ذلک بان اللہ ……بصیر (16)
یہ ایک طبیعی کائناتی منظر ہے اور رات دن ہماری نظروں کے سامنے سے گزرتا ہے۔ گرمیوں اور سردیوں کی صورت میں ہم اس کے آثار دیکھتے ہیں۔ سورج کے غروب کے وقت رات دن میں داخل ہوجاتی ہے اور سورج کے طلوع کے وقت دن رات میں داخل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح رتا دن میں داخل ہوتی ہے اور سردیوں میں دن کے حدود کو چھوٹا کردیتی ہے اور دن رات میں داخل ہوتا ہے ، گرمیوں میں اور رات کی حدود کو چھوٹا کردیتا ہے۔ انسان ان مناظر کو رات اور دن دیکھتا رہتا ہے کہ دن رات میں اور رات دن میں داخل ہو رہے ہیں لیکن بہت زیادہ انس کی وجہ سے اور بہت زیادہ تکرار کی وجہ سے یہ عجیب و غریب مناظر ہمارے لئے دلکش نہیں رہے اور ہم اس نظام پر غور نہیں کرتے کہ یہ نظام کس قدر باریکی سے چل رہا ہے۔ اس میں ایک منٹ کے لئے بھی خلل نہیں پڑتا۔ کبھی یہ نظام موقوف نہیں ہوتا۔ یہ امر شہادت ہے قادر مطلق کی قدرت پر جس نے یہ نظام جاری کیا ہے۔
قرآن کریم اس منظر کی طرف ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ تم ایسے مناظر کو بہت غفلت سے کیوں دیکھ کر گزر جاتے ہو ، تاکہ وہ بتا سکے کہ اللہ کی قدرت کا کیا عالم ہ۔ ایک طرف سے وہ ان کی بساط لپیٹ لیتا ہے ، رات کو بجھا دیتا ہے اور دوسری طرف سے وہ تاریکی کو دور کر کے دن کا اجالا پھیلا دیتا ہے۔ یہ نظام اس قدر باریک ہے کہ اس میں کوئی خلیل نہیں پڑتا ، صدیاں گزر گئیں۔ یہی حال اس نصرت کا ہے جس کا اعلان مظلوموں کی حمایت میں ہوا ہے۔ یہ اس طرح یقینی ہے جس طرح رات اور دن کا یہ نظام یقینی ہے۔ اس طرح اللہ جباروں کی سلطنت کے نظام کو اب لپیٹ رہا ہے اور دنیا میں صالح اور عادل لوگوں کا نظام زندگی نافذ کر رہا ہے۔ یہ سیاسی انقلاب بھی انقلاب روز و شب کی طرح یقینی اور اٹل ہے اور ایک تکوینی سنت ہے۔ یہ سنت بھی رات اور دن جاری وساری ہے لیکن لوگ اس سے غافل ہیں۔ جس طرح وہ اس کائنات میں دلائل کونیہ سے غافل ہیں حالانکہ یہ دلائل ایک کھلی کتاب کی شکل میں ہر لمحہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔
آیت 61 ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِ ”یعنی اس کائنات کا پورا نظام عدل و انصاف پر مبنی ہے۔ رات دن کا یہ الٹ پھیر اس نظام کے اندر موجود اعتدال و توازن کی ایک مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کائنات کا یہ نظام ایسے ہی چل رہا ہے جیسے کہ اسے چلنا چاہیے۔ اس نظام کو درست رکھنے کے لیے قدرت کی طرف سے جو تدابیر اختیار کی جاتی ہیں ان سے متعلق قبل ازیں آیت 40 میں ایک راہنما اصول بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے نظام میں ظالم اور مفسد قوتوں کو مستقلاً برداشت نہیں کرتا اور دوسری قوتوں کے ذریعے انہیں نیست و نابود کرتا رہتا ہے : وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا ط ”اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض دوسرے لوگوں کے ذریعے دور نہ کرتا رہتا ‘ تو ڈھا دیا جاتا خانقاہوں ‘ گرجوں ‘ معبدوں اور مسجدوں کو ‘ جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے“۔ چناچہ جس طرح اللہ تعالیٰ انسانی معاشرے کے نظام کو عدل پر قائم رکھنے کے لیے انتظامات کرتا ہے اسی طرح اس نے کائناتی اور آفاقی نظام کو بھی ٹھیک ٹھیک چلانے کا اہتمام کر رکھا ہے۔
اس پر کوئی حاکم نہیں اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ خالق اور متصرف صرف وہی ہے، اپنی ساری مخلوق میں جو چاہتا ہے کرتا ہے فرمان ہے آیت (قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۡ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭبِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 26) 3۔ آل عمران :26) الٰہی تو ہی مالک الملک ہے جسے چاہے ملک دے جس سے چاہے لے لے جسے چاہے عزت کا جھولا جھلائے، جسے چاہے دردر سے ذلیل منگائے، ساری بھلائیاں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں، تو ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ دن کو رات، رات کو دن میں تو ہی لے جاتا ہے۔ زندے کو مردے سے مردے کو زندے سے تو ہی نکالتا ہے جسے چاہتا ہے بےحساب روزیاں پہنچاتا ہے۔ پس کبھی دن بڑے راتیں چھوٹی کبھی راتیں بڑی دن چھوٹے جیسے گرمیوں اور جاڑوں میں ہوتا ہے۔ بندوں کی تمام باتیں اللہ سنتا ہے ان کی تمام حرکات و سکنات دیکھتا ہے کوئی حال اس پر پوشیدہ نہیں۔ اس کا کوئی حاکم نہیں بلکہ کوئی چوں چرا بھی اس کے سامنے نہیں کرسکتا۔ وہی سچا معبود ہے۔ عبادتوں کے لائق اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ زبردست غلبے والا، بڑی شان والا وہی ہے، جو چاہتا ہے ہوتا ہے، جو نہیں چاہتا ناممکن ہے کہ وہ ہوجائے۔ ہر شخص اس کے سامنے فقیر، ہر ایک اس کے آگے عاجز۔ اس کے سوا جسے لوگ پوجیں وہ باطل، کوئی نفع نقصان کسی کے ہاتھ نہیں، وہ بلندیوں والا، عظمتوں والا ہے۔ ہر چیز اس کے ماتحت، اس کے زیر حکم۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی رب، نہ اس سے کوئی بڑا، نہ اس پر کوئی غالب۔ وہ تقدس والا، وہ عزت وجلال والا، ظالموں کی کہی ہوئی تمام فضول باتوں پاک، سب خوبیوں والا تمام نقصانات سے دور۔