اس صفحہ میں سورہ Al-Baqara کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ البقرة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَٱقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَٱلْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ ٱلْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَٰتِلُوهُمْ عِندَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَٰتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَٰتَلُوكُمْ فَٱقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْكَٰفِرِينَ
فَإِنِ ٱنتَهَوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
وَقَٰتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ ٱنتَهَوْا۟ فَلَا عُدْوَٰنَ إِلَّا عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ
ٱلشَّهْرُ ٱلْحَرَامُ بِٱلشَّهْرِ ٱلْحَرَامِ وَٱلْحُرُمَٰتُ قِصَاصٌ ۚ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَٱعْتَدُوا۟ عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا ٱعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ
وَأَنفِقُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا تُلْقُوا۟ بِأَيْدِيكُمْ إِلَى ٱلتَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوٓا۟ ۛ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ
وَأَتِمُّوا۟ ٱلْحَجَّ وَٱلْعُمْرَةَ لِلَّهِ ۚ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْىِ ۖ وَلَا تَحْلِقُوا۟ رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ ٱلْهَدْىُ مَحِلَّهُۥ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِۦٓ أَذًى مِّن رَّأْسِهِۦ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ۚ فَإِذَآ أَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلْعُمْرَةِ إِلَى ٱلْحَجِّ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْىِ ۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٍ فِى ٱلْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ۗ ذَٰلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُۥ حَاضِرِى ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ
آیت 191 وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ وَاَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ مہاجرین مکہ مکرمہ سے نکالے گئے تھے ‘ وہاں پرٌ محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھی اہل ایمان پر قافیہ حیات تنگ کردیا گیا تھا۔ تبھی تو آپ ﷺ نے ہجرت کی۔ اب حکم دیا جا رہا ہے کہ نکالو انہیں وہاں سے جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے۔ وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ج ۔ کفار و مشرکین سے قتال کے ضمن میں کہیں یہ خیال نہ آئے کہ قتل اور خونریزی بری بات ہے۔ یاد رکھو کہ فتنہ اس سے بھی زیادہ بری بات ہے۔ فتنہ کیا ہے ؟ ایسے حالات جن میں انسان خدائے واحد کی بندگی نہ کرسکے ‘ اسے غلط کاموں پر مجبور کیا جائے ‘ وہ حرام خوری پر مجبور ہوگیا ہو ‘ یہ سارے حالات فتنہ ہیں۔ تو واضح رہے کہ قتل اور خونریزی اتنی بری شے نہیں ہے جتنی فتنہ ہے۔ وَلاَ تُقٰتِلُوْہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِ ج فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْہُمْ ط پھر اگر وہ تم سے جنگ کریں تو ان کو قتل کرو۔
آیت 193 وَقٰتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ ط فَاِنِ انْتَہَوْا فَلاَ عُدْوَان الاَّ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ دعوت محمدی ﷺ کے ضمن میں اب یہ جنگ کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ مسلمانو جان لو ‘ ایک دوروہ تھا کہ بارہ تیرہ برس تک تمہیں حکم تھا کُفُّوْا اَیْدِیَکُمْ اپنے ہاتھ باندھے رکھو ! ماریں کھاؤ لیکن ہاتھ مت اٹھانا۔ اب تمہاری دعوت اور تحریک نئے دور میں داخل ہوگئی ہے۔ اب جب تمہاری تلواریں نیام سے باہر آگئی ہیں تو یہ نیام میں نہ جائیں جب تک کہ فتنہ بالکل ختم نہ ہوجائے اور دین اللہ ہی کے لیے ہوجائے ‘ اللہ کا دین قائم ہوجائے ‘ پوری زندگی میں اس کے احکام کی تنفیذ ہو رہی ہو۔ یہ آیت دوبارہ سورة الانفال میں زیادہ نکھری ہوئی شان کے ساتھ آئی ہے : وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لاَ تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ج آیت 39 اور جنگ کرو ان سے یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین کل کا کُل اللہ کے لیے ہوجائے۔ دین کی بالادستی جزوی طور پر نہیں بلکہ کلی طور پر پوری انسانی زندگی پر قائم ہوجائے ‘ انفرادی زندگی پر بھی اور اجتماعی زندگی پر بھی۔ اور اجتماعی زندگی کے بھی سارے پہلو ‘ Politico- Socio- Economic System کلیُ طور پر اللہ کے احکام کے تابع ہوں۔
آیت 194 اَلشَّہْرُ الْحَرَام بالشَّہْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ ط یعنی اگر انہوں نے اشہر حرم کی بےحرمتی کی ہے تو اس کے بدلے میں یہ نہیں ہوگا کہ ہم تو ہاتھ پر ہاتھ باندھ کر کھڑے رہیں کہ یہ تو اشہر حرم ہیں۔ حدود حرم اور اشہر حرم کی حرمت اہل عرب کے ہاں مسلّم تھی۔ ان کے ہاں یہ طے تھا کہ ان چار مہینوں میں کوئی خونریزی ‘ کوئی جنگ نہیں ہوگی ‘ یہاں تک کہ کوئی اپنے باپ کے قاتل کو پالے تو وہ اس کو بھی قتل نہیں کرے گا۔ یہاں وضاحت کی جا رہی ہے کہ اشہرحرم اور حدود حرم میں جنگ واقعتا بہت بڑا گناہ ہے ‘ لیکن اگر کفار کی طرف سے ان کی حرمت کا لحاظ نہ رکھا جائے اور وہ اقدام کریں تو اب یہ نہیں ہوگا کہ ہاتھ پاؤں باندھ کر اپنے آپ کو پیش کردیا جائے ‘ بلکہ جوابی کارروائی کرنا ہوگی۔ اس جوابی اقدام میں اگر حدود حرم یا اشہر حرم کی بےحرمتی کرنی پڑے تو اس کا وبال بھی ان پر آئے گا جنہوں نے اس معاملے میں پہل کی۔فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ یعنی اللہ کی تائید و نصرت اور اس کی مدد اہل تقویٰ کے لیے آئے گی۔ اب آگے انفاق کا حکم آ رہا ہے جو مضامین کی چار لڑیوں میں سے تیسری لڑی ہے۔ قتال کے لیے انفاق مال لازم ہے۔ اگر فوج کے لیے ساز و سامان نہ ہو ‘ رسد کا اہتمام نہ ہو ‘ ہتھیار نہ ہوں ‘ سواریاں نہ ہوں تو جنگ کیسے ہوگی ؟
آیت 195 وَاَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلاَ تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ ج۔ یعنی جس وقت اللہ کے دین کو روپے پیسے کی ضرورت ہو اس وقت جو لوگ اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے جی چراتے ہیں وہ اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔ جیسے رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ تبوک کے موقع پر عام اپیل کی اور اس وقت جو لوگ اپنے مال کو سمیٹ کر بیٹھے رہے تو گویا انہوں نے اپنے آپ کو خود ہلاکت میں ڈال دیا۔ وَاَحْسِنُوْا ج۔ اپنے دین کے اندر خوبصورتی پیدا کرو۔ دین میں بہتر سے بہتر مقام حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ دنیا میں آگے سے آگے اور دین میں پیچھے سے پیچھے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دین میں یہ دیکھیں گے کہ کم سے کم پر گزارا ہوجائے ‘ جبکہ دنیا کے معاملے میں آگے سے آگے نکلنے کی کوشش ہوگی ع ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں ! یہ جستجو جو دنیا میں ہے اس سے کہیں بڑھ کر دین میں ہونی چاہیے ‘ ازروئے الفاظ قرآنی : فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرو۔ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ حدیث جبرائیل علیہ السلام جسے اُمّ السُّنّۃ کہا جاتا ہے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ ﷺ سے تین سوال کیے تھے : 1 اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِسْلَام مجھے اسلام کے بارے میں بتایئے کہ اسلام کیا ہے ؟ 2 اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِیْمَان مجھے ایمان کے بارے میں بتایئے کہ ایمان کیا ہے ؟ 3 ‘ اَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَان مجھے احسان کے بارے میں بتایئے کہ احسان کیا ہے ؟ احسان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ ‘ فَاِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ 23 احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت ایسے کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے ‘ پھر اگر تو اسے نہ دیکھ سکے یعنی یہ کیفیت حاصل نہ ہو سکے تو کم از کم یہ خیال رہے کہ وہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ دین کے سارے کام ‘ عبادات ‘ انفاق اور جہاد و قتال ایسی کیفیت میں اور ایسے اخلاص کے ساتھ ہوں گویا تم اپنی آنکھوں سے اللہ کو دیکھ رہے ہو ‘ اور اگر یہ مقام اور کیفیت حاصل نہ ہو تو کم سے کم یہ کیفیت تو ہوجائے کہ تمہیں مستحضر رہے کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ یہ احسان ہے۔ عام طور پر اس کا ترجمہ اس انداز میں نہیں کیا گیا۔ اس کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ ویسے یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ سورة المائدۃ میں آئے گا۔
آیت 196 وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ ط۔ عمرہ کے لیے احرام تو مدینہ منورہ سے سات میل باہر نکل کر ہی باندھ لیا جائے گا ‘ لیکن حج مکمل تب ہوگا جب طواف بھی ہوگا ‘ وقوف عرفہ بھی ہوگا اور اس کے سارے مناسک ادا کیے جائیں گے۔ لہٰذا جو شخص بھی حج یا عمرہ کی نیت کرلے تو پھر اسے تمام مناسک کو مکمل کرنا چاہیے ‘ کوئی کمی نہ رہے۔فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ یعنی روک دیا جائے ‘ جیسا کہ 6 ہجری میں ہوا کہ مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کرنی پڑی اور عمرہ ادا کیے بغیر واپس جانا پڑا۔ مشرکین مکہ اڑ گئے تھے کہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ ج۔ یہ دم احصار کہلاتا ہے کہ چونکہ اب ہم آگے نہیں جاسکتے ‘ ہمیں یہیں احرام کھولنا پڑ رہا ہے تو ہم اللہ کے نام پر یہ جانور دے رہے ہیں۔ یہ ایک طرح سے اس کا کفارہ ہے۔ّوَلاَ تَحْلِقُوْا رُءُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہٗ ط۔ یعنی جہاں جا کر قربانی کا جانور ذبح ہونا ہے وہاں پہنچ نہ جائے۔ اگر آپ کو حج یا عمرہ سے روک دیا گیا اور آپ نے قربانی کے جانور آگے بھیج دیے تو آپ کو روکنے والے ان جانوروں کو نہیں روکیں گے ‘ اس لیے کہ ان کا گوشت تو انہیں کھانے کو ملے گا۔ اب اندازہ کرلیا جائے کہ اتنا وقت گزر گیا ہے کہ قربانی کا جانور اپنے مقام پر پہنچ گیا ہوگا۔فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ یعنی سر میں کوئی زخم وغیرہ ہو اور اس کی وجہ سے بال کٹوانے ضروری ہوجائیں۔فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ ج۔ اگر اس ہدی کے جانور کے کعبہ پہنچنے سے پہلے پہلے تمہیں اپنے بال کاٹنے پڑیں تو فدیہ ادا کرنا ہوگا۔ یعنی ایک کمی جو رہ گئی ہے اس کی تلافی کے لیے کفارہّ ادا کرنا ہوگا۔ اس کفارے ّ کی تین صورتیں بیان ہوئی ہیں : روزے ‘ یا صدقہ یا قربانی۔ اس کی وضاحت احادیث نبویہ ﷺ سے ہوتی ہے کہ یا تو تین دن کے روزے رکھے جائیں ‘ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا کم از کم ایک بکری کی قربانی دی جائے۔ اس قربانی کو دم جنایت کہتے ہیں۔فَاِذَآ اَمِنْتُمْ قف فَمَنْ تَمَتَّعَ بالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِج رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل عرب کے ہاں ایک سفر میں حج اور عمرہ دونوں کرنا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک یہ کعبہ کی توہین تھی۔ ان کے ہاں حج کے لیے تین مہینے شوال ‘ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ تھے ‘ جبکہ رجب کا مہینہ عمرے کے لیے مخصوص تھا۔ وہ عمرے کے لیے علیحدہ سفر کرتے اور حج کے لیے علیحدہ۔ یہ بات حدود حرم میں رہنے والوں کے لیے تو آسان تھی ‘ لیکن اس امت کو تو پوری دنیا میں پھیلنا تھا اور دور دراز سے سفر کر کے آنے والوں کے لیے اس میں مشقت تھی۔ لہٰذا شریعت محمدی ﷺ میں لوگوں کے لیے جہاں اور آسانیاں پیدا کی گئیں وہاں حج وعمرہ کے ضمن میں یہ آسانی بھی پیدا کی گئی کہ ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں کو جمع کرلیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ پہلے عمرہ کر کے احرام کھول دیا جائے اور پھر آٹھویں ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھ لیا جائے۔ یہ حج تمتع کہلاتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ حج کے لیے احرام باندھا تھا ‘ جاتے ہی عمرہ بھی کرلیا ‘ لیکن احرام کھولا نہیں اور اسی احرام میں حج بھی کرلیا۔ یہ حج قرآن کہلاتا ہے۔ لیکن اگر شروع ہی سے صرف حج کا احرام باندھا جائے اور عمرہ نہ کیا جائے تو یہ حج افراد کہلاتا ہے۔ قرآن یا تمتع کرنے والے پر قربانی ضروری ہے۔ امام ابوحنیفہ رض اسے دم شکر کہتے ہیں اور قربانی کرنے والے کو اس میں سے کھانے کی اجازت دیتے ہیں۔ امام شافعی رح کے نزدیک یہ دم جبر ہے اور قربانی کرنے والے کو اس میں سے کھانے کی اجازت نہیں ہے۔فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْْحَجِّ یعنی عین ایام حج میں ساتویں ‘ آٹھویں اور نویں ذوالحجہ کو روزہ رکھے۔ دسویں کا روزہ نہیں ہوسکتا ‘ وہ عید کا دن یوم النحر ہے۔وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ ط اپنے گھروں میں جا کر سات روزے رکھو۔تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ط ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط یعنی ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کو جمع کرنے کی رعایت ‘ خواہ تمتعّ کی صورت میں ہو یا قران کی صورت میں ‘ صرف آفاقی کے لیے ہے ‘ جس کے اہل و عیال جوار حرم میں نہ رہتے ہوں ‘ یعنی جو حدودحرم کے باہر سے حج کرنے آیا ہو۔