آیت نمبر 28 تا 35
یہ وہ عظیم گفتگو ہے ، جو رجل مومن نے سازشی حاشیہ نشینوں کے ساتھ کی۔ اس شخص نے نہایت فطری انداز میں ، نہایت احتیاط کے ساتھ ، نہایت مہارت اور زور دار انداز میں یہ بات کی۔ پہلے تو اس نے یہ کہا کہ تم جو تجویز پیش کررہے ہو اور وہ نہایت گھناؤنی تجویز ہے۔
اتقتلون۔۔۔ اللہ (40: 28) ” کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناء پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے “۔
کیا یہ کوئی جرم ہے کہ کوئی ایک خدا ہونے کا عقیدہ رکھے۔ یہ ہر کسی کا حق ہے کہ وہ وہی عقیدہ رکھے جس پر اس کا قلب اور اس کا نفس مطمئن ہو۔ کسی عقیدے پر کوئی اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس کی جان لے لی جائے ۔ یہ تو نہایت مکروہ اور ظالمانہ بات ہے اور اس کی کراہت اور برائی اور گھناؤنا پن بالکل ظاہر ہے۔
اس کے بعد یہ شخص ایک قدم آگے بڑھتا ہے کہ یہ شخص جو کہتا ہے کہ ” میرا رب صرف اللہ ہے “۔ تو وہ بےدلیل بات بھی نہیں کرتا ، وہ دلیل وبرہان اور معجزات دکھا کر بات کرتا ہے۔
وقد جاء کم بالبینت من ربکم (40: 28) ” حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلائل لے کر آیا ہے “۔ اشارہ ان معجزات کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ نے پیش فرمائے۔ اور انہوں نے بچشم سردیکھے اور جمہور عوام سے دور اپنی اونچی محفل میں تو وہ ان معجزات کا انکار بھی نہیں کرسکتے اور نہ شک کرسکتے ہیں۔
اب یہ شخص بطور فرض ان کے سامنے اس قدام کے برے نتائج کرتا ہے اور اس مسئلہ کا ایک منصفانہ حل پیش کرتا ہے کہ تم اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو فرض کرسکتے ہو وہ یہ ہے۔
وان یک کاذبا فعلیه کذبه (40: 28) ” اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اسی پر پلٹ پڑے گا “۔ اپنے جھوٹ کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ اور اپنے انجام تک پہنچ جائے گا اور اپنے جرم کی سزا پائے گا۔ محض جھوٹ بولنے پر تم کسی شخص کو کیسے قتل کرسکتے ہو۔
لیکن ایک دوسرا احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ یہ شخص سچا ہو ، لہٰذا تم اسکو بھی بطور احتیاط پیش نظر رکھو اور اپنے آپ کو برے نتائج کا مستحق نہ ٹھہراؤ۔
وان یک۔۔۔ یعدکم (40: 28) ” لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرورہی آجائیں گے “۔ وہ جن چیزون سے تمہیں ڈراتا ہے ان میں بعض کا تو احتمال پیش نظر رکھو ، یہ شخص ان کو تمام امور سے نہیں ڈراتا بلکہ مباحثے کو کم کرنے کے لیے بعض کے احتمال کا ذکر کرتا ہے یعنی اپنی بات کو منصفانہ بناتا ہے۔ اب وہ مزید اصولی بات کرتا ہے جو دونوں فریقوں پر منطبق ہوسکتی ہے اگرچہ خفیہ اشارہ ان کے لیے ہے۔
ان اللہ لایھدی من ھو مسرف کذاب (40: 28) ” اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو “۔ اگر موسیٰ جھوٹا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت بھی نہ دے گا اور توفیق بھی نہ دے گا۔ پھر چھوڑ دو اسے کہ اپنے انجام کو پہنچے۔ اور اگر تم جھوٹے ہو اور موسیٰ جھوٹ بک رہے ہو اور اس کے بارے میں حد سے گزر رہے ہو تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔
جب اس نے ان کو اس بات سے ڈرایا کہ اللہ حد سے گزرنے والوں اور جھوٹوں کو ہدایت نہیں دیتا تو اب مزید کہتا ہے اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو ہمیں کون بچا سکتا ہے اللہ کے عذاب سے کیونکہ موجودہ قوت اور سلطنت اور اقتدار کا ہم شکر ادا نہیں کررہے ہیں ، کفران نعمت کررہے ہیں اور قوت کے بل بوتے پر ایک شخص کو قتل کرنے جارہے ہیں۔
یٰقوم لکم۔۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اے میری قوم کے لوگو ، آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔ اس شخص کو وہ مکمل شعور حاصل ہے جو ایک صحیح مومن کو حاصل ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب بادشاہوں ، برسر اقتدار طبقات اور زمین پر بااختیار لوگوں پر سب سے پہلے آتا ہے اور ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کے عذاب سے زیادہ ڈریں۔ یہ عذاب تو رات اور دن کے ہر لمحے میں تمہارے انتظار میں ہے۔ اس لیے یہ شخص ان کو یاد دلاتا ہے کہ تم زمین کے مقتدر اعلیٰ ہو ، بادشاہ ہو ، لہٰذا تمہیں اللہ سے ، ان کے مقابلے میں زیادہ ڈرنا چاہئے۔ یہ بات اس رجل مومن کے احساسات کا حصہ ہے ، اور جب اللہ کے عذاب کی بات وہ کرتا ہے تو اپنے آپ کو ان میں شامل کرتا ہے۔
فمن ینصرنا۔۔۔ جآءنا (40: 29) ” اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا “۔
جب تقریر یہاں تک پہنچی ہے تو فرعون کے اندر وہی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو ہر سرکش پر طاری ہوتا ہے۔ جھوٹا وقار ہر شخص کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ اور ایسا شخص خالص نصیحت کو بھی سلطنت اور اختیارات پر حملہ تصور کرتا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ نصیحت کرنے والا کہیں اقتدار میں شرکت چاہتا ہے۔
قال فرعون۔۔۔۔ الرشاد (40: 29) ” فرعون نے کہا ، میں تو لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے۔ اور میں اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں ، جو ٹھیک ہے “۔ میں تمہیں وہی کچھ کہتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں۔ اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ مفید ہے اور بغیر صحیح راستہ ہے۔ ظاہر ہے کہ سرکش ڈکٹیٹر جو سوچتا ہے وہی درست ہوتا ہے۔ کسی کو یہ کیسے اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ سوچے کہ بادشاہ غلط بھی سوچ سکتے ہیں یا کسی کو یہ اختیار کب ہے کہ وہ شاہ یاڈکٹیٹر کی رائے ہوتے ہوئے کوئی دوسری رائے رکھے۔ اگر یہ بات ہودسکتی ہے تو پھر وہ کس چیز کے بادشاہ اور ڈکٹیٹر ہیں !
لیکن رجل مومن کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ شاہ کے مقابلے میں مستقل سوچ رکھے۔ پھر ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو ڈرائے اور متنبہ کرے اور نصیحت کرے اور ایمانداری سے اس کی جو رائے ہے ، اس کا اظہار کرے۔ اور اس بات کو اپنا فریضہ سمجھے کہ جس رائے کو وہ حق سمجھتا ہے ، اس کی حمایت کرے ، سرکشوں ، ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کی جو رائے ہو ، سو ہو۔ اس لیے یہ رجل مومن اس دوسرے زاویہ سے ان کے دل و دماغ پر دستک دیتا ہے کہ شاید وہ احساس کرلیں ، جاگ اٹھیں اور ان کے اندر ارتعاش پیدا ہو اور وہ نرم ہوجائیں ، اس لیے وہ ان کو تاریخ میں گزری ہوئی سرکش اقوام کے برے انجام کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ تاریخ کے اندر بیشمار ایسے واقعات موجود ہیں جو بتاتے ہیں کہ سرکشوں اور حد سے گزرنے والوں کو اللہ نے پکڑا ہے۔
وقال الذی۔۔۔۔۔ للعباد (40: 30 تا 31) ” وہ شخص جو ایمان لایا تھا ، اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، مجھے خوف ہے ، کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے ، جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعدوالی قوموں پر آیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ ہر جتھے کا ایک دن علیحدہ تھا۔ لیکن رجل مومن نے تمام علیحدہ علیحدہ دنوں کی تعبیر ایک ہی دن سے کردی۔
مثل یوم الاحزاب (40: 30) وہ گویا ایک ہی دن تھا ، جس کی نوعیت ایک طرح تھی۔ اگرچہ احزاب بہت تھے۔
وما اللہ یرید ظلماللعباد (40: 31) ” اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا “۔ اللہ ان کے گناہوں پر انہیں پکڑتا ہے۔ اور ان لوگوں کے انجام کو دیکھ کر دوسرے لوگ جو ان کے اردگرد بستے ہیں ، ان کی اصلاح ہوجاتی ہے اور جو لوگ ان ہلاک شدہ اقوام کے بعد آتے ہیں ان کو عبرت ہوتی ہے۔ اب یہ رجل مومن ان کے دلوں پر ایک اور دستک دیتا ہے اور یہ اللہ کے دنوں میں سے بڑے دن یوم آخرت کو یاد دلاتا ہے۔ اسے یہاں فریادوفغاں کا دن کہا گیا ہے۔
ویٰقوم انی۔۔۔۔ من ھاد (40: 32 تا 33) ” اے قوم ، مجھے ڈر ہے کہ کہیں فریادوفغاں کا دن نہ آجائے جب تم ایک دوسرے کو پکاروگے اور بھاگے بھاگے پھروگے ، مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا “۔
تناوی کے معنی ہیں باہم پکار ، اس دن ملائکہ جو لوگوں کو پکڑ کر حساب و کتاب کے لیے لائیں گے اور ایک دوسرے کو احکامات دیتے ہوئے پکاریں گے۔ پھر اصحاب اعراف جنت والوں کو پکاریں گے ، اور دوزخ والوں کو بھی پکاریں گے اور دوزخی جنت والوں کو پکاریں گے لہٰذا مختلف صورتوں میں لوگ ایک دوسرے کو پکاریں گے اس لیے قامت کے دن کو یوم القاد کیا گیا ہے جس کے مفہوم میں باہم چیخ و پکار اور فریادوفغاں شامل ہے۔ ہر طرف سے دوڑ دھوپ اور شور ہوگا۔ یہ مفہوم رجل مومن کے اس قول کے مطابق ہے۔
یوم تولون۔۔۔۔ من عاصم (40: 33) ” جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا “۔ یہ جہنم کے خوف سے بھاگنے کی کوشش بھی کریں گے لیکن بھاگ نہ سکیں گے۔ یہاں فریادوفغاں اور فرار اور پکڑے جانے کی جو
تصویر کھینچی گئی ہے ، وہ ان متکبرین کے لیے نہایت ہی مناسب ہے ، جو یہاں جاہ مرتبہ رکھتے ہیں کہ وہاں یہ حالت ہوگی تمہاری۔
ومن یضلل اللہ فماله من ھاد (40: 33) ” سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں “۔ اس میں ایک خفیہ اشارہ فرعون کے اس قول کی طرف ہے۔
ومآ اھدیکم الاسبیل الرشاد (40: 29) ” اور میں تو صرف صحیح راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں “۔ اشارہ یہ ہے کہ ہدایت والا راستہ تو وہ ہے جو اللہ بتائے اور فرعون کا بتایا ہوا راستہ وہ نہیں ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ کیونکہ اللہ لوگوں کی حقیقت اور ان کے حالات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کے لیے ہدایت کا راستہ کیا ہے اور ضلالت کیا ہے۔ آخر میں یہ رجل مومن ان کو یاد دلاتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت (علیہ السلام) کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا تھا۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) انہی کی اولاد سے تھے۔ یہ مصری حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رسالت میں بھی شک کرتے تھے حالانکہ آپ آیات اور نشانیاں لے کر آئے تھے۔ لہٰذا وہی سلوک حضرت موسیٰ سے نہ دہراؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تصدیق فرما رہے ہیں۔ تم نے حضرت یوسف کی تعلیمات میں بھی شک کیا اور یہ غلط تصور قائم کردیا تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بعد اللہ کسی کو رسول بناکرنہ بھیجے گا۔ حضرت موسیٰ حضرت یوسف کے ایک عرصہ بعد آگئے ہیں اور انہوں نے تمہارے اس اعتقاد کی تکذیب کردی ہے کہ اب رسالت ختم ہے۔
ولقد جآء کم۔۔۔۔۔۔ متکبر جبار (40: 34 تا 35) ” اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بنیات لے کر آئے تھے مگر تم ان کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا “۔ اسی طرح ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔
یہ واحد جگہ ہے جس میں قرآن نے حضرت یوسف کی رسالت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کو مصر والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا۔ سورت یوسف سے ہمیں یہ معلوم ہوگیا ہے کہ آپ کو مصر کے خزانے حوالے کردیئے گئے تھے۔ آپ ان میں خود مختاری کے ساتھ تصرف کررہے تھے اور آپ ” عزیز مصر “ کے مرتبے تک پہنچ گئے تھے ۔ یوں لگتا ہے کہ یہ اس وقت مصری وزیزاعظم کا لقب تھا۔ سورت یوسف میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ مصر کے تخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات یقینی نہیں کہ آپ بادشاہ مصر بن گئے تھے۔
ورفع ابویه۔۔۔۔ ربی حقا (یوسف :100) ” اور انہوں نے اپنے والدین کو تخت پر اٹھایا۔ وہ اس کے سامنے سجدے میں کرگئے اور اس نے کہا اے باپ ! یہ ہے تاویل میرے خواب کی جو میں نے پہلے دیکھی تھی ، جسے اللہ نے حق بنادیا “۔
یہ ہوسکتا ہے کہ جس تحت پر آپ نے اپنے والدین کو اٹھا کر بٹھایا وہ کوئی اور ممتاز جگہ ہو اور مملکت مصرکاتحت نہ ہو جس پر
فرعون بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن ان آیات سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ حضرت یوسف اقتدار اعلیٰ تک پہنچ گئے تھے۔ اس لیے ہم رجل مومن کے اس قول کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں کہ ان کو حضرت یوسف کی تعلیمات کے بارے میں شک تھا۔ البتہ حضرت یوسف چونکہ اقتدار کے بہت ہی اعلیٰ مقام پر تھے اس لیے لوگ آپ کی مخالفت میں آواز نہ اٹھاتے تھے۔
حتی اذا۔۔۔۔ بعدہ رسولا (40: 34) ” یہاں تک کہ جب آپ فوت ہوگئے تو تم نے کہا اس کے بعد اللہ ہرگز کوئی رسول نہ بھیجے گا “۔ گویا آپ کی موت سے ان کو بےحد خوشی ہوئی اور خوشی کا اظہار انہوں نے اس شکل میں کیا کہ رسالت کا خاتمہ کردیا کیونکہ شاید وہ آپ کی تعلیمات کو پسند نہ کرتے تھے کیونکہ آپ تو توحید خالص کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ تعلیم جیسے آپ کی تقریر زنداں سے واضح ہے۔
ء ارباب۔۔۔۔ القھار (12: 39) ” کیا کئی رب بہتر ہیں یا ایک اللہ واحد اور زبردست “۔ انہوں نے یہ عقیدہ اس لیے اختیار کیا کہ حضرت یوسف کے بعد کوئی رسول نہ آئے اس لیے وہ اس طرح چاہتے تھے۔ بعض اوقات ایک شخص ایک چیز کو بہت پسند کرتا ہے۔ پھر وہ اس بات کی تصدیق کردیتا ہے کہ یہ بات واقع ہوگئی ہے کیونکہ اس طرح اس کی خواہش پوری ہوتی ہے۔
رجل مومن کا اندازیہاں قدرے سخت ہوجاتا ہے۔ جب وہ یہ کہتا ہے تم شک کرتے ہو اور حد سے گزرکرتکذیب کرتے ہو۔
لذلک ۔۔۔ مرتاب (40: 34) ” اللہ ان لوگوں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شک کرنے والے ہوتے ہیں “۔ یہ رجل مومن ان کو ڈراتا ہے کہ اللہ نے جو دعوت نشانیوں کے ساتھ بھیجی ہے اس کے بارے میں جو حد سے گزرے گا اور اس میں شک کرے گا ، تو اللہ اسے گمراہ کردے گا ، وہ تو دیکھ رہا ہے۔ اس کے بعد بڑی سختی سے ان کو بتلاتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بلاحجت و دلیل جھگڑتے ہیں ، ان کو مومنین اور اللہ دونوں ناپسند کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا رویہ بہت ہی برا ہے۔ اور ان کے تکبر اور جبر کے رویہ پر بھی یہ شخص تنقید کرتا ہے اور ان کو اللہ کی پکڑ سے ڈراتا ہے اور اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ جباروں اور قہاروں کو بالاخر پکڑتا ہے !
الذین یجادلون۔۔۔۔۔ متکبرجبار (40: 35) ” اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر وجبار کے دل پت ٹھپہ لگا دیتا ہے “۔ رجل مومن کی زبانی جو بات کی گئی وہی بات سورت کے آغاز میں براہ راست بھی کہی گئی کہ جو لوگ اللہ کی آیات میں بغیر دلیل وحجت کے مجادلہ کرتے ہیں ، ان کے دلوں میں ہدایت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور نہ ان کا دماغ حقیقت کے ادراک تک پہنچ سکتا ہے۔
رجل مومن کی اس طویل ترین تقریر کے باوجود جس میں انکو تاریخ کے سب سے نشیب و فراز دکھائے گئے اور انکو متاثر کرنے کی سعی کی گئی ، فرعون اپنی گمراہی میں آگے ہی بڑھتا رہا اور اسنے حق کو پہنچاننے کی کوئی سعی نہ کی لیکن بظاہر اسنے یہ احمقانہ رویہ اختیار رویہ اختیار کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دعا دی کی تحقیقات کررہا ہے بہرحال رجل مومن کی تقریر کا یہ اثر ضرور ہوا کہ
فرعون کسی نہ کسی انداز میں اس تحریک کے بارے میں تحقیق پر آمادہ ہوا یوں فرعون نے مجلس سیوخ کی رائے کو براہ راست ردنہ کیا
آیت 28 { وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌق مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ اِیْمَانَہٗ } ”اور آل فرعون میں سے ایک مومن مرد نے ‘ جو ابھی تک اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا ‘ کہا :“ اس مرحلے پر اس مرد مومن نے صورت حال کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے کلمہ حق زبان پر لانے کا فیصلہ کرلیا۔ چناچہ اس نے تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر بھرے دربار میں اس مطلق العنان فرعون کے سامنے کھڑے ہو کر ”حق گوئی و بےباکی“ کی ایسی مثال قائم کی کہ اس کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور جملے گویا ع ”موتی سمجھ کے شان کریمی نے ُ چن لیے !“ اور پھر ان موتیوں کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے جاں نثارانِ حق کی آنکھوں کی طراوت کے لیے صفحاتِ قرآن کی زینت بنا دیا۔ چناچہ فرعون نے جونہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قتل کی قرارداد پیش کی ‘ یہ مرد مومن فوراً بول اٹھا اور اس نے فرعون اور تمام اہل دربار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا : { اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ } ”کیا تم قتل کرنا چاہتے ہو ایک شخص کو محض اس لیے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے !“ کیا کسی شخص کا اللہ کو رب ماننا تمہارے نزدیک اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کی پاداش میں تم اس کی جان کے درپے ہوگئے ہو ؟ ایک مرتبہ جب مشرکین مکہ نے حضور ﷺ کی سر عام ہجو کی اور آپ ﷺ پر حملہ آور ہوئے تو اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق رض بیچ میں آگئے اور انہوں رض نے مشرکین مکہ کو مخاطب کر کے یہی الفاظ دہرائے تھے : اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلًا اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ 1 ”کیا تم لوگ ایک شخص محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان کے درپے صرف اس لیے ہو رہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے !“ { وَقَدْ جَآئَ کُمْ بِالْبَیِّنٰتِ مِنْ رَّبِّکُم } ”حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے۔“ { وَاِنْ یَّکُ کَاذِبًا فَعَلَیْہِ کَذِبُہٗ } ”اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر آئے گا۔“ { وَاِنْ یَّکُ صَادِقًا یُّصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذِیْ یَعِدُکُمْ } ”اور اگر وہ سچا ہوا تو تمہیں وہ بعض باتیں پہنچ کر رہیں گی جن کے بارے میں وہ تمہیں وعید سنا رہا ہے۔“ ایسی صورت میں تم پر عذاب الٰہی کی مار پڑے گی اور تم تباہ و برباد کردیے جائو گے۔ { اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِیْ مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ } ”یقینا اللہ تعالیٰ راہ یاب نہیں کرتا اس کو جو حد سے بڑھنے والا ‘ بہت جھوٹا ہو۔“
ایک مرد مومن کی فرعون کو نصیحت۔مشہور تو یہی ہے کہ یہ مومن قبطی تھے (ؒ تعالیٰ) اور فرعون کے خاندان کے تھے۔ بلکہ سدی فرماتے ہیں فرعون کے یہ چچا زاد بھائی تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے بھی حضرت موسیٰ کے ساتھ نجات پائی تھی۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں۔ بلکہ جن لوگوں کا قول ہے کہ یہ مومن بھی اسرائیلی تھے۔ آپ نے ان کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اگر یہ اسرائیلی ہوتے تو نہ فرعون اس طرح صبر سے ان کی نصیحت سنتا نہ حضرت موسیٰ کے قتل کے ارادے سے باز آتا۔ بلکہ انہیں ایذاء پہنچاتا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے آل فرعون میں سے ایک تو یہ مرد ایمان دار تھا اور دوسرے فرعون کی بیوی ایمان لائی تھیں۔ تیسرا وہ شخص جس نے حضرت موسیٰ کو خبر دی تھی کہ سرداروں کا مشورہ تمہیں قتل کرنے کا ہو رہا ہے۔ یہ اپنے ایمان کو چھپاتے رہتے تھے لیکن قتل موسیٰ کی سن کر ضبط نہ ہوسکی اور یہی درحقیقت سب سے بہتر اور افضل جہاد ہے کہ ظالم بادشاہ کے سامنے انسان کلمہ حق کہہ دے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے، اور فرعون کے سامنے اس سے زیادہ بڑا کلمہ کوئی نہ تھا۔ پس یہ شخص بہت بلند مرتبے کے مجاہد تھے۔ جن کے مقابلے کا کوئی نظر نہیں آتا۔ البتہ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ایک واقعہ کئی روایتوں سے مروی ہے جس کا ماحاصل یہ ہے کہ حضرت عروہ بن زبیر نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے ایک مرتبہ پوچھا کہ سب سے بڑی ایذاء مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ کو کیا پہنچائی ہے ؟ آپ نے فرمایا سنو ایک روز حضور ﷺ کعبہ شریف میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور آپ کو پکڑ لیا اور اپنی چادر میں بل دے کر آپ کی گردن میں ڈال کر گھسیٹنے لگا جس سے آپ کا گلا گھٹنے لگا۔ اسی وقت حضرت صدیق اکبر ؓ دوڑے دوڑے آئے اور اسے دھکا دے کر پرے پھینکا اور فرمانے لگے کیا تم اس شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے پاس دلیلیں لے کر آیا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ قریشیوں کا مجمع جمع تھا جب آپ وہاں سے گذرے تو انہوں نے کہا کیا تو ہی ہے ؟ جو ہمیں ہمارے باپ دادوں کے معبودوں کی عبادت سے منع کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں میں ہی ہوں۔ اس پر وہ سب آپ کو چمٹ گئے اور کپڑے گھسیٹنے لگے۔ حضرت ابوبکر نے آ کر آپ کو چھڑایا اور پوری آیت اتقتلون کی تلاوت کی۔ پس اس مومن نے بھی یہی کہا کہ اس کا قصور تو صرف اتنا ہی ہے کہ یہ اپنا رب اللہ کو بتاتا ہے اور جو کہتا ہے اس پر سند اور دلیل پیش کرتا ہے۔ اچھا مان لو بالفرض یہ جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا اللہ سبحان و تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں سزا دے گا اور اگر وہ سچا ہے اور تم نے اسے ستایا دکھ دیا تو یقینا تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا جیسے کہ وہ کہہ رہا ہے۔ پس عقلاً لازم ہے کہ تم اسے چھوڑ دو جو اس کی مان رہے ہیں مانیں۔ تم کیوں اس کے درپے آزار ہو رہے ہیں ؟ حضرت موسیٰ ؑ نے بھی فرعون اور قوم فرعون سے یہی چاہا تھا۔ جیسے کہ آیت (وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌ كَرِيْمٌ 17ۙ) 44۔ الدخان :17) تک ہے یعنی ہم نے ان سے پہلے قوم فرعون کو آزمایا ان کے پاس رسول کریم کو بھیجا۔ اس نے کہا کہ اللہ کے بندوں کو مجھے سونپ دو۔ میں تمہاری طرف رب کا رسول امین ہوں۔ تم اللہ سے بغاوت نہ کرو۔ دیکھو میں تمہارے پاس کھلی دلیلیں اور زبردست معجزے لایا ہوں۔ تم مجھے سنگسار کردو گے اس سے میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں، اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو مجھے چھوڑ دو ، یہی جناب رسول آخر الزمان ﷺ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کی طرف مجھے پکارنے دو تم میری ایذاء رسانی سے باز رہو۔ اور میری قرابت داری کو خیال کرتے ہوئے مجھے دکھ نہ دو۔ صلح حدیبیہ بھی دراصل یہی چیز تھی جو کھلی فتح کہلائی۔ وہ مومن کہتا ہے کہ سنو مسرف اور جھوٹے آدمی راہ یافتہ نہیں ہوتے۔ ان کے ساتھ اللہ کی نصرت نہیں ہوتی۔ ان کے اقوال و افعال بہت جلد ان کی خباثت کو ظاہر کردیتے ہیں۔ برخلاف اس کے یہ نبی اللہ اختلاف و اضطراب سے پاک ہیں۔ صحیح سچی اور اچھی راہ پر ہیں۔ زبان کے سچے عمل کے پکے ہیں۔ اگر یہ حد سے گذر جانے والے اور جھوٹے ہوتے تو یہ راستی اور عمدگی ان میں ہرگز نہ ہوتی، پھر قوم کو نصیحت کرتے ہیں اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں بھائیو ! تمہیں اللہ نے اس ملک کی سلطنت عطا فرمائی ہے۔ بڑی عزت دی ہے۔ تمہارا حکم جاری کر رکھا ہے۔ اللہ کی اس نعمت پر تمہیں اس کا شکر کرنا چائے اور اس کے رسولوں کو سچا ماننا چاہئے۔ یاد رکھو اگر تم نے ناشکری کی اور رسول کی طرف بری نظریں ڈالیں۔ تو یقیناً عذاب اللہ تم پر آجائے گا۔ بتاؤ اس وقت کسے لاؤ گے۔ جو تمہاری مدد پر کھڑا ہو اور اللہ کے عذاب کو روکے یا ٹالے ؟ یہ لاؤ لشکر یہ جان و مال کچھ کام نہ آئیں گے۔ فرعون سے اور تو کوئی معقول جواب بن نہ پڑا کھسایانہ بن کر قوم میں اپنی خیر خواہی جتانے لگا کہ میں دھوکا نہیں دے رہا جو میر اخیال ہے اور میرے ذہن میں ہے وہی تم پر ظاہر کر رہا ہوں۔ حالانکہ دراصل یہ بھی اس کی خیانت تھی۔ وہ بھی جانتا تھا کہ حضرت موسیٰ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ جیسے فرمان باری ہے (لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ۚ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا01002) 17۔ الإسراء :102) یعنی حضرت موسیٰ نے فرمایا اے فرعون تو خوب جانتا ہے کہ یہ عجائبات خاص آسمان و زمین کے پروردگار نے بھیجے ہیں۔ جو کہ بصیرت کے ذرائع ہیں اور آیت میں ہے (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ 14ۧ) 27۔ النمل :14) ، یعنی انہوں نے باوجود دلی یقین کے از راہ ظلم و زیادتی انکار کردیا۔ اسی طرح اس کا یہ کہنا بھی سراسر غلط تھا کہ میں تمہیں حق کی سچائی کی اور بھلائی کی راہ دکھاتا ہوں۔ اس میں وہ لوگوں کو دھوکا دے رہا تھا اور رعیت کی خیانت کر رہا تھا۔ لیکن اس کی قوم اس کے دھوے میں آگئی اور فرعون کی بات مان لی۔ فرعون نے انہیں کسی بھلائی کی راہ نہ ڈالا۔ اس کا عمل ہی ٹھیک نہیں تھا اور جگہ اللہ عزوجل فرماتا ہے فرعون نے اپنی قوم کو بہا دیا اور انہیں صحیح راہ تک نہ پہنچنے دیا نہ پہنچایا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو امام اپنی رعایا سے خیانت کر رہا ہو وہ مر کر جنت کی خوشبو بھی نہیں پاتا۔ حالانکہ وہ خوشبو پانچ سو سال کی راہ پر آتی ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ الموفق للصواب