سورہ الحج: آیت 58 - والذين هاجروا في سبيل الله... - اردو

آیت 58 کی تفسیر, سورہ الحج

وَٱلَّذِينَ هَاجَرُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوٓا۟ أَوْ مَاتُوا۟ لَيَرْزُقَنَّهُمُ ٱللَّهُ رِزْقًا حَسَنًا ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَهُوَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ

اردو ترجمہ

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی، پھر قتل کر دیے گئے یا مر گئے، اللہ ان کو اچھّا رزق دے گا اور یقیناً اللہ ہی بہترین رازق ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallatheena hajaroo fee sabeeli Allahi thumma qutiloo aw matoo layarzuqannahumu Allahu rizqan hasanan wainna Allaha lahuwa khayru alrraziqeena

آیت 58 کی تفسیر

درس نمبر 741 ایک نظر میں

اس سے پہلے سبق کا خاتمہ اس مضمون پر ہوا تھا کہ آخرت میں مومنین اور مکذبین کا خاتمہ کیا ہوگا ، جہاں بادشاہت صرف اللہ وحدہ کی ہوگی۔ مضمون یہ چل رہا تھا کہ اللہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی حفاظت کرتا ہے اپنی دعوت کو خود بچاتا ہے اور جو ایمان لاتا اسے اجر دیتا ہے جو کفر کرتا ہے اسے سزا دیتا ہے۔

اس سبق کا آغاز ہجرت سے ہوتا ہے ، ا سے قبل مہاجرین و انصار کو جہاد کی اجازت دے دی گئی ہے ، کیونکہ اسلامی نظریہ حیات کا دفاع بغیر جہاد کے ممکن نہیں۔ جب تک وہ جہاد نہ کریں گے نہ وہ اللہ کی بندگی کرسکتے ہیں ، نہ عبادات ، نہ اپنی جان کی حفاظت کرسکتے ہیں نہ اپنے دین کی ۔ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ انہیں اپنے شہر سے بغیر کسی جرم کے نکال دیا گیا ہے۔ ہاں انہوں نے یہ ” جرم “ ضرور کیا تھا کہ وہ صرف اللہ کو رب مانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کو تسلی دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنا شہر چھوڑا اور مال و جائیداد کو چھوڑا تو اللہ ہی اس کام کا اجر نہیں دے گا۔

اسی حوالے سے ایک عام اصولوں کے طور پر بتا دیا جاتا ہے کہ جس پر کوئی ظلم ہو تو وہ اس کے بدلے اسی قدر ظلم کرسکتا ہے۔ اس صورت میں اگر ظالم مزید ظلم پر اتر آئے اور پھر ظلم کرے تو اللہ مظلوموں کے ساتھ ہوگا۔ اس وعدے پر اللہ تعالیٰ دلائل بھی دیتا ہے کہ اللہ مدد کرسکتا ہے کیونکہ اللہ ہی اس پوری کائنات کو چلا رہا ہے اور جس سنت اور ناموس کے مطابق یہ کائنات چل رہی ہے اس کا ایک حصہ اور تقاضا یہ بھی ہے کہ مظلوم کی امداد کی جائے۔

اس کے بعد خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے کہ ہر امت کا ایک منہاج ہے ، اس کو اس پر چلنے کا حکم دیا گیا ہے اور اسے اس کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ مشرکین کو یہ صاف صاف بتا دیں اور ان کو موقع نہ دیں کہ وہ آپ کے ساتھ کوئی تنازعہ کریں۔ اگر وہ پھر بھی مجادلہ پر اتر آئیں تو معاملے کو خدا پر چھوڑ دیں۔ وہ قیامت کے دن فیصلہ کرے گا کیونکہ اصل علم تو اس کے پاس ہے جو آسمان و زمین کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ یہ لوگ جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں ، اس پر ان کے پاس کیا ثبوت ہے ، یہ بغیر ثبوت کے اضنے موقف پر اس لئے ڈٹے ہوئے ہیں کہ ان کو کلمہ حق کے سننے ہی سے نفرت ہے اور یہ نفرت ان پر اس قدر غالب ہے کہ جو لوگ ان کو آیات سناتے ہیں خطرہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ان پر حملہ نہ کردیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو تنبیہ کرتے ہیں کہ جلدی نہ کرو ، تمہارے لئے آگ تیار ہے اور وقت جلدی ہی آنے والا ہے۔

اس کے بعد ان الموں کے ضعف کو بیان کیا ہے جو اللہ کے سوا پکارے جاتے ہیں اور یہ تمام انسانوں کے نام ایک پیغام عام کے انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ ان الموں کی بیچارگی کو بڑے توہین آمیز انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ یہ الہ مکھی کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتے۔ یہ سبق اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کو اپنے فرئاض ادا کرنے چاہئیں۔ فرائض ہیں کیا ؟ یہ کہ وہ پوری انسانیت کی نگران ہے۔ اس کے لئے اخلاقی تیاری رکوع ، سجود اور فعل خیرات ہے اور نماز کا نظام قائم کرنا اور زکوۃ کا نظام قائم کرنا اور اللہ پر بھروسہ کرنا۔ اس کے ساتھ یہ سورة بھی ختم ہوتی ہے۔

درس نمبر 741 تشریح آیات

والذین ھاجروا ……حلیم (95)

اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ان تمام باتوں کو ترک کر دے ، جن کو نفس انسانی چاہتا ہے ، جن کو وہ بےحد عزیز سمجھتا ہے اور جن پر وہ بےحد حریص ہوتا ہے۔ فیملی ، شہر ، وطن ، ماضی کی یادیں ، مال اور زندگی کا ساز و سامان۔ ان سب باتوں کو اپنے نظریہ پر قربان کرنا اور اللہ کی رضامندی حاصل کرنا اور اللہ کے ہاں جو کچھ اجر ہے اس کی طرف دیکھنا ، یہ ایسا کام ہے کہ یہ دنیا و مافیا سے زیادہ قیمتی ہے۔

ہجرت کا حکم فتح مکہ سے قبل تھا اور اس وقت شروع ہوا تھا جب اسلامی حکومت مدینہ میں قائم ہوگئی تھی۔ فتح مکہ کے بعد اگر کوئی دوسرے علاقوں کو چھوڑ کر مدینہ آتا تو اسے ہجرت نہ سمجھا جاتا تھا۔ البتہ اسے جہاد اور نیک عمل ضرور سمجھا جاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد اگر کوئی جہاد کرے تو اسے اچھا عمل سمجھا جائے گا اور ثواب ہوگا۔

والذین ……رزقاً حسناً (22 : 85) ” جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر قتل کردیئے گئے یا مر گئے ، اللہ ان کو اچھا رزق دے گا۔ “ خواہ وہ شہید ہوئے یا اپنی موت آپ مر گئے ۔ کیونکہ انہوں نے اپنا ملک اور مال و دولت چھوڑ دیا اور اس انجام کے لئے تیار ہو کر نکل آئے۔ انہوں نے شہادت کو ترجیح دی اور دنیا کے تمام عزیز ترین مال و دولت اور ملک کو قربان کردیا۔ اس لئے اللہ نے بھی ہر حال میں ان کے لئے عظیم اجر کا فیصلہ کردیا۔

وان اللہ لھو خیر الرزقین (22 : 85) ” اللہ ان کو اچھا رزق دے گا بیشک اللہ اچھا رزق دینے والوں میں سے ہے۔ “ اور یہ اللہ نے ان کے لئے جس رزق کا اعلان کیا ہے وہ اس سے بہت زیادہ اچھا ہے جو انہوں نے چھوڑا ہے۔

لید خلنھم مدخنا یرضونہ (22 : 95) ” اور انہیں ایسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ خوش ہوں گے۔ “ وہ اس جگہ کی طرف نکلے جس پر اللہ رضای تھا لہٰذا ان کو ایسی جگہ داخل کرے گا جہاں وہ راضی ہوں گیغ۔ یہ بات ان کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے کہ اللہ ان کے لئے ان کی مرضی کی جگہ تیار کرے گا ، حالانکہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور وہ خالق ہے۔

وان اللہ لعیم حلیم (22 : 95) ” بیشک اللہ علیم و حلیم ہے۔ “ اللہ کے علم میں ہیں وہ مظالم جو ان پر ہوتے رہے۔ اللہ کے علم میں یہ بھی ہے جو وہ چاہتے ہیں اور حلیم اس طرح کہ وہ سب کو مہلت دیتا ہے اور پھر وہ ظالم اور مظلوم دونوں کو پوری پوری جزاء دے گا۔

انسانوں کا معاملہ یہ ہے کہ جن پر مظالم ڈھائے جائیں تو وہ کبھی صبر کرتے ہیں اور کبھی صبر نہیں کرتے۔ جب صبر نہیں کرتے تو وہ ظلم کا جواب دیتے ہیں۔ وہ بھی ان اذیتوں کے مقابلے میں دشمنوں کو دیسی ہی اذیتیں دیتے ہیں۔ اگر ظالم پھر بھی باز نہیں آتے تو اللہ یہ ذمہ داری اپنے اوپر لے لیتا ہے کہ وہ مظلوموں کی نصرت کرے گا۔

آیت 58 وَالَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ”ہجرت کا یہ مضمون یہاں پر موقع محل کی مناسبت سے آیا ہے۔ یہ مکی دور کے آخری زمانے کی سورت ہے اور جس طرح ہجرت سے متصلاً بعد سورة البقرۃ کا نزول ہوا اسی طرح ہجرت سے متصلاً قبل سورة الحج نازل ہوئی۔

اللہ تعالیٰ کا بہترین رزق پانے والے لوگ یعنی جو شخص اپنا وطن اپنے اہل و عیال اپنے دوست احباب چھوڑ کر اللہ کی رضامندی کے لئے اس کی راہ میں ہجرت کرجائے اس کے رسول کی اور اس کے دین کی مدد کے لئے پہنچے پھر وہ میدان جہاد میں دشمن کے ہاتھوں شہید کیا جائے یا بےلڑے بھڑے اپنی قضا کے ساتھ اپنے بستر پر موت آجائے اور اسے بہت بڑا اجر اور زبردست ثواب اللہ کی طرف سے ہے جیسے ارشاد ہے آیت (وَمَنْ يَّخْرُجْ مِنْۢ بَيْتِهٖ مُھَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ۭ وَكَان اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا01000) 4۔ النسآء :100)۔ یعنی جو شخص اپنے گھر اور دیس کو چھوڑ کر اللہ رسول کی طرف ہجرت کرکے نکلے پھر اسے موت آجائے تو اسے اس کا اجر اللہ کے ذمے طے ہوچکا۔ ان پر اللہ کا فضل ہوگا، انہیں جنت کی روزیاں ملیں گی جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اللہ تعالیٰ بہترین رازق ہے۔ انہیں پروردگار جنت میں پہنچائے گا۔ جہاں یہ خوش خوش ہونگے جسے فرمان ہے کہ جو ہمارے مقربوں میں سے ہے اس کے لئے راحت اور خوشبودار پھول اور نعمتوں بھرے باغات ہیں ایسے لوگوں کو راحت ورزق اور جنت ملے گی۔ اپنی راہ کے سچے مہاجروں کو اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اپنی نعمتوں کے مستحق لوگوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ وہ بڑے حکم والا ہے بندوں کے گناہ معاف فرماتا ہے ان کی خطاؤں سے درگزر فرماتا ہے ان کی ہجرت قبول کرتا ہے ان کے توکل کو خوب جانتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوں مہاجر ہوں یا نہ ہوں وہ رب کے پاس زندگی اور روزی پاتے ہیں۔ جسے فرمان ہے آیت (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ01609ۙ) 3۔ آل عمران :169) ، خدا کی راہ کے شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزیاں دیے جاتے ہیں۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں جو بیان ہوچکیں۔ پس فی سبیل اللہ شہید ہونے والوں کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہے اس آیت سے اور اسی بارے کی احادیث سے بھی۔ حضرت شرجیل بن سمت فرماتے ہیں کہ روم کے ایک قلعے کے محاصرے پر ہمیں مدت گزر چکی اتفاق سے حضرت سلمان فار سی ؓ وہاں سے گزرے تو فرمانے لگے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے جو شخص راہ اللہ کی تیاری میں مرجائے تو اس کا اجر اور رزق برابر اللہ کی طرف سے ہمیشہ اس پر جاری رہتا ہے اور وہ اتنے میں ڈالنے والوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت (وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْٓا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًاَ 58؀) 22۔ الحج :58) پڑھ لو۔ حضرت ابو قبیل اور ربیع بن سیف مغافری کہتے ہیں ہم رودس کے جہاد میں تھے ہمارے ساتھ حضرت فضالہ بن عبید ؓ بھی تھے۔ دو جنازے ہمارے پاس سے گزرے جن میں ایک شہید تھا دوسرا اپنی موت مرا تھا لوگ شہید کے جنازے میں ٹوٹ پڑے۔ حضرت فضالہ ؓ نے فرمایا یہ کیا بات ہے ؟ لوگوں نے کہا حضرت یہ شہید ہیں اور یہ دوسرے شہادت سے محروم ہیں آپ نے فرمایا واللہ مجھے تو دونوں باتیں برابر ہیں۔ خواہ اس کی قبر میں سے اٹھوں خواہ اس کی میں سے۔ سنو کتاب اللہ میں ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ مرے ہوئے کی قبر پر ہی ٹہرے رہے اور فرمایا تمہیں اور کیا چاہیے جنت، جگہ اور عمدہ روزی۔ اور روایت میں ہے کہ آپ اس وقت امیر تھے۔ یہ آخری آیت صحابہ ؓ کے اس چھوٹے سے لشکر کے بارے میں اتری ہے جن سے مشرکین کے ایک لشکر نے باوجود ان کے رک جانے کی حرمت کے مہینے میں لڑائی کی اللہ نے مسلمانوں کی امداد فرمائی اور مخالفین کو نیچا دکھایا اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔

آیت 58 - سورہ الحج: (والذين هاجروا في سبيل الله ثم قتلوا أو ماتوا ليرزقنهم الله رزقا حسنا ۚ وإن الله لهو خير الرازقين...) - اردو