لکل امۃ جعلنا ……اللہ یسیر (96)
ہر قوم اور ہر امت کا ایک منہاج فکر ، منہاج عقیدہ اور ایک منہاج عمل اور ایک نظام زندگی ہوتا ہے۔ یہ نظام ان قوانین کے تابع ہوتا ہے جو اللہ نے انسانوں کے اندر جاری کئے ہیں جن کے مطابق انسان ماحول سے متاثر ہوتا ہے اور بعض چیزوں کو قبول کرلیتا ہے۔ یہ قوانین تخلیقی قوانین ہیں اور اللہ نے پیدائش کے وقت سے انسان کے اندر ان کا داعیہ رکھا ہے۔ جو امت دل کھول کر ان قوانین فطرت کو سمجھتی ہے اور ان کے مطابق اس کائنات اور نفس انسانی کے اندر دلائل ہدایت تلاش کرتی ہے ، وہ امت ہدایت یافتہ امت ہے کیونکہ وہ اس کائنات سے وہ قوانین دریافت کرلیتی ہے جس کے مطابق وہ اللہ کی معرفت اور اس کی اطاعت کے مقام تک پہنچ جاتی ہے۔ جو امت ان قوانین فطرت اور قوانین نفس سے آنکھیں بند کرلیتی ہے اور اسے ان میں خدا تک پہنچنے کی راہ نظر نہیں آتی ، وہ امت امت ضلالہ ہے اور اس نے خود اعراض کیا ہے اور سرکشی کی راہ اپنائی ہے۔
اس طرح اللہ نے ہر امت کے لئے کچھ مناسک رکھے ہیں ، جن پر وہ عمل کرتی ہے ، ایک مناج رکھا ہے جس پر وہ چلتی ہے ۔ لہٰذا مشرکین کے ساتھ مجادلہ میں اب وقت ضائع نہ کیا جائے ، کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو راہ ہدایت اختیار کرنے سے روک رہے ہیں۔ وہ مناج ضلالت میں دور تک چلے گئے ہیں لہٰذا اللہ بھی یہ نہیں چاہتے کہ ان لوگوں کو اسلام کے خلاف مجادلے اور مباحثے کا موقع ملے۔ وہ تو چاہتے ہی یہ ہیں ، اے پیغمبر آپ اپنی راہ پر آگے بڑھیں۔ آپ کی راہ سیدھی ہے اور نظام مستقیم ہے۔
وادع الی ربک انک لعلی ھدی مستقیم (22 : 86) ” تم اپنے رب کی طرف دعوت دو ، یقینا تم سیدھے راستے پر ہو۔ “ آپ اپنے منہاج پر مطمئن ہوجائیں اور استقامت کے ساتھ اس پر گامزن رہیں۔ اگر کوئی آپ سے مجادلہ کرے تو بات مختصر کریں اور جہاد کا وقت آیات کلامی پر بحثوں میں ضائع نہ کریں۔
وان جدلوک فقل اللہ اعلم بما تعملون (22 ، 86) ” اگر وہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو ، اللہ کو خوب معلوم ہے۔ “ بحث و مباحثہ تب فائدہ مند ہوتا ہے کہ مخاطب ماننے کے لئے تیار ہو ، اور وہ حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہو۔ ایسے افراد کے ساتھ مباحثہ مفید نہیں ہوتا جو اپنی بات پر مصر ہوں اور وہ اس کائنات میں پائے جاین الے تمام دلائل کو جو انفس و آفاق میں موجود ہیں اور قرآن ان کی طرف بار بار متوجہ کرتا ہے ، یکسر رو کر کے مکابرہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ کے حوالے کر دو ، یہ اللہ ہی ہے جو تمام امتوں کے طریقوں کا فیصلہ قیامت میں کرے گا۔
اللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ فیما کنتم فیہ تختلفون (22 : 96) ” اللہ قیامت کے روز تمہارے درمیان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔ “ اللہ وہ جج ہے جس کے فیصلے پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ قیامت کے فیصلے کے لخاف تو کوئی اپیل نہ ہوگی۔ یہ تو سپریم فیصلہ ہوگا۔
اللہ علم کامل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔ اس کی کوئی سبب یا کوئی دلیل جھوٹ نہیں ہو سکتی۔ عمل و شعور میں سے کوئی بات اس سے مخفی نہیں رہ سکتی۔ وہ تو آسمانوں و زمین میں سب کچھ جانتا ہے اس میں لوگوں کے اعمال اور نیات سب شامل ہیں۔
آیت 67 لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا ہُمْ نَاسِکُوْہُ فَلَا یُنَازِعُنَّکَ فِی الْاَمْرِ ”یعنی بنی اسرائیل کے لیے قربانی کا طریقہ اور تھا ‘ بنی اسماعیل کسی اور طریقے سے قربانی کرتے تھے ‘ جبکہ مسلمانوں کو ان دونوں سے مختلف طریقہ بتایا گیا ہے۔ یہ ہر امت کی اپنی اپنی شریعت کا معاملہ ہے ‘ اس میں جھگڑنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ مضمون اس سے پہلے آیت 34 میں اس طرح آچکا ہے : وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَہُمْ مِّنْم بَہِیْمَۃِ الْاَنْعَامِط فَاِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗٓ اَسْلِمُوْاط وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ ”اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک طریقہ بنایا ہے تاکہ وہ اللہ کا نام لیاکریں ان مویشیوں پر جو اس نے انہیں عطا کیے ہیں۔ تو جان لو کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے ‘ چناچہ تم اس کے سامنے سرتسلیم خم کرو ‘ اور اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشارے دے دیجیے عاجزی اختیار کرنے والوں کو۔“
مناسک کے معنی اصل میں عربی زبان میں منسک کا لفظی ترجمہ وہ جگہ ہے، جہاں انسان جانے آنے کی عادت ڈال لے۔ احکام حج کی بجاآوری کو اس لئے مناسک کہا جاتا ہے کہ لوگ بار بار وہاں جاتے ہیں اور ٹھیرتے ہیں۔ منقول ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ ہر امت کے پیغمبر کے لئے ہم نے شریعت مقرر کی ہے، اس امر میں لوگ نہ لڑے، سے مراد یہ مشرک لوگ ہیں۔ اور اگر مراد ہر امت کے بطور قدرت کے ان کے افعال کا تقرر کرنا ہے۔ جیسے سورة بقرہ میں فرمان ہے کہ ہر ایک لئے ایک سمت ہے جدھر وہ متوجہ ہوتا ہے یہاں بھی ہے کہ وہ اس کے بجالانے والے ہیں تو ضمیر کا اعادہ بھی خود ان پر ہی ہے یعنی یہ اللہ کی قدرت اور ارادے سے کررہے ہیں ان کے جھگڑنے سے تو بددل نہ ہو اور حق سے نہ ہٹ۔ اپنے رب کی طرف بلاتا رہ اور اپنی ہدایت واستقامت پر مکمل یقین رکھ۔ یہی راستہ حق سے ملانے والا ہے، کامیابی سے ہمکنار کرنے والا ہے۔ جیسے فرمایا ہے (وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ 87ۚ) 28۔ القصص :87) خبردار کہیں تجھے اللہ کی آیتوں کے تیرے پاس پہنچ جانے پر بھی ان سے روک نہ دیں، اپنے رب کے راستے کی دعوت عام برابر دیتا رہ۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی حق قبول کرنے سے جائے تو اس سے کنارہ اختیار کیجئے اور کہہ دیجئے اللہ تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے۔ جیسے کئی جگہ اسی مضمون کو دہرایا ہے۔ ایک اور جگہ ہے کہ اگر " یہ تجھے جھٹلائیں تو ان سے کہہ دے کہ میرے لئے میرا عمل ہے اور تمہارے لئے تمہارا عمل ہے تم میرے اعمال سے بری ہو میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں۔ " پس یہاں بھی ان کے کان کھول دیئے کہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے وہ تمہاری ادنیٰ سی ادنیٰ حرکت کو بھی جانتا ہے اور وہی ہے تم میں کافی شاہد ہے قیامت کے دن ہم تم میں فیصلہ اللہ خود کردے گا اور اس وقت سارے اختلافات مٹ جائیں گے جیسے فرمان ہے تو اسی کی دعوت دیتا رہ اور ہمارے حکم پر ثابت قدم رہ اور کسی کی خواہش کے پیچھے نہ لگ اور صاف اعلان کردے کہ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب پر میرا ایمان ہے۔