ذلک ومن ……مکان سحیق (31)
اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا جائے۔ یہ اللہ کی ہاں بہت بڑی نیکی اور خیر ہے۔ انسانی شعور اور انسانیضمیر کی دنیا میں بھی خیر کثیر ہے۔ واقعی اور عملی زندگی میں بھی یہ خبر ہے ، کیونکہ جو ضمیر حرمتوں کا شعور رکھتے ہوئے بچنے کی کوشش کرے گا وہی پاک ہوگا۔ جس زندگی میں اللہ کی حرمتوں کا احترام ہوگا۔ وہی زندگی امن وامان اور سلامتی کی نعمت سے مالا مال ہو سکتی ہے اور اس میں کسی پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں ہو سکتی۔ ایسی ہی زندگی میں امن کے مقامات اور اطمینان کے گھر مل سکتے ہیں۔
مشرکین بھی بعض جانوروں کا احترام کرتے تھے۔ مثلاً بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔ ان کے نزدیک یہ جانور محترم تھے اور ان کو ہاتھ لگانا بھی جرم تھا۔ لیکن یہ مشرکین کی خود ساختہ حرمتیں تھیں۔ اللہ کی طرف سے ان کے بارے میں کوئی حکم نہ تھا تو یہاں کہہ دیا کہ اللہ نے کھانے کے جانوروں میں سے جو حرام قرار دیتے ہیں ان کا ذکر ہو چا ہے مثلاً مردار ، خون ، خنزیر اور وہ جانور جو اللہ کے سوا کسی اور کی نذر ہو۔
واحلت لکم الانعام الا مایتلی علیکم (22 : 30) ” تمہارے لئے مویشی حلال کئے گئے ہیں ماسوائے ان چیزوں کے جو تمہیں بتائی جا چکی ہیں۔ “ یہ اس لئے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی مقرر کردہ کوئی حرمت نہ ہو۔ اللہ کے سوا کسی کو حلال و حرام قرار دینے کی اجازت نہیں اور اللہ کی شریعت کے سوا کسی اور شریعت کے مطابق احکام جاری نہ ہوں۔
حلت اور حرمت کی بحث ہی کی مناسبت سے بتوں کی گندگی سے بچنے کی بھی تاکید کردی گئی۔ مشرکین بتوں پر جانور ذبح کرتے تھے حالانکہ یہ ناپاکی تھی۔ رجس اس ناپاکی کو کہتے ہیں جس کا تعلق انسان کے نفس ، ضمیر اور دماغ سے ہو ، شرک اسی قسم کی معنوی ناپاکی ہے۔ شرک قلب و ضمیر کو اسی طرح ناپاک کر دیات ہے جس طرح گندگی کپڑے کو ناپاک کردیتی ہے۔
پھر شرک اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے اور سفید جھوٹ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ اس بڑے جھوٹ کے ساتھ ساتھ تمام جھوٹوں سے بچو۔
فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور (22 : 30) ” بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو۔ “ قرآن مجید نے جھوٹ کو شرک کے ساتھ جوڑ کر اس کے گناہ کو اور بھیانک بنا دیا ہے۔ امام احمد روایت کرتے ہیں کہ قاتک اسدی نے حضور ت سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نما زپڑھی اور منہ پھیر کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا۔
عدلت شھادۃ الزور الا شراک باللہ عزوجل ” اور جھوٹی شہادت کو شرک کے برابر کردیا گیا ہے۔ “ اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔
اللہ تعالیٰ کی خواہش یہ ہے کہ لوگ ہر قسم کے شرک کو چھوڑ دیں اور ہر قسم کے جھٹ کو چھوڑدیں اور خلاص عقیدہ توحیدہ پر جم جائیں۔
حنفآء اللہ غیر مشرکین بہ (22 : 31) ” یکسو ہو کر اللہ کے بندے ہو جائو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “ اس کے بعد آیت میں ایک خوفناک منظر ایک مثال کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے کہ جو شخص توحید کے بلند افق سے گرا تو اس کا حال کیا ہوتا ہے۔ وہ شرک کی پستیوں میں جا گرتا ہے اور وہ اس طرح ختم ہوجاتا ہے کہ اس کا نام و نشان ہی نہیں رہتا۔ گویا وہ تھا ہی نہیں۔
ومن یشرک باللہ فکانما خرمن السمآء فتخطفہ الطیر اوتھوی بہ الریح فی مکان سحیق (22 : 31) ” اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گر گیا۔ اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا اسے ایسی جگہ لے جا کر پھینک دے گی جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں گے۔ “
یہ منظر ایسے شخص کا ہے جو بہت ہی بلند جگہ سے گر جائے جیسا کہ آسمان سے گر کر وہ ریزہ ریزہ ہوجائے اور اسے پرندے اچک لے جائیں یا ہوا اسے نظروں سے دور پھینک دے۔ یا ہوا اسے ایسی جگہ پھینک دے ایسے گڑھے میں جہاں اسے کوئی قرار نصیب نہ ہو۔ یعنی اس منظر میں تمام مراحل بڑی تیزی سے سرانجام پاتے ہیں۔ سخت تیزی اور پھر اقدامات لگاتار ہیں اور ہر مرحلے کے … کا استعمال ہے۔ جو ترتیب واقعات بغیر فاصلہ وقت پر دلالت کرتی ہے یعنی یہ شخص بڑی تیزی سے منظر سے غائب ہوتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز ہے تصویر کشی کا۔
پھر جس طرح قرآن کریم نے شرک کرنے والے کی تصویر کشی کی ہے فی الواقعہ بھی اس کی حالت کچھ ایسی ہی ہوتی ہے کیونکہ وہ توحید اور ایمان کے بلند مقام سے گر جاتا ہے اور اس کی شخصیت منتشر ہوجاتی ہے کیونکہ اس کیپ اس وہ مضبوط اساس یعنی عقیدہ توحید ہی نہ رہا جس پر وہ کھڑا ہو سکے۔ اب اس کے لئے کوئی جائے قرار ہی باقی نہیں ہے۔ پرندے اس کو اچک لیں گے یعنی خواہشات نفسانیہ اور ادہام و خرافات ہر طرف سے اسے اپنی طرف کھینچیں گے۔ چونکہ اس کے ہاتھ میں مضبوط رسی نہ ہوگی اس لئے وہ ہر طرف کھینچتا چلا جائے گا۔ کبھی ایک طرف گرے گا اور کبھی دوسری طرف کیونکہ اسکے پائوں کے نیچے مضبوط بنیاد نہ ہوگی۔
اب بات آگے بڑھتی ہے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کی حرمتوں کا احترام کرو اور ان سے تعرض نہ کرو۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کے شعائر کی تعظیم کر ، شعائر لالہ کیا ہیں۔ وہ جانور جو حج کے موقع پر ذبح ہوں گے ، ان کی تعظیم میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ موٹے تازے ہوں اور قیمتی ہوں۔
آیت 30 ذٰلِکَق وَمَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰہِ فَہُوَ خَیْرٌ لَّہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ ط ”اللہ نے جس جس چیز کو محترم ٹھہرایا ہے وہ سب ”حرمات اللہ“ ہیں۔ اس میں خود بیت اللہ اور حرمت والے مہینے بھی شامل ہیں۔ پھر جیسا کہ سورة المائدۃ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ قربانی کے جانور جن کی گردنوں میں قلادے ڈالے گئے ہوں وہ بھی اور خود عازمینِ حج اآمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ آیت 2 بھی محترم ہیں۔ یہ سب حرمات اللہ ہیں اور ان سب کی تعظیم لازمی ہے۔وَاُحِلَّتْ لَکُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ ”یعنی خنزیر کے بارے میں واضح طور پر بتادیا گیا کہ وہ حرام ہے۔ باقی بکری ‘ بھیڑ ‘ گائے ‘ اونٹ وغیرہ کی قربانی دی جاسکتی ہے۔فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ”یعنی شرک سے بچنا تمہاری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ مکہ میں اس وقت بت پرستی عام تھی جو شرک کی بد ترین شکل ہے۔
بت پرستی کی گندگی سے دور رہو فرماتا ہے یہ تو تھے احکام حج اور ان پر جو جزا ملتی ہے اس کا بیان۔ اب اور سنو جو شخص حرمات الٰہی کی عزت کرے یعنی گناہوں سے اور حرام کاموں سے بچے، ان کے کرنے سے اپنے آپ کو روکے اور ان سے بھاگا رہے اس کے لئے اللہ کے پاس بڑا اجر ہے۔ جس طرح نیکیوں کے کرنے پر اجر ہے اسی طرح برائیوں کے چھوڑنے پر بھی ثواب ہے۔ مکہ حج عمرہ بھی حرمات الٰہی ہیں۔ تمہارے لئے چوپائے سب حلال ہیں ہاں جو حرام تھے وہ تمہارے سامنے بیان ہوچکے ہیں۔ یہ جو مشرکوں نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام نام رکھ چھوڑے ہیں یہ اللہ نے نہیں بتلائے۔ اللہ کو جو حرام کرنا تھا بیان فرما چکا جیسے مردار جانور بوقت ذبح بہا ہوا خون سور کا گوشت اللہ کے سوا دوسرے کے نام پر مشہور کیا ہوا، گلا گھٹا ہوا وغیرہ۔ تمہیں چاہے کہ بت پرستی کی گندگی سے دور رہو، " من " یہاں پر بیان جنس کے لئے ہے۔ اور جھوٹی بات سے بچو۔ اس آیت میں شرک کے ساتھ جھوٹ کو ملادیا جیسے آیت (قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا باللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 33) 7۔ الاعراف :33) یعنی میرے رب نے گندے کاموں کو حرام کردیا خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ۔ اور گناہ کو سرکشی کو اور بےعلمی کے ساتھ اللہ پر باتیں بنانے کو۔ اسی میں جھوٹی گواہی بھی داخل ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے حضور ﷺ نے پوچھا کیا میں تمہیں سب سے بڑا کبیرہ گناہ بتاؤں ؟ صحابہ نے کہا ارشاد ہو فرمایا اللہ کے ساتھ شریک کرنا ماں باپ کی نافرمانی کرنا پھر تکیہ سے الگ ہٹ کر فرمایا اور جھوٹ بولنا اور جھوٹی شہادت دینا۔ اسے بار بار فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش کہ آپ اب نہ فرماتے۔ مسند احمد میں حضور ﷺ نے اپنے خطبے میں کھڑے ہو کر تین بار فرمایا جھوٹی گواہی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر کردی گئی پھر آپ نے مندرجہ بالا فقرہ تلاوت فرمایا۔ اور روایت میں ہے کہ صبح کی نماز کی بعد آپ نے کھڑے ہو کر یہ فرمایا۔ ابن مسعود ؓ کا یہ فرمان بھی مروی ہے اللہ کے دین کو خلوص کے ساتھ تھام لوباطل سے ہٹ کر حق کی طرف آجاؤ۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرانے والوں میں نہ بنو۔ پھر مشرک کی تباہی کی مثال بیان فرمائی کہ جیسے کوئی آسمان سے گرپڑے پس یا تو اسے پرند ہی اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی ہلاکت کے دور دراز گڑھے میں پہنچا دے گی۔ چناچہ کافر کی روح کو لے کر جب فرشتے آسمان کی طرف چڑھتے ہیں تو اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور وہیں سے وہ پھینک دی جاتی ہے اسی کا بیان اس آیت میں ہے۔ یہ حدیث پوری تفصیل کے ساتھ سورة ابراہیم میں گزر چکی ہے سورة انعام میں ان مشرکوں کی ایک اور مثال بیان فرمائی ہے یہ اس کی مثل کے ہے جسے شیطان باؤلا بنا دے۔ الخ۔