درس نمبر 145 ایک نظر میں
پچھلے سبق کا خاتمہ اس پر ہوا تھا کہ ذات باری کے بارے میں لوگوں کے دو گروہ ہیں۔ کافروں کا انجام قیامت میں کیا ہوگا اور اہل ایمان کے حالات کیسے ہوں گے۔ اسی حوالے سے کفار نے اس طرز عمل پر بحث کی جاتی ہے جو انہوں نے اس دنیا میں اختیار کر رکھا ہے کہ وہ لوگوں کو مسجد حرام کی زیارت سے اب روکنے لگے ہیں۔ مکہ میں تو انہوں نے دعوت اسلامی کی راہ روکنے کی بےحد جدوجہد کی ، مگر جب یہ تحریک مدینہ منتقل ہوگئی تو انہوں نے مسلمانوں کو زیارت حرم سے روک دیا۔
اس حوالے سے بتایاج اتا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اس حرم کو تعمیر کیا تھا تو ان کے پیش نظر کیا مقاصد تھے۔ انہوں نے کن مقاصد کے لئے اس کی تعمیر کے بعد لوگوں میں اعلان کیا تھا کہ وہ اس حرم کی زیارت کے لئے آزادانہ آئیں۔ اس گھر کی تعمیر ہی عقیدہ توحید پر ہوئی تھی۔ یہ توحید کا گھر تھا۔ اس میں شرک کرنے کا تو جواز ہی نہیں ہے۔ پھر یہ گھر تمام انسانوں کے لئے تھا۔ خواہ اس میں کوئی مقیم ہو یا باہر سے آئے۔ یہ سب کی مشترکہ جگہ ہے۔ کوئی وہاں کسی کو روک نہیں سکتا۔ کوئی اس کا مالک نہیں ہو سکتا۔ یہاں بعض شعائر زیارت و حج بھی بیان کردیئے جاتے ہیں اور یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ ان کے پیچھے خدا خوفی اور خدا کے ساتھ تعلق کا کیا جذبہ ہے۔ آخر میں بتایا جاتا ہے کہ حرم کے اندر کسی کو اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی پر کوئی بھی زیادتی کرے۔ خصوصاً وہ لوگ جو حرم کو ان مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں جن کے لئے وہ بنا نہیں ہے۔ ان کو تو کوئی حق ہی نہیں ہے کہ وہ اس کے متولی ہوں۔ اس حرم کو آزاد کرنے کے لئے جو بھی اٹھے گا اور اس مشن کے تقاضے پورے کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی نصرت اس کے شامل حال ہوگی۔ یہ جارحیت نہ ہوگی بلکہ مقاصد حرم پر دست درازی کرنے والوں کے مقابلے میں مدافعت ہوگی۔
درس نمبر 145 تشریح آیات
25……تا……41
ان الذین ……… الیم (25)
یہ مشرکین قریشی کی کارروائی تھی کہ لوگوں کو وہ اللہ کے دین سے اور مسجد حرام سے روکتے تھے ، حالانکہ مسجد حرام بنی ہی لوگوں کے لئے تھی چاہے وہ اس میں بسنے والے ہوں یا باہر سے زیارت کے لئے آنے والے ہوں۔ دین الٰہی وہ وسیلہ ہے جس کے ذریعہ انسان اللہ تک پہنچ سکتا ہے۔ پھر لوگوں کے لئے یہ ایک نظام زندگی ہے جس کے مطابق انہوں نے زندگی بسر کرنی ہے کیونکہ یہ ان کی زندگی کا منہاج ہے۔ قریش لوگوں کو دین اسلام سے بھی روکتے تھے اور مسجد حرام سے بھی روکتے تھے۔ حج و عمر سے بھی مسلمانوں کو روکتے تھے حالانکہ مسجد حرام کو اللہ نے دار امن وامان قرار دیا تھا جس میں مکہ کے باشندے اور باہر کے لوگ سب مساوی تھے۔ یہاں کسی کو کوئی امتیازی پوزیشن حاصل نہ تھی۔ نہ اس میں کوئی مالک بن سکتا تھا اور نہ امتیازی حقوق حاصل کرسکتا تھا۔
یہ وہ مقام احرام تھا جسے اللہ تعالیٰ نے ایک پرامن خطہ قرار دینے کے لئے سب سے پہلے مکہ مکرمہ کو منتخب کیا۔ اس خطے میں لوگ اسلحہ پھینکتے تھے ، باہم سخت عداوت رکھنے والے دو شخص بھی یہاں امن سے رہتے تھے۔ یہاں ہر قسم کی خونریزی ممنوع تھی۔ یہ کسی کی جانب سے کوئی مہربانی نہ تھی بلکہ تمام انسانوں کا یہ حق تھا اور اس حق میں سب برابر تھے۔
فقہاء کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے کہ مکہ کے وہ گھر جن میں ان کے مالک رہائش نہیں رکھتے ، آیا ان کا کوئی مالک ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اور اگر ملکیت کا جواز بھی ثابت ہو تو آیا ان مکانات کا کرایہ لیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ امام شافعی “ اس طرف گئے ہیں کہ ملکیت بھی جائز ہے ، وراثت بھی جائز ہے ، کرایہ پر دینا بھی جائز ہے۔ وہ حضرت عمر ابن الخطاب کی روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ انہوں نے صفوان ابن امیہ سے ایک مکان مکہ میں چار ہزار درہم کے عوض خریدا تھا اور اس سے انہوں نے جیل خانہ بنایا تھا۔ اسحاق ابن راہویہ اس طرف گئے ہیں کہ نہ ان کا کوئی وارث ہو سکتا ہے اور نہ ہی کرایہ پر دیئے جاسکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فوت ہوئے اس حال میں کہ مکہ کے میدان شاملات کہلاتے تھے ، جس کو ضرورت ہوتی وہ اس میں رہتا اور جس کی ضرورت سے زیادہ ہوتے وہ دوسرے کو اس میں بسا دیتا۔ عبدالرزاق نے مجاہد ، اس کے باپ سے ، عبداللہ ابن عمر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ مکہ کے مکانات کو بچینا جائز نہیں ہے اور نہ ان کا کرایہ لینا جائز ہے۔ انہوں نے ابن جریج سے بھی نقل کیا ہے کہ عطاء حرم میں مکانات کو کرایہ پر دینے سے منع کرتے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ حضرت عمر ابن الخطاب مکہ کے مکانات کے دروازے لگانے سے منع کرتے تھے تاکہ حجاج ان کے صحنوں میں ٹھہر سکیں۔ سب سے پہلے سہیل ابن عمرو نے دروازہ لگایا۔ حضرت عمر ابن الخطاب نے اس معاملے میں اسے لکھا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امیر المومنین میں ایک تاجر آدمی ہوں اس لئے میں نے دو دروازے لگائے ہیں تاکہ میں اپنی سواریاں یہاں بند کروں۔ تو اس پر انہوں نے کہا کہ تمہیں اس کی اجازت ہے۔ مجاہد کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر نے اہل مکہ سے کہا ، اپنے گھروں کے سامنے گیٹ نہ لگائو تاکہ حج کو آنے والا جہاں چاہے اتر جائے۔ امام احمد بن حنبل نے ایک متوسط مذہب اختیار کیا ہے کہ ملکیت اور وراثت تو ان میں چلے گی مگر کرایہ پر دینا جائز نہ ہوگا۔ یوں انہوں نے دلائل میں تطبیق کردی ہے۔
یوں اسلام نے تمام مذاہب کے مقابلے میں سب سے پہلے ایک خطے کو دار الامن قرار دیا۔ بلکہ اسے تمام انسانوں کا شہر قرار دیا اور اس میں ملکیت اور دوسری حد بندیوں کو ناجائز قرار دیا۔ چناچہ اس صاف ستھرے اور سیدھے طریقے میں جو شخص ٹیڑھ پیدا کرتا ہے اس کو قرآن کریم دھمکی دیتا ہے کہ اسے سخت سزا دی جائے گی۔
ومن یردفیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب الیم (22 : 25) ” اس میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ “ یہ سزا تو اس شخص کے لئے ہے جو ارادہ کرے اور جو ارادہ کر کے ظلم کا ارتکاب بھی کرے تو اس کی سزا پھر بہت زیادہ ہوگی۔ صرف ارادے پر سزا کا اعلان بہت زیادہ تاکید کی خاطر ہے۔ یہ قرآن مجید کی نہایت ہی دقیق تعبیر ہے۔
پھر قرآن مجید کے گہرے تاکیدی انداز کا ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ اس جملہ میں لفظ ان کی خبر کا ذکر نہیں کی اگیا۔
ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام (22 : 25)
یہاں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ ان کفار کے بارے میں حکم کیا ہے ؟ ان کا کیا انجام ہوگا ؟ ان کو کیا سزا ملے گی ؟ کفر کے ذکر ہی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کی جزاء کیا ہے جبکہ وہ یہاں سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور اسلام کی راہ بھی روک رہے ہیں۔
اب روئے سخن اس گھر کی تعمیر اور تاریخ کی طرف ، جس پر مشرکین کا قبضہ ہے۔ اس میں یہ لوگ بتوں کو پوجتے ہیں اور اہل توحید کو حق زیارت سے بھی محروم کر رہے ہیں محض اس لئے کہ وہ شرک سے پاک ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رب تعالیٰ کی ہدایات اور احکام کے مطابق یہ کعبہ کس طرح وجود میں آیا یہ کہ یہ بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ یہ توحید کی بنیاد ہوگا اور اس کا استعمال یہ ہوگا کہ اس میں اللہ وحدہ کی پرستش کی جائے گی اور یہ کہ وہ یہاں کے مقیم لوگوں اور زائرین دونوں کے لئے مخصوص ہوگا۔
یہ دو رکوع مناسک حج کے بارے میں ہیں۔ سورة البقرۃ کے چوبیسویں اور پچیسویں رکوع میں بھی مناسک حج کا تذکرہ ہے مگر وہاں پر قربانی کا ذکر نہیں ہوا۔ صرف قبل از وقت سر منڈوانے کی صورت میں کفارے کے طور پر جانور ذبح کرنے دم جنایت اور حج وعمرہ کو جمع کرنے ِ قران یا تمتع ّ کی صورت میں دم شکر کا تذکرہ ہے۔ لیکن یہاں قربانی اور طواف کا خاص طور پر ذکر ہے۔آیت 25 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ”کفار مکہ کی مخالفانہ سر گرمیوں کی طرف اشارہ ہے جن کے باعث مسلمان نہ صرف جوار بیت اللہ کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے بلکہ ایک عرصے تک حج وعمرہ کی سعادت حاصل کرنے سے محروم بھی رہے۔الَّذِیْ جَعَلْنٰہُ للنَّاسِ سَوَآءَ نِ الْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِ ط ”ان دونوں اقسام کے لوگوں کے لیے ”مقیم“ اور ”آفاقی“ کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ چناچہ مقیم ہو یا آفاقی حرم کے اندر سب کے حقوق برابر ہیں ‘ کسی کو کسی پر ترجیح یا برتری نہیں دی جاسکتی۔ اب بھی وہاں پر یہ مساوات برقرار ہے۔ باہر سے آنے والا کوئی شخص پہلی صف میں بیٹھا ہو تو اسے کوئی وہاں سے نہیں اٹھا سکتا۔ البتہ کوئی ناجائز طریقے سے اپنے لیے کوئی رعایت حاصل کرلے یا حکومتی سطح پر کسی کو وی آئی پی قرار دے کر دوسروں کے حقوق متأ ثر کیے جائیں تو یہ الگ بات ہے۔وَمَنْ یُّرِدْ فِیْہِ بِاِلْحَادٍم بِظُلْمٍ ”بیت اللہ کے اندر جو کوئی اپنی شرارت نفس کی بنا پر یا ظلم و ناانصافی کی روش پر چلتے ہوئے کسی بےدینی کے ارتکاب ‘ کوئی کجی پیدا کرنے یا لوگوں کو سیدھے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرے گا :
مسجدالحرام سے روکنے والے اللہ تعالیٰ کافروں کے اس فعل کی تردید کرتا ہے جو وہ مسلمانوں کو مسجد الحرام سے روکتے تھے وہاں انہیں احکام حج ادا کرنے سے باز رکھتے تھے باوجود اس کے اولیاء اللہ کے ہونے کا دعوی کرتے تھے حالانکہ اولیاء وہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا ڈر ہو اس سے معلوم ہوتا کہ یہ ذکر مدینے شریف کا ہے۔ جیسے سورة بقرہ کی آیت (یسألونک عن الشہر الحرام الخ) ، میں ہے یہاں فرمایا کہ باوجود کفر کے پھر یہ بھی فعل ہے کہ اللہ کی راہ سے اور مسجد الحرام سے مسلمانوں کو روکتے ہیں جو درحقیقت اس کے اہل ہیں۔ یہی ترتیب اس آیت کی ہے (الذین امنوا وتطمئن قلوبہم بذکر اللہ الخ) ، یعنی ان کی صفت یہ ہے کہ ان کے دل ذکر اللہ سے مطمئن ہوجاتے ہیں۔ مسجد الحرام جو اللہ نے سب کے لئے یکساں طور پر باحرمت بنائی ہے مقیم اور مسافر کے حقوق میں کوئی کمی زیادتی نہیں رکھی۔ اہل مکہ مسجد الحرام میں اترسکتے ہیں اور باہر والے بھی۔ وہاں کی منزلوں میں وہاں کے باشندے اور بیرون ممالک کے لوگ سب ایک ہی حق رکھتے ہیں۔ اس مسئلے میں امام شافعی ؒ تو فرمانے لگے مکہ کی حویلیاں ملکیت میں لائی جاسکتی ہیں۔ ورثے میں بٹ سکتی ہیں اور کرائے پر بھی دی جاسکتی ہیں۔ دلیل یہ دی کہ اسامہ بن زید ؓ نے حضور ﷺ نے سوال کیا کہ کل آپ اپنے ہی مکان میں اترے گے ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ عقیل نے ہمارے لئے کون سی حویلی چھوڑی ہے ؟ پھر فرمایا کافر مسلمان کا ورث نہیں ہوتا اور نہ مسلمان کافر کا۔ اور دلیل یہ ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت صفوان بن امیہ کا مکان چار ہزار درہم میں خرید کر وہاں جیل خانہ بنایا تھا۔ طاؤس اور عمرو بن دینار بھی اس مسئلے میں امام صاحب کے ہم نوا ہیں۔ امام اسحاق بن راہویہ اس کے خلاف کہتے ہیں کہ ورثے میں بٹ نہیں سکتے نہ کرائے پر دئیے جاسکتے ہیں۔ اسلاف میں سے ایک جماعت یہ کہتی ہے مجاہد اور عطاکا یہی مسلک ہے۔ اس کی دلیل ابن ماجہ کی یہ حدیث ہے حضرت علقمہ بن فضلہ فرماتے ہیں حضور ﷺ کے زمانے میں صدیقی اور فاروقی خلافت میں مکہ کی حویلیاں آزاد اور بےملکیت استعمال کی جاتی رہیں اگر ضرورت ہوتی تو رہتے ورنہ اوروں کو بسنے کے لئے دے دیتے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں نہ تو مکہ شریف کے مکانوں کا بیچناجائز ہے نہ ان کا کرایہ لینا۔ حضرت عطا بھی حرم میں کرایہ لینے کو منع کرتے تھے۔ حضرت عمربن خطاب ؓ مکہ شریف کے گھروں کے دروازے رکھنے سے روکتے تھے کیونکہ صحن میں حاجی لوگ ٹھیرا کرتے تھے۔ سب سے پہلے گھر کا دروازہ سہیل بن عمرو نے بنایا حضرت عمر ؓ نے اسی وقت انہیں حاضری کا حکم بھیجا انہوں نے آکر کہا مجھے معاف فرمایا جائے میں سوداگر شخص ہوں میں نے ضرورتاً یہ دروازے بنائے ہیں تاکہ میرے جانور میرے بس میں رہیں۔ آپ نے فرمایا پھر خیر ہم اسے تیرے لئے جائز رکھتے ہیں۔ اور روایت میں حکم فاروقی ان الفاظ میں مروی ہے کہ اہل مکہ اپنے مکانوں کے دروازے نہ رکھو تاکہ باہر کے لوگ جہاں چاہیں ٹھیریں۔ عطا فرماتے ہیں شہری اور غیروطنی ان میں برابر ہیں جہاں چاہیں اتریں۔ عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں مکہ شریف کے لوگ گھروں کا کرایہ کھانے والا اپنے پیٹ میں آگ بھرنے والا ہے۔ امام احمد ؒ نے ان دونوں کے درمیان کا مسلک پسند فرمایا یعنی ملکیت کو اور ورثے کو تو جائز بتایا ہاں کرایہ کو ناجائز کہا ہے اس سے دلیلوں میں جمع ہوجاتی ہے۔ واللہ اعلم بالحاد میں " با " زائد ہے جیسے تنبت بالدہن میں۔ اور اعشی کے شعر (ضمنت برزق عیالنا ارماحنا الخ) ، میں یعنی ہمارے گھرانے کی روزیاں ہمارے نیزوں پر موقوف ہیں الخ، اور شعروں کے اشعار میں " با " کا ایسے موقعوں پر زائد آنا مستعمل ہوا ہے لیکن اس سے بھی عمدہ بات یہ ہے کہ ہم کہیں کہ یہاں کا فعل بہم کے معنی کا متضمن ہے اس لئے " با " کے ساتھ متعدی ہوا ہے۔ الحاد سے مراد کبیرہ شرمناک گناہ ہے۔ بظلم سے مراد قصدا ہے تاویل کی رو سے نہ ہونا ہے۔ اور معنی شرک کے غیر اللہ کی عبادت کے بھی کئے گئے ہیں۔ یہ بھی مطلب ہے کہ حرم میں اللہ کے حرام کئے ہوئے کام کو حلال سمجھ لینا جیسے گناہ قتل بےجا ظلم وستم وغیرہ۔ ایسے لوگ درد ناک عذابوں کے سزاوار ہیں۔ حضرت مجاہد ؒ جو بھی یہاں برا کام کرے یہ حرم شریف کی خصوصیت ہے کہ غیروطنی لوگ جب کسی بدکام کا ارادہ بھی کرلیں تو بھی انہیں سزا ہوتی ہے چاہے اسے عملا نہ کریں۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں اگر کوئی شخص عدن میں ہو اور حرم میں الحاد وظلم کا ارادہ رکھتا ہو تو بھی اللہ اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائے گا۔ حضرت شعبہ ؒ فرماتے ہیں اس نے تو اس کو مرفوع بیان کیا تھا لیکن میں اسے مرفوع نہیں کرتا۔ اس کی اور سند بھی ہے جو صحیح ہے اور موقوف ہونا بہ نسبت مرفوع ہونے کے زیادہ ٹھیک ہے عموما قول ابن مسعود ؓ سے ہی مروی ہے، واللہ اعلم۔ اور روایت میں ہے کسی پر برائی کے صرف سے برائی نہیں لکھی جاتی لیکن اگر دور دراز مثلا عدن میں بیٹھ کر بھی یہاں کے کسی شخص کے قتل کا ارادہ کرے تو اللہ اسے دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں ہاں یا نہیں کہنے پر یہاں قسمیں کھانا بھی الحاد میں داخل ہے۔ سعید بن جبیر ؒ کا فرمان ہے کہ اپنے خادم کو یہاں گالی دینا بھی الحاد میں ہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے امیر شخص کا یہاں آکر تجارت کرنا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مکہ میں اناج کا بیچنا۔ ابن حبیب بن ابو ثابت فرماتے ہیں گراں فروشی کے لئے اناج کو یہاں روک رکھنا۔ ابن ابی حاتم میں بھی فرمان رسول اللہ ﷺ سے یہی منقول ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن انیس کے بارے میں اتری ہے اسے حضور ﷺ نے ایک مہاجر اور ایک انصار کے ساتھ بھیجا تھا ایک مرتبہ ہر ایک اپنے اپنے نسب نامے پر فخر کرنے لگا اس نے غصے میں آکر انصاری کو قتل کردیا اور مکہ کی طرف بھاگ کھڑا ہوا اور دین اسلام چھوڑ بیٹھا۔ تو مطلب یہ ہوگا کہ جو الحاد کے بعد مکہ کی پناہ لے۔ ان آثار سے گویہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کام الحاد میں سے ہیں لیکن حقیقتا یہ ان سب سے زیادہ اہم بات ہے بلکہ اس سے بڑی چیز پر اس میں تنبیہہ ہے۔ اسی لئے جب ہاتھی والوں نے بیت اللہ شریف کی خرابی کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول کے غول بھیج دئے جنہوں نے ان پر کنکریاں پھینک کر ان کا بھس اڑا دیا اور وہ دوسروں کے لئے باعث عبرت بنا دئے گئے۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ ایک لشکر اس بیت اللہ کے غزوے کے ارادے سے آئے گا جب وہ بیدا میں پہنچیں گے تو سب کے سب مع اول آخر کے دھنسادئے جائیں گے، الخ۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں آپ یہاں الحاد کرنے سے بچیں میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ یہاں ایک قریشی الحاد کرے گا اس کے گناہ اگر تمام جن وانس کے گناہوں سے تولے جائیں تو بھی بڑھ جائیں دیکھو خیال رکھو تم وہی نہ بن جانا۔ (مسند احمد) اور روایت میں یہ بھی ہے کے نصیحت آپ نے انہیں حطیم میں بیٹھ کر کی تھی۔