سورہ الحج: آیت 11 - ومن الناس من يعبد الله... - اردو

آیت 11 کی تفسیر, سورہ الحج

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَعْبُدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ حَرْفٍ ۖ فَإِنْ أَصَابَهُۥ خَيْرٌ ٱطْمَأَنَّ بِهِۦ ۖ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ ٱنقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِۦ خَسِرَ ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْخُسْرَانُ ٱلْمُبِينُ

اردو ترجمہ

اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ کی بندگی کرتا ہے، اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہو گیا اور جو کوئی مصیبت آ گئی تو الٹا پھر گیا اُس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی یہ ہے صریح خسارہ

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wamina alnnasi man yaAAbudu Allaha AAala harfin fain asabahu khayrun itmaanna bihi wain asabathu fitnatun inqalaba AAala wajhihi khasira alddunya waalakhirata thalika huwa alkhusranu almubeenu

آیت 11 کی تفسیر

ومن الناس ………العشیر (13)

عقیدہ اور نظریہ ایک مومن کی زندگی کا سرمایہ ہوتا ہے اور اسی پر مومن کی زندگی قائم ہوتی ہے۔ ایک مومن کے ماحول میں زندگی کے سمندر میں اضطرابات اور تلاطم آتے اور جاتے رہتے ہیں اور تیز طوفانی ہوائیں چلتی رہتی ہیں لیکن مومن ہے کہ وہ سمندر کے بیچ میں ایک چٹان کو مضبوطی سے پکڑ کر جم جاتا ہے۔ اس کے ماحول کے اردگرد سے ایک ایک سہارا گرتا جاتا ہے لیکن وہ ہے کہ اس نے ایک مضبوط سہارا پکڑ رکھا ہوتا ہے اور اس کے پائوں کو کوئی تزلزل نہیں ہوتا۔

ایک سچے مومن کی زندگی میں نظریہ کی یہ قدر و قیمت ہوتی ہے لہٰذا اسے اس پر جم جانا چاہئے۔ ضروری ہے کہ وہ اسے مضبوطی سے پکڑ لے۔ اسے اس پر یقین ہونا چاہئے کہ یہ عقیدہ سچا عقیدہ ہے۔ اس کے بارے میں اس کے اندر کوئی تذبذب نہ ہو ، اور اس پر وہ کسی عطا اور جزاء کا طلبگار بھی نہ ہو ، کیونکہ مومن کے لئے اس کا نظریہ اس کا حاصل ہوتا ہے۔ یہ عقیدہ اور نظریہ ہی اس کی پناہ گاہ ہوتا ہے ، یہی اس کا سہارا ہوتا ہے۔ یہ اس کا صلہ ہوتا ہے اس لئے کہ اس کی وجہ سے اس کے دل کو نور ملا ہے اور وہ راہ ہدایت پر آگیا ہے اور یہ اس پر مطمئن ہوگیا ہے۔ ایک مومن جب اسلامی نظریہ حیات کی پناہ گاہ میں ہوتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس کے اردگرد اس کے ماحول میں لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں ، درخت کے گرے ہوئے پتوں کی طرح باد خزاں کبھی انہیں ادھر لے جاتی ہے اور کبھی ادھر۔ طوفانی ہوائوں کے بگولے انہیں اڑاتے پھرتے ہیں اور وہ سخت قلق اور بےچینی کا شکار ہیں جبکہ یہ اپنے نظریہ پر قائم و دائم اور مطمئن ہیں۔ وہ ثابت قدم ہیں ، ان کی حرکات میں سکون اور ٹھہرائو ہے اور وہ رضائے الٰہی کے لئے رات اور دن کام کرتے ہیں۔

جن لوگوں کے بارے میں یہاں بات ہو رہی ہے ، وہ ایسے لوگ ہیں جو نظریات کی تجارت کرتے ہیں ، ایمان و ضمیر کو لے کر بازار میں پھرتے ہیں۔

فان اصابہ خیر اطمان بہ (22 : 11) ” اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہوگیا۔ “ اور یہ کہا کہ بس ایمان میں تو خیر ہی خیر ہے۔ اب یہ شخص اس نظریہ سے منافع کماتا ہے۔ تھنوں سے دودھ نکالتا ہے۔ فصل بوتا ہے اور کاٹتا ہے اور اس کی تجارت بازار میں ہوتی ہے اور وہ اس کو جاری رکھتا ہے۔

وان اصابتہ فتنۃ انقلب علی وجھہ خسر الدنیا و الاخرۃ (22 : 11) ” اور اگر کوئی مصیبت آگئی تو الٹا پھر گیا۔ اس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی۔ “ دنیا تو اس طرح گئی کہ اس پر معمولی مصیبت آئی اور وہ اسے انگیز نہ کرسکا۔ اپنے مقام پر ثابت قدم نہ رہ سکا۔ اس نے برے حالات میں اللہ کی طرف رجوع نہ کیا اور آخرت یوں گئی کہ اس نے پہلے ایمان اور نظریہ کو چھوڑ دیا اور راہ ہدایت کے بجائے راہ ضلالت کو اختیار کرلیا۔

یہاں قرآن مجید ایسے لوگوں کے بارے میں یہ کہتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی بندگی ایک طرف ہو کر کرتے ہیں۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کو مضبوطی سے نہیں پکڑتے ، دعوت کے کاموں میں ثابت قدم نہیں ہوتے ، ان کی پوزیشن کو اس طرح بتایا جاتا ہے کہ وہ نظریاتی موقف میں ایسی جگہ کھڑے ہوتے ہیں کہ ایک معمولی سے جھٹکے سے گر جائیں۔ بس ذرا سی مشکلات آئیں اور یہ بھاگ نکلے۔ ان کا کنارہ پر کھڑا ہونا ہی اس مقصد کے لئے تھا کہ بھاگنا آسان ہو۔

واقعہ یہ ہے کہ نفع و نقصان سے چیزوں کا ناپنا تجارتی کاروبار میں ہوا کرتا ہے۔ نظریات میں دنیوی سود و زیاں کا معیار نہیں چلتا۔ نظریات میں تو یہ دیکھنا چاہئے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے۔ حق کا ساتھ دینا چاہئے کہ نظریات میں حق وہ ہے جس پر ایک کارکن اپنی تحریک بصیرت سے مطمئن ہو۔ اس کا نفع یہی ہوتا ہے کہ انسان کو حق مل جائے۔ انسان دل سے اس پر مطمئن ہو اور اس میں اسے قلبی سکون اور راحت مل جائے۔ پس یہی منزل مقصود ہوتی ہے ایک مومن کی۔ اس پر ایک سچا مومن کوئی خارجی جزاء نہیں چاہتا۔

سچا مومن اپنے رب کی عبادت اس لئے کرتا ہے کہ اس نے اسے ہدایت بخشی ہے۔ اس لئے کرتا ہے کہ اس کے لئے ایمان محبوب بنا دیا گیا ہے اور وہ ایمان اور نظریہ کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ اگر اس پر کوئی دنیاوی فائدہ بھی مل جائے تو یہ جزاء خیر ہے۔ یہ مومن کے لئے بندگی اور ایمان پر صلہ ہوگا۔

ایک سچا مومن اپنے خدا کو سود و زیاں کے زاویہ سے نہیں آزماتا۔ وہ تو جب اسلام کو قبول کرتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ہر آزمائش کو بھی قبول کرتا ہے۔ وہ راضی ہوتا ہے کہ رب اسے جس طرح چاہے آزمائے وہ تیار ہے۔ خواہ اس پر خوشحالی ہو اور رب اسے آزمائے ، چاہے اس پر بدحالی ہو ار رب اسے اس میں آزمائے ، وہ ہر حال میں راضی ہو۔ یہ سودا بازار کے بائع اور مشتری کا سودا نہیں ہوتا کہ اس میں ہر وقت وہ سود زیاں کا حساب کرتا رہے ، بلکہ یہاں تو خالق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔ اللہ کا اختیار ہے کہ جو چاہے کرے ، کیونکہ اللہ ہی ہے جس نے مومن کو بنایا ہے۔

جو شخص اپنے ایمان اور نظریہ سے دست بردار ہو کر الٹا چلا جاتا ہے وہ ایسے خسارے میں پڑجاتا ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔

ذلک ھو الخسران المبین (22 : 11) ” اور یہ صریح خسارہ ہے۔ “ اس کی زندگی کا اطمینان جاتا رہا ، اعتماد جاتا رہا ، سکون جاتا رہا اور رضائے الٰہی سے بھی محروم ہوگیا۔ صحت ، مال اور اولاد کے خسارے کے ساتھ ساتھ آخرت کا خسارہ تو بہت بڑا خسارہ ہے۔ دنیا کے اس خسارے کے ساتھ ساتھ اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ ان کے اعتماد ، ان کے بھروسے سے ، ان کے صبر ، ان کے اخلاص ، اور ان کے اس حوصلے کو آزماتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی تقدیر کے فیصلے ماننے کے لئے تیار ہیں یا نہیں اور آخرت کا خسارہ تو بہت بڑا خسارہ ہے کہ وہ آخرت کی دائمی نعمتوں سے محروم ہوگیا۔ اللہ کی رضا مندی اور اللہ کے قرب سے محروم ہوگیا ہے۔ یہ ہے خسران مبین

لیکن یہ شخص جو اللہ کو ایک طرف ہو کر پوجتا ہے ، یہ جائے گا کہاں ؟ اللہ سے دور ہو کر یہ کہاں جائے گا ؟

یدعوا من دون اللہ مالا یضرہ ومالا ینفعہ (22 : 12) ” پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکارتا ہے جو اس کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ فائدہ۔ “ یہ بتوں کی پرستش کرے گا ، یا کسی شخصیت کی پرستش کرے گا جیسا کہ جاہلیت اولیٰ میں رواج تھا۔ دور جدید میں یہ کسی پارٹی ایک سی ڈکٹیٹر یا کسی مفاد کے پیچھے دوڑے گا جس طرح جدید جاہلیت کی صورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی لوگوں نے اللہ وحدہ کو پکارنا ترک کیا اور اللہ کی رضا اور اس کے نظام جاہلیت کی صورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی لوگوں نے اللہ وحدہ کو پکارنا ترک کیا اور اللہ کی رضا اور اس کے نظام زندگی پر چلنا ترک کیا۔ تو ان کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ ایسے لوگ یکسوئی اور یک جہتی سے محروم ہو کر منتشر ہوجاتے ہیں۔

ذلک ھو الضلل البعید (22 : 13) ” وہ ان کو پکارتا ہے جن کا نقصان ان کے نفع سے قریب تر ہے۔ “ یعنی بت یا شیطان ، یا آستانے۔ ان سب چیزوں کی مضرت زیادہ قریب ہے اور نفع بعید ہے۔ مضرت تو یہ ہے کہ انسانی دل و دماغ میں انتشار پیدا ہوتا ہے۔ وہم ذلت اور پسماندگی اس کے نصیب میں آتی ہے اور آخرت کا نقصان تو بہت ہی عظیم ہے۔

لئس المولی (22 : 13) ” ایسا آقا بہت ہی برا ہوتا ہے۔ “ یعنی ایسا جو نہ نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔

ولبئس العشیر (22 : 13) ” بدترین ہے اس کا رفیق۔ “ یعنی یہ ساتھی جس سے یہ نقصان اٹھایا جا رہا ہے اس میں بت بھی شال ہیں اور انسان بھی شامل ہیں۔ کیونکہ بعض لوگ انسانوں کو بھی الہ یا شبہ الہ بناتے رہتے ہیں۔ ہر دور میں ایسے انسان الہ ہوا کرتے ہیں اور مومنین کے لئے جو انعامات ہیں وہ بہت ہی عظیم ہیں ، قیمتی ہیں۔ اگر دنیا میں کوئی مسلمان سب کچھ دائو پر لگا دے تو بھی ان کے لئے جو اجر رکھا گیا ہے وہ پھر بھی زیادہ عظیم اور قیمتی ہے۔

آیت 11 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ ج ”انسانی دل کے اس روگ کی نشان دہی سورة البقرۃ کی آیت 10 میں ان الفاظ میں کی گئی ہے : فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌ ”ان کے دلوں میں مرض ہے“۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حق کا ساتھ دینا تو چاہتے ہیں ‘ لیکن اس کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے کو تیار نہیں۔ وہ گہرے پانی میں جانے کا خطرہ مول لینے کے بجائے کنارے پر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مبادا کہ اس سفر میں کوئی گزند پہنچ جائے یا کوئی مالی نقصان اٹھانا پڑجائے۔ وہ لوگ بڑی چالاکی کے ساتھ اس قسم کے سب خطرات سے خود کو محفوظ فاصلے پر رکھ کر حق کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں ‘ لیکن اس راستے میں ایسا طرز عمل قابل قبول نہیں ہے۔ یہ تو سرا سر قربانی کا راستہ ہے۔ اس راستے میں اپنی جان اور اپنے مال کو بچا بچا کر رکھنے والے فرزانوں کی نہیں بلکہ قدم قدم پر قربانیاں دینے والے دیوانوں کی ضرورت ہے۔ اسی فلسفے کو اقبال ؔ نے اپنے اس شعر میں بیان کیا ہے : ؂تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ‘ ترا آئینہ ہے وہ آئینہ کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں !ایسے لوگوں کے مقابلے میں دوسری طرف کچھ وہ لوگ ہیں جو حق کو قبول کرتے ہی یہ نعرہ بلند کرتے ہوئے منجدھار میں کود پڑتے ہیں : ع ”ہر چہ بادا باد ‘ ماکشتی در آب انداختیم !“ کہ اب جو ہو سو ہو ‘ ہم تو حق کی اس کشتی میں سوار ہو کر اسے دریا میں ڈال چکے ہیں۔ اب یہ تیرے گی تو ہم بھی تیریں گے اور اگر اس راستے میں ہماری جان بھی چلی جائے تو ہم اس قربانی کے لیے بھی تیار ہیں۔وَاِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ نِ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہٖ ج ”ایسے لوگ موافق حالات میں تو ہر کام میں اہل ایمان کے ساتھ شریک رہتے ہیں ‘ لیکن اگر کہیں اللہ کی راہ میں نکلنے کا مرحلہ آجائے یا کسی اور قربانی کا تقاضا ہو تو چپکے سے واپسی کی راہ لے لیتے ہیں۔ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ”یہ بہت ہی نمایاں اور واضح تباہی ہے۔اس آیت میں منافقانہ کردار کا ذکر ہے۔ اسی طرح اس سورت میں جہاد کا ذکر بھی ملتا ہے۔ منافقت اور جہاد چونکہ مدنی سورتوں کے موضوعات ہیں اس لیے سورة الحج کو بعض مفسرین مدنی سورت مانتے ہیں ‘ لیکن میرے نزدیک یہ مکی ہے۔ تفسیر طبری میں منقول حبر الامت حضرت عبداللہ بن عباس رض کے قول سے اس خیال کی تائیدہوتی ہے کہ اس سورت کی کچھ آیات 38 تا 41 اثنائے سفر ہجرت میں نازل ہوئیں۔ چناچہ ان آیات کو ”برزخی آیات“ کہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ سورة الحج کو اس بنا پر بھی مدنی سمجھا جاتا ہے کہ اس کی بعض آیات کی سورة البقرۃ کی بعض آیات کے ساتھ گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔ مثلاً سورة البقرۃ کی آیت 143 اور سورة الحج کی آخری آیت میں ”شہادت علی الناس“ کا مضمون بالکل ایک جیسے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اسی طرح زیر نظر آیت میں منافقین کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے وہ اس کیفیت سے بہت مشابہت رکھتی ہے جس کا نقشہ سورة البقرۃ کے دوسرے رکوع میں کھینچا گیا ہے کہ جب بجلی چمکتی ہے تو یہ لوگ کچھ چل پھر لیتے ہیں لیکن جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں۔ بہر حال مدینہ میں حضور ﷺ کے سامنے منافقین کا بالکل وہی حال تھا جس کی تصویر سورة البقرۃ کی مذکورہ تمثیل اور زیر مطالعہ آیت میں دکھائی گئی ہے۔ جب کسی جنگ یا کسی مہم کا تقاضا نہ ہوتا تو یہ لوگ حضور ﷺ کی محفل میں باقاعدگی سے حاضر ہوتے اور بڑے بڑے دعوے کرتے ‘ مگر جونہی کسی قربانی کا مرحلہ آتا تو گویا اوندھے منہ گرپڑتے تھے۔ دعا کریں کہ اللہ ہمیں اس بیماری سے بچائے اور اقامت دین کی جدوجہد میں پورے خلوص کے ساتھ ہمہ تن اور ہمہ وجوہ اپنے آپ کو جھونک دینے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین !

شک کے مارے لوگ " حرف " کے معنی شک کے ایک طرف کے ہیں۔ گویا وہ دین کے ایک کنارے کھڑے ہوجاتے ہیں فائدہ ہوا تو پھولے نہیں سماتے، نقصان دیکھا بھاگ کھڑے ہوئے۔ صحیح بخاری شریف میں (ابن عباس سے مروی) ہے کہ اعراب ہجرت کرکے مدینے پہنچتے تھے اب اگر بال بچے ہوئے جانوروں میں برکت ہوئی تو کہتے یہ دین بڑا اچھا ہے اور اگر نہ ہوئے تو کہتے یہ دین تو نہایت برا ہے۔ ابن حاتم میں آپ سے مروی ہے کہ اعراب حضور ﷺ کے پاس آتے اسلام قبول کرتے واپس جاکر اگر اپنے ہاں بارش، پانی پاتے، جانوروں میں، گھر بار میں برکت دیکھتے تو اطمینان سے کہتے بڑا اچھا دین ہے اور اگر اس کے خلاف دیکھتے تو جھٹ سے بک دیتے کہ اس دین میں سوائے نقصان کے اور کچھ نہیں۔ اس پر یہ آیت اتری۔ بروایت عوفی حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ ایسے لوگ بھی تھے جو مدینے پہنچتے ہی اگر ان کے ہاں لڑکا ہوتا یا ان کی اونٹنی بچہ دیتی تو انہیں راحت ہوئی تو خوش ہوجاتے اور ان کی تعریفیں کرنے لگتے اور اگر کوئی بلا، مصیبت آگئی، مدینے کی ہوا موافق نہ آئی، گھر میں لڑکی پیدا ہوگئی، صدقے کا مال میسر نہ ہوا تو شیطانی وسوسے میں آجاتے اور صاف کہہ دیتے کہ اس دین میں تو مشکل ہی مشکل ہے۔ عبدالرحمن کا بیان ہے کہ یہ حالت منافقوں کی ہے۔ دنیا اگر مل گئی تو دین سے خوش ہیں جہاں نہ ملی یا امتحان آگیا فوراً پلہ جھاڑلیا کرتے ہیں، مرتد کافر ہوجاتے ہیں۔ یہ پورے بدنصیب ہیں دنیا آخرت دونوں برباد کرلیتے ہیں اس سے زیادہ اور بربادی کیا ہوتی ؟ جن ٹھاکروں، بتوں اور بزرگوں سے یہ مدد مانگتے ہیں، جن سے فریاد کرتے ہیں، جن کے پاس اپنی حاجتیں لے کر جاتے ہیں، جن سے روزیاں مانگتے ہیں وہ تو محض عاجز ہیں، نفع نقصان ان کے ہاتھ ہی نہیں۔ سب سے بڑی گمراہی یہی ہے۔ دنیا میں بھی ان کی عبادت سے نقصان نفع سے پیشتر ہی ہوجاتا ہے۔ اور آخرت میں ان سے جو نقصان پہنچے گا اس کا کہنا ہی کیا ہے ؟ یہ بت تو ان کے نہایت برے والی اور نہایت برے ساتھی ثابت ہوں گے۔ یا یہ مطلب کہ ایسا کرنے والے خود بہت ہی بد اور بڑے ہی برے ہیں لیکن پہلی تفسیر زیادہ اچھی ہے واللہ اعلم۔

آیت 11 - سورہ الحج: (ومن الناس من يعبد الله على حرف ۖ فإن أصابه خير اطمأن به ۖ وإن أصابته فتنة انقلب على وجهه...) - اردو