الم تر ……خبیر (46)
آسمانوں سے بارش برسنا ، زمین کا سرسبز اور شاداب ہونا ، صبح و شام ایسے منظار کا دہرایا جانا ، یہ ایک ایسا عمل ہے جو ہمارے سامنے بار بار دہرایا جاتا ہے اور ہم اس سے اس قدر مانوس ہوگئے ہیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ، لیکن اگر ہم اپنے شعور کو ایک شاعر کی طرح بیدار کرلیں تو یہ منظر دلوں اور دماغوں کے اندر بیشمار احساسات پیدا کر یدتا ہے۔ انسان محسوس کرتا ہے کہ یہ چھوٹا سا پودا جو زمین کو پھاڑ کر سرباہر نکالتا ہے ، مٹی اور کیچڑ سے باہر آتا ہے ، یہ ایک چھوٹا سا بچہ ہے اور اس دنیا کی طرف نکل کر ہنستا ہے اور اس کے منہ پر فرحت بخش تبسم ہوتا ہے۔ نظر آتا ہے کہ یہ چھوٹا سا پودا اپنی اس خوشی میں کہیں اڑ نہ جائے۔
جو لوگ ایسا شعور رکھتے ہیں وہی اس آیت کو سمجھ سکتے ہیں۔
ان اللہ لطیف خبیر (22 : 36) ” اللہ لطیف وخبیر ہے۔ “ لطیف کے معنی ہیں کہ نہایت ہی باریکی کو بھی دیکھتا ہے اور اس سے خبردار ہے۔ وہ اس منظر کو نہایت ہی لطف اور گہرائی سے دیکھتا ہے اور ان مناظر کی حقیقت اور مزاج کا خالق ہے اور واقف ہے۔ یہ اللہ کا لطف و کرم ہے کہ یہ چھوٹا سا پودا زمین سے باہر آتا ہے حالانکہ یہ نہایت ہی ضعیف اور بےطاقت ہوتا ہے لیکن دست قدرت اسے ہوا میں بلند کرتا جاتا ہے اور زمین کی اجاذبیت اور کشش ثقل کے باوجود اس کے اندر اٹھنے اور پھینلے کا شوق ہوتا ہے۔ یہ قدرت الہیہ کا لطف و کرم ہے کہ عین وقت پر بارش ہوتی ہے ، مناسب مقدار میں ہوتی ہے اور یہ پانی نہایت ہی میکان کی طریقے سے مٹی سے ملتا ہے اور نباتاتی عمل شروع ہوتا ہے اور پھر زندہ نباتی خلیے روشنی کی طرف سفر شروع کرتے ہیں۔
یہ پانی اللہ کے آسمان سے اللہ کی زمین پر نازل ہوتا ہے۔ اللہ ہی اس میں زندگی پیدا کرتا ہے۔ اللہ ہی اس میں غذا اور ثروت پیدا کرتا ہے۔ اللہ ہی زمین و آسمان اور مافیہا کا مالک ہے۔ وہ زمین و آسمان اور مافیھا سے غنی ہے۔ یہ زندہ چیزوں کو پانی اور نباتات کا رزق دیتا ہے لیکن وہ خود رزق اور مرزوق دونوں سے غنی ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌ ”یہاں پر ”لطیف“ کے یہ معنی بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ خفیہ تدبیریں کرنے والا ہے۔
اپنی عظیم الشان قدرت اور زبردست غلبے کو بیان فرما رہا ہے کہ سو کھی غیر آباد مردہ زمین پر اس کے حکم سے ہوائیں بادل لاتی ہیں جو پانی برساتے ہیں اور زمین لہلہاتی ہوئی سرسبزوشاداب ہوجاتی ہے گویا جی اٹھتی ہے۔ یہاں پر "" تعقیب کے لئے ہے ہر چیز کی تعقیب اسی کے انداز سے ہوتی ہے۔ نطفے کا ملقہ ہونا پھر ملقے کا مضغہ ہونا جہاں بیان فرمایا ہے وہاں بھی "" آئی ہے اور ہر دو صورت میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ حجاز کی بعض زمینیں ایسی بھی ہیں کہ بارش کے ہوتے ہی معا سرخ وسبز ہوجاتی ہیں فاللہ اعلم۔ زمین کے گوشوں میں اور اس کے اندر جو کچھ ہے، سب اللہ کے علم میں ہے۔ ایک ایک دانہ اس کی دانست میں ہے۔ پانی وہیں پہنچتا ہے اور وہ اگ آتا ہے۔ جیسے حضرت لقمان ؒ کے قول میں ہے کہ اے بچے ! اگرچہ کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہو چاہے کسی چٹان میں ہو یا آسمان میں یا زمین میں اللہ اسے ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ پاکیزہ اور باخبر ہے۔ ایک اور آیت میں ہے زمین و آسمان کی ہر چیز کو اللہ ظاہر کر دے گا۔ ایک آیت میں ہے، ہر پتے کے جھڑنے کا، ہر دانے کا جو زمین کے اندھیروں میں ہو ہر تر وخشک چیز کا اللہ کو علم ہے اور وہ کھلی کتاب میں ہے۔ ایک اور آیت میں کوئی ذرہ آسمان وز میں میں اللہ سے پوشیدہ نہیں، کوئی چھوٹی بڑی چیز ایسی نہیں جو ظاہر کتاب میں نہ ہو۔ امیہ بن ابو صلت یا زید بن عمر و بن نفیل کے قصیدے میں ہے شعر ( وقولا لہ من ینبت الحب فی الثری فیصبح منہ البقل یہترہ رابیا ویخرج منہ حبہ فی روسہ ففی ذاک ایات لمن کان داعیا)" اے میرے دونوں پیغمبرو ! تم اس سے کہو کہ مٹی میں سے دانے کون نکالتا ہے کہ درخت پھوٹ کر جھومنے لگتا ہے اور اس کے سرے پر بال نکل آتی ہے ؟ عقل مند کے لئے تو اس میں قدرت کی ایک چھوڑ کئی نشانیاں موجود ہیں۔ تمام کائنات کا مالک وہی ہے۔ وہ ہر ایک سے بےنیاز ہے۔ ہر ایک اس کے سامنے فقیر اور اس کی بارگاہ عالی کا محتاج ہے۔ سب انسان اس کے غلام ہیں۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ کل حیوانات، جمادات، کھیتیاں، باغات اس نے تمہارے فائدے کے لئے، تمہاری ماتحتی میں دے رکھے ہیں آسمان و زمین کی چیزیں تمہارے لئے سرگرداں ہیں۔ اس کا احسان وفضل وکرم ہے کہ اسی کے حکم سے کشتیاں تمہیں ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں۔ تمہارے مال و متاع ان کے ذریعے یہاں سے وہاں پہنچتے ہیں۔ پانی کو چیرتی ہوئیں، موجوں کو کاٹتی ہوئیں بحکم الٰہی ہواؤں کے ساتھ تمہارے نفع کے لئے چل رہی ہیں۔ یہاں کی ضرورت کی چیزیں وہاں سے وہاں کی یہاں برابر پہنچتی رہتی ہیں۔ وہ خود آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ زمین پر نہ گرپڑے ورنہ ابھی وہ حکم دے تو یہ زمین پر آرہے اور تم سب ہلاک ہوجاؤ۔ انسانوں کے گناہوں کے باوجود اللہ ان پر رافت وشفقت، بندہ نوازی اور غلام پروری کر رہا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰي ظُلْمِهِمْ ۚ وَاِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ) 13۔ الرعد :6) ، لوگوں کے گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ان پر صاحب مغفرت ہے۔ ہاں بیشک وہ سخت عذابوں والا بھی ہے۔ " اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے، وہی تمہیں فناکرے گا، وہی پھر دوبارہ پیدا کرے گا۔ جیسے فرمایا آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28) 2۔ البقرة :28) تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرتے ہو ؟ حالانکہ تم مردہ تھے، اسی نے تمہیں زندہ کیا پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا، پھر دوبارہ زندہ کردے گا۔ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے " ایک اور آیت میں ہے (قُلِ اللّٰهُ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يَجْمَعُكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيْهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 26) 45۔ الجاثية :26) اللہ ہی تمہیں دوبارہ زندہ کرتا ہے پھر وہی تمہیں مار ڈالے گا پھر تمہیں قیامت والے دن، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا۔ اور جگہ فرمایا " وہ کہیں گے کہ اے اللہ تو نے ہمیں دو دفعہ مارا اور دو دفعہ زندہ کیا۔ پس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ایسے اللہ کے ساتھ تم دوسروں کو شریک کیوں ٹھیراتے ہو ؟ دوسروں کی عبادت اسکے ساتھ کیسے کرتے ہو ؟ پیدا کرنے والا فقط وہی، روزی دینے والا وہی، مالک و مختار فقط وہی، تم کچھ نہ تھے اس نے تمہیں پیدا کیا۔ پھر تمہاری موت کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا یعنی قیامت کے دن انسان بڑا ہی ناشکرا اور بےقدرا ہے