ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا (48 : 23) “ اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ”۔ اب اللہ فرماتا ہے کہ یہی حکمت تھی کہ وادی مکہ میں اللہ نے کافروں کو توفیق نہ دی کہ وہ مسلمانوں پر ہاتھ ڈالیں اور مسلمانوں کو بھی توفیق نہ دی کہ وہ مشرکین مکہ پر اس وقت ہاتھ ڈالیں جب وہ ان کے قابو میں آگئے تھے۔ یہ ان چالیس آدمیوں کی طرف اشارہ ہے۔ چالیس ہوں یا کم و بیش ۔ جو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے آئے تھے۔ یہ پکڑے گئے اور رسول اللہ ﷺ نے معاف کردیا۔
آیت 23 { سُنَّۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ ”یہ اللہ کا وہ دستور ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔“ یعنی یہ اللہ کا قانون ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں کی مدد کرتا ہے۔ چناچہ اگر قریش مکہ اس موقع پر آپ ﷺ کے ساتھ جنگ کرتے تو اللہ اپنی سنت کے مطابق آپ لوگوں کی مدد کرتا اور ایسی صورت میں انہیں پیٹھ دکھانا پڑتی اور شکست ان کا مقدر بنتی۔ { وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًا } ”اور تم ہرگز نہیں پائو گے اللہ کے قانون میں کوئی تبدیلی۔“