل ثابت ہوجائے تو اس کا قتل لازمی ہوگا۔ اور اس سے دیت قبول نہ کی جائے گی ، کیونکہ باہمی رضامندی اور مصالحت کو بےکار بنانا ہے ۔ دلوں کی صفائی کے بعد دشمنی پیدا کرنا ہے ۔ اسی طرح اگر وارث نے دیت قبول کرلی ہے تو پھر اس کے لئے دوبارہ انتقام لینے کا کوئی جواز نہیں ہے ، ہ ناروا زیادتی ہے ۔
قصاص اور دیت کے نظام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کس قدر وسیع نقطہ نظرکاحامل ہے اور قانون سازی کے وقت نفس انسانی کے محرکات پر اس کی پوری نظر ہے۔
خدائے برتر نے انسان کی فطرت میں جو رجحانات ودیعت کئے ہیں ان کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ خون دیکھ کر خون فطرتاً کھول اٹھتا ہے ۔ اسلام نے اس کا تقاضا قانون قصاص کے ذریعہ پورا کردیا ۔ صحیح انصاف یہ ہے کہ دلوں کو ٹھنڈا کردے ۔ دلوں کے اندر انتقام کی جو گھٹن پائی جاتی ہے اسے دور کردے ۔ یہاں تک کہ مجرم کے خیالات بھی درست کردے ۔ ان سب تدابیر کے باوجود اسلام اس بات کو پسند کرتا ہے کہ غلطی معاف کردی جائے ۔ اس لئے وہ عفو و درگزر کی راہ ہموار کرتا ہے ۔
قانون قصاص کی فرضیت کے بعد عفو و درگزر کی دعوت دینے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی اس معافی سے یہ بلند مرتبہ حاصل کرنا چاہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے ۔ لیکن یہ عفو و درگزر فرض نہیں ہے ۔ یہ اس لئے کہ انسان کے فطری تقاضے دب نہ جائیں ۔ اور اس پر اس قدر بوجھ نہ ڈالا جائے کہ وہ اسے سہار نہ سکے ۔
بعض روایات میں یہ ذکر ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور اس کو سورت مائدہ کی اس آیت نے منسوخ کردیا ہے جو اس کے بعد نازل ہوئی ہے ۔ وَکَتَبنَا عَلَیہِم فِیھَا اَنَّ النَّفسَ بِالنّفسِ
علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں :” ان آیت کے شان نزول کے سلسلے میں ابن ابی حاتم کی روایت بیان کی جاتی ہے ۔ ابوزرعہ ، یحییٰ بند عبداللہ بکیر ، عبداللہ بن لہیعۃ ، عطاء ابن دنیار ، سعید بن جبیر کے واسطہ سے نقل کیا ہے ۔ اس آیت کے بارے میں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى یعنی اگر قتل عمد ہو ، تو اس میں آزاد کو آزاد ہی کے بدلے میں قتل کیا جائے گا ۔ اس کی شان نزول یہ ہے کہ اسلام سے کچھ پہلے ہی ، دور جاہلیت میں قبائل آپس میں لڑپڑے۔ بہت لوگ قتل ہوئے بیشمار زخمی ہوئے ۔ یہاں تک کہ غلام اور عورتیں بھی ماری گئیں ۔ ان لوگوں نے ایک دوسرے سے ابھی کچھ نہ لیا تھا کہ اسلامی نظام آگیا ۔ اور وہ مسلمان ہوگئے ۔ ایک قبیلہ دوسرے پر مال وتعداد میں بےانصافی کرنے لگا ۔ انہوں نے قسم اٹھالی کہ وہ اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک ہمارے غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔ “ لیکن یہ آیت منسوخ ہے اور اس آیت النفس بالنفس نے منسوخ کردیا ہے اس طرح ابومالک سے روایت ہے کہ اس آیت کو آیت النفس بالنفس نے منسوخ کردیا ہے۔ “
لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آیت کا مقام ومحل اور مائدہ کی آیات النفس بالنفس کا موقع ومحل ہی الگ ہے ۔ النفس بالنفس کا اطلاق انفرادی قتل پر ہے یعنی کوئی متعین شخص کسی متعین شخص یا اشخاص کو قتل کرے ۔ اگر قتل عمد ہو تو مجرم سزا یاب ہوگا ۔ لیکن زیر بحث آیت کا محل ہی الگ ہے ۔ اس میں اجتماعی قتل کی صورت کا حکم بیان کیا ہے۔ جہاں خاندان دوسرے خاندان پر ہاتھ اٹھائے ، قبیلہ قبیلے کے خلاف لڑے اور ایک گروہ دوسرے گروہ پر حملہ آور ہو ، جیسا کہ مذکورہ بالا قبائل کا معاملہ تھا ۔ جس سے آزاد ، غلام اور عورتیں ماری گئی تھیں۔ ایسے مواقع پر جب قصاص طے ہوگا تو آزاد کے بدلے آزاد ، ایک قبیلے کے غلام کے بدلے دوسرے قبیلے کا غلام اور ایک عورت کے بدلے دوسرے کی عورت قتل ہوگی۔ اگر یہ محل نہ ہوگا تو پھر بتایا جائے کہ جب کسی تنازعے میں دونوں طرف سے بڑے بڑے گروہ باہم برسرپیکار ہوں تو اس صورت میں قصاص کی کیا صورت ہوگی ؟
اگر اس نقطہ نظر کو تسلیم کرلیاجائے تو پھر یہ آیت منسوخ تصور نہ ہوگی اور قصاص کی آیات میں کوئی تعارض نہ ہوگا۔
اب قصاص کے قانون کی گہری حکمت اور اس کے دور رس مقاصد بتاکر بات ختم کی جاتی ہے وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الألْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
” عقل وخرد رکھنے والو ! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے ۔ “ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کروگے۔ “
ضرور انتقام ہی لیاجائے بلکہ یہ اس سے کہیں بلندو برتر مقاصد کا حامل ہے ۔ یہ زندگی کے لئے ، زندگی کے قیام کی راہ میں انسان کا قتل ہے ، بلکہ قیام قصاص بذات خود زندگی ہے ۔ یہ اس لئے ہے کہ اس فریضہ حقیقت کو سمجھا جائے ۔ اس کی حکمت میں غور و تدبر کیا جائے۔ دل زندہ ہوں اور ان میں خدا خوفی موجزن ہو۔
ایک مجرم جرم کی ابتدا کرتا ہے اسے سوچنا چاہئے کہ یہ بات معمولی نہیں بلکہ ایسی ہے کہ مجھے تو اس کے بدلے میں اپنی جان کی قیمت دینی پڑے گی ۔ یوں نظام قصاص سے دوزندگیاں بچ جاتی ہیں ۔
ارتکاب قتل کی صورت میں قاتل کو سزا ہوجاتی ہے ۔ وہ قصاص میں مارا جاتا ہے ۔ مقتول کے ورثاء مطمئن ہوجاتے ہیں ان کے دلوں سے کینہ دورہوجاتا ہے اور انتقام کے جذبات سرد پڑجاتے ہیں اور پھر وہ انتقام جو عرب قبائل میں تو کسی حدپر ، کسی مقام پر رکتا ہی نہ تھا۔ چالیس چالیس سال تک قتل کے بدلے میں قتل کا سلسلہ چلتارہتا تھا۔ مثلاً حرب البسوس میں یہی ہوا۔ عرب کیا آج بھی اس گواہ ہیں ، جہاں زندگی خاندانی دشمنیوں اور کینوں کی بھینٹ چڑھتی رہتی ہے اور نسلاً بعد نسل یہ معاملہ چلتا ہی رہتا ہے اور یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔
” قصاص میں زندگی ہے ۔ “ اپنے عمومی مفہوم میں ۔ ایک فرد کی زندگی پر حملہ دراصل جنس زندگی پر حملہ ہے ۔ پوری زندگی پر حملہ ہے ہر انسان پر حملہ ہے ۔ ہر اس انسان پر حملہ جو مقتول کی طرح زندہ ہے ۔ اگر قانون قصاص کی وجہ سے ایک مجرم ، صرف ایک زندگی کو ختم کرنے سے رک جائے تو اس نے پوری انسانیت کو بچالیا ۔ یوں اس ارتکاب جرم سے رک جانا عین حیات ہے اور یہ عام زندگی ، کسی ایک فرد کی زندگی نہیں ہے ، کسی خاندان کی نہیں ، کسی جماعت کی نہیں بلکہ مطلقاً زندگی ہے۔
اب آخر میں قانون الٰہی کی حکمت میں غور وفکر کے شعور کے موجزن کیا جاتا ہے اور خدا خوفی کی تلقین کی جاتی ہے ۔ (یہی وہ اہم فیکٹر اور موثر ذریعہ ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی قائم رہ سکتی ہے ) تَتّقُونَ ” امید ہے کہ تم قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کروگے۔ “
یہ ہے وہ اصل بندھن ، جو انسان کو ظلم و زیادتی سے باز رکھتا ہے ، ابتداء میں قتل ناحق کی زیادتی سے روکتا ہے ، اور آخر میں انتقام کی زیادتی سے ۔ یہ کیا ہے ؟ خدا خوفی ، تقویٰ ، دل میں خدا خوفی کا شعور اور شدید احساس ۔ اللہ کے قہر وغضب سے ڈرنے کا احساس اور اس کی رضاجوئی کی کشش۔
اس پابندی کے بغیر کوئی قانون کامیاب نہیں ہوسکتا ، کوئی شریعت کامیاب نہیں ہوتی ۔ کوئی شخص ارتکاب جرم سے باز نہیں رہتا ۔ انسانی طاقت سے اعلیٰ اور برتر طاقت کے تصور کے بغیر اخروی خوف اور طمع کے روحانی احساس کے بغیر کوئی ظاہری شیرازہ بندی اور قانونی انتقام کامیاب نہیں ہوسکتا۔
حضرت محمد ﷺ کے دور اور خلافت کے زمانہ میں جرائم کا وقوع شاذ ونادر ہی رہا ہے ۔ جو جرائم وقوع پذیر ہوئے بھی تو مجرم نے خود اعتراف کیا ۔ اس کا رازیہی ہے کہ وہاں تقویٰ کا زور تھا۔ لوگوں کے دل و دماغ میں ، ایک زندہ ضمیر کی صورت میں تقویٰ ، چوکیدار کی طرح بیٹھا ہوا تھا ۔ جو ہر وقت بیدار رہتا تھا ۔ وہ انہیں حدود جرم سے بھی دور رکھتا ۔ ساتھ ساتھ انسانی فطرت اور انسانی جذبات و میلانات وانصرام تھا۔ دوسری طرف اسلامی عبادات کے نتیجے میں تقویٰ اور خدا خوفی کا سیل رواں تھا۔ دونوں کے باہم تعاون اور ہم آہنگی کے نتیجے میں ہم آہنگ اور پاک وصاف قانون اور شریعت موجود تھی ۔ ایک طرف شریعت و قانون اور ظاہری انتقام میں ایک پاک صالح تصور زندگی اور نظام زندگی نے جنم لیا ، جس میں لوگوں کا طرز عمل پاک طرز فکر صالح تھی ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس نظم نے ملک سے پہلے ہر شخص کے دل میں ایک منصف بٹھادیا تھا اور ایک عدالت قائم کردی تھی ۔ حالت یہ تھی کہ اگر کسی وقت کسی پر حیوانیت غالب ہی آگئی اور غلطی کا صدور ہوگیا اور یہ شخص قانون کی گرفت سے بچ بھی گیا تو بھی اس کا ایمان اس کے لئے نفس لوامہ بن گیا۔ اس نے اپنے ضمیر میں خلش اور چبھن محسوس کی ۔ دل میں ہر وقت خوفاک خیالات کا ہجوم برپا ہوگیا۔ اور گناہ کرنے والے کو تب آرام نصیب ہوا کہ جب اس نے قانون کے سامنے رضاکارانہ اعتراف جرم کرلیا اور اپنے آپ کو سخت سزا کے لئے پیش کردیا اور خوشی اور اطمینان کے ساتھ اس سزا کو برداشت کیا ، محض اللہ کے غضب سے بچنے کی خاطر۔ یہ ہے تقویٰ ، یہ ہے خدا خوفی۔
اب موت کے وقت وصیت کے مسائل کا بیان ہوتا ہے ۔ آیات قصاص کی فضا اور ان آیات کی فضا (یعنی موت اور زندگی کا اختتام ) کے درمیان مناسبت بالکل ظاہر ہے۔
وصیت بھی فرائض میں سے ایک فرض ہے ۔ والدین اور اقرباء کے لئے بشرطیکہ مرنے والا اپنے پیچھے دولت چھوڑ رہا ہو۔ خیر سے مراد دولت ہے ۔ کتنی مقدار پر وصیت فرض ہے ؟ اس میں اختلاف رائے ہے ۔ راحج بات یہ ہے کہ مقدار کا رعین مختلف مواقع کے لئے ، عرف کے مطابق ، مختلف ہوسکتا ہے۔ بعض وفقہاء نے کہا کہ 60 درہم سے کم تر ہو تو سمجھا جائے کہ کوئی ترکہ نہیں ہے ۔ بعض لوگوں نے اس حد کو 80 دینار اور بعض نے 400 دنیار اور بعض نے 1000 تک بڑھادیا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مختلف ادوار میں ، اور مختلف خاندانوں کے لئے ظوف واحوال کے مطابق مقدار میں کمی بیشی ہوسکتی ہے۔
وصیت کی ان آیات کے بعد میراث کی آیات نازل ہوئیں جن میں ورثاء کے لئے حصص متعین ہوگئے ۔ اور وراثت کی ہر صورت میں والدین کو حق دار قرا ردیا گیا ، لہٰذا اب والدین کے لئے وصیت نہ ہوگی کیونکہ وارث بہرحال وصیت سے محروم ہیں ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :” اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق عطا کردیا ہے ، لہٰذا اب وارث کے لئے کوئی وصیت مؤثر نہ ہوگی۔ “ رہے اقرباء تو ان کے لئے یہ حکم اب بھی اپنے عموم پر باقی ہے ۔ لہٰذا اب جو شخص قانون میراث کے مطابق حصہ پالے ، وہ وصیت سے فائدہ نہ اٹھاسکے گا اور جو قانون میراث میں حق دار نہیں ہے آیت وصیت اس لئے موجود ہے (Operative) ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں ، بعض صحابہ اور تابعین میں سے بعض حضرات اس طرف گئے ہیں ۔ ہم بھی اسی کو ترجیح دیتے ہیں ۔
قانون میراث کی دفعات کی رو سے بعض اوقات قریبی رشتہ دار محروم ہوجاتے ہیں ۔ صلہ رحمی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کو بھی کچھ نہ کچھ ضروردیا جائے ، ایسے حالات میں وصیت کے ان احکام کی حکمت خود بخود سمجھ میں آجاتی ہے ۔ قانون وصیت درحقیقت قانون کے وراثت کے دائرے سے باہر خاندان کے باہمی تکافل اور معاشی ذمہ داریوں کا ایک رنگ ہے ۔ اس لئے حکم ہوا کہ حق وصیت کا استعمال معروف اصولوں کے مطابق ہونا چاہئے اور اس سلسلے میں خدا خوفی کے اصل الاصول کو پیش نظر ہونا چاہئے۔
بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ” معروف طریقے سے ، یہ متعین پر حق ہے۔ “
اس حق کے استعمال سے ورثا پر ظلم نہ ہو ، غیر وارث محروم رہیں ، اعتدال و انصاف کے ساتھ ، خدا خوفی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ، احسان اور نیکی کی خاطر اس حق کو استعمال کرنا چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث شریف میں اس حق پر پابندی لگائی گئی اور 1/3 حصہ حدمقرر کردی گئی اور افضل یہ ہے کہ اس حق کو 1/4 حصہ تک محدود رکھا جائے ۔ تاکہ اس غیر وارث کی وجہ سے اصل وارث کو زیادہ نقصان نہ ہو۔ اس معاملے کا فیصلہ ، بیک وقت قانون اور تقویٰ دونوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے اور یہی روح ہے اس اجتماعی نظام کی جسے قرآن مجید قائم کرنا چاہتا ہے۔
جو شخص بھی وصیت سنے اس کا فرض ہے کہ وہ بےکم وکاست فریقین تک پہنچادے ۔ اگر وہ اس میں تبدیلی کرے گا ، تو اسے سخت گناہ ہوگا اور اگر سننے والے اپنی طرف سے تبدیلی کریں گے تو متوفیٰ بری الذمہ ہوگا۔ فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَمَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ” پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اسے بدل ڈالا ، تو اس کا گناہ ان بدلنے والوں پر ہوگا۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ “
اس شخص نے جو سنا اور جس کا اسے علم ہے اس خود اللہ گواہ ہے ۔ وصیت کنندہ کے لئے بھی اللہ گواہ ہے ۔ لہٰذا میت پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا اور چونکہ تبدیل کنندہ کے خلاف بھی اللہ گواہ ہے ، لہٰذا ناجائز تغیر وتبدل پر اس سے مواخذہ ہوگا۔