الم تعلم ان اللہ یعلم ما فی السمآء والارض ان ذلک فی کتب ان ذلک علی اللہ یسیر (22 : 08) ” کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے ؟ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ اللہ کے لئے یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے “۔ اللہ کا علم نہایت کامل اور نہایت ہی باریک ہے اور اس پر اس کائنات کی کوئی شے مخفی نہیں ہے۔ وہ ایسی چیز سے متاثر نہیں ہوتا ، جس کی وجہ سے کوئی چیز محو ہوجاتی ہے یا بھول جاتی ہے۔ یہ سب کچھ تو ایک کتاب میں قلم بند ہے اور یہ ریکارڈ رکھنا اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے۔
انسانی عقل تو تھک جاتی ہے۔ خصوصاً اس کلیاتی نظام پر غور کرتے ہوئے بھی عقل تھک جاتی ہے۔ پھر جب ہم اس پوری کائنات کے بارے میں اللہ کے علم کی جامعیت پر غور کرتے ہیں اور اسے حاطہ تصور میں لاتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ بیشمار اشیاء اشخاص ، اعمال ، نیات ، خیالات اور حرکات ، عالم منظور میں اور عالم مخفی میں ہیں تو ہمارے تصور کا دامن تار تار ہوجاتا ہے ، لیکن اللہ کے علم وقدرت کے حوالے سے یہ تو شے یسیر ہے۔
ان ذلک علی اللہ یسیر (22 : 08) ” یہ اللہ کے لئے مشکل نہیں ہے۔ “ رسول اللہ ﷺ کو یہ ہدیات دینے کے بعد کہ آپ مشرکین کو بحثو جدال کا کوئی موقع ہی نہ دیں کہ وہ آپ کی راہ مستقیم پر بحث کریں۔ اب حضور اکرم ﷺ کو سمجھایا جاتا ہے کہ خود ان کی جو راہ ہے اور جو منہاج ہے اس میں تو بحث کی گنجائش ہے اور اس میں تو ٹیڑھ ، ضعف ، جہالت ، ظلم اور دوسرے تمام نقائص موجود ہیں اور یہ کہ یہ لوگ باطل پرست ہونے کی وجہ سے اللہ کی نصرت اور معاونت سے بھی محروم ہیں۔ کوئی مددگار ان کا نہیں ہے۔
اِنَّ ذٰلِکَ فِیْ کِتٰبٍ ط ”یہ وہی کتاب ہے جسے ”اُمّ الکتاب“ بھی کہا گیا ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم قدیم کی کتاب۔اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ ”تمہیں یہ مشکل معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایک چیز کا علم کیسے رکھتا ہے لیکن اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل امر نہیں ہے۔
کمال علم رب کی شان رب کے کمال علم کا بیان ہو رہا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کے علم کے احاطہ میں ہے ایک ذرہ بھی اس سے باہر نہیں کائنات کے وجود سے پہلے ہی کائنات کا علم اسے تھا بلکہ اس نے لوح محفوظ میں لکھوا دیا تھا۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے جب کہ اس کا عرش پانی پر تھا مخلوق کی تقدیر لکھی۔ سنن کی حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فلک کو پیدا کیا اور اس سے فرمایا لکھ اس نے دریافت کیا کہ کیا لکھوں ؟ فرمایا جو کچھ ہونے والا ہے پس قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا اسے قلم نے قلم بند کردیا۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ سو سال کی راہ میں اللہ نے لوح محفوظ کو پیدا کیا اور مخلوق کی پیدائش سے پہلے جب کہ اللہ تعالیٰ عرش پر تھا قلم کو لکھنے کا حکم دیا اس نے پوچھا کیا لکھوں فرمایا میرا علم جو مخلوق کے متعلق قیامت کا ہے۔ پس قلم چل پڑا اور قیامت تک کے ہونے والے امور جو علم الٰہی میں ہے اس نے لکھ لئے۔ پس اسی کو اپنے نبی ﷺ سے اس آیت میں فرما رہا ہے کہ کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان و زمین کی ہر ایک چیز کا میں عالم ہوں۔ پس یہ اس کا کمال علم ہے کہ چیز کے وجود سے پہلے اسے معلوم ہے بلکہ لکھ بھی لیا ہے اور وہ سب یوں ہی واقع میں ہونے والا ہے۔ اللہ کو بندوں کے تمام اعمال کا علم ان کے عمل سے پہلے ہے۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اس کرنے سے پہلے اللہ جانتا تھا، ہر فرماں بردار اور نافرمان اس کے علم میں تھا اور اس کی کتاب میں لکھا ہوا تھا اور ہر چیز اس کے علمی احاطے کے اندر ہی اندر اور یہ امر اللہ پر مشکل بھی نہ تھا سب کتاب میں تھا اور رب پر بہت ہی آسان۔