ویستعجلونک …مما تعدون (47)
ہر زمانے میں ظالموں کا یہی انداز ہوتا ہے۔ وہ زمانہ ماضی کے ظالموں کے کھنڈرات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ ان کی تاریخ پڑھتے ہیں اور ان کے انجام ان کے سامنے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اسی راہ پر چلتے ہیں ، جس کا انجام وہ دیکھتے ہیں۔ جب ان کو اس طرف متوجہ کیا جائے کہ دیکھو تمہارے آبائو اجداد اس انجام سے دوچار ہوئے تھے ، یہی تمہارا بھی ہو سکتا ہے تو یہ لوگ اسے مسجد سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے جو انہیں مہلت کی ایک گھڑی دے رکھی ہے تو یہ کبرو غرور میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ جاتے ہیں۔ جس بات سے انہیں ڈرایا جاتا ہے اس کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور مذاق میں بھی اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ مطالبہ کرتے ہیں کہ لائو وہ عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔
ولن یخلف اللہ وعدہ (22 : 83) ” اللہ ہرگز وعدے کے خلاف نہ کرے گا۔ “ عذاب ضرور اپنے وقت پر آئے گا ، اس کی حکمت اور اس کی تقدیر اور منصوبے کے مطابق۔ لوگوں کی طرف سے تاوانی کا مظاہرہ ہو رہا ہے لیکن اللہ اسے اپنے وقت پر لائے گا۔ لوگوں کا وقت کا حساب اور ہے اور اللہ کا اور ہے۔
و ان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون (22 : 83) ” مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے زہار برس کے برابر ہوا کرتا ہے۔ “ یہ کھنڈرات اور ان میں ہلاک شدہ اقوام کو بھی اللہ نے مہلت دی تھی لیکن ان کے لئے بھی یہ مہلت مفید نہ رہی کیونکہ اللہ کی سنت کے مطابق ان کی بربادی کا فیصلہ ہوچکا تھا۔
تعجب ہے کہ مشرکین مکہ عذاب طلب کرتے ہیں اور اللہ کے ڈراوے کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ، محض اس لئے کہ ان کو اللہ نے مہلت دے دی ہے۔
آیت 47 وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالْعَذَابِ وَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ وَعْدَہٗ ط ”عذاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سب وعدے ہر صورت میں پورے ہوں گے اور ان لوگوں پر عذاب آکر رہے گا۔ البتہ یہ عذاب کب آئے گا ؟ کس شکل میں آئے گا ؟ اس کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ اس نے ایسی تمام معلومات خفیہ رکھی ہیں۔ سورة الانبیاء میں اس موضوع سے متعلق حضور ﷺ سے یوں اعلان کرایا گیا : وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ ”اور میں نہیں جانتا کہ جس عذاب کا تم لوگوں سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا کچھ عرصے بعد آئے گا۔“ وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ”دنیا میں عام انسانی حساب کے مطابق ایک ہزار برس کا عرصہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن کے برابر ہے۔ سورة السجدۃ میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٓٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ ”اللہ آسمان سے زمین تک کے ہر معاملے کی تدبیر کرتا ہے ‘ پھر یہ چڑھتا ہے اس کی طرف ایک ایسے دن میں جس کی مقدار ہے ایک ہزار سال ‘ جیسے تم لوگ گنتے ہو“۔ یہ ”تدبیرِ اَمر“ دراصل اللہ تعالیٰ کے ان تین کاموں میں سے ایک ہے جن کے متعلق قبل ازیں سورة یونس کی آیت 3 کے تحت جلد چہارم شاہ ولی اللہ رح کی تصنیف ”حجۃ اللہ البالغہ“ کے حوالے سے بتایا جا چکا ہے ‘ یعنی ابداع ‘ خلق اور تدبیر۔ چناچہ اس تیسرے کام تدبیر کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو طرح طرح کے احکام دیے جاتے ہیں اور پھر فرشتوں کے ذریعے سے ہی ان احکام کی تنفیذ execution ہوتی ہے۔ اس منصوبہ بندی میں اللہ کے ہاں ایک دن کا عرصہ انسانی گنتی کے مطابق ایک ہزار برس کے برابر ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی ذہن نشین کر لیجیے کہ یہ مضمون چونکہ بہت واضح الفاظ کے ساتھ قرآن میں دو مرتبہ آیا ہے اس لیے یہ معاملہ ”متشابہات“ میں سے نہیں بلکہ ”محکمات“ کے درجے میں ہے۔
ذرا صبر، عذاب کا شوق پورا ہوگا اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے فرما رہا ہے کہ یہ ملحد کفار اللہ کو اس کے رسول کو اور قیامت کے دن کو جھٹلانے والے تجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کررہے ہیں کہ جلد ان عذابوں کو کیوں نہیں برپا کردیا جاتا جن سے ہمیں ہر وقت ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ چناچہ وہ اللہ سے بھی کہتے تھے کہ الٰہی اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے سنگ باری کر یا اور کسی طرح کا درد ناک عذاب بھیج۔ کہتے تھے کہ حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا معاملہ صاف کردے۔ اللہ فرماتا ہے یاد رکھو اللہ کا وعدہ اٹل ہے قیامت اور عذاب آکر ہی رہیں گے۔ اولیا اللہ کی عزت اور اعداء اللہ کی ذلت یقینی اور ہو کر رہنے والی ہے۔ اسمعی کہتے ہیں میں ابو عمرو بن علا کے پاس تھا کہ عمرو بن عبید آیا اور کہنے لگا کہ اے ابو عمرو کیا اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں اس نے اسی وقت عذاب کی ایک آیت تلاوت کی اس پر آپ نے فرمایا کیا تو عجمی ہے ؟ سن عرب میں وعد کا یعنی اچھی بات سے وعدہ خلافی کو برا فعل سمجھا جاتا ہے لیکن الیعاد کا یعنی سزا کے احکام کا ردو بدل یا معافی بری نہیں سمجھی جاتی بلکہ وہ کرم ورحم سمجھا جاتا ہے دیکھو شاعر کہتا ہے۔ (فانی وان اوعدتہ او وعدتہ لمخلف ایعادی ومنجز موعدی)میں کسی کو سزا کہوں یا اس سے انعام کا وعدہ کروں۔ تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ میں اپنی دھمکی کے خلاف کر جاؤں بلکہ قطعا ہرگز سزا نہ دوں لیکن اپنا وعدہ تو ضرور پورا کر کے ہی رہوں گا۔ الغرض سزا کا وعدہ کرکے سزا نہ کرنا یہ وعدہ خلافی نہیں۔ لیکن رحمت انعام کا وعدہ کرکے پھر روک لینا یہ بری صفت ہے جس سے اللہ کی ذات پاک ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ایک ایک دن اللہ کے نزدیک تمہارے ہزار ہزار دنوں کے برابر ہے یہ بہ اعتبار اس کے حلم اور بردباری کے ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ وہ ہر وقت ان کی گرفت پر قادر ہے اس لئے عجلت کیا ہے ؟ گو کتنی ہی سے مہلت مل جائے، گو کتنی ہی سے رسی دراز ہوجائے لیکن جب چاہے گا سانس لینے کی بھی مہلت نہ دے گا اور پکڑلے گا۔ اسی لئے اس کے بعد ہی فرمان ہوتا ہے بہت سی بستیوں کے لوگ ظلم پر کمر کسے ہوئے تھے، میں نے بھی چشم پوشی کر رکھی تھی۔ جب مست ہوگئے تو اچانک گرفت کرلی، سب مجبور ہیں سب کو میرے ہی سامنے حاضر ہونا ہے، سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں فقرا مسلمان مالدار مسلمانوں سے آدھا دن پہلے جنت میں جائیں گے یعنی پانچ سو برس پہلے۔ اور روایت میں ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے پوچھا گیا آدھے دن کی مقدار کیا ہے ؟ فرمایا کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا ؟ میں نے کہا ہاں تو یہی آیت سنائی۔ یعنی اللہ کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کا ہے۔ ابو داؤد کی کتاب الملاحم کے آخر میں حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ میری امت کو آدھے دن تک تو ضرور موخر رکھے گا۔ حضرت سعد ؓ سے پوچھا گیا آدھا دن کتنے عرصے کا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا پانچ سو سال کا۔ ابن عباس ؓ اس آیت کو پڑھ کر فرمانے لگے یہ ان دنوں میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا (ابن جریر) بلکہ امام احمد بن حنبل ؒ نے کتاب الرد علی الجمیہ میں اس بات کو کھلے لفظ میں بیان کیا ہے۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ آیت مثل آیت (يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاۗءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗٓ اَلْفَ سَـنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ) 32۔ السجدة :5) کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کام کی تدبیر آسمان سے زمین کی طرف کرتا ہے، پھر اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔ ایک ہی دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے۔ امام محمد بن سیرین ؒ ایک نو مسلم اہل کتاب سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین چھ دن میں پیدا کیا اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک مثل ایک ہزار سال کے ہے جو گنتے ہو۔ اللہ نے دنیا کی اجل چھ دن کی کی ہے ساتویں دن قیامت ہے اور ایک ایک دن مثل ہزار ہزار سال کے ہے پس چھ دن تو گزر گئے اور اب تم ساتویں دن میں ہو اب تو بالکل اس حاملہ کی طرح ہے جو پورے دنوں میں ہو اور نہ جانے کب بچہ ہوجائے۔