اس صفحہ میں سورہ Al-Baqara کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ البقرة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
۞ تِلْكَ ٱلرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۘ مِّنْهُم مَّن كَلَّمَ ٱللَّهُ ۖ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَٰتٍ ۚ وَءَاتَيْنَا عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ٱلْبَيِّنَٰتِ وَأَيَّدْنَٰهُ بِرُوحِ ٱلْقُدُسِ ۗ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلَ ٱلَّذِينَ مِنۢ بَعْدِهِم مِّنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَٰتُ وَلَٰكِنِ ٱخْتَلَفُوا۟ فَمِنْهُم مَّنْ ءَامَنَ وَمِنْهُم مَّن كَفَرَ ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا ٱقْتَتَلُوا۟ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٰكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَٰعَةٌ ۗ وَٱلْكَٰفِرُونَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ
ٱللَّهُ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْحَىُّ ٱلْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُۥ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُۥ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ مَن ذَا ٱلَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُۥٓ إِلَّا بِإِذْنِهِۦ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَىْءٍ مِّنْ عِلْمِهِۦٓ إِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ ۖ وَلَا يَـُٔودُهُۥ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْعَظِيمُ
لَآ إِكْرَاهَ فِى ٱلدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشْدُ مِنَ ٱلْغَىِّ ۚ فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
پارہ سوم ایک نظر میں
(سورۃ البقرہ کا آخری حصہ)
یہ تیسرا پارہ دواجزاء پر مشتمل ہے۔ پہلا سورة بقرہ کے بقیہ پر مشتمل ہے (یاد رہے کہ پہلے دواجزاء سورة بقرہ ہی پر مشتمل رہے ہیں) اور دوسرا سورة آل عمران کے ابتدائی حصہ پر مشتمل ہے ۔
یہاں صرف بقرہ کے آخری حصہ کے بارے میں اجمالی بحث کریں گے ۔ اور آل عمران کے حصہ پر بحث اس وقت کریں گے جب سورة آل عمران پر بحث کا آغاز ہوگا۔
سورة بقرہ کے اس حصہ میں بھی اسی اساسی موضوع ہی کو لیا گیا ہے جس کے بارے میں ہم حصہ اول کے آغاز میں بتاچکے ہیں ۔ اور جس کا مطالعہ ہر اس سورت میں مسلسل کرتے رہتے ہیں ۔ وہ یہ کہ امت مسلمہ کو اس ہدف کے لئے تیار کرنا جس کی خاطر اسے برپا کیا گیا ہے تاکہ وہ ان مقاصد کو لے کر آگے بڑھے ، ایسے حالات میں کہ اس کے سامنے ایمانی تصور حیات ہو اور اسے یہ احساس ہو کہ اس عظیم امت اور تحریک کو انہی مقاصد کے لئے برپا کیا گیا ہے ۔ اور اس کے سامنے امم سابقہ کے وہ تمام تجربات بھی کھول کر رکھ دیئے ہیں ۔ اسے آگاہ کردیا گیا ہے کہ اس راہ کے لئے اس نے کن وسائل کو کام میں لانا ہے ، اور یہ کہ اس راہ کی مشکلات کیا ہیں اور یہ کہ تحریک کے دشمن اس کے خلاف کیا کیا سازشیں کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ وہ اللہ کے دشمن ، حق کے دشمن اور ایمان کے دشمن ہیں ، اور یہ اس لئے کہ یہ امت اس مشکل راہ میں بیدار مغزی کے ساتھ آگے بڑھے اور تمام مراحل طے کرے۔
امت مسلمہ کی تربیت وتیاری ، اس کی یہ تمام سروسامانیاں اور اس کی ہمہ گیر ٹریننگ اور اس کا نصب العین اور اس کے اغراض و مقاصد وہ مضامین ہیں جن کے ذریعہ قرآن کریم ، ابتدائی نسل کے بعد ، ہر دور میں جماعت مسلمہ کو تروتازہ رکھتا ہے ۔ کیونکہ ہر دور میں تحریک اسلامی کی قیادت و راہنمائی کے لئے یہی منتہاہ متین ہے ۔ لہٰذا قرآن مجید ایک زندہ فعال اور محرک ذریعہ تربیت ہے اور وہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں ایک زندہ اور فعال اور مکمل دستور ہے بلکہ قرآن مجید ہر مرحلے ، ہر قدم اور ہر دور میں ایک قائد ، ایک مرشد اور ایک راہنما ہے ۔ لیکن صرف اس شخص کے لئے جو قرآن سے نصیحت ، ہدایت اور راہنمائی کا طالب ہے ۔
پارہ دوئم کا خاتمہ اس آیت پر ہوا تھا تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ................ ” یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم ٹھیک ٹھیک تم کو سنا رہے ہیں اور تم یقیناً مرسلین میں سے ہو۔ “ اور یہ آیت بنی اسرائیل کے بعض لوگوں کے اس قصے کے بعد ” جو موسیٰ کے بعد سرداران بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا ، جنہوں نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں ۔ “ (246 : 2) اور اس قصے کے آخر میں کہا گیا تھا ” اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن چیزوں کا چاہا اسے علم دیا۔ “ (251 : 2) تو گویا پارہ دوئم کا خاتمہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی بات پر ہوا۔ جس میں حضرت داؤد کے واقعہ کی تفصیل تھی ۔ اس میں رسول اکرم ﷺ کی رسالت کی طرف بھی اشارہ تھا اور یہ بتادیا گیا تھا کہ آپ ﷺ کو ان تجربات سے مسلح کیا جارہا ہے جو تمام مرسلین کو انسانی تاریخ میں پیش آتے رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پارہ سوئم میں بات یوں شروع کی جاتی ہے کہ وہ اس سے پہلے کے کلام سے مربوط ہے ۔ یعنی انبیائے سابقہ کے بارے میں بات یوں چلتی ہے کہ ان میں سے بعض دوسروں کے مقابلے میں زیادہ برگزیدہ تھے ۔ بعض کے درجات دوسروں پر بلند تھے ۔ اور یہ کہ ان رسولوں کے پیروکاروں نے ازمنہ مابعد میں باہم اختلافات پیدا کرلئے ۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ حق پر کون ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے اختلافات قائم رکھے ۔ ان میں سے بعض لوگ ایمان پر قائم رہے اور بعض نے کفر کا راستہ اپنایا۔ ان میں سے بعض نے دوسروں کو قتل کیا :” یہ رسول ................ ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کئے ۔ ان میں سے کوئی ایسا تھا جس سے اللہ خود ہمکلام ہوا۔ کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلنددرجے دئیے اور آخر میں عیسیٰ ابن مریم کو روشن نشانیاں عطاکیں اور روح پاک سے اس کی مدد کی۔ اگر اللہ چاہتا تو ممکن نہ تھا کہ ان رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے وہ آپس میں لڑتے ۔ مگر انہوں نے باہم اختلاف کیا ، پھر کوئی ان میں ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی ۔ ہاں ، اللہ چاہتا ، تو وہ ہرگز نہ لڑتے ، مگر اللہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے۔ “
ربط کلام بالکل واضح ہے کہ پارہ دوئم کے آخر میں بھی رسولوں کی نسبت بات تھی اور پارہ سوئم کے آغاز میں بھی یہی بات ہے بلکہ اس پوریہ سورت میں کلام مربوط ہے ۔ اس پوری سورت میں ، مدینہ میں منظم ہونے والی اسلامی جماعت اور بنی اسرائیل کے درمیان فکری مجادلہ ہے ۔ اور قرآن مجید کے پہلے دوپاروں میں عموماً یہی مباحث ہیں ۔ اسی نسبت سے یہاں رسولوں اور ان کے بعد ان کی امم کے مابین فرقہ وارانہ اختلافات اور باہم قتل ومقاتلہ کی بات یہاں تفصیل سے چھیڑی گئی ہے ۔ یعنی یہ کہ ان امتوں میں سے بعض لوگ تو ایمان پر قائم رہے اور بعض نے کفر کا راستہ اختیار کیا اور پھر ناحق باہم دست گریباں ہوئے ۔ لہٰذا ربط کلام واضح ہے ۔ (مرحوم سید قطب نے اپنی تفسیر قرآن مجید کے پاروں کو پیش نظر رکھ کر لکھی ہے ۔ حالانکہ قرآن مجید کی تدوین میں پاروں کا لحاظ نہ تھا ۔ پاروں کی تقسیم محض ایک ماہ میں تلاوت کرنے کی سہولت پیدا کرنے کے لئے کی گئی ہے ۔ لہٰذا تلک الرسل سے جو کلام شروع ہوتا ہے ظاہر ہے کہ وہ سابقہ آیات سے مربوط ہے ۔ مترجم)
یہاں یہ بات اس لئے کی گئی ہے کہ تحریک اسلامی کے سامنے ، اس وقت کے متبعین انبیاء ، بنی اسرائیل وغیرہ کی مبہم اور واقعی بہتر مال خرچ کرے اور یہ تو محض توشہ آخرت کے لئے جہاں ” نہ خرید وفروخت ہوگی ، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی “ (2104 : 2) اس لئے انفاق فی سبیل ایک ایسا مالی فریضہ ہے جو فریضہ جہاد فی سبیل اللہ کا ایک لازمہ ہے ۔ اور خصوصاً ایسے حالات میں جو تحریک اسلامی کو اس وقت درپیش تھے ۔ جن میں غازیان کرام کو خود ان کے لئے اپنے اموال اور ان لوگوں کے اموال کے ذریعہ جنگ کے لئے تیار کیا جارہا تھا جو انفاق فی سبیل اللہ کے نتیجے میں فراہم ہوتے تھے ۔
اس کے بعد اس فکری اساس کے بعض پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے جس پر اسلامی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یعنی وجود باری اور اس کی وحدانیت یہ کہ اللہ وحدہ ہر چیز کا منتظم ہے اور ہر چیز اس کی وجہ سے قائم ہے ۔ وہ اس کائنات کا مالک مطلق ہے ۔ وہ اس کائنات کی ہر چیز کا علیم وخبیر ہے۔ اسے اس پوری کائنات پر قدرت حاصل ہے ، وہ پوری طرح اس کے قبضہ میں ہے اور اس کی حفاظت میں ہے ۔ اور یہ کہ قیامت کے دن اس کے ہاں کوئی سفارش کارگر نہ ہوگی الا یہ کہ وہ اجازت دے ، یہ کہ اس جہاں میں انسان کو وہی علم حاصل ہے جو وہ عطا کرتا ہے ، تاکہ ایک مسلمان اپنی راہ پر اس طرح گامزن ہو کہ اس کے ذہن میں اس کے نظریات کا ایک واضح تصور ہو جن نظریات پر یہاں وہ نظام زندگی قائم کرنے چلا ہے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
” اللہ وہ زندہ ٔ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے ، اس کے سوا کوئی اللہ نہیں ہے ۔ وہ نہ سوتا ہے اور نہ اسے اونگھ لگتی ہے زمین وہ آسمان میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے ۔ کون ہے جو اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے ؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے وہ بھی جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے ، اس سے بھی واقف ہے اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز بھی ان کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی ۔ الا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی ان کو دینا چاہے ۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور ان کی نگہبانی اس کے لئے کوئی تھکادینے والا کام نہیں ہے ۔ بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے۔ “ (200 : 2)
اس تصور حیات کے مطابق ایک مسلمان آگے بڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتال شروع کرتا ہے ، اس لئے نہیں کہ وہ لوگوں سے اپنے نظریہ حیات اور اپنے عقائد زور سے منوائے ، بلکہ اس لئے کہ ہدایت اور گمراہی کے درمیان تمیز ہوجائے فتنہ و فساد اور ضلالت وگمراہی کے اصل عوامل واسباب کا خاتمہ کردیا جائے اور اس کے بعد لوگوں کو مکمل آزادی ہوگی کہ وہ جو رویہ چاہیں اپنائیں۔
” دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے ۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے ۔ اب جو کوئی طاغوت سے انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا ، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا ، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ۔ اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ “ (256 : 2)
یوں ایک مسلمان اپنی راہ حیات پر پورے اطمینان کے ساتھ رواں دواں ہے ۔ وہ اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں سمجھتا ہے ۔ اور اللہ کی نصرت اس کے ساتھ ہوتی ہے ۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ کی راہنمائی اور اللہ کی امداد اس کے شامل حال ہے ۔
” جو لوگ ایمان لاتے ہی اللہ ان کا مددگار ہے ۔ وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لاتا ہے ۔ اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اپنائی ہے ان کے حامی شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف لاتے ہیں ۔ یہ لوگ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جو وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ “ (257 : 2)
غرض اس پارے کے آخر میں بھی ، یہ پیراگراف مسلسل اسی ہدف کی طرف آگے بڑھتا ہے جس کی طرف اس پارہ کے آغاز میں روئے سخن تھا یعنی تحریک اسلامی کے اغراض ومقاصد کا بیان اور جماعت اسلامی میں ان مقاصد کی آبیاری۔
اس کے بعد اسلامی نقطہ نظر سے موت وحیات کی حقیقت پر ایک نظر ڈالی جاتی ہے ۔ اس سلسلے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نظریاتی زندگی کے دوتجربات بیان کئے جاتے ہیں اور ایک مشاہدہ ایک دوسرے شخص کا بیان کیا گیا ہے جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ ان تجربات میں موت وحیات کی یہ حقیقت بتائی گئی ہے کہ اس کا تعلق صرف اللہ کے علم و ارادہ کے ساتھ ہے ۔ اور یہ کہ انسان کا محدود ادراک موت وحیات کی اصل حقیقت کو اپنے احاطہ میں لانے سے قاصر ہے کیونکہ اصل حقیقت ماوراء الادراک ہے ۔ اور اس کی حقیقت صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔
یہاں موت اور حیات کو اس واضح کیا گیا ہے کہ ایک تو حیات انسانی کے بارے میں انسانی تصور اور فکر کی اصلاح ہو دوسرے یہ کہ جہاد و قتال میں جو لوگ شریک ہوتے ہیں ان کے پیش نظر بھی موت وحیات کا صحیح تصور آنا ضروری ہے ۔
ان فکری ہدایات کے بعد اسلامی معاشرہ کے اجتماعی معاملات کے سلسلے میں قدرے طویل بات ہوتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سوشل سیکورٹی اسلامی معاشرہ کی اساس ہے ، اس معاشرہ میں ربا کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ ایک قابل لعنت فعل تصور ہوگا۔ اس کے مقابلے میں اسلامی معاشرہ میں زیادہ دولت بذریعہ صدقات وانفاق فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور اس پر قدرے طویل بحث ہوتی ہے ۔ انفاق فی سبیل اللہ کا بیان بہترین تصویر کشی ، بہترین تاثرات واشارات اور اعلیٰ فنی خوبیوں پر مشتمل ہے ۔ اس فنی اور ادبی پہلو پر ہم انشاء اللہ اس وقت بات کریں گے جب یہ خوبصورت آیات تشریح کے وقت ہمارے سامنے ہوں گی۔ یہاں اس قدر اشارہ مناسب ہے جہاد و قتال اور انفاق فی سبیل اللہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ نیز انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ و خیرات اسلام کی اجتماعی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے ۔ اور معاشی زندگی کے اس پہلو کو اس سورت میں ترغیب اور قانون سازی کے مختلف طریقوں سے منظم کیا گیا ہے ۔
احسان و صدقہ کے بالمقابل سود کا خبیث نظام ہے ۔ اس خبیث نظام کے خلاف قرآن مجید نے طویل جنگ کی ہے ۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے بمباری کرکے اجتماعی زندگی کے معاشی نظام سے اس مذموم ادارے کی بنیادیں بھی منہدم کردی ہیں ۔ قرآن سودی نظام کی جگہ ایک مستحکم اور صحت مند معاشی نظام قائم کرنا چاہتا ہے ۔ جس کے ذریعہ معاشرے کا اقتصادی نظام ترقی کرسکے ۔
اس کے بعد باہمی لین دین کے بارے میں قانون سازی کی گئی ہے اور ایسا قانون بنایا گیا ہے کہ دنیا کے کسی قانونی نظام میں یہ قانون (معاملات کی تحریری شکل) نہ تھا۔ یہ قانون سازی دوآیات میں کی گئی ہے ۔ ایک آیت قرآن کریم کی طویل ترین آیات میں سے ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم قانون سازی میں کیا طریق کار اختیار کرتا ہے ۔ اور کس انداز سے کرتا ہے ۔ قرآن کا قانون ایک زندہ ، منفرد اور معجزانہ قانون ہوتا ہے اور ہر دور اور ہر زمانے کے لئے موزوں بھی ۔
اس سورت کا خاتمہ بھی انہی الفاظ اور مضامین پر کیا جاتا ہے جس سے اس کا آغاز ہوا تھا یعنی اللہ کی ذات ، ملائکہ ، اللہ کی کتابوں اور رسولوں کے بارے میں اسلامی تصور اور نظریہ کہ لَا نُفَرِّقُ بَینَ اَحَدٍ مِّن رُّسُلِہٖ ” ہم اللہ کے رسولوں کے درمیان فرق نہیں کرتے ۔ “ یہ وہ اصول ہے جس کا اس سورت میں بار بار اظہار کیا گیا۔ آخر میں مومنین کو طریقہ دعا سکھایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ایک مومن کا تعلق اپنے رب کے ساتھ کیسا ہوتا ہے ؟ اور اس دعا میں بھی بنی اسرائیل کی تاریخ کی طرف ایک اشارہ ہے یعنی یہ کہ انہوں نے اپنے اللہ کے ساتھ اپنا تعلق نہ جوڑا تھا۔ اس دعا پر اس سورت کا خاتمہ ہوتا ہے جو مختلف مضامین پر مشتمل ایک طویل سورت کا مناسب خاتمہ ہے ۔
” اے ہمارے رب ! ہم سے بھول وچوک میں قصور ہوجائے ان پر گرفت نہ کر ۔ مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال ، جو تونے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ پروردگار ! جس بوجھ کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما ، ہم پر رحم کر ، تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “ (286 : 2)
درس 17 ایک نظر میں
اس سبق کے آغازہی میں ہمیں رسولوں کے بارے میں قرآن کریم کا مخصوص انداز تعبیر ملتا ہے ۔ تِلکَ الرُّسُلُ.........” رسولوں کی جماعت “ اور ھٰٓؤُلَآ ءِالرُّسُلُ.........” یہ رسول “ کا لفظ اختیار نہیں کیا گیا ۔ رسولوں کے لئے آغاز کلام میں یہ خاص طرز تعبیر کیوں اختیار کیا گیا ؟ اس میں کچھ واضح اشارات ہیں ۔ مناسب ہے کہ تشریح آیات سے پہلے اس انداز کلام پر کچھ بات ہوجائے ۔
تِلکَ الرُّسُلُ.........” یہ گروہ رسل “ جو ایک خاص جماعت ہیں ۔ اس جماعت کا ایک خاص مزاج ہے اور ایک خاص ماہیت ہے ۔ اگرچہ وہ بشر ہیں ۔ تو پھر وہ کون ہیں ؟ رسالت کی حقیقت کیا ہے ؟ رسالت کا مزاج کیا ہے ؟ یہ فریضہ کیسے ادا کیا جاتا ہے ؟ پھر صرف ان مخصوص افراد ہی کو کیوں درجہ رسالت پر فائز کیا گیا اور کیسے کیا گیا ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر میں ایک طویل عرصہ سے سوچتا رہا ہوں ۔ تسلی بخش جواب کا متلاشی رہا ہوں۔ میرے پردہ احساس پر کچھ ایسے مفہوم اور معانی ابھرتے ہیں جن میں کلمات وعبارات کی صورت میں منتقل نہیں کرسکتا۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ میں اپنے اس وجدان و شعور کو اور ان تصورات ومفہومات کو الفاظ وافہام کے قریب تر کرسکوں ۔
یہ کائنات جس میں ہم زندہ ہیں اور ہم جس کا ایک اہم حصہ ہیں کچھ اصول وقواعد پر چل رہی ہے ۔ اور یہ اصول وہ تکوینی اصول و ضوابط ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے لئے وضع فرمائے ہیں ۔ اور اس کائنات کو حکم دیا ہے کہ یہ ان کے مطابق چلتی رہے اور ان کے مطابق حرکت کرے اور ان اصولوں کے منشا کے مطابق چلے ۔ اور اس کائنات میں انسان جونہی علمی میدان میں ایک قدم آگے بڑھتا ہے اور کچھ نئے اکتشافات ودریافت کرلیتا ہے یا انسان کو اللہ تعالیٰ کچھ مزید معلومات حاصل کرنے کے مواقع فراہم کردیتا ہے تو یہ ادراک اورا کتشاف اس کی محدود قوت مدرکہ کے حدود کے اندر ہوتا ہے اور اسی قدر ہوتا ہے جس قدر اسے اس دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ یہاں اپنی محدود زندگی میں انسانی خلافت کے فرائض اچھی طرح سر انجام دے سکے ۔
اور اس کائنات میں ، ان طبعی قوانین اور ضوابط کے دریافت کرنے کے لئے انسان اپنی شخصیت کے نقطہ نظر سے دوچیزوں کو کام میں لاتا ہے۔ ایک مشاہدہ اور دوسرا رتجربہ۔ مشاہدہ اور تجربہ اپنے مزاج کے اعتبار سے دونوں جزوی ذرائع علم ہیں ۔ وہ اپنے نتائج کے اعتبار سے اٹل اور آخری اور فیصلہ کن نہیں ہوتے ۔ البتہ ان دو ذرائع سے اس کائنات میں بعض ایسے کلی قواعد و ضوابط دریافت کرلیے جاتے ہیں جو ایک طویل عرصے تک قوانین کلیہ سمجھے جاتے ہیں لیکن آخر کار یہ دریافت بھی ایک جزوی دریافت بن جاتی ہے ۔ جو نہ تو انتہائی ہوتی ہے اور نہ ہی مطلق ۔ اس لئے کہ کائنات کے ان قوانین کے درمیان تناسق وتطابق اس کلی ناموس سے منسلک ہے ، جو ان تمام کلیات کو باہم مربوط کرتا ہے ۔ اور یہ ناموس اکبر ہمیشہ سے مخفی رہتا ہے اور یہ اس کی جزوی مشاہدہ اور تجربہ کے دائرہ سے باہرہوتا ہے ۔ اگرچہ بحث وتحقیق کا ایک طویل دور گزرجائے اس لئے کہ اس سلسلے میں زمانہ کوئی اہم عنصر نہیں ہے ۔ اس کائنات میں اس کی اہمیت اور اس کی تشکیل کے لحاظ سے یہ تو انسانی ذات اور طاقت کے میدان کے لئے ایک حد ہے ۔ اور اس کی یہ حیثیت بھی ایک جزوی اور نسبتی حیثیت ہے ۔ پھر پوری بنی نوع انسان کو جو زمان عطا کیا گیا ہے وہ بھی جزئی اور محدود ہے ۔ اس لئے ہمارے ذرائع معرفت اور ان ذرائع کے نتیجے میں حاصل ہونے والے تمام نتائج جزئی ہی رہتے ہیں اس لئے کہ یہ جزوی اور نسبتی ذرائع کے واسطے سے سامنے آتے ہیں ۔
یہاں آکر معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات میں رسالت کی اہمیت کیا ہے ۔ رسالت کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے اور یہ مزاج خاص اور یہ قوت اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا ہوتی ہے تاکہ وہ اس ناموس اکبرکو اخذ کرکے اور اس کی گہرائی تک جاسکے ۔ جس پر اس کائنات کا وجود قائم ہے ۔ ایک رسول کا رابطہ اس ناموس اکبر کے ساتھ کس نوعیت کا ہوتا ہے ، ہم آج تک اس کی حقیقت کو نہیں پاسکے ۔ ہم صرف اس رابطہ وتعلق کے آثار کو سمجھ سکتے ہیں۔
رسول کی یہ مخصوص طبیعی قوت ہوتی ہے جو اس ناموس اکبر سے وحی حاصل کرتی ہے اور اس میں اس کی صلاحیت ہوتی ہے ، اس لئے کہ رسول کا یہ مزاج اس پیغام کے وصول کرنے کے لئے تیارہوتا ہے۔ اور یہ پیغام وہی پیغام ہوتا ہے جو اس ناموس اکبر سے یہ پوری کائنات بھی وصول کرتی رہتی ہے ۔ اس لئے یہ پوری کائنات براہ راست اس ناموس اکبر سے منسلک ہے اور اس کے تصرف اور کنٹرول میں ہے ۔ اب رسول یہ اشارہ کس طرح وصول کرتا ہے ، وہ کس ذریعہ یا کس سے یہ اشارہ وصول کرتا ہے ؟ اس سوال کا جواب ہم صرف اس وقت دے سکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ ہمیں بھی وہ استعدادبخش دے جو وہ اپنے بندوں میں سے ان مختار اور منتخب لوگوں کو بخش دیتا ہے جو رسول کہلاتے ہیں اور اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ................” اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ استعداد رسالت کہاں رکھ دے “ یہ ایک عظیم الشان معاملہ ہے اور یہ اس کائنات کا وہ عظیم الشان راز ہے جو انسان کی قوت ادراک سے ماوراء ہے ۔
تمام رسول توحید کی حقیقت کو پاگئے تھے اور تمام رسولوں کا نظریہ نظریہ توحید رہا ہے ۔ اس لئے کہ ان رسولوں کے وجود کے اندرناموس اعظم کے ساتھ رابطے کی استعداد ودیعت کی گئی اس لئے کہ ان تمام انبیاء کا منبع ہدایت ایک ہی تھا ۔ اگر یہ منبع اور مصدر ہدایت ایک نہ ہوتا تو ان انبیاء کے نظریات جدا ہوتے اور ان کا طریقہ واردات متنوع ہوجاتا ۔ رسولوں کا یہ ادراک اس دور میں ہوا جب کہ انسانیت اپنے ابتدائی دور میں تھی اور فہم وادراک اور مشاہدہ و تجربہ کے وہ ذرائع جو آج ہیں انسانیت کو میسر نہ تھے اور نہ ہی اس دور میں کلی قوانین بشریت پر ظاہر ہوئے تھے جو نظریہ توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔
آغاز بشریت سے آج تک تمام رسولوں نے صرف اللہ کی بندگی کی طرف دعوت دی ہے ۔ یہ تمام انبیاء اس ایک حقیقت کی طرف بلاتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے اس مزاج خاص اور طبیعت خاصہ سے یہی پیغام پایا ہے ۔ اس لئے ان کے اس مزاج نبوی پر جب اس ناموس کلی کا القاء ہوا ، تو اس سے ان کے قلوب پر ایک فطری سوچ ابھری جو اس ناموس کلی سے پوری طرح مربوط تھی ۔ پھر اس پیغام کی تبلیغ و اشاعت بھی ان کی اس سوچ اور یقین کا قدرتی نتیجہ تھی۔ ان کا یہ پختہ ایمان تھا کہ یہ حق ہے اور سوچ ان کی طرف اللہ وحدہ کی طرف سے القاء ہوئی ہے اور یہ کہ عالم بالا سے ان کے اس وثیق اور قوی رابطہ اور ان کی مخصوص رسولانہ فطرت کی وجہ سے ان کو پورا یقین تھا کہ وہ ناموس اللہ وحدہ لاشریک ہے اور اس کی ذات میں تعدد ممکن نہیں ہے۔
عقیدہ توحید رسولوں کی فطرت نبوت کا لازمی شعور ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے انبیاء (علیہم السلام) کے جو قصص نقل کئے ہیں ان میں بعض الفاظ ایسے موجود ہیں جن سے اس فطرت نبویہ کی طرف اشارہ ہوتا ہے ۔ بعض اوقات انبیاء کو اس فطرت سے موصوف کیا جاتا ہے ۔ مثلاً حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے میں مذکور ہے ۔
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي رَحْمَةً مِنْ عِنْدِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنْتُمْ لَهَا كَارِهُونَ (28) وَيَا قَوْمِ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالا إِنْ أَجْرِيَ إِلا عَلَى اللَّهِ وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ (29)
” اے برادران قوم ! ذرا سوچوتوسہی کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا اور پھر اس نے مجھ کو اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا ، مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سر چپک دیں ؟ اور اے برادران قوم ! میں اس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا ، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے ۔ اور میں ان لوگوں کو دھکے دینے سے بھی رہا جنہوں نے میری بات مانی ہے ، وہ آپ بھی اپنے رب کے حضور جانے والے ہیں ۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو اور اے قوم ! اگر میں ان لوگوں کو دھتکار دوں تو اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچانے آئے گا ؟ تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی بات نہیں آتی ؟ “ (28 : 11)
اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی زبانی فرمایا گیا :
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ
” اے برادارن قوم ! تم نے کچھ اس بات پر غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھے نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا ۔ اگر میں اس کی نافرمانی کروں تم خسارے میں ڈالنے کے سوا میرے کس کام آسکتے ہو۔ “
اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرۃ میں بھی یہی نظر آتا ہے۔
وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِي وَلا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلا تَتَذَكَّرُونَ (80) وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُمْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالأمْنِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (81)
” اور اس کی قوم اس سے گھڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا ” کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے ۔ اور میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا ۔ ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو ضرور ہوسکتا ہے ۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے ۔ پھر کیا تم ہوش میں نہیں آؤگے ؟ اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے میں کیسے ڈروں جب کہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے ۔ جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں نازل کی ہے ۔ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے ۔ بتاؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔ “
اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کے حصے میں بھی یہی بات بتائی گئی ہے۔
قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ إِنْ أُرِيدُ إِلا الإصْلاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ (88)
” بھائیو ! تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے اپنے ہاں سے مجھ کو اچھا رزق بھی عطا کیا اور میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ۔ میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں ، جہاں تک میرا بس چلے اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں ، اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے ۔ اس پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ “ (88 : 11)
اور یہ بات حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں کی
قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لا تَعْلَمُونَ
” اس نے کہا میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا۔ اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو۔ “ (86 : 12)
یوں اور اسی طرح تمام رسولوں کے اقوال اور ان کے اوصاف میں اس گہری ہم آہنگی اور رابطے کے اثرات پائے جاتے ہیں جو ان کی فطرت کا حصہ ہیں اور ان کے ضمیر کی گہرائیوں میں جاگزیں ہیں ۔ اور جن کی وجہ سے ان رسولوں کا کلام متنوع اور مزین ہوتا ہے ۔
مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ انسان کے علم ومعرفت نے کچھ ایسی علامات ودریافت کرلی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات میں قانون وحدت موجود ہے ۔ انسانوں میں اہل علم اس بات کو پاچکے ہیں کہ اس طویل و عریض کائنات میں وحدت وجود اور وحدت حرکت موجود ہے ۔ اور انسان نے اپنے محدود علم کے اندر رہتے ہوئے اس بات کو پالیا ہے کہ اس کائنات کی تعمیر ذرہ سے ہوئی ہے اور یہ کہ ذرہ دراصل (Power) ہے۔ یوں اس ذرے میں مادہ اور قوت دونوں ملے ہوئے ہیں اور علماء طبیعات اس عرصے تک جس نظریہ پر قائم تھے کہ یہ کائنات مادہ اور قوت دو علیحدہ چیزوں سے مرکب ہے وہ اب ختم ہوگیا ہے ۔ اب صحیح بات یہ ہے کہ کائنات ذرے سے مرکب ہے اور ذرے کو اگر توڑ دیا جائے تو یہ ایک عظیم قوت ہے ۔ اور انسان نے اپنے محدود علم کی حد تک اس بات کو پالیا ہے کہ یہ ذرہ اپنے اندرونی نظام کے اندر متحرک ہے اور وہ الیکٹرون اور پروٹون اور نیوٹرون سے مرکب ہے ۔ اور الیکٹرون دونوں کے ارد گرد ہر وقت حرکت کرتے ہیں جو اس ذرے کا قلب ہوتا ہے۔ اور یہ حرکت دائمی ہے اور ہر ذرے میں ہے ۔ اور جس طرح فرید الدین العطار نے کہا ہے کہ ہر ذرہ ایک سورج کے مانند ہے جس کے اردگرد ستارے گھومتے ہیں ۔ جس طرح ہمارے اس سورج کے ارد گرد ستارے گھومتے ہیں اور جو تسلسل کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔
اس کائنات کی وحدت اور حرکت کی وحدت اس کائنات کی وہ خصوصیات ہیں جن کو انسان نے پالیا ہے اور یہ دونوں خصوصیات دور سے یہ اشارہ کررہی ہیں کہ اس کائنات کو ایک وسیع تر ضابطہ وحدت اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے ۔ اس حقیقت تک انسانی علم نے اس حد تک رسائی کرلی ہے جس حد تک انسان کی قوت مشاہدہ اور قوت تجربہ کے لئے رسائی ممکن تھی لیکن خواص کی قوائے موہوبہ اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ وہ ان تمام حقائق کو ایک لمحہ میں پالیتی ہیں ، اس لئے کہ ان پر یہ حقائق بلا واسطہ القاء ہوتے ہیں اور ان حقائق کی ادراک کی قوت صرف ان خواص کے پاس ہوتی ہے۔
ان خواص نے علمی تجربات کے ذریعہ ان مشاہدات اور خصوصیات کا ادراک نہیں کیا ہوتا ، ان کو ایسی قوت مدرکہ عطا کی گئی ہوتی ہے جو اس حقیقت وحدت کو براہ راست پالیتی ہے ۔ یہ خواص اس واحد ناموس کو براہ راست پاتے ہیں اور یہ ان کا داخلی ، اپنی ذات کے اندر کا عمل ہوتا ہے ۔ وہ اس بات کو پاتے ہیں کہ یہ ایک جیسا القاء لازماً ایک ہی مصدر اور منبع سے صادر شدہ ہے ۔ ان خواص کی ذات میں جو مشینی قوت مدرکہ ودیعت کی جاتی ہے وہ نہایت ہی کامل اور نہایت ہی پیچیدہ ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ وہ آن واحد میں اس حقیقت کو پالیتے ہیں ، جس منبع سے ان کو ہدایت ملتی ہے ۔ وہ واحد ہے ، جس ارادے کے تحت وہ روبعمل ہوتے ہیں ۔ وہ اسی منبع سے صادر ہوتا ہے ۔ لہٰذا ان کی یہ مخصوص قوت مدرکہ یا یہ مخصوص آلات مدرکہ بشکل یقین اس حقیقت کو پالیتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کی وحد ذات ہی ہے جو اس کائنات میں متصرف حقیقی ہے ۔
میں یہ بات اس بناء نہیں کہہ رہا ہوں کہ جدید سائنس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس وحدت کائنات سے متعلق کوئی ایک یا دو حقائق دریافت کرلئے ہیں ۔ اس لئے کہ سائنسی حقائق کبھی ثابت تصور ہوتے ہیں اور کبھی ان کی تردید ہوجاتی ہے اور سائنس جن حقائق تک پہنچتی ہے جو جزوی اور نسبتی حقائق ہوتے ہیں کیونکہ سائنس کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی مطلق اور اٹل حقیقت تک پہنچ سکے ۔ اس لئے کہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں ۔ بعض نظریات بعض دوسرے نظریات کی تکذیب کرتے ہیں ۔ بعض ایک دوسرے میں تبدیلی کرتے ہیں ۔
میں نے وحدت کائنات اور وحدت حرکت کے بارے میں جو بات کی ہے اس لئے نہیں کہ اس کا اور اس ناموس وحدت کے درمیان کو ئی مماثلت ہے جو ان خواص رسل پر منجانب اللہ القاء ہوا کرتی ہے ۔ میرا منشاء یہ ہرگز نہیں ہے ۔ میرا مقصد ایک دوسرا امر ہے اور وہ یہ ہے کہ ہدایت اور راہنمائی کا قابل اعتماد مصدر اور منبع صرف انبیاء کے ہاں ہے اور انبیاء ہی اس کائنات کے بارے میں واحد ، مکمل ، جامع اور سچائی پر مشتمل تصور دے سکتے ہیں ۔
یہ ممکن ہے کہ جدید علمی اتکشافات نے اس کائنات کی حقیقت عظمیٰ کے بعض پہلو اور بعض خواص پالئے ہوں اور انہوں نے یہ معلوم کرلیا ہو کہ حقیقت کبریٰ صرف ایک ہی ہے لیکن وہی حقیقت ہے جسے رسولوں نے براہ راست اپنی مخصوص قوت مدرک سے پالیا ہوتا ہے اور اس کا احاطہ کرلیا ہوتا ہے اور وہ حقیقت ان رسولوں کی فطری قوت مدرکہ میں براہ راست پوری طرح موجود ہوتی ہے اور یہ کہ رسولوں کا یہ ادراک اپنی جگہ سچائی پر مبنی ہوتا ہے ، چاہے جدید سائنس نے اس کی بعض خصوصیات کو صحیح طرح پالیا ہو یا نہ پایا ہو۔ اس لئے کہ سائنسی نظریات قابل بحث اور قابل نظرثانی ہوتے ہیں ۔ پہلے تو یہ ثابت نہیں ہوتے ۔ ظن وتخمین پر مبنی ہوتے ہیں پھر اگر بظاہر ثابت نظر بھی آئیں تو یہ ثبوت اٹل نہیں ہوتا ۔ اس لئے حقیقت رسالت کو ان نظریات پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کہ مقیاس ومعیار ہمیشہ ایسا ہونا چاہئے جو ثابت ہو اور اٹل ہو۔ اس لئے ہم لازماً اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رسالت ہی وہ معیار ومقیاس ہے جس پر ہم جدید سائنسی نظریات کی جانچ پڑتال کریں گے ۔
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
اہل ایمان کے دلوں سے یہ ایک محبت بھری اپیل ہے ۔ یہ اپیل اہل ایمان اور اپیل کنندہ کے درمیان ایک روحانی رابطہ ہے کیونکہ وہ ذات باری پر ایمان لائے ہوئے ہیں ۔” اے ایمان لانے والو ! “
اپیل یہ ہے کہ جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس کا ایک حصہ ہمیں دے دد۔ آخر ہم ہی دینے والے ہیں اور داتا ہیں اور ہم ہی اپنے دئیے سے کچھ مانگ رہے ہیں۔ أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ........ ” اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے ، اس میں سے خرچ کرو۔ “
دیکھو ایسے مواقع بار بار نہیں آتے ۔ اگر تم نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا تو پھر یہ مواقع نصیب نہ ہوں گے ۔ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لا بَيْعٌ فِيهِ وَلا خُلَّةٌ وَلا شَفَاعَةٌ........ ” قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید وفروخت ہوگی ، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی ۔ “
یہ آخری موقعہ ہے ۔ اگر تم سے چلا گیا تو پھر ہاتھ نہ آئے گا ۔ اس موقعہ پر مال نفع بخش کاروبار میں لگ رہا ہے ۔ اس کے بعد کوئی دوستی ، کوئی سفارش اس نقصان اور خسارے کی تلافی کرنے کے لئے نہیں ہے۔
یہاں اس مقصد کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے جس کے لئے خالق کائنات خود چندہ کی اپیل کررہے ہیں یعنی جہاد فی سبیل اللہ کے یہ مطالبہ ہورہا ہے ۔ اور جہاد اس لئے ہے کہ کفر کا دفعیہ کیا جائے گا ۔ دنیا سے ظالمانہ نظام کو ختم کیا جائے جو کفر کی شکل میں قائم ہے ۔ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ................ ” ظالم وہی ہیں جو کفر کی روش پر جم جاتے ہیں ۔ “
انہوں نے سچائی کا انکارکرکے ظلم کا ارتکاب کیا ۔ انہوں نے خود اپنے نفوس پر ظلم کیا ہے جنہیں وہ ابدی ہلاکت کے گڑھے میں گرا رہے ہیں ۔ وہ عوام الناس پر بھی ظلم کررہے ہیں ۔ یوں کہ وہ انہیں راہ ہدایت پر آنے سے روکتے ہیں اور انہیں گمراہ کرتے ہیں اور انہیں اس بھلائی تک پہنچنے نہیں دیتے جس جیسی اور کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ یعنی امن وسلامتی کی بھلائی ، اطمینان و محبت کی بھلائی اور اصلاح و یقین کی بھلائی۔
جو لوگ اس بات کے دشمن ہیں کہ لوگوں کے دل و دماغ میں ایمان کی حقیقت جاگزیں ہوجائے ۔ جو اس بات کے دشمن ہیں کہ ایمانی نظام زندگی ہماری زندگیوں میں جاری وساری ہوجائے اور جو لوگ اس بات کی جدوجہد کررہے ہیں کہ ایمانی شریعت ہمارے اجتماعی نظام میں نافذ نہ ہونے پائے ، وہ اس انسانیت کے بدترین دشمن ہیں ۔ وہ پرلے درجے کے ظالم ہیں ۔ اگر انسانیت نے راہ راست کو پالیا ہے تو اس کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسے لوگوں کا اس وقت تک تعاقب کرے جب تک وہ اس ظلم سے باز نہیں آتے ۔ جو وہ مسلسل انسانیت پر ظلم ڈھا رہے ہیں ۔ انسانیت کا یہ فرض اولیں ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے مقابلے کے لئے جان ومال کی یہ قربانی دے ۔ اور یہ ہر اس اسلامی جماعت کا بھی فرض ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے برپا کیا ہے ۔ اور جسے یہ فریضہ سر انجام دینے کی دعوت دی جارہی ہے اور جسے اس کا رب ایسے گہرے الہامی الفاظ میں پکار رہا ہے۔
رسولوں کے بعد ان کی امتوں کے درمیان نظریاتی اختلافات اور تاریخی جنگ وجدال کے بیان کے بعد اور یہ واضح کرنے کے بعد کہ واضح ایمانی دلائل کے باجود انہوں نے ناحق کفریہ تصورات اپنا لئے ۔ اب یہاں یہ مناسب سمجھا گیا کہ یہاں ایک ایسی جامع آیت اتاری دی جائے جو ایمانی تصورات کے اصول وقواعد پر مشتمل ہے ۔ یہ آیت الکرسی ہے جو نظریہ توحید کو اپنی پوری گہرائیوں اور واضح نشانات کے ساتھ پیش کرتی ہے ۔ یہ ایک عظیم المرتبہ آیت ہے ۔ جس میں گہرے معانی پوشیدہ ہیں اور جس کا دائرہ اطلاق بہت ہی وسیع ہے۔ (جس میں وہ کم ازکم عقائد بیان کئے گئے ہیں جو کفر و ایمان کے درمیان فاصلہ متعین کرتے ہیں)
اس آیت میں جن صفات کو گنوایا گیا ہے ان میں ہر ایک اسلامی تصور کائنات کے اساسی اصولوں میں کسی ایک اصول پر مشتمل ہے ۔ اگرچہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلام کے اساسی عقائد پر مکی دور میں نازل ہونے والی آیات میں تفصیلی بحث کی گئی ہے ۔ تاہم اس اہم اور اساسی موضوع پر مدینہ میں نازل ہونے والی آیات میں بھی بعض اوقات بحث کی گئی ہے ۔ اس لئے کہ ان عقائد و تصورات پر ہی اسلامی نظام زندگی کی بنیادرکھی گئی ہے اور جب تک اساس ٹھیک نہ ہو ، پوری دیوار درست نہیں ہوسکتی ۔ نہ اس نظام کی تشریح ہوسکتی اور نہ یہ نظام نفس انسانی کے مسلمہ حقائق سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے ۔ نہ اس کی کوئی معقول اور پر از تعین تعبیر کی جاسکتی ہے ۔
اس کتاب کے حصہ اول میں ، تفسیر سورة فاتحہ کے ضمن میں ، میں نے اس گمراہی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ اور یہ کہا ہے کہ ذات باری کے بارے میں انسانی ضمیر اور عقیدہ کی تطہیر کی بڑی ضرورت ہے ۔ انسانی ضمیر جاہلیت کی تہہ بہ تہہ افکار کے نیچے محض اس لئے دبا ہوا تھا کہ انسان کے ذہن میں تصور الٰہ اپنی صاف و شفاف اور واضح شکل میں نہ تھا ۔ یہ عقیدہ خرافات اور دیومالائی عقائد کے نیچے دبا ہوا تھا۔ یہاں تک کے بڑے بڑے فلاسفر کے ہاں بھی تصور خدا واضح اور صاف نہ تھا ۔ یہاں تک کہ جب اسلامی نظریہ حیات آیا اور اس نے ذات باری کو اپنے صحیح تصور کے ساتھ پیش کیا اور انسانی ضمیر کو ان ناقابل یقین مروجہ تصورات کے بوجھ کے نیچے سے نکال دیا اور انسان جس اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ماررہا تھا ، اس سے اسے نجات ملی۔
غرض اس آیت میں جو صفات بھی بیان کی گئی ہیں وہ اسلامی تصور کائنات کے لئے ایک عمومی اساس ہیں اور اس طرح یہ صفات پھر اسلام کے تفصیلی نظام زندگی کے لئے ماخذ ہیں۔
اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ........ ” اللہ ، جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ “ یہ ایک فیصلہ کن وحدانیت ہے جس میں کسی قسم کے انحراف کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، اور اس میں وہ شرکیہ شائبے بھی نہیں ہیں جو سابقہ ادیان کے تصور الٰہ پر طاری ہوگئے تھے ۔ مثلاً تثلیث کا خودساختہ عقیدہ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اہل کلیسا نے اختیار کیا ........ یا وہ عقائد جن کی قدیم مصری اقوام قائل تھیں ۔ جو کسی وقت ایک خدا کے قائل تھے لیکن ازمنہ مابعد میں اس ایک خدا کو سورج کی ٹکیا کی شکل میں متمثل کردیا گیا اور بعدہ ، اس بڑے سورج الٰہ کے تحت بہت سے چھوٹے الٰہ گھڑلئے گئے ۔
یہ فیصلہ کن وحدانیت ، اسلامی تصورات و عقائد کی اساس ہے جس سے اسلامی نظام زندگی اپنی مفصل صورت میں متشکل ہوتا ہے۔ یہی تصور اللہ ہے جس کے نتیجے میں ہم اپنی عبادات اور اطاعات میں صرف اللہ کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اس کے مطابق کوئی انسان اللہ کے سوا کسی کا مطیع فرمان اور کسی کا غلام نہیں ہوسکتا ۔ وہ صرف اللہ کی عبادت کرسکتا ہے ۔ صرف اللہ کی اطاعت اس پر فرض ہے جس کا اللہ نے اطاعت کرنے کا واضح حکم دیا ہے ۔ اسی تصور خدا سے یہ اصول پھوٹتا ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اس لئے صرف وہی قانون ساز ہوسکتا ہے اور انسان اپنے قواعد و ضوابط صرف شریعت کی روشنی میں وضع کرسکتا ہے ۔ اسی تصور الٰہ سے یہ بات نکلتی ہے کہ انسان اپنے لئے اقدار حیات صرف اللہ سے اخذ کرسکتا ہے ۔ زندگی کی کوئی قدر اگر اللہ کے ترازو میں کوئی وزن نہیں رکھتی تو اس کا کوئی وزن نہ ہوگا۔ کوئی قانون ، کوئی رواج اور کوئی تنظیم جو اللہ کے نظام کے خلاف ہے بالکل کالعدم ہے ۔ غرض عقیدہ توحید کے نتیجے میں انسانی ضمیر میں ایک شعور پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں ایک تفصیلی نقشہ حیات مرتب ہوتا ہے۔
الْحَيُّ الْقَيُّومُ........ ” زندہ جاوید اور سنبھالنے والا “ جس حیات کی نسبت یہاں ذات باری کی طرف کی گئی ہے ۔ وہ ذاتی صفت ہے ۔ وہ ایسی حیات نہیں ہے جو مثلاً ایک مخلوق اپنے خالق سے مستعار لیتی ہے ۔ اس معنی میں صرف اللہ ہی زندہ جاوید ہے ۔ وہ ازلی اور ابدی زندہ ہے ۔ نہ اس کا کوئی نقطہ آغاز ہے اور نہ نقطہ انتہا ہے ۔ حیات الٰہیہ زمان ومکان کے اس تصور سے پاک ہے جو مخلوقات کی زندگی کا ایک لازمہ ہے ۔ جس کا ایک نقطہ سے آغاز ہوتا ہے اور ایک یونٹ پر وہ جاکر ختم ہوجاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں هُوَ الْحَيُّ........ کہا گیا کہ صرف وہی زندہ ہے ۔ اس مفہوم کے ساتھ اور کوئی زندہ نہیں ہے ۔ پھر حیات باری ان تصوراتی لوازم سے پاک ہے ۔ جن کے ساتھ ایک انسان زندگی کا کوئی تصور کرسکتا ہے ۔ اس لئے کہ اللہ جیسا کوئی نہیں ہے لَیسَ کَمِثلِہٖ شَیئیٌ........ یہی وجہ ہے کہ عام زندگی کے مفہوم کے ساتھ جو خصائص وابستہ ہیں اللہ تعالیٰ کی زندگی میں ان کا شائبہ تک نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی حیات ایک مطلق اور بےقید حیات ہے اور ان خصوصیات سے پاک ہے جو انسانی زندگی کا لازمہ ہیں ۔ لہٰذا اس سے ان تمام تصوراتی دیومالائی مفاہیم کی نفی ہوجاتی ہے جو لوگوں نے اللہ کی جانب منسوب کر رکھے ہیں۔
القیوم کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کانگہبان ہے اور تمام موجودات اس کی وجہ سے موجود ہیں ۔ اور تمام موجودات اپنے وجود اور قیام کے لئے اس کے محتاج ہیں اور اس کے زیر تدبیر ہیں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ اللہ تخلیق کے بعد اپنی مخلوقات کے بارے میں کوئی فکر نہیں کرتا جیسا کہ ارسطو کا قول ہے ۔ ارسطو کا یہ خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے علاوہ کسی کے بارے میں فکر مند نہیں ہوسکتا ۔ وہ سمجھتا ہے کہ قیومیت کے اس تصور میں مکمل پاکی اور عظمت پائی جاتی ہے ۔ حالانکہ اس کے اس تصور کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ جل شانہ کا رابطہ اپنی مخلوق کے ساتھ کٹ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ مخلوق کو ترک کردیتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں اللہ کا اسلامی تصور ایک مثبت تصور ہے اس میں سلبیت نہیں ہے ۔ وہ اس اساس پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا نگہبان ہے اور دنیا کی ہر ہستی اپنے وجود میں اللہ کے وجود اور تدبیر کی محتاج ہے ۔ یوں ایک مسلم مومن کا ضمیر و شعور ، اس کی پوری زندگی اور اس کا پورا وجود ، اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کا وجود اللہ جل شانہ کے وجود کے ساتھ مربوط اور متعلق ہوجاتا ہے۔ اور وہ اللہ ہی ہے جو اس مومن ومسلم کی زندگی میں متصرف ہے اور پھر وہی ذات اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں بھی متصرف ہے اور یہ تصرف ذات باری تعالیٰ نہایت ہی حکیمانہ اور مدبرانہ ہے ۔ اسی منہاج سے وہ اپنی اقدار حیات اور حسن وقبیح کے پیمانے اخذ کرتا ہے ۔ اور اس پوری زندگی میں اور اس پورے عمل میں اللہ تعالیٰ انسان کا نگہبان رہتا ہے۔
لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ................ ” زمین و آسمان میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے ۔ “ یہ ایک ہمہ گیر ملکیت ہے اور بےقید ملکیت ہے ۔ کسی شرط کے ساتھ مشروط نہیں ۔ کسی حد میں محدود نہیں ہے ۔ نہ اس میں کوئی شریک ہے اور نہ یہ ملکیت کبھی ختم ہوتی ہے ۔ یہ وحدہٗ لاشریک الٰہ واحد ہے معانی میں سے ایک معنی ہے ۔ وہ واحد اللہ ہے ۔ صرف وہی الحی ہے ۔ صرف وہی نگہبان ہے ۔ صرف وہی مالک ہے ۔ اس سے ان تمام شرکیہ عقائد کی نفی کردی گئی جو بھی انسانی عقل میں در آسکتے ہیں ۔ اس دنیا میں ملکیت اور حاکمیت کے نظریہ کی بھی وضاحت ہوجاتی ۔ جب اللہ ہی حاکم ومالک ٹھہرا تو پھر اس دنیا میں بھی حق ملکیت کسی کو حاصل نہ ہوگا ۔ انسان حاکم نہ ہوگا بلکہ وہ اسی وحدہ لاشریک حاکم کا خلیفہ ہوگا۔ اور وہ نظام خلافت میں ان تمام حدود وقیود کا پابند ہوگا جو حدود وقیود خلیفہ گیرندہ نے استخلاف کے وقت اپنی شریعت میں خلیفہ پر عائد کی ہیں ۔ اس لئے کوئی خلیفہ شریعت کی حدود وقیود سے آزاد نہ ہوسکے گا ۔ اور اگر کوئی خلیفہ ان قیود کی پابندی نہ کرے گا جو خلافت کے منصب کی وجہ سے اس پر عائد ہیں تو سرے سے اس کی خلافت ہی کالعدم ہوجائے۔ اور اہل ایمان کا یہ فرض ہوگا کہ وہ اس خلیفہ کے خلاف شریعت اقدامات کو مسترد کردیں ۔ اسلامی شریعت میں یہی اسلامی نظریہ کارفرما ہے نیز اس شریعت پر مبنی جو عملی زندگی تشکیل ہوتی ہے ۔ اس کی تہہ میں بھی یہی نظریہ کارفرما ہے۔ جب اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ فرماتے ہیں لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ........ ” اور اسی کے لئے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ “ تو اس سے محض عقیدہ اور نظریہ یا محض خیال مراد نہیں ہوتا ۔ یہ فقرہ دراصل انسان کی پوری زندگی کے لئے ایک دستوری دفعہ ہوتی ہے ۔ نیز دنیاوی زندگی میں باہم جو رابطے قائم ہوتے ہیں ، وہ بھی اسی اساس پر ہیں کہ جو اس دنیا میں ہے وہ اللہ کا ہے ۔
جب یہ حقیقت انسانی ضمیر میں جاگزیں ہوجائے ۔ جب انسان اپنے مالک حقیقی کا صحیح شعور اپنالیتا ہے کہ وہ زمین و آسمان کا مالک ہے اور جب انسان اپنے دل و دماغ سے یہ غلط خیال نکال لیتا ہے کہ جسے وہ اپنی ملکیت سمجھتا ہے وہ تو اس کی ملکیت ہی نہیں ہے اور جب وہ شعوری طور پر اپنی جملہ مقبوضات کو مالک حقیقی کی ملکیت سمجھتا ہے اور جب انسان کے ذہن میں صرف یہ احساس پیدا ہوجاتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ تو عارضی طور پر مانگا ہوا ہے ۔ اور اسے مالک حقیقی کی جانب سے ایک محددود وقت کے لئے دیا ہوا ہے تو ان حقائق کا محض ادراک اور احساس ہی انسان کے دل سے اس کی سرتیزی ، لالچ ، حرص ، بخل اور رات دن جمع کرنے کی فکر کی شدت کو کم کردیتا ہے۔ اس تصور حیات اور ان احساسات کی وجہ سے انسان کے اندر صبر ، تمنا اور قناعت اور راضی برضا ہونے کی صفات پیدا ہوجاتی ہیں ۔ وہ فیاض اور سخی ہوجاتا ہے ۔ اس کے دل میں سکون اور طمانیت پیدا ہوجاتی ہے ۔ چاہے وہ امیر ہو یا غریب اس کی چال ڈھال میں ایک قسم کا سکون و اطمینان اور قرار پیدا ہوجاتا ہے ۔ اگر اسے کچھ نہ ملے تو اسے حسرت نہیں ہوتی اور اگر اسے اس کا مطلوب حاصل نہیں ہوتا تو وہ اپنے دل میں جلن یا گھٹن نہیں پاتا۔
مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلا بِإِذْنِهِ................ ” کون ہے جو اس کے ہاں ، اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرتا ہے ؟ “ یہ صفات باری میں سے ایک دوسری صفت ہے ۔ اس سے مقام الوہیت اور مقام عبدیت کی اچھی طرح وضاحت ہوجاتی ہے ۔ بندے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے دربار میں مقام عبودیت میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے اس مقام سے نہ آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ تجاوز کرسکتے ہیں ۔ وہ بندے کے مقام پر خشوع و خضوع کی حالت میں ایستادہ ہوتے ہیں ۔ جو نہ رب کی طرف آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے ہاں سفارش کی جرأت کرسکتا ہے ۔ الایہ کہ اسے پیشگی اجازت مل گئی ہو تو وہ اس صورت میں اس اجازت کی حدود میں سفارش کرسکتا ہے ۔ ہاں یہ بندے اور غلام خود اپنے درمیان ضرور فرق مراتب رکھتے ہیں اور خود اللہ کے ہاں بھی ان کے درجات ومقامات میں ضرور تفاوت ہے۔ لیکن جناب باری تعالیٰ میں ان کے لئے ایک حد عبدیت ہے جس سے انہیں آگے بڑھنے کی نہ اجازت ہے اور نہ صلاحیت۔
اللہ تعالیٰ کی شان کبریائی ، اس کی جلالت شان اور اس کے رعب ودبدبے کی طرف یہاں ایک اشارہ کیا گیا ہے اور استفہام انکاری کا فقرہ استعمال کرکے اس اشارے کو مزید مؤثر بنادیا گیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اور اگر ایسا ہوا تو وہ ناپسندیدہ ہوگا ۔ لہٰذا کون ہے جو جناب باری تعالیٰ میں ایسی جرأت کرسکے ؟ ہاں اگر اس کی اجازت ہو تو ........
اس حقیقت کی روشنی میں وہ تمام باطل تصورات واضح ہوجاتے ہیں ۔ جو انبیاء ورسل کے بعد میں آنے والے لوگوں میں پیدا ہوگئے تھے جن کے حاملین نے حقیقت الٰہیہ اور حقیقت عبدیت کے درمیان التباس پیدا کردیا تھا ۔ ان لوگوں نے یہ عقیدہ اختیار کرلیا تھا کہ اللہ کا بیٹا ہے جو اس کے ساتھ بوجہ تعلق ابنیت کسی نہ کسی شکل میں شریک اور خلیط ہے ۔ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسے لوگوں کا شریک بنالیا تھا جو اللہ کے ہاں سفارش کرتے ہیں اور وہ لازماً ان کی سفارش کو تسلیم کرتے ہیں یا پھر انہوں نے انسانوں میں سے بعض کو اللہ کا جانشین مقرر کردیا تھا جو اللہ سے اپنی قرابت کی وجہ سے اختیارات حاصل کرچکے تھے لیکن اس حقیقت کے اظہار کے بعد اللہ کے ہاں کوئی شفیع نہیں ہے ۔ یہ تمام تصورات باطل اور ناپسندیدہ ٹھہرتے ہیں ۔ اور انسانی ذہن انہیں قبول ہی نہیں کرتا ۔ انسانی ضمیر اس کا انکار کرتا ہے اور وہ ایک مومن کے رخ خیال پر آتے ہی نہیں ۔
یہ اسلامی تصور حیات کا ایک جلا ہے کہ اس میں کوئی وہم وتلبیس نہیں ہے ۔ اسلامی سوچ میں کوئی لچک نہیں ہے ۔ خدائی ، خدائی ہے اور بندگی ، بندگی ہے۔ ان دوحقائق میں کوئی ذاتی التقاء ممکن نہیں ہے ۔ رب ، رب ہے اور بندہ ، بندہ ہے ۔ ان کے مزاج اور طبیعت میں اشتراک ممکن نہیں ہے اور نہ ہی ان کا آپس میں ملاپ اور ایکا ممکن ہے ۔
ہاں بندے کا اپنے رب کے ساتھ ایک تعلق ہوتا ہے ۔ رب کی جانب سے بندے پر رحمت کا نزول ہوتا ہے ۔ قرب ، محبت اور اعانت ہوتی ہے ۔ اسلام اس تعلق کو تسلیم کرتا ہے اور تعلق باللہ سے نفس انسانی کو شرابور کردیتا ہے ۔ اس سے دل مومن بھرجاتا ہے اور اس پر فیضان رحمت و محبت ہوتا ہے اور مومن رحمت رب کی خوشگوار چھاؤں میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ بغیر اس کے ذات الٰہی اور ذات انسانی کے درمیان اختلاط ہو کوئی تصور پیش کیا جائے ۔ بغیر اس کے کہ ہم حق و باطل کی کوئی آمیزش کریں یا افکار باطلہ کا ڈھیر لگاکر کوئی ایسا فکری انتشار و اضطراب پیدا کریں ، جس میں صداقت اور سچائی کوئی واضح اور صاف و شفاف صورت نظر نہ آئے۔
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلا بِمَا شَاءَ................ ” جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ واقف ہے ۔ اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز بھی ان کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی ۔ الایہ کہ کسی چیز کا علم ہو خود انہیں دینا چاہے۔ “ اس حقیقت کے دومتقابل پہل وہیں ۔ ایک جانب اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ ایک مسلم کا تصور الٰہ کیا ہے ؟ دوسری جانب اس کا اظہار ہوتا ہے کہ اس الٰہ کے سامنے بندہ مسلم کا مقام کیا ہے ؟ اللہ کا مقام یہ ہے کہ وہ ہر ظاہر و باطن ، حاضر و غائب کے بارے میں مکمل علم رکھتا ہے ۔ وہ علیم وخبیر ہے ۔ اس کا علم ، کامل ، جزئیات پر حاوی اور تمام موجودات پر مشتمل ہے ۔ وہ انسان کی موجود حاضر پر بھی حاوی ہے ۔ اور ان سے پوشیدہ ماضی اور آنے والے مستقبل پر بھی حاوی ہے ۔ وہ ان امور پر بھی حاوی ہے جنہیں انسان جانتا ہے اور ان پر بھی حاوی جن کے بارے میں اسے کوئی علم نہیں ہے ۔ غرض ان فقیروں میں اللہ تعالیٰ کے علم کی شمولیت اور استقصاء کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ رہے انسان تو وہ صرف اس قدر جانتے ہیں جس قدر انہیں اللہ تعالیٰ جاننے کی اجازت دیتے ہیں ۔
حقیقت کا پہلاحصہ یہ ہے کہ اللہ ہر ظاہر و باطن کا عالم ہے ۔ یہ حقیقت نفس انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے انسان اور اس کا ضمیر باری تعالیٰ کے سامنے بالکل ننگا ہوجاتا ہے۔ باری تعالیٰ ظاہر و باطن کا علیم وبصیر ہے ۔ جس حقیقت کا انسان کو علم ہے اور وہ اس کا اظہار کررہا ہے وہ بھی اس کے سامنے ہے اور جس چیزکو وہ نہیں جانتا وہ بھی اس کے سامنے ہے ۔ وہ ماضی ، حال اور مستقبل مستور کو بھی جانتا ہے۔ جس کے بارے میں نفس انسانی بےعلم ہوتا ہے ۔ جب انسان کو اس حقیقت کا صحیح شعور ہوجائے تو اس کے جسم پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ تو باری تعالیٰ کے سامنے بالکل ننگا کھڑا ہے ۔ نیز اس تصور سے نفس انسانی میں تسلیم ورضا اور خدا خوفی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اس لئے کہ وہ علیم وبصیر ہے۔
دوسرا پہلو اس حقیقت کا یہ ہے کہ انسان کا علم صرف اس حد تک محیط ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو ۔ انسانوں کو اس حقیقت پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے ۔ خصوصاً اس دور میں جبکہ انہوں نے اس کائنات کے طبیعی اور تخلیقی شعبے میں قدرے معلومات حاصل کرلی ہیں ۔
وَلا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلا بِمَا شَاءَ................ ” اور وہ اللہ کے علم میں سے کسی چیز کا ادراک نہیں کرسکتے الا یہ کہ خود اللہ چاہے ۔ “ صرف اللہ ہی ہر چیز کا مکمل علم رکھتا ہے جو کامل اور شامل ہے ۔ اور اس کا علم بےقید ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی اجازت ہی سے انسانوں پر بعض علوم منکشف ہوجاتے ہیں ۔ اور یہ انکشافات اللہ تعالیٰ اس لئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایا ہوا ہے اور اس کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے ۔ فرماتے ہیں سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ................ ” عنقریب ہم ان کو اپنے نشانات دکھائیں گے جو آفاق میں بھی ہیں اور خود ان کے نفسوں میں بھی ہیں ، تاکہ ان پر یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ وہ حق ہیں۔ “ لیکن انسان اس بات کو بھول جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر جن علوم وحقائق کا انکشاف کردیتے ہیں وہ ان کے لئے فتنہ بن جاتے ہیں ۔ چاہے اس انکشاف کا تعلق قوانین فطرت کائنات سے ہو یا اس کا تعلق ان پوشیدہ معلومات سے ہو جسے وہ چند لحظوں کے لئے ایک متعین حد کے اندر اندر رہ کر جان لیتے ہیں ۔ ان دونوں حقائق اور عطاکردہ معلومات سے انسان فتنے اور گمراہی میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اور وہ اس حقیقت کو فراموش کردیتا ہے کہ ان انکشافات کا اصل داتا تو اللہ ہے۔ اس فتنے اور گمراہی کی وجہ سے وہ نہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور نہ ذکر الٰہی ان کے دل میں ہوتا ہے بلکہ وہ خود سر ہوجاتے ہیں اور پھول جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات کفر تک کی نوبت پہنچ جاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے جب چاہا کہ انسان کو اس کرہ ارض پر اپنا خلیفہ بنائے تو اس نے انسان کو اپنی معرفت سے نوازا ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ساتھ یہ وعدہ کیا کہ وہ عنقریب تمہیں انفس اور تمہارے آفاق میں تمہیں بعض نشانات راہ دکھائے گا ۔ اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔ اور اللہ نے اسے یوں سچا کر دکھایا کہ آئے دن انسان پر نئے نئے رازوں کا انکشاف ہوتا ہے۔ نسلوں کے بعد نسلوں میں ان اکتشافات کا گراف مسلسل اوپر چلا جارہا ہے ۔ ان انکشافات میں قدرتی توانائیاں ، اور اس کائنات کے طبیعی اصول شامل ہیں جو فریضہ خلافت ارضی ادا کرنے کے لئے انسان کے لئے ضروری ہیں تاکہ وہ اصولوں کی دریافت کے نتیجے میں ان درجات بلند تک پہنچ سکے جو اس کے لئے اللہ نے مقدر کر رکھے ہیں ۔
اس میدان میں اللہ تعالیٰ نے جس قدر علم مناسب سمجھا ، انسان کو عطا کردیا اور اسے اجازت دے دی کہ وہ اس میں کام کرے اور کچھ گوشے ایسے بھی تھے جن کی بابت اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم نہیں دیا ۔ اس لئے کہ منصب خلافت فی الارض کے لئے اسے ان گوشوں کی ضرورت نہ تھی ۔ مثلاً انسان سے خود زندگی کا راز پوشیدہ رکھا گیا جو ابھی تک پوشیدہ ہے اور مستقبل میں بھی وہ ذہن انسانی کے قابو میں آنے والا معلوم نہیں ہوتا ۔ اور ابھی تک پوزیشن یہ ہے کہ اس موضوع پر بحث کرنا اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے برابر ہے ۔ جبکہ کسی بات پر کوئی بین دلیل نہیں ہوتی ۔ اس طرح انسان سے اگلے لمحے میں ہونے والے واقعات محفوظ اور پوشیدہ رکھے گئے ۔ کیونکہ وہ واقعات غیب ہیں جن تک رسائی کی کوئی سبیل نہیں ہے ۔ اور ان کے آگے اس قدر بھاری دیوار کھڑی کردی گئی ہے کہ انسان اسے دور نہیں کرسکتا۔ ہاں البتہ بعض اوقات اس پردہ مستور کے پیچھے سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ایک جھلک دکھا دیتا ہے ۔ اور پھر پردہ گرجاتا ہے اور خاموشی چھاجاتی ہے ۔ اور انسان کی رفتار ایک حد پر رک جاتی ہے اور وہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔
بہت سے اسرار و رموز انسان سے پوشیدہ رکھے گئے ، جن کے علم کی اسے کوئی حقیقی ضرورت نہ تھی ۔ جن کے بغیر بھی وہ خلافت فی الارض کے فرائض سرانجام دے سکتا تھا۔ اور اس زمین کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ تو ایک ذرہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اس وسیع کائنات کی فضا میں تیر رہا ہے۔
اپنے اس علم کی محدودیت کے باوجود اور اس حقیقت کے باوجود کہ اسے جو کچھ دیا گیا ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور اس کی اجازت ہے ۔ انسان فتنے میں پڑجاتا ہے ۔ وہ اس زمین پر اپنے آپ کو الٰہ سمجھنے لگتا ہے۔ وہ کفر کی راہ اختیار کرتے ہوئے اس کائنات کے لئے کوئی اور الٰہ تسلیم کرنے سے انکار کردیتا ہے ۔ حالانکہ آج بیسویں صدی کے سائنس دان بڑی عاجزی سے یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ ان کا علم محدود ہے ۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس کائنات کے وہ گوشے بہت ہی کم ہیں جن کا وہ ادراک کرسکے ہیں ۔ ہاں بعض جاہل جو اپنے آپ کو سائنس دان سمجھتے ہیں وہ اس غرے میں مبتلا ہیں کہ وہ بہت کچھ جانتے ہیں ۔
وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ وَلا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ........ ” اس کی حکومت آسمانوں اور زمینوں پر چھائی ہوئی ہے اور اس کی نگہبانی اس کے لئے تھکادینے والا کام نہیں ہے ۔ “
یہ مقام تو ایسا ہے کہ یہاں اللہ کے اقتدار اعلیٰ کا بیان مجرد طور پر کیا جاتا لیکن یہ قرآن کریم کا ایک خاص انداز بیان ہے کہ وہ مجرد حقائق کو بھی محسوسات کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ اس محسوس تصویر کشی کے انداز بیان سے ذہن انسانی اصل حقیقت کے قریب آجاتا ہے ۔ اور یوں حقیقت انسان کے دل و دماغ میں بیٹھ جاتی ہے ۔ کرسی سے مراد بالعموم اقتدار اعلیٰ ہوتا ہے۔ اور جب یہ کہا گیا کہ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین سے بھی وسیع تر ہے تو گویا آسمانوں اور زمین پر اسی کا اقتدار اعلیٰ قائم ہے ۔ یہ بات تو تصوراتی پہلو سے ہے لیکن ایک محسوس اور ٹھوس انداز تعبیر سے جو تصویر ذہن نشین ہوتی ہے وہ دیرپا اور ٹھوس ہوتی ہے ۔ یہی بات ولا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا میں ہے ۔ اس میں بطو رکنایہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان کیا گیا ہے ۔ لیکن یہ تعبیر بھی محسوس انداز میں پیش کی گئی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو اس عظیم نگہبانی میں نہ کوئی جدوجہد کرنا پڑتی ہے ۔ اور نہ ہی اسے کوئی تھکاوٹ لاحق ہوتی ہے ۔ تعبیر کا یہ انداز قرآن کریم اس لئے اختیار کرتا ہے کہ معانی کی ایسی تصویر کشی کی جائے کہ وہ حس میں اتر جائے اور اس طرح ذہن انسانی میں یہ معانی اچھی طرح بیٹھ جائیں اور یوں نظر آئیں جس طرح محسوسات نظر آتے ہیں۔
جو شخص قرآن کے اس انداز بیان کو سمجھ لیتا ہے اسے ان مباحث اور اعتراضات سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی جو قرآن کی اس محسوس انداز تعبیر پر یونانی فلسفہ کے نتیجے میں پیدا ہوئیں اور ان پر طویل عرصے تک جدل وجدال ہوتا رہا ۔ کیونکہ ان مباحث نے قرآن مجید کے سادہ اور فطری انداز تعبیر کو خواہ مخواہ چیستاں بنانے کی کوشش کی اور اس کے حسن سادہ کو ختم کردیا (تفصیلات کے لئے دیکھئے میری کتاب التصویر الفنی فی القرآن میں فصل التصویر الفنی اور طریقتہ القرآن)
یہاں اس قدر کہنا کافی ہے کہ کرسی اور عرش کے بارے میں مجھے کوئی ایسی صحیح حدیث نہیں ملی ہے جس میں کرسی اور عرش کی تفسیر اور توضیح کی گئی ہو ۔ اس لئے میں یہی مناسب سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ ان کے بارے میں مزید کچھ نہ کہوں۔
وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ................ ” اور وہ بزرگ و برتر ہے ۔ “ اس آیت میں جو صفات بیان کی گئی ہیں یہ ان میں سے آخری صفات ہیں ۔ جن میں ایک حقیقت کا بیان ہے اور نفس انسانی میں اس حقیقت کا القاء مقصود ہے ۔ یعنی صرف وہ ذات ہی بلند ہے اور صرف وہ ذات ہی عظیم ہے ۔ مفہوم یہ ہے کہ اس کے علاوہ نہ کوئی عظیم ہے اور نہ کوئی سربلند ہے ۔ یہ نہیں کہا گیا کہ ” وہ بزرگ و برتر ہے “ بلکہ یہ کہا گیا کہ ” وہی علی اور وہی عظیم ہے “ پہلی تعبیر میں نص علو و عظمت ثابت ہوتی ہے ۔ دوسری تعبیر میں علو اور عظمت کو ذات باری کے ساتھ مخصوص کردیا گیا ۔ اور یہ اشارہ دیا گیا کہ اس معاملے میں اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے ۔
صرف وہی علی ہے ۔ عظمت میں وہ منفرد ہے ۔ اور بندوں میں سے جو بھی علو اور عظمت کا ادعاء کرتا ہے اللہ اسے ذلیل اور سرنگوں کرتا ہے۔ اور آخرت میں وہ توہین آمیز سزا کا مستحق ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تِلْكَ الدَّارُ الآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الأرْضِ وَلا فَسَادًا ................ ” وہ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے مخصوص کردیں گے جو زمین پر اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں “ (83 : 28) اور جب فرعون کو ہلاک کیا گیا تو اس پر یہ تبصرہ کیا گیا انہ کان من العالین ................” وہ ان لوگوں میں سے تھا جو اپنی بڑائی چاہتے ہیں۔ “
انسان بہت بلند ہوسکتا ہے ، وہ عظمت وسربلندی کے اونچے مدارج تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کے حدود وقیود سے باہر نہیں نکل سکتا ۔ اور جب قلب مومن میں یہ عقیدہ اچھی طرح بیٹھ جاتا ہے تو وہ اسے مقام عبودیت تک پہنچا دیتا ہے ۔ اور وہ سرکشی اور بڑائی سے محفوظ ہوجاتا ہے ۔ اس کی طبیعت میں جھکاؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ اور اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی ہیبت بیٹھ جاتی ہے ۔ اس کے دل میں اللہ کی عظمت اور جلالت قدر کا شعور پیدا ہوجاتا ہے ۔ اس کا طرز عمل نہایت ہی مؤدبانہ اور پھر وہ اللہ کے بندوں کے مقابلے میں غرور وتکبر کا رویہ بھی اختیار نہیں کرتا ۔ غرض یہ شعور ایک طرف سے ایک عقیدہ اور ایک تصور ہے اور دوسری جانب ایک طرز عمل اور ایک سلوک اور رویہ ہے ۔
اسلامی تصور حیات کے ان دقیق پہلوؤں کی وضاحت اور تشریح اور اس کے بیان کے بعد کہ اس کائنات اور مخلوقات کا اپنے خالق کے ساتھ تعلق کیا ہے اور وضاحت کے بعد کہ خالق کائنات کے اوصاف کیا ہیں ، اب یہاں یہ موضوع لیا جاتا ہے کہ اس ایمانین تصور حیات کو اپنا نصب العین بنانے کے بعد اب اہل ایمان کا طریق کار کیا ہوگا ؟ وہ اس نظریہ کی دعوت کس طرح دیں گے ۔ اور وہ اس گم راہ انسانیت کی ہدایت کے لئے کیا طریقہ اختیار کریں گے ۔
نظریہ ایک ایسی چیز ہے کہ بیان وادراک کے بعد یہ سمجھنے اور سمجھانے کی چیز ہے ۔ جبر وتشدد اور ظلم وعدوان کے نتیجے میں نظریات نہیں پھیلائے جاسکتے اور یہی پالیسی اسلام نے اسلامی نظریہ حیات کی بابت اختیا رکی ہے ۔ دین اسلام اپنی پوری قوت اور طاقت کے ساتھ انسانی قوت مدرکہ کو خطاب کرتا ہے ۔ وہ غوروفکر کرنے والے دماغوں کو خطاب کرتا ہے ۔ اور ایک واضح سوچ دیتا ہے ۔ اور وہ اثر پذیر وجدان کو مخاطب کرتا ہے ۔ اسلام فطرت سلیمہ کو خطاب کرتا ہے بلکہ پوری انسانی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے اور وہ انسانی فہم وادراک کے ہر پہلو کو آزماتا ہے ۔ جس میں وہ جبر وتشدد کو کام میں نہیں لاتا ۔ یہاں تک کہ وہ نظریہ حیات دینے میں خوارق عادت ذرائع کا بھی زیادہ استعمال نہیں کرتا ۔ اس لئے کہ خوارق عادت واقعات کے نتیجے میں ذہن انسانی اگرچہ یقین کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے لیکن یقین کے باوجود ذہن انسانی اس حقیقت کے فہم وادراک سے قاصر رہتا ہے ۔ بات انسان کی عقل میں نہیں اترتی کیونکہ خارق عادت مناظر کی وجہ سے وہ عقل وادراک کے دائرے سے باہر ہوتی ہے۔
اگر دین اسلام ، اسلامی نظریہ حیات کو لوگوں کے دلوں میں اتارنے کے لئے خارق عادت مناظر اور معجزات کا استعمال کرنا مناسب نہیں سمجھتا ، اس لئے کہ یہ بھی مخاطب کو ایک طرح مجبور کرنا ہوتا ہے کہ وہ مان لے ، تو اسلامی نظریہ کے پھیلانے میں جبر واکراہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اسلام کی یہ پالیسی نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو دباؤ اور تہدید کے ذریعہ دائرہ اسلام میں داخل کرے ، اس معاملہ میں اسلام صرف تبلیغ اور تلقین افہام و تفہیم سے کام لیتا ہے ۔ اور وہ لوگوں کے دل و دماغ کو مطمئن کرتا ہے۔
اسلام سے قبل مسیحیت آخری دین حق تھا۔ اس کے پیروکاروں نے اس کے پھیلانے کے لئے اسلحہ کا استعمال کیا ۔ لوگوں کو زندہ جلایا گیا ۔ اور جوں ہی شہنشاہیت روما کے فرمانروا قسطنطین نے عیسائیت کو قبول کیا ، حکومت نے جبر وتشدد کے تمام وسائل استعمال کئے اور لوگوں کو مسیحیت قبول کرنے پر مجبور کیا ۔ حالانکہ اس سے پہلے یہی حکومت ان مسیحیوں کے خلاف جبر وتشدد کے تمام وسائل بروئے کار لاچکی تھی جنہوں نے برضاء ورغبت عیسائیت کو قبول کیا تھا۔ سلطنت روما کا یہ جبر وتشدد صرف ان لوگوں کے خلاف نہ تھا جو مسیحیت قبول نہ کررہے تھے بلکہ یہ جبر وتشدد ان صحیح العقیدہ مسیحیوں کے خلاف بھی بڑی بےدردی سے جاری رہا جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ذات کے بارے میں حکومت روما کے غلط عقائد تثلیث قبول کرنے پر آمادہ نہ تھے ۔
جب اسلام آیا تو اس کا پہلا اعلان ہی یہ زریں اصول تھا کہ اسلام کے قبول کرنے پر کسی کو مجبور نہ کیا جائے ۔ گمراہی سے ہدایت بالکل الگ ہوگئی ہے ۔ اب یہ لوگوں کا اپنا کام ہے کہ وہ برضا ہدایت قبول کریں۔
اس اصول کو وضع کرکے اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت و کرامت سے نوازا ۔ اس کے ارادے ، اس کی فکر اور اس کے شعور کا احترام کیا گیا اور نظریاتی ہدایت وگمراہی کے اختیار کرنے میں اسے آزاد چھوڑ دیا ہے ۔ اسے کہہ دیا گیا کہ وہ ایک ذمہ دار ذات ہے ۔ اس سے اس کے افعال و اعمال کا حساب لیاجائے گا ۔ یہ آزادی انسانی آزادیوں میں سے اہم ترین آزادی ہے جو اسلام نے انسان کو عطا کی ۔ یہ وہ آزادی ہے جس سے انسان اس بیسویں صدی میں بھی محروم ہے ۔ متعصب نظریات اور ظالمانہ نظامہائے زندگی آج بھی انسان کو یہ آزادی نہیں دیتے ۔ ذات انسانی جسے اللہ نے مکرم بنایا ہے آج اسے اپنے عقائد کے معاملے میں مجبور ومقہور بنادیا گیا ہے ۔ اسے مجبور کیا جارہا ہے کہ یا تو ان نظریات کو اپنائے جسے حکومت وقت اپنے تمام وسائل اور میڈیا کے ذریعہ پھیلاتی ہے اور جو ایسے نظریات ہیں جو انکار خدا کے تصورات پر مبنی ہیں اور یا وہ موت کے لئے تیارہوجائے۔
حقیقت یہ ہے کہ نظریاتی آزادی وہ پہلا حق ہے جو انسان کو بحیثیت ملنا چاہئے ۔ جو شخص یا نظام انسان سے نظریاتی آزادی چھین لیتا ہے ، وہ درحقیقت انسان سے اس کی انسانیت سلب کرلیتا ہے ۔ نظریاتی آزادی کا پھر فطری تقاضا ہے کہ انسان کو اپنے عقیدہ کی تبلیغ کی بھی اجازت ہو ۔ اور ایسا کرنے میں وہ محفوظ ومامون بھی ہو ۔ اگر حریت عقیدہ کے ساتھ اظہار رائے کی آزادی نہ ہو تو آزادی رائے بےمعنی ہوجاتی ہے اور اس میں کوئی واقعیت نہیں رہتی ۔
اسلام زندگی اور موجودات کا ایک بہترین تصور ہے اور وہ بلاشک وشبہ ایک بہترین اور مستحکم نظام زندگی ہے ۔ یہ اسلام ہی ہے جو ببانگ دہل پکار رہا ہے کہ اختیار کردہ دین میں کوئی جبر واکراہ نہیں ہے ۔ وہ اپنے قبول کرنے والوں کو سب سے پہلے یہ تلقین کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو دین اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے ۔ جب اسلام جیسا دین فطرت لوگوں کو مسلمان بنانے کے لئے مجبور نہیں کرسکتا تو اس کے دوسرے مروجہ ادیان باطلہ کو یہ اجازت کیسے دی جاسکتی ہے کہ وہ محض حکومت کے بل بوتے پر ان ادیان کے نہ ماننے والوں پر عرصہ حیات تنگ کردیں۔
یہاں جبر واکراہ کی مطلق نفی کی گئی ہے ۔ یعنی دین میں سرے سے جبر نہیں ہے ۔ یعنی جنس جبر کا وجود دین میں نہیں ہوگا ۔ یعنی جبر کا وجود ہی نہ ہوگا۔ وہ وقوع پذیر ہی نہ ہوگا۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ تم جبرکا ارتکاب نہ کرو۔ یعنی جبر تو ہوگا مگر تم جبر کا ارتکاب نہ کرو ۔ جنس جبر اور وجود جبر کی نفی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سخت تاکید فرما رہے ہیں کہ اسلام میں جبر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہ انداز کلام نہایت ہی مؤثر ہے ۔
یہاں سیاق کلام ، انسانی ضمیر کو ٹچ کرتا ہے اور اسے جگا دیتا ہے ، اسے راہ ہدایت اختیار کرنے کی ترغیب دلاتا ہے ۔ اسے راہ راست کی طرف موڑ دیتا ہے اور یہ بیان کردیا جاتا ہے کہ جس حقیقت ایمانی کا اعلان کیا گیا ہے وہ واضح اور متمیّز ہوچکی ہے ۔ فرماتے ہیں قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ................ ” راہ ہدایت غلط راہوں سے الگ کردی گئی ہے ۔ “ ایمان کی راہ ، راہ ہدایت ہے ۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اسے پالے اور اس کی طرف لپکے ۔ اور کفر بےراہ روی ہے ۔ انسان کو چاہئے کہ اس سے نفرت کرے اور اس سے منسوب ہونے کے مواقع اپنے لئے فراہم نہ کرے ۔
عملی صورتحال کچھ ایسی ہے کہ انسان دولت ایمان کی حقیت کو پانے کی کوشش نہیں کررہا ہے ۔ ایمان انسانیت کو ایک صاف ستھرا تصور حیات دیتا ہے ۔ وہ انسانیت کو اطمینان قلب اور سلامتی عطا کرتا ہے ۔ وہ انسان کے دل و دماغ میں اعلیٰ قدریں اور پاک ترجیحات پیدا کرتا ہے ۔ وہ انسانی معاشرہ کو ایک صحت مند نظام زندگی اور ترقی پذیر پالیسی عطا کرتا ہے۔ جس سے زندگی ترقی یافتہ اور متنوع بن جاتی ہے ۔ ان خطوط پر اگر انسان حقیقت ایمانی پر غور کرتا تو پھر کوئی بیوقوف ہی ہوتا جو راہ ایمان کو اختیار نہ کرتا ۔ ہدایت چھوڑ کر گمراہی لیتا ، سیدھی راہ چھوڑ کر ٹیڑھی راہ اختیار کرتا ۔ اطمینان ، سلامتی ، بلندی اور علوشان کے مقابلے میں بےاطمینانی ، پریشانی ، گراوٹ اور گمراہی اختیار کرتا۔
اس کے بعد حقیقت ایمانی کی مزید وضاحت اور تشریح کرتے ہوئے کہا جاتا ہے فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لا انْفِصَامَ لَهَا ................ ” اب جو طاغوت کا انکار کرکے ، اللہ پر ایمان لے آیا ، اس نے ایک مضبوط سہارا تھام لیا ، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔ “
الطاغوت ، طغیان سے ہے ۔ مفہوم ہے ہر وہ شخص جو صحیح فکر سے تجاوز کرجائے جو حق سے سرکشی کرے ۔ جو ان حدود سے آگے بڑھ جائے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے قائم کئے ہیں ۔ اس کا اللہ کے بارے میں کوئی باضابطہ عقیدہ نہ ہو ۔ وہ اللہ کی شریعت کا پابند نہ ہو۔ اسی طرح ہر وہ نظام طاغوتی نظام ہے جو ذات باری سے اخذ نہ کیا گیا ہو۔ اسی طرح ہر وہ عقیدہ ، وہ تمام عادات وتقالید جو ذات باری سے مستفاد نہ ہوں ، طاغوت ہیں ۔ پس راہ راست پر وہی شخص ہے جو طاغوت کی ان تمام شکلوں اور تمام صورتوں کا انکار کردے اور صرف اللہ وحدہ پر ایمان لائے اور وہی کامیاب ہے ۔ اور اس کی مثال اس طرح ہے جس طرح ایک شخص مشکل حالات میں ایک مضبوط سہارا تھام لے جو گرنے والا نہ ہو۔
یہاں آکر ہم اپنے آپ کو ایک شعوری حقیقت کی محسوس تصویر سامنے پاتے ہیں ۔ اللہ پر ایمان لانا دراصل ایک ایسے سہارے کا دستیاب ہونا ہے جس کے کبھی کوئی زوال نہیں ہے ۔ یہ ایک ناقابل انقطاع ٹھوس سہارا ہے جو شخص بھی اس سہارے کو مضبوطی سے پکڑلے وہ کبھی بھی گمراہ نہ ہوگا۔ اس سہارے کا براہ راست اس ذات سے تعلق ہے جو کامیابی اور ناکامی کا مالک ہے ۔ ایمان دراصل اس حقیقت کبریٰ تک رسائی کا نام ہے جس کی ذات سے اس کائنات کے تمام حقائق قائم ہیں یعنی ذات باری تک رسائی ۔ ایمان اس ناموس اکبر تک رسائی کا نام ہے جو ذات باری نے کائنات کے لئے وضع کیا ہے ۔ اور جس پر یہ کائنات قائم ہے ۔ اور جو شخص ایمان کو مضبوط کرلیتا ہے وہ راہ راست پر پڑ کر اپنے رب تک جاپہنچتا ہے ۔ اس کے پاؤں نہیں ڈگمگاتے ۔ وہ پیچھے نہیں رہتا اور نہ وہ بھول بھلیوں میں پڑتا ہے ۔ نہ بےراہ روی میں پڑتا ہے اور نہ گمراہی کا شکار ہوتا ہے۔
وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ................ ” اور اللہ سن کچھ سننے اور جاننے والا ہے ۔ “ وہ مختلف بولیوں کی بات سنتا ہے ۔ وہ دلوں کے مضمرات کو جانتا ہے ۔ اس لئے جو شخص اس ذات پر ایمان لے آئے وہ گھاٹے میں نہ رہے گا۔ اس پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اور نہ ہی وہ کبھی ناکام ہوگا۔