آیت نمبر 51 تا 55
اس دوٹوک موقف پر یہ فیصلہ کن تبصرہ بہت ہی مناسب ہے۔ انسانیت وک معلوم ہوگیا کہ حق و باطل کی کشمکش کا آخری انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ اس دنیا میں دونوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور آخرت میں دونوں کا انجام کیا ہوگا۔ انسانوں نے دیکھ لیا کہ فرعون اور اس کے سرداروں کا انجام اس دنیا میں کیا ہوا جس طرح انہوں نے قیامت کے منظر میں دیکھ لیا کہ وہ آگ میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہے تھے۔ اور ان کو نہایت حقارت کے ساتھ ناقابل التفات چھوڑدیا گیا ۔ ہر کشمکش کا فیصلہ یہی ہوتا ہے جس طرح قرآن کا صریح فیصلہ ہے۔
انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ، جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا “۔ رہی آخرت تو کسی مومن کی جانب سے تو اس کے بارے میں کسی بحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر بحث ہوسکے ۔ رہی دنیا میں نصرت تو اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔ بہرحال اللہ کا فیصلہ اور وعدہ تو یقینی ہے۔ قطعی الفاظ میں ہے۔
انا لننصر۔۔۔۔ الدنیا (40: 51) ” بیشک ہم اپنے رسولوں اور لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں مدد کرتے ہیں “۔ لیکن لوگوں کا مشاہدہ یہ ہے کہ رسولوں میں سے بعض تو قتل کیے گئے ، بعض کو اپنی زمین سے بھی نکالا گیا۔ ان کو اپنا گھر اور قوم چھوڑنا پڑی اور علاقہ بدر کردیئے گئے۔ مومنین میں سے بعض بعض کو سخت عذاب دیا جاتا ہے۔ بعض کو گڑھوں میں جلایا جاتا ہے ، بعض شہید ہوتے ہیں ، بعض نہایت دکھ درد اور مصیبتیں جھیلتے ہیں تو پھر یہ قطعی وعدہ کس طرح ہے کہ ہم حیات دنیا میں اپنے رسولوں اور مومنین کی مدد کرتے ہیں۔ اس سوال کے ذریعہ شیطان اللہ کے بندوں پر حملہ آور ہوتا ہے اور ان کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہے ؟ تو حقیقت کیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ لوگ تمام امور کے ظاہری پہلو ہی کو جانتے ہیں۔ ان کے سامنے وہ بیشتر قدریں اور حقائق نہیں ہوتے۔ جن کا تعلق اللہ کے نظام وقدر سے ہوتا ہے۔۔۔ پھر لوگوں کی سوچ ، اعمال ونتائج کے بارے میں ایک محدود زمانے تک محدود ہوتی ہے اور انسان کے قیاس اور سوچ کا دائرہ محدود ہوتا ہے ، رہے اللہ کے فیصلے تو زمان ومکان کے اعتبار سے ان کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک زمانے اور دوسرے زمانے میں جدائی نہیں کرتا۔ ایک علاقے اور دوسرے علاقے میں فرق نہیں کرتا۔ اگر ہم زمان و مکان کے حدود سے آگے بڑھ کر ایمان کے مسئلہ پر سوچیں تو حقیقت یہ سامنے آئے گی کہ ایمان کامیاب رہتا ہے۔ ایمان اور عقیدے کی کامیابی دراصل ان لوگوں کی کامیابی ہوتی ہے جو ایمان اور عقیدے کو اپناتے ہیں۔ اہل ایمان سے باہر کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ اور ایمان کا پہلا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ ایمان لانے والے اس میں فنا ہوجائیں۔ وہ خود مٹ جائیں اور ایمان کو نمایاں کردیں۔
پھر نصرت کا مفہوم بھی لوگوں کے ہاں محدود ہے۔ وہ قریبی نصرت دیکھتے ہیں جسے وہ خود دیکھ سکیں ۔ لیکن نصرت کی
اشکال تو بیشمار ہیں۔ بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ انسان کو نصرت بطاہر شکست نظر آتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں پھینکا جاتا ہے لیکن وہ اپنے عقیدے اور دعوت سے نہیں پھرتے ۔ سوال یہ ہے کہ ان کو نصرت ہوئی یا وہ شکست کھاگئے ایمان کے پیمانوں سے دیکھا جائے تو ان کو فتح ہوئی۔ اس وقت بھی وہ فاتح تھے ، جب ان کو آگ میں پھینکا جارہا تھا اور اس وقت بھی فاتح تھے ان کو نجات دی گئی۔ یہ بھی فتح کی ایک صورت ہے اور آگ کا گلزار ہوتا بھی اس کی ایک صورت ہے۔ جبکہ بظاہر دونوں کی صورتیں مختلف ہیں۔ لیکن اپنی اصلیت میں دونوں ایک ہیں ۔ حضرت حسین ؓ کربلا میں شہادت پاتے ہیں۔ یہ ایک دلدوز واقعہ ہے۔ یہ فتح تھی یا شکست ۔ اگر بظاہر محدود پیمانوں سے دیکھا جائے تو شکست تھی۔ اور اگر حقیقت کے پیمانوں سے دیکھا جائے تو یہ عظیم فتح ہے۔
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
حسین کو آج تک محبت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ آج تک لوگوں کے دل حسین کے ساتھ ہیں آج تک لوگ ان پر فدا ہوتے ہیں جبکہ فاتح یزید کا نام ونشان غائب ہے۔ حسین پر شیعہ سنی سب فدا ہیں اور یزید کے بارے میں کوئی نہیں کہتا کہ وہ اولاد یزید ہے یا یزید ہی ہے۔
کئی ایسے شہداء ہیں کہ اگر وہ ہزار سال زندہ رہتے تو اپنے نظریات کو پھیلانہ سکتے ۔ لیکن ایک شہادت سے ان کے نظریات اقطار عالم تک پھیل گئے۔ کوئی بھی شہید اپنے بیان اور تقریروں سے عوام کو بلند مقاصد عطا نہیں کرسکتا ۔ نہ عوام کو بلند مقاصد کے لیے ابھار سکتا ہے۔ لیکن اپنے خون کے زریعہ وہ جو خطبہ دیتا ہے اور وہ اس کا آخری خطاب ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محرک ہوتا اور نسلوں تک نشان منزل رہتا ہے۔ اور بعض اوقات تو ایک شہید جو راہ متعین کرتا ہے صدیوں تک تاریخ اس پر چلتی رہتی ہے اور قافلے اسی راہ پر گامزن رہتے ہیں۔
تو پھر فتح کیا ہے اور ہزیمت کیا ہے ؟ ہمیں چاہئے کہ فتح وشکست کے جو پیمانے ہمنے اپنے ذہنوں میں قائم کر رکھے ہیں ان پر ذرا نظرثانی کریں۔ اور اس کے بعد پھر پوچھیں کہ اللہ کی وہ مدد کہاں ہے ، جس کا وعدہ اللہ نے مومنین سے کیا ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ ہاں بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ جب ظاہری صورت حال ، اللہ کے اعلیٰ اور دور رس پیمانوں کے ساتھ موافق ہوجاتی ہے تو فوری فتح بھی نصیب ہوجاتی ہے۔ حضرت محمد ﷺ کو اللہ نے اپنی زندگی ہی میں نصرت اور کامرانی عطا فرمائی تھی کیونکہ دنیا میں اسلامی نظریہ حیات کی حقیقت اور یہ نصرف ساتھ ساتھ قائم ہوگئی تھیں۔ عقیدے کو نصرت تب ملتی ہے جب عقیدہ انسانی سوسائٹی پر غالب آجائے اور وہ سوسائٹی اس کے رنگ میں رنگ کرا سکے اندر ڈوب جائے۔ ایک فرد ایک جماعت اور ایک قوت حاکمہ سب کی سب اس میں ڈوب جایں تو پھر اللہ ایسے دوعیوں اور ایسی دعوت کی مدد کرتا ہے اور یہ نظریہ اور یہ نظام اپنی حقیقی صورت میں پھر قائم ہوجاتا ہے اور یہ نظام غالب ہو کر تاریخ پر اپنے نقوش چھوڑتا ہے۔ اور تاریخ پر اسکے یہ نقوش نمایاں نظر آتے ہیں۔ یوں قریبی نصرت کی صورت اور دوررس مقاصد کی صورت باہم متصل ہوجاتی ہیں۔ اب بظاہر نصرت عاجلہ ظہور میں آتی ہے جو دوررس سنت الہیہ کا حصہ ہوتی ہے۔ یوں سنت الہیہ اور تقدیر الہٰی کے اندر ایک فوری فتح کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔
اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ اللہ کا وعدہ اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کے ساتھ قائم ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ وعدے کے مستحق ہونے والے مومنین کے دلوں کے اندر حقیقت ایمان صحیح طرح قائم اور جاگزیں ہوجائے تاکہ اس پر اللہ کا وعدہ مرتب ہو۔ حقیقت ایمان کے سلسلے میں بسا اوقات لوگ سہل انگاری سے کام لیتے ہیں۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ قلب مومن میں شرک کا شائبہ تک نہ رہے۔ کسی قسم کی شرک بھی دل کے قریب نہ ہو۔ شرک کی بعض صورتیں نہایت خفیہ ہوتی ہیں۔ ان سے دل پاک وصاف اس وقت ہوتا ہے جب انسان صرف اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہو۔ اور صرف اللہ وحدہ پر توکل کرے۔ اور اللہ انسان کے بارے میں جو فیصلہ کرے اس پر وہ مطمئن ہوجائے۔ اور انسان اپنے آپ کو تقدیرالہٰی کے سپرد کردے۔ انسان کے اندر یہ حساس ہو کہ اس کے معاملات میں صرف اللہ ہی متصرف ہے۔ لہٰذا اس کے لیے اللہ جو اختیار کرتا ہے اس پر وہ کسی حال میں حیران نہ ہو اور اس کو جو پیش آئے اسے نہایت اطمینان ، اعتماد اور سرتسلیم خم کرکے قبول کرے۔ جب انسان تسلیم ورضا کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ بھی اللہ کے آگے نہیں بڑھتا اور جلد بازی نہیں کرتا۔ اور اللہ کے سامنے فتح ونصرت اپنی پسندیدہ صورت میں پیش نہیں کرتا۔ اپنے معاملات اللہ کے حوالے کردیتا ہے اور اپنی راہ پر گامزن رہتا ہے ۔ اسے اسی راہ میں جو بھی پیش ہے ، وہ اسے خیر سمجھتا ہے۔ یہ ہے حقیقی نصرت۔۔۔۔ یہ ہے نصرت اور فتح اپنی ذات ، اپنی خواہشات پر۔ یہ ہے اندرونی فتح اور خالص فتح تب ہی ہوتی ہے ، جب اندرونی فتح مکمل ہو۔
انالنضر۔۔۔۔ الدار (40: 51 تا 52) ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ، اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ، جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا “۔
سابقہ منظر میں ہم نے دیکھا کہ ظالموں کے لیے کوئی معذرت مفید نہیں ہے۔ اور ان کا انجام یہ ہوا کہ ان پر لعنت پڑی اور جہنم رسید ہوئے۔ رہی یہ بات کہ اللہ رسولوں کی مدد کس طرح کرتا ہے تو اس کی ایک صورت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اللہ نے مدد فرمائی ۔
ولقداتینا۔۔۔۔ الالباب (40: 54) ” آخر کار دیکھ لو کہ موسیٰ کی ہم نے رہنمائی کی اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنادیا جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لئے ہدایت ونصیحت تھی “۔ یہ اللہ کی نصرت کا ایک نمونہ تھا کہ حضرت موسیٰ کو کتاب دی ، ہدایت دی اور پھر نجات دی۔ یہاں بطور مثال قصہ موسیٰ کی طرف اشارہ کردیا۔ یہ قصہ بہت ہی طویل ہے اور اس میں نصرت اور تائید خداوندی کے کئی نمونے ہیں۔
اس مثال کے بعد ایک آخری تسلی کیونکہ مکہ میں مسلمان اور رسول اللہ بہت ہی مشکل حالات میں زندگی بسر فرما رہے تھے
، ان کو تسلی دی جارہی ہے کہ نصرت ضرور آئے گی اور رسول اللہ کے بعد جو لوگ دعوت اسلامی کا کام کررہے ہیں اور ایسے ہی حالات میں ہیں۔ ان کے لیے بھی ایسی ہی تسلی ہے۔
فاصبران۔۔۔۔ والابکار (40: 55) ” اے نبی ، صبر کرو ، اللہ کا وعدہ برحق ہے ، اپنے قصوروں کی معافی چاہو اور صبح وشام اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ عقل وخرد کی تاروں پر یہ آخری ضرب ہے۔ صبر کی دعوت ، لوگوں کی جانب سے تکذیب پر صبر کرو ، اس پر صبر کرو کہ باطل کو اقتدار حاصل ہے اور اس کی وجہ سے وہ پھیل رہا ہے لیکن یہ ایک عرصے کے لیے ہے ، لوگوں کے مزاج ۔ ان کے اخلاق اور ان کے معاملات کی غلطیوں پر صبر کرو ، انسان کے نفس ، اس کی خواہشات اور چاہتوں پر صبر کرو۔ خصوصاً جب نفس یہ چاہے کہ اللہ کی نصرت بہت جلد آنی چاہئے اور نصرت کے نتیجے میں ہونے والی کامیابیوں اور تحریک اسلامی کی طویل جدوجہد میں دشمنوں سے بھی پہلے دوستوں کی طرف سے پیدا کی جانے والی مشکلات پر صبر کرو۔
فاصبر ان وعد اللہ حق (40: 55) ' اے نبی صبر کرو ، اللہ کا وعدہ حق ہے “۔ دیر آید درست آید۔ اگر آپ کے معاملات پیچیدہ ہوں ۔ اگر بظاہر اسباب نصرت نہ نظر آتے ہوں۔ کیونکہ نصرت کا وعدہ وہ ذات باری کر رہی ہے جو اپنے وعدے کو حقیقت کا جامہ پہناسکتی ہے اور اللہ نے وعدہ کیا ہے تو اللہ نے ارادہ کرلیا ہے۔
واستغفر ۔۔۔ والابکار (40: 55) ” اور اپنے قصور کی معافی چاہو اور صبح وشام اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے اصلی زاد سفر۔ نہ راہ بہت طویل ہے اور دشوار گزار ہے۔ اس میں وہی شخص آگے قدم بڑھا سکتا ہے جو اپنے قصوروں کی معافی چاہتا رہے۔ جو حمد باری تعالیٰ کرتا رہے اور حمد کے ساتھ اللہ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتا رہے۔ اس میں نصرت بھی مل سکتی ہے ، اور نفس انسانی کی تربیت بھی۔ اور اس راستے پرچلنے کی تیاری بھی اور قلب ونظر کی تطہیر بھی۔ یہ وہ نصرت ہے جو قلب تعداد کے اندر بھی اپنا کام کرتی ہے اور اس کے بعد نصرت کی وہ صورت سامنے آتی ہے جو زندگی کی عملی صورت میں ہوتی ہے۔
صبح وشام کا ذکر یا تو اس لیے ہے کہ اس سے مراد پورا وقت ہے کیونکہ صبح وشام اوقات کے اطراف ہیں۔ یا ان اوقات میں انسانی قلب صاف اور متوجہ ہوتا ہے اور ان اوقات میں غور وفکر اور اللہ کی حمد وتسبیح کے اثرات گہرے ہوتے ہیں۔
یہ ہے وہ منہاج جس کے مطابق اللہ کی نصرت حاصل ہوسکتی ہے اور اسے اللہ نے اپنی نصرت دینے کے لیے مقرر فرمایا ہے
۔ اسی کے مطابق اس راستے پر شلنے کی تیاری ہوگی ، زاوسفر تیار ہوگا۔ اور تب نصرت ملے گی اور کسی بھی معرکے کے لیے تیاری اور
سازو سامان کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی جنگ بغیرتربیت اور سامان کے نہیں ہوسکتی۔
آیت 51 { اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَـقُوْمُ الْاَشْہَادُ } ”ہم لازماً مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں بھی ‘ اور اس دن بھی مدد کریں گے جس دن گواہ کھڑے ہوں گے۔“
رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت۔آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کردیا، جیسے حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب صلوات اللہ علیہم وسلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا ؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے مراد بدلہ لینا ہو۔ پس کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جسے ایذاء پہنچانے والوں سے قدرت نے زبردست انتقام نہ لیا ہو۔ چناچہ حضرت یحییٰ ، حضرت زکریا، حضرت شعیب کے قاتلوں پر اللہ نے ان کے دشمنوں کو مسلط کردیا اور انہوں نے انہیں زیر و زبر کر ڈالا، ان کے خون کی ندیاں بہا دیں اور انہیں نہایت ذلت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا۔ نمرود مردود کا مشہور واقعہ دنیا جانتی ہے کہ قدرت نے اسے کیسی پکڑ میں پکڑا ؟ حضرت عیسیٰ کو جن یہودیوں نے سولی دینے کی کوشش کی تھی۔ ان پر جناب باری عزیز و حکیم نے رومیوں کو غالب کردیا۔ اور ان کے ہاتھوں ان کی سخت ذلت و اہانت ہوئی۔ اور ابھی قیامت کے قریب جب آپ اتریں گے تب دجال کے ساتھ ان یہودیوں کی جو اس کے لشکری ہوں گے قتل کریں گے۔ اور امام عادل اور حاکم باانصاف بن کر تشریف لائیں گے صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ باطل کردیں گے بجز اسلام کے اور کچھ قبول نہ فرمائیں گے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان مدد اور یہی دستور قدرت ہے جو پہلے سے ہے اور اب تک جاری ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی دنیوی امداد بھی فرماتا ہے اور ان کے دشمنوں سے خود انتقام لے کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا ہے جو شخص میرے نبیوں سے دشمنی کرے اس نے مجھے لڑائی کیلئے طلب کیا۔ دوسری حدیث میں ہے میں اپنے دوستوں کی طرف سے بدلہ ضرور لے لیا کرتا ہوں جیسے کہ شیر بدلہ لیتا ہے اسی بناء پر اس مالک الملک نے قوم نوح سے، عاد سے، ثمودیوں سے، اصحاب الرس سے، قوم لوط سے، اہل مدین سے اور ان جیسے ان تمام لوگوں سے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور حق کا خلاف کیا تھا بدلہ لیا۔ ایک ایک کو چن چن کر تباہ برباد کیا اور جتنے مومن ان میں تھے ان سب کو بچا لیا۔ امام سدی فرماتے ہیں جس قوم میں اللہ کے رسول ﷺ آئے یا ایمان دار بندے انہیں پیغام الٰہی پہنچانے کیلئے کھڑے ہوئے اور اس قوم نے ان نبیوں کی یا ان مومنوں کی بےحرمتی کی اور انہیں مارا پیٹا قتل کیا ضرور بالضرور اسی زمانے میں عذاب الٰہی ان پر برس پڑے۔ نبیوں کے قتل کے بدلے لینے والے اٹھ کھڑے ہوئے اور پانی کی طرح ان کے خون سے پیاسی زمین کو سیراب کیا۔ پس گو انبیاء اور مومنین یہاں قتل کئے گئے لیکن ان کا خون رنگ لایا اور ان کے دشمنوں کا بھس کی طرح بھرکس نکال دیا۔ ناممکن ہے کہ ایسے بندگان خاص کی امداد و اعانت نہ ہو اور ان کے دشمنوں سے پورا انتقام نہ لیا گیا ہو۔ اشرف الانبیاء حبیب اللہ ﷺ کے حالات زندگی دنیا اور دنیا والوں کے سامنے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اور آپ کے صحابہ کو غلبہ دیا اور دشمنوں کی تمام تر کوششوں کو بےنتیجہ رکھا۔ ان تمام پر آپ کو کھلا غلبہ عطا فرمایا۔ آپ کے کلمے کو بلند وبالا کیا آپ کا دین دنیا کے تمام ادیان پر چھا گیا۔ قوم کی زبردست مخالفتوں کے وقت اپنے نبی کو مدینے پہنچا دیا اور مدینے والوں کو سچا جاں نثار بنا کر پھر مشرکین کا سارا زور بدر کی لڑائی میں ڈھا دیا۔ ان کے کفر کے تمام وزنی ستون اس لڑائی میں اکھیڑ دیئے۔ سرداران مشرک یا تو ٹکڑے ٹکڑے کردیئے گئے یا مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بن کر نامرادی کے ساتھ گردن جھکائے نظر آنے لگے قید و بند میں جکڑے ہوئے ذلت و اہانت کے ساتھ مدینے کی گلیوں میں کسی کے ہاتھوں پر اور کسی کے پاؤں پر دوسرے کی گرفت تھی۔ اللہ کی حکمت نے ان پر پھر احسان کیا اور ایک مرتبہ پھر موقعہ دیا فدیہ لے کر آزاد کردیئے گئے لیکن پھر بھی جب مخالفت رسول ﷺ سے باز نہ آئے اور اپنے کرتوتوں پر اڑے رہے۔ تو وہ وقت بھی آیا کہ جہاں سے نبی ﷺ کو چھپ چھپا کر رات کے اندھیرے میں پاپیادہ ہجرت کرنی پڑی تھی وہاں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوئے اور گردن پر ہاتھ باندھے دشمنان رسول سامنے لائے گئے۔ اور بلاد حرم کی عظمت و عزت رسول محترم کی وجہ سے پوری ہوئی۔ اور تمام شرک و کفر اور ہر طرح کی بےادبیوں سے اللہ کا گھر پاک صاف کردیا گیا۔ بالآخر یمن بھی فتح ہوا اور پورا جزیرہ عرب قبضہ رسول ﷺ میں آگیا۔ اور جوق کے جوق لوگ اللہ کے دین میں داخل ہوگئے۔ پھر رب العالمین نے اپنے رسول رحمتہ العالمین کو اپنی طرف بلا لیا اور وہاں کی کرامت و عظمت سے اپنی مہمانداری میں رکھ کر نوازا ﷺ۔ پھر آپ کے بعد آپ کے نیک نہاد صحابہ کو آپ کا جانشین بنایا۔ جو محمدی جھنڈا لئے کھڑے ہوگئے اور اللہ کی توحید کی طرف اللہ کی مخلوق کو بلانے لگے۔ جو روڑا راہ میں آیا اسے الگ کیا۔ جو خار چمن میں نظر پڑا اسے کاٹ ڈالا گاؤں گاؤں شہر شہر ملک ملک دعوت اسلام پہنچا دی جو مانع ہوا اسے منع کا مزہ چکھایا اسی ضمن میں مشرق و مغرب میں سلطنت اسلامی پھیل گئی۔ زمین پر اور زمین والوں کے جسموں پر ہی صحابہ کرام نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ ان کے دلوں پر بھی فتح پالی اسلامی نقوش دلوں میں جما دیئے اور سب کو کلمہ توحید کے نیچے جمع کردیا۔ دین محمد نے زمین کا چپہ چپہ اور کونا کو نا اپنے قبضے میں کرلیا۔ دعوت محمدیہ بہرے کانوں تک بھی پہنچ چکی۔ صراط محمدی اندھوں نے بھی دیکھ لیا۔ اللہ اس پاکباز جماعت کو ان کی اولو العزمیوں کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آمین ! الحمد للہ کا اور اس کے رسول کا کلام موجود ہے۔ اور آج تک ان کے سروں پر رب کا ہاتھ ہے۔ اور قیامت تک یہ وطن مظفر و منصور ہی رہے گا اور جو اس کے مقابلے پر آئے گا منہ کی کھائے گا اور پھر کبھی منہ نہ دکھائے گا یہی مطلب ہے اس مبارک آیت کا۔ قیامت کے دن بھی دینداروں کی مدد و نصرت ہوگی اور بہت بڑی اور بہت اعلیٰ پیمانے تک۔ گواہوں سے مراد فرشتے ہیں، دوسری آیت میں یوم بدل ہے پہلی آیت کے اسی لفظ سے۔ بعض قرأتوں میں یوم ہے تو یہ گویا پہلے یوم کی تفسیر ہے۔ ظالموں سے مراد مشرک ہیں ان کا عذر و فدیہ قیامت کے دن مقبول نہ ہوگا وہ رحمت رب سے اس دن دور دھکیل دیئے جائیں گے۔ ان کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہوگا۔ ان کی عاقبت خراب ہوگی، حضرت موسیٰ کو ہم نے ہدایت ونور بخشا۔ بنی اسرائیل کا انجام بہتر کیا۔ فرعون کے مال و زمین کا انہیں وارث بنایا کیونکہ یہ اللہ کی اطاعت اور اتباع رسول میں ثابت قدمی کے ساتھ سختیاں برداشت کرتے رہے تھے۔ جس کتاب کے یہ وارث ہوئے وہ عقلمندوں کیلئے سرتاپا باعث ہدایت و عبرت تھی، اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے اللہ کا وعدہ سچا ہے آپ کا ہی بول بالا ہوگا انجام کے لحاظ سے آپ والے ہی غالب رہیں گے۔ رب اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا بلاشک و شبہ دین اللہ کا اونچا ہو کر ہی رہے گا۔ تو اپنے رب سے استغفار کرتا رہ۔ آپ کو حکم دے کر دراصل آپ کی امت کو استغفار پر آمادہ کرنا ہے۔ دن کے آخری اور رات کے انتہائی وقت خصوصیت کے ساتھ رب کی پاکیزگی اور تعریف بیان کیا کر، جو لوگ باطل پر جم کر حق کو ہٹا دیتے ہیں دلائل کو غلط بحث سے ٹال دیتے ہیں ان کے دلوں میں بجز تکبر کے اور کچھ نہیں ان میں اتباع حق سے سرکشی ہے۔ یہ رب کی باتوں کی عزت جانتے ہی نہیں۔ لیکن جو تکبر اور جو خودی اور جو اپنی اونچائی وہ چاہتے ہیں وہ انہیں ہرگز حاصل نہیں ہونے کی۔ ان کے مقصود باطل ہیں۔ ان کے مطلوب لاحاصل ہیں۔ اللہ کی پناہ طلب کر کہ ان جیسا حال کسی بھلے آدمی کا نہ ہو۔ اور ان نخوت پسند لوگوں کی شرارت سے بھی اللہ کی پناہ چاہ کر۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ کہتے تھے دجال انہی میں سے ہوگا اور اس کے زمانے میں یہ زمانے کے بادشاہ ہوجائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ فتنہ دجال سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو۔ وہ سمیع وبصیر ہے۔ لیکن آیت کو یہودیوں کے بارے میں نازل شدہ بتانا اور دجال کی بادشاہی اور اس کے فتنے سے پناہ کا حکم۔ سب چیزیں تکلف سے پر ہیں۔ مانا کہ یہ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے مگر یہ قول ندرت سے خالی نہیں۔ ٹھیک یہی ہے کہ عام ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔