سورۃ الحدید: آیت 13 - يوم يقول المنافقون والمنافقات للذين... - اردو

آیت 13 کی تفسیر, سورۃ الحدید

يَوْمَ يَقُولُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلْمُنَٰفِقَٰتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱنظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ قِيلَ ٱرْجِعُوا۟ وَرَآءَكُمْ فَٱلْتَمِسُوا۟ نُورًا فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍ لَّهُۥ بَابٌۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحْمَةُ وَظَٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلْعَذَابُ

اردو ترجمہ

اُس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں، مگر ان سے کہا جائے گا پیچھے ہٹ جاؤ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا اُس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yawma yaqoolu almunafiqoona waalmunafiqatu lillatheena amanoo onthuroona naqtabis min noorikum qeela irjiAAoo waraakum failtamisoo nooran faduriba baynahum bisoorin lahu babun batinuhu feehi alrrahmatu wathahiruhu min qibalihi alAAathabu

آیت 13 کی تفسیر

یوم یقول ............ نور کم (75 : 31) ” اس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں۔ “ مومنین اور مومنات کا گروہ جدھر بھی دیکھتا ہے ادھر نورہی نور ہے۔ جو لطیف و شفاف ہے ، لیکن اس نور سے منافق مرد اور منافق عورتوں کا گروہ کس طرح استفادہ کرسکتا ہے ، انہوں نے تو پوری زندگی جہالت کی تاریکی میں بسر کی ہے۔ ایک نامعلوم آواز اس موقعہ پر پکارتی ہے۔

قیل ارجعوا ................ نورا (75 : 31) ” مگر ان سے کہا جائے گا ” پیچھے ہٹ جاؤ ، ایک نور کہیں اور تلاش کرو۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آواز ان تذلیل اور ان کے ساتھ مزاح کے لئے بلند ہوگی۔ اور ان کو یہ یاد دہانی مطلوب ہوگی کہ دنیا میں تم کیا کرتے تجھے رات کے اندھیروں میں اپنی منافقانہ پالیسی تیار کرتے رہتے تھے۔ کہ واپس جاؤ دنیا میں اور وہاں اپنا نور تلاش کرو۔ واپس جاؤ کیونکہ یہ نور تو دنیا سے آیا ہے۔ دنیا کے عمل سے یہ نور حاصل ہوتا ہے۔ آج تو تم دارالجزاء میں ہو یہاں کیا تلاش کرتے ہو۔

اس مرحلے میں اچانک مومنین اور مومنات کے گروہ اور منافقین اور منافقات کے گروہ کے درمیان جدائی کردی جاتی ہے۔ کیونکہ یہ جدائی کا دن ہے۔ دنیا میں تو یہ لوگ اسلامی صفوں میں گھس گئے تھے۔

فضرب .................... العذاب (75 : 31) ” پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔ “ یہ ایک ایسی دیوار ہوگی جس کے اس پار نظر تو نہ آئے گا لیکن آواز سنائی دے گی۔ اب منافقین کا گوہ مومنین کو پکارے گا۔

آیت 13{ یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ } ”جس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہ ذرا ہمارا انتظار کرو کہ ہم بھی تمہاری روشنی سے فائدہ اٹھالیں۔“ اس صورت حال کو یوں سمجھیں جیسے کچھ مسافر ایک خطرناک جنگل کے اندر تنگ پگڈنڈی پر گھپ اندھیرے میں سفر کر رہے ہوں۔ ان میں سے جن لوگوں کے پاس ٹارچ ہے وہ تو تیز تیز قدموں کے ساتھ پگڈنڈی پر رواں دواں ہیں ‘ لیکن جن کے پاس ٹارچ نہیں ہے ‘ وہ ان کی منتیں کر رہے ہیں کہ خدا را ذرا رکو ‘ ذرا ٹھہرو ‘ ہم پر عنایت کرو ‘ ہمیں بھی ساتھ لے لو۔ نَقْتَبِسْ کا مادہ قبس ہے ‘ جس کے لغوی معنی ہیں کسی کی آگ سے چنگاری لے کر اپنی آگ جلانا۔ لفظ ”اقتباس“ اردو میں quotation کے معنی میں مستعمل ہے۔ آپ نے اپنے مضمون میں کسی اور کی تحریر سے اقتباس شامل کیا تو گویا آپ نے کسی کے چولہے کی ایک چنگاری لا کر اپنے چولہے میں شامل کی ہے۔ { قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآئَ کُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا } ”کہا جائے گا : لوٹ جائو پیچھے کی طرف اور تلاش کرو نور !“ انہیں بتادیا جائے گا کہ یہ نور یہاں سے نہیں ملتا۔ اس وقت جن لوگوں کے پاس تمہیں نور نظر آ رہا ہے وہ اسے دنیا سے کما کر لائے ہیں۔ چناچہ اب اگر تمہیں اس کی ضرورت محسوس ہورہی ہے تو اس کے لیے تمہیں واپس دنیا میں جانا ہوگا اور وہاں جاکر اسے تلاش کرنا ہوگا ‘ جس کا اب کوئی امکان نہیں ہے۔ یہاں پر یہ لطیف نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ منافقین روشنی کے لیے درخواست تو اہل ایمان سے کریں گے لیکن اس کا جواب کوئی اور دے گا۔ کیونکہ یہاں قَالُوْا نہیں بلکہ قِیْلَ کہا جائے گا کا صیغہ آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ اہل ایمان کی مروت اور شرافت سے بعید ہوگا کہ وہ انہیں کورا جواب دیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کوئی فرشتہ انہیں ان کی مذکورہ درخواست کا جواب دے گا۔ { فَضُرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ} ”پھر ان کے درمیان ایک فصیل کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔“ { بَاطِنُہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاھِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ۔ } ”اس فصیل کی اندرونی جانب رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی طرف عذاب ہوگا۔“ یعنی اس دیوار کے اندر کی طرف رحمت باری تعالیٰ کا نزول شروع ہوجائے گا ‘ اہل ایمان کی ابتدائی مہمان نوازی کا سلسلہ شروع ہوجائے گا ‘ جبکہ اس فصیل کے باہر کی طرف عذاب الٰہی کا نزول شروع ہوجائے گا۔ اس طرح اس چھلنی سے گزار کر منافقین کو سچے اہل ایمان سے الگ کرلیا جائے گا۔ اب اگلی دو آیات میں منافقت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ مرض کیسے پیدا ہوتا ہے اور اس کی پیتھالوجی کیسے ارتقاء پاتی ہے۔

آیت 13 - سورۃ الحدید: (يوم يقول المنافقون والمنافقات للذين آمنوا انظرونا نقتبس من نوركم قيل ارجعوا وراءكم فالتمسوا نورا فضرب بينهم بسور له باب...) - اردو