ما اصاب .................... الحمید (42) (75 : 22 تا 42)
” کوئی مصیبت ایسی نہیں جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب ” یعنی نوشتہ تقدیر “ میں لکھ نہ رکھا ہو۔ ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان کام ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ہے تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ۔ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں ، جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کرنے پر اکساتے ہیں۔ اب اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو اللہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔ “
اس کائنات میں جو واقعہ بھی پیش آتا ہے ، وہ اپنی پوری تفصیلات کے ساتھ اللہ نے پہلے سے قلم بند کرلیا ہے۔ اور اس کائنات کے منصوبے اور نقشے میں متعین اور محسوب ہے۔ اس میں محض بخت واتفاق کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس پوری کائنات کی تخلیق سے بھی پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل اور شامل علم کے ذریعے ایسا کرلیا ہے۔ اور بہت ہی تفصیل کے ساتھ سب کچھ قلم بند کردیا ہے ، یہ اللہ کے علم میں تھا۔ اللہ کے علم میں کوئی ماضی حال اور مستقبل نہیں ہے۔ یہ زمان ومکان کے فاصلے اور حدیں اللہ کے علم پر حاوی نہیں ہیں ، یہ تو ہم اپنے محدود علم کے ذریعے ان چیزوں کو اس طرح زمان ومکان کے قید میں دیکھتے ہیں ۔ ہم تو ان حدود وقیود کے بغیر نہیں دیکھ سکتے۔ پھر ہم حقیقت مطلقہ کا ادراک ہی نہیں کرسکتے ، ہاں بعض اوقات انسانوں کی قوت مدرکہ کو ایک ایسی چمک حاصل ہوجاتی ہے جس وقت ہماری روح حقیقت مطلقہ سے جڑ جائے ، ہم اشیاء کی حقیقت کو اس عادی طریقے سے جان سکتے ہیں یعنی بذریعہ حواس ، رہا اللہ تعالیٰ جو حقیقت مطلقہ ہے اور وہ اس کائنات کی ہر چیز کو بلا حدود وقیود جانتا ہے۔ یہ کائنات اور اس کے اندر واقعات اپنی آغاز سے انتہا تک اللہ کے علم میں ہیں۔ یہ علم مطلق ہے اور بلاحدود وقیود ہے۔ اور اللہ کے نقشے میں ہر ایک چیز اور واقعہ کا ایک مقام ہے جو اللہ کے علم میں ہے ، لہٰذا ہر واقعہ جسے انسان خیر سمجھتا ہے یا شر سمجھتا ہے ، زمین پر وہ واقع ہوتا ہے۔ اور انسانوں کی زندگیوں میں وہ پیش آتا ہے یہ اللہ کی کتاب میں ثبت ہے۔
ان ذلک علی اللہ یسیر (75 : 22) ” ایسا کرنا اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔ “
اس کا فائدہ کیا ہے ؟ اس حقیقت کا فائدہ یہ ہے کہ ایک انسان جسے اس دنیا کے واقعات پر خوشی بھی ہوتی ہے اور پریشانی بھی ہوتی ہے وہ اسے منجانب اللہ سمجھیں اور اس دنیا میں سکون اور اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کریں۔ اگر کوئی ناگوار چیزیں دیکھیں تو حسرتوں سے اپنے آپ کو فنا نہ کردیں اور اگر کوئی فرحت بخش واقعات دیکھیں تو آپے سے باہر نہ ہوجائیں اور جس طرح حقیقت ہے یہ سمجھیں کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔
آیت 22{ مَـآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَـبْلِ اَنْ نَّــبْرَاَھَا } ”نہیں پڑتی کوئی پڑنے والی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری اپنی جانوں میں مگر یہ کہ وہ ایک کتاب میں درج ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم اسے ظاہر کریں۔“ اَصَابَ یُصِیْبُ آپڑنا ‘ نازل ہونا سے اسم الفاعل ”مُصِیْب“ ہے اور اس کی مونث ”مُصِیْبَۃ“ ہے ‘ جس کے معنی ہیں نازل ہونے یا آپڑنے والی شے۔ چناچہ لغوی اعتبار سے تمام حوادث ‘ واقعات ‘ کیفیات جو ہم پر وارد ہوتی ہیں ‘ وہ سب کی سب اس میں شامل ہوجائیں گی ‘ لیکن عام طور پر یہ لفظ تکلیف دہ ‘ ناگوار اور ناپسندیدہ چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس آیت کی رو سے مصیبتیں دو قسم کی ہیں۔ یا تو آفاتِ ارضی و سماوی یعنی آفاقی مصیبتیں ‘ جو زمین پر بڑے پیمانے پر نازل ہوتی ہیں ‘ مثلاً سیلاب ‘ زلزلے ‘ طوفانِ باد و باراں وغیرہ ‘ یا انسانوں کی اپنی جانوں پر کوئی مصیبت آن پڑتی ہے ‘ مثلاً کوئی بیماری یا کوئی عارضہ لاحق ہوگیا یا کوئی حادثہ پیش آگیا۔ یہاں واضح فرما دیا گیا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی انسانوں پر اجتماعی یا انفرادی طور پر کسی بھی شکل میں کوئی مصیبت ‘ آفت یا تکلیف آتی ہے اس کے معرض وجود میں آنے سے قبل اس کی پوری تفصیل اللہ کے علم قدیم میں پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ { اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ} ”یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔“ انسانوں کو یہ بات بیشک عجیب یا مشکل لگے ‘ مگر اللہ کا علم مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ پر محیط ہے۔ اس کے لیے کائنات کی ایک ایک چیز کا پوری تفصیل سے احاطہ کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ یہ بات تم لوگوں کو بھلا کیوں بتائی جا رہی ہے ؟ اس لیے :
تنگی اور آسانی کی طرف سے ہے اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کی خبر دے رہا ہے جو اس نے مخلوقات کی پیدائش سے پہلے ہی اپنی مخلوق کی تقدیر مقرر کی تھی، فرمایا کہ زمین کے جس حصے میں کوئی برائی آئے یا جس کسی شخص کی جان پر کچھ آپڑے اسے یقین رکھنا چاہئے کہ خلق کی پیدائش سے پہلے ہے، لیکن زیادہ ٹھیک بات یہ ہے کہ مخلوق کی پیدائش سے پہلے ہے، امام حسن سے اس آیت کی بابت سوال ہوا تو فرمانے لگے سبحان اللہ ہر مصیبت جو آسمان و زمین میں ہے وہ نفس کی پیدائش سے پہلے ہی رب کی کتاب میں موجود ہے اس میں کیا شک ہے ؟ زمین کی مصیبتوں سے مراد خشک سالی، قحط وغیرہ ہے اور جانوں کی مصیبت درد دکھ اور بیماری ہے، جس کسی کو کوئی خراش لگتی ہے یا لغزش پا سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا کسی سخت محنت سے پسینہ آجاتا ہے یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہے اور ابھی تو بہت سے گناہ ہیں جنہیں وہ غفور و رحیم اللہ بخش دیتا ہے، یہ آیت بہترین اور بہت اعلیٰ دلیل ہے قدریہ کی تردید میں جس کا خیال ہے کہ سابق علم کوئی چیز نہیں اللہ انہیں ذلیل کرے۔ صحیح مسلم شریف ہے اللہ تعالیٰ نے تقدیر مقرر آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے کی اور روایت میں ہے اس کا عرش پانی پر تھا (ترمذی) پھر فرماتا ہے کاموں کے وجود میں آنے سے پہلے ان کا اندازہ کرلینا، ان کے ہونے کا علم حاصل کرلینا اور اسے لکھ دینا اللہ پر کچھ مشکل نہیں۔ وہی تو ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ جس کا محیط علم ہونے والی، ہو رہی، ہوچکی، ہوگی تمام چیزوں کو شامل ہے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے ہم نے تمہیں یہ خبر اس لئے دی ہے کہ تم یقین رکھو کہ جو تمہیں پہنچا وہ ہرگز کسی صورت ٹلنے والا نہ تھا، پس مصیبت کے وقت صبر و شکر تحمل و ثابت قدمی مضبوط ولی اور روحانی طاقت تم میں موجود رہے، ہائے وائے بےصبری اور بےضبطی تم سے دور رہے جزع فزع تم پر چھا نہ جائے تم اطمینان سے رہو کہ یہ تکلیف تو آنے والی تھی ہی، اسی طرح اگر مال دولت غلبہ وغیرہ مل جائے تو اس وقت آپے سے باہر نہ ہوجاؤ اسے عطیہ الٰہی مانو تکبر اور غرور تم میں نہ آجائے ایسا نہ ہو کہ دولت و مال وغیرہ کے نشے میں پھول جاؤ اور اللہ کو بھول جاؤ اس لئے کہ اس وقت بھی ماری یہ تعلیم تمہارے سامنے ہوگی کہ یہ میرے دست وبازو کا میری عقل و ہوش کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے۔ ایک قرأت اس کی آتکم ہے دوسری اتکم ہے اور دونوں میں تلازم ہے، اسی لئے ارشاد ہوتا ہے کہ اپنے جی میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے دوسروں پر فخر کرنے والے اللہ کے دشمن ہیں، حضرت ابن عباس کا فرمان ہے کہ رنج و راحت خوشی و غم تو ہر شخص پر آتا ہے خوشی کو شکر میں اور غم کو صبر میں گذار دو ، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ خود بھی بخیل اور خلاف شرع کام کرنے والے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی برا راستہ بتاتے ہیں۔ جو شخص اللہ کی حکم برداری سے ہٹ جائے وہ اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا کیونکہ وہ تمام مخلوق سے بےنیاز ہے اور ہر طرح سزا اور حمد ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا یعنی اگر تم اور تمام روئے زمین کے انسان کافر ہوجائیں تو بھی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اللہ ساری مخلوق سے غنی ہے اور مستحق حمد ہے۔