واخری لم تقدروا ۔۔۔۔ کل شیء قدیرا (48 : 21) “ اس کے علاوہ دوسری اور غنیمتوں کا بھی وہ تم سے وعدہ کرتا ہے جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے۔ اور اللہ نے ان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ”۔ اس کے “ علاوہ ” کے بارے میں روایات میں اختلاف ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہے ؟ یا فتح خیبر ہے ؟ یا قیصرو کسریٰ کی مملکتوں کی فتوحات ہیں ؟ یا اس سے وہ تمام فتوحات مراد ہیں جو صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں کو نصیب ہوتی رہیں ؟
زیادہ مناسب یہی ہے کہ اس سے مراد فتح مکہ ہو کیونکہ یہ صلح حدیبیہ کے بعد ہوا اور اس فتح کے اسباب صلح حدیبیہ ہی نے فراہم کئے۔ یہ صلح صرف دو سال تک جاری رہ سکی۔ اس کے بعد مشرکین مکہ نے اس عہد کو توڑ دیا۔ اس طرح اللہ نے اس فتح کی راہ ہموار کردی اور مکہ مکرمہ بغیر جنگ کے فتح ہوگیا۔ یہ مکہ ہی تھا جو مسلمانوں کے خلاف لشکر کشی کیا کرتا تھا اور مسلمانوں کے گھر کے اندر آکر لڑتا تھا اور حدیبیہ کے وقت بھی اسی نے مسلمانوں کو بغیر عمرہ واپس کردیا۔ اللہ نے اسے گھیر لیا اور بغیر جنگ کے یہ قبضے میں آگیا۔
وکاین اللہ علی کل شیء قدیرا (48 : 21) “ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ”۔ یہ بھی دراصل ایک در پردہ خوشخبری تھی ۔ اس وقت اللہ نے اسے ظاہر نہیں کیا تھا اور ان غیبی امور میں سے تھا جو ابھی ظاہر نہیں ہوئے تھے۔ یہاں اس کی طرف اشارہ کردیا گیا تا کہ لوگ مطمئن اور پر امید ہوں اور خوش ہوں۔
آیت 21 { وَّاُخْرٰی لَمْ تَقْدِرُوْا عَلَیْہَا قَدْ اَحَاطَ اللّٰہُ بِہَا } ”اور کچھ فتوحات اور بھی ہیں جن پر ابھی تمہیں قدرت حاصل نہیں ہوئی ‘ اللہ ان کا بھی احاطہ کیے ہوئے ہے۔“ یعنی اس کے فوراً بعد تمہیں خیبر کی فتح حاصل ہوگی اور اس کے بعد مکہ بھی فتح ہوجائے گا۔ ان کے علاوہ سرزمین عرب سے باہر بھی بہت سی فتوحات اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے گھیر رکھی ہیں۔ ان فتوحات کے بارے میں دوسرے رکوع آیت 16 میں بھی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ تیسرے رکوع کی یہ آیات دوسرے رکوع کی آیات سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ { وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرًا } ”اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔“