آیت 66 { قُلْ اِنِّیْ نُہِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے : مجھے تو روک دیا گیا ہے کہ میں بندگی کروں ان کی جن کو تم پکار رہے ہو اللہ کے سوا“ آیت 60 کی طرح یہاں بھی عبادت اَعْبُدَ اور دعا تَدْعُوْنَ کے الفاظ ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ { لَمَّا جَآئَ نِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ } ”جبکہ میرے پاس آچکی ہیں واضح تعلیمات میرے رب کی طرف سے“ { وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”اور مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں سرتسلیم خم کر دوں تمام جہانوں کے پروردگار کے سامنے۔“ جہاں تک سورة المومن میں توحید ِعملی کے داخلی پہلو یعنی دعا کے مضمون کا تعلق ہے وہ اس سورت کی آیت 65 پر اختتام پذیر ہوچکا ہے۔ اس کے بعد اس سورت میں بھی انہیں مضامین کی جھلک نظر آئے گی جو عام طور پر مکی سورتوں میں آئے ہیں۔ البتہ یہاں پر یہ مضامین قدرے مختلف اسلوب اور ترتیب میں نظر آئیں گے۔ ان ہی مضامین میں سے ایک انسان کی تخلیق کا ذکر ہے :
رسول اللہ ﷺ کی مشرکین کو دعوت توحید۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی ﷺ تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اپنے سوا ہر کسی کی عبادت سے اپنی مخلوق کو منع فرما چکا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی مستحق عبادت نہیں۔ اس کی بہت بڑی دلیل اس کے بعد کی آیت ہے، جس میں فرمایا کہ اسی وحدہ لاشریک لہ نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ اسی نے تمہیں ماں کے پیٹ سے بچے کی صورت میں نکالا۔ ان تمام حالات کو وہی بدلتا رہا پھر اسی نے بچپن سے جوانی تک تمہیں پہنچایا۔ وہی جوانی کے بعد بڑھاپے تک لے جائے گا یہ سب کام اسی ایک کے حکم تقدیر اور تدبیر ہوجاتے ہیں۔ پھر کس قدر نامرادی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرے کی عبادت کی جائے ؟ بعض اس سے پہلے ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ یعنی کچے پنے میں ہی گرجاتے ہیں۔ حمل ساقط ہوجاتا ہے۔ بعض بچین میں بعض جوانی میں بعض ادھیڑ عمر میں بڑھاپے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ چناچہ اور جگہ قرآن پاک میں ہے (وَنُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَاۗءُ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى) 22۔ الحج :5) یعنی ہم ماں کے پیٹ میں ٹھہراتے ہیں جب تک چاہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ تاکہ تم وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ۔ اور تم سوچو سمجھو۔ یعنی اپنی حالتوں کے اس انقلاب سے تم ایمان لے آؤ کہ اس دنیا کے بعد بھی تمہیں نئی زندگی میں ایک روز کھڑا ہونا ہے، وہی زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اس کے سوا کوئی موت زیست پر قادر نہیں۔ اس کے کسی حکم کو کسی فیصلے کو کسی تقرر کو کسی ارادے کو کوئی توڑنے والا نہیں، جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے اور جو وہ نہ چاہے ناممکن ہے کہ وہ ہوجائے۔