وانہ .................... الکفرین (96 : 05) ” ایسے کافروں کے لئے یہ یقینا موجب حسرت ہے “۔ اس لئے کہ یہ قرآن اہل ایمان کی تو شان بلند کرتا ہے جبکہ تکذیب کرنے والوں کی حیثیت کو گراتا ہے اور آخر کار تو حق نے غالب ہونا ہے۔ اور مکذبین نے ذلیل ہونا ہے۔ عنقریب ایسا ہوگا اور پھر ان کے لئے یہ موجب حسرت ہوگا اور قیامت کے دن بھی ان پر یہ حجت ہوگا اور موجب حسرت ہوگا کیونکہ تکذیب کی وجہ سے ان کو سخت عذاب دیا جائے گا۔ لہٰذا دنیا اور آخرت دونوں میں ان کے لئے موجب حسرت ہوگا۔
آیت 50{ وَاِنَّہٗ لَحَسْرَۃٌ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ۔ } ”اور یقینا یہ کافروں کے لیے حسرت کا باعث بن جائے گا۔“ ایک وقت آئے گا جب قرآن ان جھٹلانے والوں کے لیے حسرت اور پچھتاوے کا سبب بن جائے گا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے : اَلْـقُرْآنُ حُجَّۃٌ لَکَ اَوْ عَلَیْکَ 1۔ کہ یہ قرآن حجت ہے تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف۔ اگر تو تم اس کے حقوق ادا کرو گے ‘ اس پر ایمان لائو گے ‘ اسے اپنا امام بنا کر اس کے پیچھے چلو گے اور اس کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کا اہتمام کرو گے تو یہ قیامت کے دن تمہاری شفاعت کرے گا اور اگر تم اس کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرو گے تو قیامت کے دن یہ تمہارے خلاف گواہ بن کر کھڑا ہوگا۔