واذا ……ایتنا ط
یہ لوگ دلیل کا جواب دلیل سے نہیں دیتے۔ نہ دلیل کو دلیل سے رد کرتے ہیں بلکہ یہ دلیل کے مقابلے میں غصہ کر کے مخالف کو کھا جانا چاہتے ہیں اور یہ دلیل نہ ہونے کی علامت ہے اور سرکشوں کی آخری دلیل یہ ہوتی ہے کہ وہ لڑ پڑتے ہیں اور تشدد کرتے ہیں۔ وہ حق کا کلمہ سننا ہی نہیں چاہتے۔ ڈنڈے کی دلیل سے بات کرتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پاس ڈنڈے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید ان کو یہ جواب دیتا ہے :
قل افانبئکم ……(27)
” ان سے کہو میں بتائوں تمہیں کہ اس سے بد تر چیز ہے ؟ آگ ، اللہ نے اسی کا وعدہ ان لوگوں کے حق میں رکر رکھا ہے جو قبول حق سے انکار کریں اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ “
یہ کہ تم دلیل کا جواب ڈنڈے سے دیتے ہو تو پھر قوت کے مقابلے میں ایک بڑی قوت ہے۔ اس کا سامنا کرو اور انتظار کرو انجام کا۔ لیکن یاد رکھو کہ وہ بہت ہی برا نجام ہے۔
……
اب اس سورة کا اعلان عام ، تمام لوگوں کے لئے قرار داد ، جبراً بآواز بلند کہ لوگو ذرا اپنے معبودوں پر غور تو کرو۔ اللہ کے سوا جو شخص جس قسم کا الہ پوجتا ہے اس سے مدد طلب کرتا ہے جس شکل و صورت میں ہو وہ پکارے جانے الا۔ اللہ ان کے ضعف اور کمزوری کو ایک واضح مثال سے ظاہر کرتا ہے جسے دیکھا اور سنا جاسکتا ہے۔ مثال کیا ہے ایک چلتے پھرتے محترک منظر کی تصویرکشی ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر آنکھیں روشن ہوجاتی ہیں اور دل خوش ہوتا ہے۔ ذرا اس منظر میں ان خدائوں کی بیچارگی کا نظارہ کرو۔
آیت 72 وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْہِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمُنْکَرَ ط ”اللہ عزوجل کا کلام سن کر خوشی سے کھل اٹھنے کی بجائے ان کے چہروں پر بیزاری اور ناگواری کے آثار پیدا ہوجاتے ہیں۔ قُلْ اَفَاُنَبِّءُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکُمْط ”یعنی جس قدر ناگواری تمہیں اس وقت ہو رہی ہے اور جس قدر سختی تم پر اس وقت بیت رہی ہے جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنائی جا رہی ہیں ‘ کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اس سے بڑھ کر ناگوار اور سخت چیز تمہارے لیے کیا ہوگی ؟