قل یایھا ……الجحیم (15)
یہاں قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کے فریضے کو صرف خبردار کرنے تک محدود کردیتا ہے۔
انما انا لکم نذیر مبین (22 : 93) ” میں تو صرف وہ شخص ہوں جو وقت سے پہلے خبردار کردینے والا ہو۔ “ کیونکہ حالات ایسے تھے کہ لوگ تکذیب کر رہے تھے۔ مذاق کر رہے تھے اور یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ جس عذاب سے آپ ڈراتے ہیں اسے جلدی ہی لے آئیں ! اس لئے بتایا گیا کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور جو لوگ میری بات کو مان لیں گے اور پھر ایمان کے تقاضے بھی پورے کریں یعنی وعملوا الصلحت (22 : 05) ” نیک عمل کریں “ تو ان کی جزاء یہ ہوگی کہ اللہ ان کے سابقہ گناہ معاف کر دے گا اور رزق کریم (22 : 05) رزق کریم ” عزت کی روزی۔ “ یعنی ان کے رزق کا ایسا ذریعہ ہوگا جو باعزت ہوگا اور ذریعہ بھی صاف ہوگا۔
رہے وہ لوگ جو اللہ کی آیات کو لوگوں کے دلوں تک پہنچنے سے روکتے ہیں اور عوام کو ان پر عمل پیرا ہونے سے بھی روکتے ہیں۔ اللہ کی آیات سے مراد سچائی کے دلائل اور اللہ کی شریعت ہے ، تو ایسے لوگوں کو اللہ نے جہنم کا مالک بنا دیا ہے۔ ابھی ملکیت اللہ نے ان کو دی ہے۔ یعنی اہل ایمان کے لئے تو رزق کریم ہے اور ان کے لئے جہنم کے مالکانہ حقوق ہیں۔
اللہ تعالیٰ دعوت اسلامی کو جھٹلانے والوں کی تکذیب سے بچاتے ہیں اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کی رکاوٹوں کو دور کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ دعوت اسلامی کو شیطان کی سازشوں سے بھی بچاتے ہیں۔ رسول بہرحال بشر ہوتے ہیں اور انسانوں کی کچھ آرزوئیں ہوتی ہیں۔ شیطان دعوت اسلامی کے حاملین تک ان آرزئوں اور خواہشات کی راہ سے پہنچتا ہے۔ رسول اگرچہ معصوم ہوتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں چونکہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی دعوت جلدی پھیلے ، اس کو کامیابی حاصل ہو ، اس راہ میں جو رکاوٹیں ہیں وہ دور ہوں ، شیطان ایک داعی کی ان معصومانہ خواہشات کی راہ سے حملہ آور ہوتا ہے اور دعوت کو اس کے اصول اور اس کی اقدار و روایات سے ہاٹنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ بھی اپنے رسولوں کے کام پر نظر رکھے ہوئے ہوتا ہے اس لئے وہ ان شیطانی چالوں کو باطل کردیتا ہے ، رسولوں کو بتا دیتا ہے کہ دعوت اسلامی کے اصول یہ ہیں ، اس کے پیمانے یہ ہیں۔ اس طرح اللہ دعوت کے دلائل کو محکم کردیتا ہے اور دعوت کے سلسلے میں تمام شبہات کو دور کردیتا ہے اور اس کی قدریں اور ذرائع متعین کردیئے جاتے ہیں۔
آیت 49 قُلْ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَآ اَنَا لَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ ”کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہی اسی لیے ہے کہ میں تم لوگوں کو آنے والی زندگی کے مراحل کی تمام تفصیلات سے واضح طور پر خبردار کر دوں۔
اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جارہا ہے کہ لوگو ! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کردوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے۔ جن کے دلوں میں یقین و ایمان ہے اور اسکی شہادت انکے اعمال سے بھی ثابت ہے۔ انکے کل گناہ معافی کے لائق ہیں اور ان کی کل نیکیاں قدردانی کے قابل ہیں۔ رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ جو لوگ اوروں کو بھی اللہ کی راہ سے اطاعت رسول اللہ ﷺ سے روکتے ہیں وہ جہنمی ہیں، سخت عذابوں اور تیز آگ کے ایندھن ہیں، اللہ ہمیں بچائے۔ اور آیت میں ہے کہ ایسے کفار کو انکے فساد کے بدلے عذاب پر عذاب ہیں۔