یہ ایک واقعہ تھا جو ہوچکا تھا اور سامعین اسے خوب جانتے تھے ۔ اللہ اس انداز میں اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ بتائیں کہ جو واقعات بھی ہوئے ان میں اللہ کی تدبیر اور تقدیر کام کر رہی تھی ، اور اس سے قرآن مجید ان کے دلوں میں اس احساس کو گہرا کر رہا تھا کہ اللہ کا ہاتھ ان کے لئے تدبیر کر رہا ہے ، ان کی قیادت اللہ کے رسول کے ذریعہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اور اللہ ان کے میلانات کو بھی کنٹرول کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کے لئے ہوجائیں۔ اپنے نفوس کو اللہ کے سپرد کردیں اور انہیں احکام الٰہی میں کوئی تردد نہ رہے۔ بالکل ادھر ادھر نہ دیکھیں اور پوری طرح اسلام میں داخل ہوجائیں۔ اپنے احساسات ، اپنے جذبات ، اپنا رخ اور اپنی سرگرمیاں اللہ کے حوالے کردیں اور یہ یقین کرلیں کہ تمام معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور یہ کہ خیر وہی ہے جسے اللہ اختیار کرے اور یہ کہ وہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے مطابق چل رہے ہیں۔ چاہے وہ کوئی بات اختیار کریں یا اسے رد کردیں اور اللہ بہرحال مسلمانوں کی بھلائی چاہتا ہے ، تو اب اگر وہ اللہ کے احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کردیں تو یہ بھلائی بڑی آسانی کے ساتھ حاصل ہوجائے گی۔ اللہ علیم وبصیر ہے۔ ظاہر اور پوشیدہ سب کو جانتا ہے وہ علم و بصیرت کے ساتھ ان کے لئے راہ تجویز کرتا ہے۔ وہ ان کو ہرگز برباد ہونے نہیں دیتا۔ نہ اللہ کسی ایسی چیز کو ان سے روکتا ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔
وکان اللہ بما تعملون بصیرا (48 : 24) “ اور جو کچھ تم کر رہے ہو ، اللہ اسے دیکھ رہا ہے ”۔
آیت 24 { وَہُوَ الَّذِیْ کَفَّ اَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ } ”اور وہی ہے جس نے روک دیے ان کے ہاتھ تمہاری طرف بڑھنے سے اور تمہارے ہاتھ ان کی طرف بڑھنے سے مکہ کی وادی میں“ { مِنْم بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ } ”اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر فتح دے دی تھی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے قریش ِمکہ ّکے حوصلے پست کردیے گئے تھے جس کی وجہ سے ان کے لیے مسلمانوں کا مقابلہ کرنا ممکن نہ رہا اور انہوں نے اپنی تمام تر طاقت کے باوجود مسلمانوں کو اپنے برابر کا فریق تسلیم کرتے ہوئے ان سے صلح کرلی۔ اس صلح میں اگلے سال مسلمانوں کے عمرہ کرنے اور اس دوران مکہ شہر کو تین دن کے لیے مکمل طور پر خالی کردینے جیسی شرائط بھی شامل تھیں۔ دیکھا جائے تو قریش مکہ کے لیے مسلمانوں کو اپنا ہم ‘ پلہ ّسمجھتے ہوئے صلح کرنا اور پھر ایسی شرائط تسلیم کرلینا موت کا سامنا کرنے سے بھی زیادہ مشکل تھا۔ بہر حال اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے انہیں اندرونی طور پر اس قدر کمزور کردیا تھا کہ وہ یہ سب کچھ قبول کرنے پر آمادہ ہوگئے اور اس کے مقابلے میں وہ مسلمانوں سے صرف ایک یہ بات منوا سکے کہ اس سال عمرہ ادا کیے بغیر واپس چلے جائیں تاکہ وقتی طور پر ان کی ”ناک“ مکمل طور پر کٹنے سے بچ جائے۔ { وَکَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا } ”اور جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔“