لئلا یعلم ................ من یشاء (75 : 92) ” تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل پر ان کا کوئی اجارہ نہیں ہے۔ اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے ، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے “ اہل کتاب یہ گھمنڈ رکھتے تھے کہ وہ اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں اور وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں۔
وقالوا .................... تھتدوا ” وہ کہتے ہیں کہ یہودی بن جاؤ یا نصاریٰ بن جاؤ تمہیں ہدایت مل جائے گی “ تو اللہ تعالیٰ مومنین کو دعوت دیتا ہے کہ اللہ کی رحمت ، اس کی جنت ، اس کی مغفرت اور اس کے انعامات کے مستحق ہوجاؤ اور میں تم پر ان چیزوں کی بارش کروں گا تب اہل کتاب کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ تو زعم باطل میں مبتلا ہیں۔ اور ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ فضل تو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ مسلمانوں پر ہوگیا ہے۔ یہ کسی کے اجارے میں نہیں دے دیا گیا اور نہ محدود کردیا گیا ہے۔
واللہ ................ العظیم (75 : 92) ” اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ “
غرض یہ کہ ایک ایسی دعوت ہے جس میں مسلمانوں کو مقابلے کی دعوت دی گئی۔ کہ تم تقویٰ اور طہارت اور نیکی کی راہ میں آگے بڑھ جاؤ۔ اس پر یہ سورت ختم ہوتی ہے اور سورت کا خاتمہ اور آغاز باہم مل جاتے ہیں۔ کیونکہ اس پوری سورت میں یایھا الذین امنوا کی پکار ہے۔ کہ رب کے سامنے خضوع وخشوع اختیار کرو ، رب کے احکام بجا لاؤ، مالی ، بدنی اور روحانی فرائض پورے کرو۔
قرآن کریم جس انداز میں قلب انسانی کو خطاب کرتا ہے یہ سورت اس کا بہترین نمونہ ہے۔ پر اثرانداز میں انسانوں کو نیکیوں پر ابھارا جاتا ہے ، اس سورت کا آغاز انجام اور سیاق کلام سب انسانوں کو عمل صالح پر آمادہ کرنے والے ہیں۔ اس کی تصاویر ، ماحول اور اثر آفرینیاں قابل دید ہیں ، دعوت اسلامی کا کام کرنے والوں کے لئے اس میں درس عبرت ہیں۔ اس میں اشارات ہیں کہ لوگوں کو کس اسلوب میں خطاب کیا جائے اور کس انداز میں جوش دلایا جائے ........ یہ اللہ کا درس ہے۔ جس نے ہمارے دل بنائے ہیں اور جو ہر چیز کا خالق ہے۔ داعیوں کو چاہئے کہ وہ اس ربانی درسگاہ سے سیکھ کر نکلیں تاکہ ان کی دعوت کامیاب ہو۔
آیت 29{ لِئَــلاَّ یَعْلَمَ اَھْلُ الْکِتٰبِ اَ لاَّ یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْ ئٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰہِ } ”یہ اس لیے ہے تاکہ اہل کتاب یہ نہ سمجھ لیں کہ اللہ کے فضل پر اب ان کا کوئی حق نہیں ہے“ گزشتہ آیت کی تشریح کے دوران میں نے ذکر کیا تھا کہ { یٰٓــاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ } کے خطاب کا رخ اہل کتاب کی طرف بھی ہے۔ یہ بات اس آیت میں اب بالکل واضح ہوگئی ہے۔ جن مفسرین کا ذہن اس طرف نہیں گیا کہ گزشتہ آیت میں خطاب کا رخ اہل کتاب کی طرف بھی ہے انہیں زیر مطالعہ آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ یہاں لِئَــلاَّ میں لاَ زائد ہے اور اصل میں یہاں مراد لِکَیْ یَعْلَمَ ہے۔ چونکہ ان لوگوں کے نزدیک گزشتہ آیت صرف مسلمانوں سے خطاب کر رہی ہے ‘ اس لیے انہوں نے زیر مطالعہ آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے : ”تاکہ اہل کتاب کو اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ اب انہیں کوئی قدرت حاصل نہیں ہے اللہ کے فضل پر۔“ بہرحال میں نے گزشتہ آیت میں اہل کتاب سے خطاب کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے زیر مطالعہ آیت کا جو ترجمہ کیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ان کے لیے اب اللہ کے فضل کے حصول کا کوئی راستہ رہا ہی نہیں ‘ بلکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے لیے راستہ تو اب بھی کھلا ہے۔ وہ آئیں ‘ خود کو محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں ڈال دیں ‘ قرآن پر ایمان لائیں اور اللہ کے فضل میں حصہ دار بن جائیں۔ یہی بات انہیں سورة بنی اسرائیل میں بھی بایں الفاظ کہی گئی ہے : { عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْج } آیت 8 ”ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے“۔ یعنی بیشک تم اللہ کے بہت لاڈلے تھے اور اب تم اپنے طرزعمل کی وجہ سے راندئہ درگاہ ہوگئے ہو ‘ لیکن تمہارا ربّ اب بھی تم پر رحمت فرمانے پر آمادہ ہے۔ بس تم آخری نبی حضرت محمد ﷺ اور آخری آسمانی کتاب قرآن پر ایمان لے آئو اور اس کی رحمت کے مستحق بن جائو۔ بلکہ اس سے اگلی آیت میں مزید واضح فرما دیا گیا : { اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ } آیت 9 ”یقینا یہ قرآن راہنمائی کرتا ہے اس راہ کی طرف جو سب سے سیدھی ہے“۔ اب ہدایت کا ”شاہ درہ“ تو بس قرآن ہی ہے ‘ چناچہ آئو اور اس راستے سے ہوتے ہوئے اللہ کے قصر رحمت میں داخل ہوجائو۔ بہرحال آیت زیر مطالعہ میں اہل کتاب پر واضح کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے دروازے ان پر بند نہیں ہوگئے ‘ یہ دروازے ان کے لیے اب بھی کھلے ہیں۔ { وَاَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۔ } ”اور فضل یقینا اللہ کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔“