سورۃ البیینہ: آیت 8 - جزاؤهم عند ربهم جنات عدن... - اردو

آیت 8 کی تفسیر, سورۃ البیینہ

جَزَآؤُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًا ۖ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِىَ رَبَّهُۥ

اردو ترجمہ

اُن کی جزا اُن کے رب کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ کچھ ہے اُس شخص کے لیے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Jazaohum AAinda rabbihim jannatu AAadnin tajree min tahtiha alanharu khalideena feeha abadan radiya Allahu AAanhum waradoo AAanhu thalika liman khashiya rabbahu

آیت 8 کی تفسیر

جزاءھم ................................ ابدا (8:98) ” ان کی جزا ان کے رب کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے “۔ ایسے باغات جن کی نعمتوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں مکمل امن ہوگا ۔ اور ان کے فنا ہونے اور رک جانے کا کوئی خطرہ نہ ہوگا۔ فنا ہونے اور امن و اطمینان کا ختم ہوجانا دنیا کی تمام سہولیات اور طیبات کا مزہ خراب کردیتا ہے اور ان تروتازہ باغوں کے نیچے نہروں کا بہنا ، اس طرف اشارہ ہے کہ ان باغات میں تازگی اور بہار دائمی ہوگی اور یہ زندگی اور جمال سے بھرپور ہوں گے۔

اس دائمی نعمت و رحمت کی تصویر کسی میں سیاق کلام دوقدم اور آگے جاتا ہے۔

ؓ ............................ ربہ (8:98) ” اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے “۔ یہ رضامندی اللہ کی جانب سے ہے او یہ تمام نعمتوں سے برتر اور تمام خوشیوں سے تروتازہ ہے۔ خود ان اہل ایمان کے دلوں میں جو رضامندی ہے وہ رب کی رضامندی ہے۔ اور یہ رضامندی ہے کہ ان کے بارے میں تقدیر الٰہی جو فیصلہ کرتی ہے وہ اس پر راضی ہیں۔ اور اللہ نے ان پر جو انعامات کیے ہیں اس پر بھی وہ راضی ہیں اور اپنے اور اللہ کے درمیان پائے جانے والے تعلق پر بھی راضی ہیں۔ یہ ایسی رضامندی ہے کہ اس سے انسان گہری خوشی اور مسرت و اطمینان محسوس کرتا ہے۔ یہ انداز کہ ” اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں “۔ ایک ایسا انداز ہے جس کی تعبیر کیسی دوسرے الفاظ میں نہیں جاسکتی۔

ذلک لمن خشی ربہ (8:98) ” یہ کچھ ہے اس شخص کے لئے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو “۔ یہ آخری تاکید ہے ، یہ کہ یہ سب کچھ اس پر موقوف ہے کہ کسی کا تعلق باللہ کیسا ہے۔ اور اس تعلق کی نوعیت کیسی ہے۔ یاد رہے کہ کسی دل میں جب خدا کے خوف کا شعور پیدا ہوتا ہے تو یہ شعور انسان کو نیکی پر آمادہ کرتا ہے اور ہر قسم کی کج روی سے انسان کو روکتا ہے۔ یہی شعور ہے جو انسان کی آنکھوں کے سامنے سے تمام پردے ہٹا دیتا ہے۔ اور انسان کا دل اللہ واحدوقہار کے سامنے براہ راست کھڑا ہوتا ہے ، اور اس شعور کی وجہ سے انسان کی عبادت اور اس کے اعمال صالح ہر قسم کی شرک ، ریاکاری سے پاک ہوجاتا ہیں۔ اس لئے کہ جو شخص اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ اس کا دل غیر اللہ کے ڈر سے خالی ہوجاتا ہے ، کسی دوسرے کی رو رعایت وہ نہیں کرتا۔ یہ شعور انسان کو یہ یقین دلا دیتا ہے کہ اللہ تمام ایسے اعمال کو رد کردیتا ہے جن میں اس کی رضامندی کے سوا کوئی اور جذبہ بھی ہو ، اللہ غنی بادشاہ ہے ، اس کے لئے تو خالص عمل ہوگا ورنہ وہ اسے رد کردے گا۔

اسی مختصر سی سورت میں یہ چار عظیم حقائق قلم بند کیئے گئے ہیں اور قرآن نے ان حقائق کو اپنے مخصوص اسلوب میں بیان کیا ہے اور یہ اسلوب ان چند سطروں والی سورت میں بہت اچھی طرح نمایاں ہے۔

آیت 8{ جَزَآؤُہُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًاط } ”ان کا بدلہ ہوگا ان کے رب کے پاس دائمی قیام کے باغات کی صورت میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی ‘ ان میں وہ رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔“ یہاں پر ضمنی طور پر یہ علمی نکتہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ قرآن مجید میں دو مقامات ایسے ہیں جہاں اہل جنت اور اہل جہنم کے فوری تقابل simultaneous contrast میں اہل جنت کے لیے { خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا } جبکہ اہل جہنم کے لیے صرف { خٰلِدِیْنَ فِیْہَا } کے الفاظ آئے ہیں۔ ان میں ایک مقام تو یہی ہے۔ یعنی اس سورت کی زیر مطالعہ آیت میں اہل جنت کے لیے { خٰلِدِیْنَ فِیْہَـآ اَبَدًا } کے الفاظ آئے ہیں ‘ جبکہ اس سے پہلے آیت 6 میں اہل جہنم کا ذکر کرتے ہوئے { خٰلِدِیْنَ فِیْہَا } کے الفاظ تک اکتفاء فرمایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سورة التغابن کی آیت 9 اور آیت 10 میں بھی اہل جنت اور اہل جہنم کے تقابل کے حوالے سے یہی فرق دیکھنے میں آتا ہے۔ ان دونوں مقامات میں مذکورہ فرق کی بنیاد پر امت مسلمہ کی دو بہت بڑی علمی شخصیات نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جنت اور اس کی نعمتیں تو ابدی ہیں ‘ لیکن جہنم ابدی نہیں ہے اور یہ کہ کبھی ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب اہل جہنم میں سے خیر کے حامل آخری عناصر کو نکال کر باقی لوگوں کو مدت مدید تک مبتلائے عذاب رکھنے کے بعد بالآخر اس میں جلا کر معدوم کردیا جائے گا اور اس کے بعد جہنم کو بھی ختم کردیا جائے گا۔ اس موقف کی حامل دو شخصیات میں ایک تو شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رح ہیں جن کا شمار چوٹی کے صوفیاء میں ہوتا ہے اور دوسری شخصیت امام ابن تیمیہ رح کی ہے جو سلفی حضرات کے نزدیک اسلامی دنیا کے سب سے بڑے امام اور عالم ہیں۔ امام ابن تیمیہ رح کا اس نکتے پر محی الدین ابن عربی رح سے متفق ہوجانا یقینا ایک اہم بات اور ”متفق گردید رائے بوعلی بارائے من“ والا معاملہ ہے ‘ کیونکہ مجموعی طور پر وہ محی الدین ابن عربی رح کے خیالات ونظریات سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ جہنم کے ابدی نہ ہونے سے متعلق میں نے یہاں مذکورہ دو شخصیات کی آراء کا ذکر محض ایک علمی نکتے کے طور پر کیا ہے ‘ عام اہل سنت کا عقیدہ بہرحال یہ نہیں ہے۔ اہل سنت علماء کے نزدیک جہنم بھی جنت کی طرح ابدی ہی ہے۔ { رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُط } ”اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے۔“ یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ وہ اللہ سے خوش ہوجائیں گے۔ { ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ رَبَّہٗ۔ } ”یہ صلہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔“ اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! آمین ‘ ثم آمین !

آیت 8 - سورۃ البیینہ: (جزاؤهم عند ربهم جنات عدن تجري من تحتها الأنهار خالدين فيها أبدا ۖ رضي الله عنهم ورضوا عنه ۚ ذلك...) - اردو