اس صفحہ میں سورہ Al-Baqara کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ البقرة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَٰجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِىٓ أَنفُسِهِنَّ بِٱلْمَعْرُوفِ ۗ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُم بِهِۦ مِنْ خِطْبَةِ ٱلنِّسَآءِ أَوْ أَكْنَنتُمْ فِىٓ أَنفُسِكُمْ ۚ عَلِمَ ٱللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَٰكِن لَّا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلَّآ أَن تَقُولُوا۟ قَوْلًا مَّعْرُوفًا ۚ وَلَا تَعْزِمُوا۟ عُقْدَةَ ٱلنِّكَاحِ حَتَّىٰ يَبْلُغَ ٱلْكِتَٰبُ أَجَلَهُۥ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ فَٱحْذَرُوهُ ۚ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ
لَّا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن طَلَّقْتُمُ ٱلنِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا۟ لَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى ٱلْمُوسِعِ قَدَرُهُۥ وَعَلَى ٱلْمُقْتِرِ قَدَرُهُۥ مَتَٰعًۢا بِٱلْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى ٱلْمُحْسِنِينَ
وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّآ أَن يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَا۟ ٱلَّذِى بِيَدِهِۦ عُقْدَةُ ٱلنِّكَاحِ ۚ وَأَن تَعْفُوٓا۟ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۚ وَلَا تَنسَوُا۟ ٱلْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
دور جاہلیت میں ، جس عورت کا خاوند فوت ہوجاتا ، وہ بیچاری سخت مصیبت میں مبتلا ہوجاتی ۔ اہل خاندان ، مرد کے اہل خاندان اور پورا معاشرہ اس پر ظلم کرتا ۔ عربوں میں رواج یہ تھا کہ جب اس کا خاوند فوت ہوجاتا تو وہ ایک خستہ حال مکان میں چلی جاتی ، سب سے بےکار کپڑے پہن لیتی ۔ وہ ایک سال تک خوشبو نہ لگاسکتی اور نہ ہی زیب وزینت کا کوئی کام کرسکتی ۔ اس کے بعد یہ زمانہ جاہلیت چند جاہلانہ رسومات کی ادائیگی پر ختم ہوجاتا ، جو سب کی سب توہین آمیز اور گری ہوئی تھیں ۔ جیسا کہ جاہلیت کی دوسری رسومات ہوا کرتی تھیں ۔ مثلاً وہ اونٹ کی مینگنی لیتی اور اسے پھینکتی ۔ کسی سواری مثلاً گدھے یا بکری پر سوار ہوتی وغیرہ وغیرہ لیکن جب اسلام آیاتو اس نے اس بیچاری کو ان تمام مصیبتوں سے چھڑایا۔ اس کے کندھوں سے یہ تمام بوجھ اتاردیئے ۔ اس کے بعد وہ بیک وقت دومصیبتوں میں گرفتار نہ ہوتی ، ایک تو خاوند فوت ہوجائے اور دوسرے اہل خاندان اس کے ساتھ برا سلوک کریں۔ اس پر شریفانہ زندگی کے تمام دروازے بند کردیں اور مطمئن ہوکر عائلی زندگی گزارنے کے لئے آزاد نہ ہونے دیں ۔ اسلام نے اس کی عدت چار ماہ اور دس دن مقرر کئے بشرطیکہ حاملہ نہ ہو ، ورنہ اس کی عدت وضع حمل ہوگی ، یہ عدت مطلقہ کی عدت سے قدرے طویل ہے ۔ اس میں ایک طرف تو اس کا رحم صاف ہوگا ۔ یہ شبہ نہ رہے گا کہ سابق خاوند کے کچھ آثار اس میں ہیں ۔ اور چار ماہ دس دن کے انتظار میں یہ فائدہ بھی ہوگا کہ خاوند کے اہل خاندان کے جذبات بھی مجروح نہ ہوں گے ، کیونکہ ادہر خاوند فوت ہوا ، ادہر عورت دوسرے خاوند کی تلاش میں نکل پڑے تو خاوند کے اہل خاندان لازماً اسے محسوس کریں گے ۔ اس عدت کے دوران میں اچھے کپڑے زیب تن کرنے کی اجازت ہوگی ، البتہ وہ ایسے کپڑے نہ پہنے گی جن کی وجہ سے لوگ اسے نکاح ثانی کا پیغام دیں۔ اور جب عدت ختم ہوجائے تو اب وہ مکمل آزاد ہے ، اس پر کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے ، نہ اس کے اپنے خاندان کی طرف سے اور نہ ہی اس کے خاوند کے خاندان کی طرف سے۔ وہ معروف طریقے سے اپنے لئے جو شریفانہ رویہ اختیار کرنا چاہے ، قرآن وسنت کے مطابق وہ آزادانہ طور پر اپنے لئے اختیار کرسکتی ہے۔ مسلمان عورتوں کے لئے وہ زیب وزینت جائز ہے وہ اسے اختیار کرسکتی ہے وہ پیغام نکاح حصول کرسکتی ہے۔ وہ جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے ۔ اب اس کی راہ میں کوئی جاہلی رسم رکاوٹ نہیں ہے ۔ اور نہ کوئی کھوٹا تکبر و غرور اسے روک سکتا ہے۔ اب اس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی رقیب ونگراں نہیں ہے وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ” جو تم کام کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔ “
یہ تو تھی عورت ۔ اب اللہ تعالیٰ مردوں کو بھی ہدایات دیتے ہیں جو اس عورت کو نکاح میں لانا چاہتے ہیں ، لیکن وہ عدت گزاررہی ہے ۔ ان کو ایسی ہدایت دی جاتی ہے کہ جس میں ذاتی آداب ، اجتماعی آداب ، فریقین کے جذبات ومیلانات اور ایسے مرحلے کے مصالح اور تقاضوں سب کو ملحوظ رکھا گیا ہے :
وَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ ” زمانہ عدت میں خواہ تم ان بیوہ عورتوں کے ساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کردو ، خواہ وہ دل میں چھپائے رکھو ، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں۔ “
دوران عدت عورت کے ساتھ ، میت کے خاندان کی کچھ ایسی یادیں وابستہ ہوتی ہیں ، جو ابھی تک زندہ ہوتی ہیں ۔ پھر ابھی تک اس بات کا امکان بھی ہوتا ہے کہ اس کے رحم میں حمل کے آثار نمایاں ہوجائیں یا حمل واضح ہے اور عدت وضع حمل تک متعلق ہے۔ یہ تمام حالات ایسے ہیں ، جن میں کوئی شریف عورت مناسب نہیں سمجھتی کہ بصراحت جدید ازدواجی زندگی کے سلسلے میں کوئی بات کرسکے ، کیونکہ ایسے حالات میں ایسی باتوں کا ہونا مناسب نہیں ہوتا ۔ اس طرح عورت کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور ابھی یادیں تازہ تازہ ہوئی ہیں۔
ان آداب کا لحاظ کرتے ہوئے ، اشارے ، کنایے میں بات کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے ، لیکن بصراحت کوئی معاملہ طے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اشارہ ایسا ہو کہ اس سے عورت یہ سمجھ جائے کہ یہ مرد اسے بحیثیت رفیقہ حیات لینے میں دلچسپی رکھتا ہے ، لیکن کنایات میں ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس اشارے کنایے کی یہ مثال بیان کی ہے ۔ مجھے ایک رفیقہ حیات کی ضرورت ہے ۔ مجھے عورتوں سے دلچسپی ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی صالح رفیقہ حیات مل جائے۔
اسی طرح قرآن کریم نے دلی رغبت اور خواہش کی بھی کوئی ممانعت نہیں کی ہے۔ بشرطیکہ اس کی کوئی صراحت نہ کی گئی ہو اور نہ ہی اشارہ کنایہ سے ظاہر کی گئی ہو۔ اس لئے کہ دلی خواہش پر انسان کوئی ضبط نہیں کرسکتا۔ دل پر کوئی کنٹرول کس طرح کرسکتا ہے :
عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ ” اللہ جانتا ہے کہ ان کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گا ہی۔ “
یہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے جائز قرار دیا ہے کہ یہ فطری میلان ہے ۔ اور بذات خود نکاح جائز ہے ۔ اس میں کسی قسم کی ممانعت نہیں ہے ۔ یہاں بعض خارجی اسباب کی بناپر اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ بصراحت شادی کا پیغام دوران عدت میں نہ دیا جائے ۔ کوئی عملی قدم نہ اٹھایا جائے ۔ اسلام فطری میلانات کا قلع قمع کرنا نہیں چاہتا ۔ بلکہ وہ انہیں تہذیب کے دائرے میں لاتا ہے اور ان کی اصلاح کرتا ہے ۔ وہ انسان کے طبیعی جذبات کو دباتا نہیں بلکہ ان کی ضابطہ بندی کرتا ہے۔ اس معاملے میں وہ صرف ایسی پابندیاں عائد کرتا ہے جو شعور کی پاکیزگی کے خلاف ہوں اور جو ضمیر کی طہارت کے منافی ہوں : وَلَكِنْ لا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا ” مگر ان کے ساتھ خفیہ عہد وپیان نہ کرو۔ “ اس پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا کہ تم منگنی کی طرف اشاروں کنایوں میں عورت کی توجہ مبذول کردو۔ یا تم دل ہی دل میں نکاح کی خواہش رکھو ۔ ممنوع یہ ہے کہ تم خفیہ طور پر عدت گزارنے سے پہلے ہی نکاح کا کوئی معاہدہ کرلو۔ یہ فعل آداب نفسیات کے خلاف ہے ، سابقہ خاوند کی یادوں کو مجروح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کے دو ادوار کے درمیان عرصہ عدت کو حد فاصل رکھا ہے ، ہمیں ایسا کرنے سے حیاء آنا چاہئے اور ایسا کرنے سے انقضائے عدت تک باز رہنا چاہئے إِلا أَنْ تَقُولُوا قَوْلا مَعْرُوفًا ” اگر کوئی بات کرنی ہے تو معروف طریقے سے کرو۔ “
جس میں کوئی ناپسندیدہ بات نہ ہو ، کوئی فحش بات نہ ہو اور کوئی ایسی بات نہ ہو ، جس کے ذریعے اللہ کے وہ حدود ٹوٹتے ہوں ، جو اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں ولا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ ” اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت پوری نہ ہوجائے ۔ “ یہاں قرآن مجید کے الفاظ قابل غور ہیں ۔ یہ نہیں کہا :” تم نکاح نہ کرو “ یا ” عقد نکاح نہ باندھو “ بلکہ یہ کہا ہے :” عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ نہ کرو۔ “” مقصد یہ ہے کہ دوران عدت عقد نکاح باندھنے سے سخت گریز کرو۔ یہاں تک کہ اس کا فیصلہ بھی نہ کرو۔ “ کیونکہ فیصلہ عقد کے نتیجے ہی میں عقد وجود میں آتا ہے ، جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ۔
قرآن مجید کی اس قسم کی لطیف طرز ادا کی طرف ہم اوپر آیت تِلکَ حُدُودُاللّٰہِ فَلَا تَقرَبُوھَا ” یہ اللہ کی حدیں ہیں ، ان کے قریب ہی نہ جاؤ۔ “ میں بیان کر آئے ہیں ۔ یعنی قرآن مجید محض ایک لفظ کے انتخاب کے ذریعہ ایک ایسے مفہوم کی طرف اشارہ کردیت ہے جو نہایت ہی لطیف ودقیق ہوتا ہے وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ ” خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ لہٰذا اس سے ڈرو۔ “ یہاں آکر قرآن مجید اپنے منہاج کے عین مطابق قانون سازی اور اللہ خوفی کو باہم مربوط کردیتا ہے ، بتاتا ہے کہ اللہ جو قانون بنارہا ہے وہ تمہارے دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے ۔ مرد وزن کے باہمی تعلقات کا گہرے میلانات اور خفیہ جذبات سے گہرا تعلق ہے ۔ اس تعلق میں دل کو دل سے ربط ہوتا ہے ، ایک دوسر کی محبت دلوں کی تہوں تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے ۔ اس لئے یہاں انہیں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اللہ تو تمہارے ہر راز سے واقف ہے ۔ تمہارے دلی بھیدوں کا جاننے والا ہے ۔ خبرداررہو ! اس سے ڈرو ! اور اللہ کے حدود اور اللہ کے قانون کے سلسلے میں تمہاری حیلہ سازی یا کوئی بات خفیہ اور راز ، اس کے مقابلے میں نہ رہ سکے گی ۔ خبردار !
اب تک انسانی ضمیر کو خوف دلا کر متنبہ کرکے جھنجھوڑ دیا گیا ، وہ جاگ اٹھا اور اس کے اندر احتیاط اور اللہ خوفی پیدا کردی گئی ۔ تو خدائے رحیم شفیق وکریم دیر کئے بغیر خود اسے تسلی بھی دے دیتے ہیں ، اطمینان قلب کا سامان بھی فراہم کردیا جاتا ہے ۔ یقین دلایا جاتا ہے کہ وہ تو غفور ورحیم ہے ۔ وہ نہایت بردبار ہے اور سزا دہی میں جلدی نہیں کرتا ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ” اور جان لو کہ اللہ بردبار ہے ، چھوٹی چھوٹی باتوں سے درگزر فرماتا ہے۔ “ وہ تو بخشنے والا ہے اور اس دل کی خطا معاف کردیتا ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ کا شعور ہو ، جو اپنی پوشیدہ اور نہفتہ بھیدوں کے بارے میں محتاط ہو ۔ وہ حلیم اور بردبار ہے ۔ سزا دہی میں جلدی نہیں کرتا ، اس انتظار میں کہ بیچارہ بندہ عاجز بندہ ، شاید باز آجائے اور توبہ تائب ہوجائے۔
سلسلہ عائلی احکام جاری ہے ، اب اس عورت کے احکام آتے ہیں جس کو رخصتی سے پہلے طلاق دے دی جائے ۔ یہ صورت ان سے مختلف ہے ، جن میں مطلقہ عورتوں کے ساتھ شب باشی ہوچکی ہو ، جن کا بیان پوری طرح ہوچکا ہے ۔ یہ ایسی صورت ہے جو اکثر بیشتر آتی رہتی ہے ، اس صورت میں حقوق الزوجین یہ ہیں :
اس میں دوحالتیں ہیں ۔ پہلی حالت یہ ہے مطلقہ کو اپنی وسعت کے مطابق کچھ سازوسامان دے ۔ اس سے تو ایک تو عورت کی دلجوئی ہوگی اور نفسیاتی طور پر دونوں خاندانوں کے درمیان خوشگواری پیدا ہوگی اور دوسرے یہ کہ اسے کچھ نہ کچھ مالی فائدہ ہوگا۔ اس طرح کی جدائی سے عورت اپنے لئے کرب اور درد محسوس کرتی ہے ۔ یہ اس کے لئے عمر بھر کا طعنہ اور دشمنی بن جاتی ہے ۔ ایسے حالات میں اگر اسے بطور تحفہ کچھ دے دے تو اس سے نفسیاتی طور پر اس عورت کے برے احساسات میں کمی آسکتی ہے اور دونوں خاندانوں کے درمیان کشمکش ، کشیدہ تعلقات کے بادل چھٹ سکتے ہیں اور یہ تحفہ اس قسم کا اظہار محبت ہوسکتا ہے اور ساتھ ہی اعتراف جرم اور معذرت بھی ۔ اس سے خود مرد کی جانب سے بھی اس بات کا اظہار ہوگا کہ وہ خود بھی اس طلاق اور جدائی پر متاسف ہے ، معذرت خواہ ہے ۔ یہ کہ یہ باہمی تعلقات کی یہ ایک ناکام کوشش تھی لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے باہمی حسن سلوک کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا جائے ۔ اس لئے یہاں وصیت کی گئی کہ اس صورت میں عورت کو کچھ نہ کچھ ضرور دیا جائے معروف طریقے کے مطابق تاکہ فریقین کے درمیان انسانی بنیادوں پر انس و محبت قائم رہ سکے اور ٹوٹے ہوئے تعلقات کی اچھی یادیں باقی رہیں ۔ لیکن قرآن مجید ساتھ ساتھ یہ ہدایات بھی کردیتا ہے کہ خاوند پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے ۔ غنی اپنی مقدرت کے مطابق اور نادار آدمی اپنی وسعت کے مطابق دے عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ ” خوشحال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق۔ “
اشارہ کیا جاتا ہے کہ یہ تحفہ معروف طریقے کے مطابق احسان سے ہوتا ہے کہ خشک دلوں میں تازگی پیدا ہوجائے اور باہمی تعلقات کی فضا پر جو گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں وہ چھٹ جائیں ۔ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ ” یہ تحفہ ہے معروف طریقے کے مطابق اور یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔ “
دوسری صورت یہ ہے کہ مباشرت سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے ، لیکن نکاح کے ساتھ مہر بھی مقرر کردیا گیا ہو ۔ اس صورت میں مہر کا نصف حصہ واجب ہوگا ۔ یہ تو ہے قانون ، لیکن قرآن مجید قانون کے بجائے معاملہ مہربانی حسن سلوک اور سہولت پر چھوڑ دیتا ہے ۔ عورت اور اگر وہ بالغ ہے تو اس کے ولی نکاح کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ معاف کرے اور اپنے قانونی حق سے دستبردار ہوجائے ۔ ایسے کشیدہ حالات میں جو فریق اپنے حق سے دستبردار ہوجاتا ہے ، دراصل بہت ہی شریف النفس ، خوش اخلاق ، بردبار اور معاف کرنے والا ہوتا ہے ۔ وہ کسی ایسے شخص کے مال کو بھی اسی کے پاس رہنے دیتا ہے ، جس کے ساتھ اب دوسرے تعلقات باقی نہیں رہے ۔ لیکن قرآن مجید آخر تک اس کوشش میں ہے کہ ان کے درمیان کدورتیں صاف ہوجائیں ۔ ان میں کوئی کدورت نہ رہے اور دل ہلکے ہوجائیں وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ” اور اگر تم نرمی سے کام لو تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسب ہے ۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو ، تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے۔ “
سب سے آخر میں تقویٰ کے احساس کو تیز کیا جاتا ہے ۔ باہمی حسن سلوک اور احسان کے رویہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ اور کہا جاتا ہے کہ اپنے دلوں میں یہ شعور پیدا کرو کہ اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے اور نگران ہے تاکہ تمہارے باہمی تعلقات میں حسن سلوک ، نرمی اور احسان کی فضا غالب رہے ، چاہے تعلقات رشتہ داری کامیاب ہوں یا ناکام ہوچکے ہوں ۔ دلوں کو صاف اور خالی رہنا چاہئے اور ہر حال میں تعلق باللہ قائم اور پختہ رہنا چاہئے ۔
مندرجہ بالا تمام احکام میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ دلوں کا رابطہ اور تعلق باللہ مضبوط ہوجائے اور یہ سعی کی گئی ہے کہ باہمی معاشرت میں نیکی اور احسان کو عبادت سمجھا جائے ، ایسی فضا کے عین بیچ میں نماز کا ذکر کردیا جاتا ہے جو اسلام کی سب سے بڑی اور اہم عبادت ہے ۔ حالانکہ ابھی تک عائلی احکام کا بیان جاری تھا اور وہ ختم نہ ہوئے تھے ۔ ابھی ایک حکم یہ باقی تھا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے ۔ اس کے حق میں یہ وصیت کی جائے کہ اسے ایک سال تک گھر سے نہ نکالاجائے اور نان ونفقہ دیا جائے ۔ دوسرا یہ کہ مطلقہ عورتوں کو بالعموم کچھ نہ کچھ سامان بطور تحفہ دے دیاجائے ۔ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جس طرح نماز ایک عبادت ہے اس طرح ان احکام پر عمل کرنا عبادت ہے ۔ یہ دونوں امور اللہ کی بندگی میں آتے ہیں ۔ یہ ایک بہت ہی لطیف اشارہ ہے اور یہ اشارہ انسان کی تخلیق کے بارے میں ہے ، اسلامی نقطہ نظر کے عین مطابق ہے ۔ اللہ انسان کے بارے میں فرماتے ہیں وَمَاخَلَقتُ الجِنَّ وَالاِنسَ اِلَّا لِیَعبُدُونِ ” میں نے جن وانس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں ۔ “ (عبادت اور بندگی صرف ان چیزوں میں نہیں ہے جو شعائر عبادات ہیں بلکہ ہر وہ کام عبادت ہے جس میں انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کا مقصد ، اس کام سے صرف یہ ہو کہ اللہ کی اطاعت کی جائے۔ )