اس صفحہ میں سورہ Al-Hajj کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الحج کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
حُنَفَآءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِۦ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ ٱلطَّيْرُ أَوْ تَهْوِى بِهِ ٱلرِّيحُ فِى مَكَانٍ سَحِيقٍ
ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى ٱلْقُلُوبِ
لَكُمْ فِيهَا مَنَٰفِعُ إِلَىٰٓ أَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَآ إِلَى ٱلْبَيْتِ ٱلْعَتِيقِ
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنسَكًا لِّيَذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّنۢ بَهِيمَةِ ٱلْأَنْعَٰمِ ۗ فَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ فَلَهُۥٓ أَسْلِمُوا۟ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُخْبِتِينَ
ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ ٱللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَٱلصَّٰبِرِينَ عَلَىٰ مَآ أَصَابَهُمْ وَٱلْمُقِيمِى ٱلصَّلَوٰةِ وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ
وَٱلْبُدْنَ جَعَلْنَٰهَا لَكُم مِّن شَعَٰٓئِرِ ٱللَّهِ لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ۖ فَٱذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَيْهَا صَوَآفَّ ۖ فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا فَكُلُوا۟ مِنْهَا وَأَطْعِمُوا۟ ٱلْقَانِعَ وَٱلْمُعْتَرَّ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرْنَٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
لَن يَنَالَ ٱللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَآؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ ٱلتَّقْوَىٰ مِنكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُحْسِنِينَ
۞ إِنَّ ٱللَّهَ يُدَٰفِعُ عَنِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ
ذلک ومن یعظم ……البیت العتیق (33)
یہاں حاجیوں کی قربانیوں اور دلوں کے تقویٰ کے درمیان تعلق بتایا گیا ہے کہ حج کے تمام شعائر ، تمام مناسک اور تمام حرکات سے بڑا مقصد دلوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کرنا ہے۔ بذات خود یہ مناسک اور شعائر کوئی چیز نہیں۔ اصل چیز وہ غرض وغایت ہے جو ان سے حاصل کرنا مطلوب ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانوں کا تعلق اللہ تعالیٰ سے پیدا کیا جائے۔ ان شعائر اور مناسک کے اندر وہ یادیں ہیں جن کا تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بعد کے زمانے سے ہے اور ان کا اصل مقصد اطاعت الٰہی ہے ، توجہ الی اللہ ہے اور جب سے یہ امت پیدا کی گئی اس میں اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے دو ہی راستے ہیں : ایک دعا اور دوسرا نماز۔
یہ مویشی جن کے احترام کی بات ہو رہی ہے ، ان کو ایام احرام کے آخر میں ذبح کیا جاتا ہے ، اس عرصہ میں ان کے مالک کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ ان سے نفع اٹھائے۔ اگر اس کو ضرورت ہو تو وہ ان پر سوار بھی ہو سکتا ہے اور اگر ان کے دودھ کی ضرورت ہو تو دودھ بھی استعمال کرسکتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے محل تک پہنچ جائیں اور ان کا مقام بیت عتیق ہے یعنی خانہ کعبہ۔ یہاں پھر ان کو ذبح کیا جائے گا تاکہ لوگ خود بھی کھائیں اور محتاجوں اور فقیروں کو بھی دیں۔
حضور اکرم ﷺ کے دور میں مسلمان قربانی کے جانور اچھے سے اچھا تلاش کرتے تھے۔ موٹا تازہ اور قیمتی ، اس کو وہ تعظیم شعائر اللہ کا حصہ سمجھتے تھے اور خدا خوفی کی وجہ سے وہ ایسا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے ایک بہترین اونٹنی کو قربانی کے لئے خریدا اور تین سو درہم قیمت ادا کی۔ اس نے کہا حضور میں نے ہدی کی خاطر ایک اونٹنی تین صد روپے میں خریدی ہے تو کیا مجھے اجازت ہے کہ میں اسے فروخت کر کے اس کی جگہ اور اونٹنیاں خریدوں ؟ حضور نے فرمایا نہیں اسی کو ذبح کرو۔ حضرت عمر زیادہ قیمتی اونٹنی کو فروخت کر کے رقم جیب میں رکھنا نہیں چاہتے تھے بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اسے فروخت کردیں اور اس کی جگہ اس رقم سے زیادہ جانور خرید کر ذبح کردیں اور اس کو فروخت کر کے زیادہ اونٹنیاں یا گائے نہ خریدیں۔ اگرچہ اس صورت میں گوشت زیادہ ہوجاتا لیکن شعوری زاویہ سے اور خدا کی راہ میں اچھا مال دینے کے لحاظ سے یہ زیادہ بھاری تھا اور شعوری قیمت کی زیادہ اہمیت ہے۔
فانھا من تقوی القلوب (22 : 32) ” کیونکہ اس کا تعلق دلوں کے خوف سے ہے۔ “ یہ تھا مفہوم اس بات کا جو حضور نے حضرت عمر سے کیہ کہ اسے تبدیل نہ کرو اور اسی کو ذبح کرو۔
یہ مناسک اور شعائر جن کے احترام کا حکم دیا جاتا ہے ، قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ تمام اقوام کے ہاں رائج ہیں لیکن اسلام جن شعائر کی قدر کرتا ہے ، انہیں بحال رکھتا ہے اور ان کے احترام کا حکم دیتا ہے ان کا رخ اسلام نے خدا کی طرف موڑ دیا ہے۔
ولکل امۃ ……ینفقون (35)
اسلامی نظام زندگی کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انسان کے احساسات اور اس کے رجحانتا کو اللہ کی ذات کے ساتھ وابستہ کرتا ہے۔ چناچہ اس کی اسکیم یہ ہے کہ شعور ، عمل ، سرگرمی ، عبادت ، ہر حرکت اور ہر عادت کو ایک نئی سمت دی جائے اور ہر چیز کو اسلام نظریہ حیات کے رنگ میں رنگ دیا جائے ۔ اس نقطہ نظر سے اسلام نے ان مذبوحہ جانوروں کو حرام قرار دے دیا ہے جن پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور یہ لازم کردیا کہ ذبیحوں پر اللہ کا نام لیا جائے بلکہ عین ذبح کے وقت اونچی آواز سے اللہ اکبر کہا جائے ، گویا جانور ذبح ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس طرح اللہ کا نام لیا جائے۔
ولکل امۃ جعلنا مسکا لیذکروا اسم اللہ علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام (22 : 33) ” ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کردیا ہے تاکہ اس امت کے لوگ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔ “
اس کے بعد عقیدہ توحید کی تصریح آتی ہے۔
فالھکم الہ واحد (22 : 33) ”(مقصد صرف یہ ہے) کہ تمہارا ایک ہی خدا ہعے “۔ جب خدا ایک ہے تو ہر معاملہ میں اطاعت بھی اسی ایک کی ہونی چاہئے۔
فلہ اسلموا (22 : 33) ’ دپس اس کے مطیع فرمان بنو۔ “ یہ اطاعت جبر کی اطاعت نہیں ہے اور نہ اسلام میں کوئی جبر ہے ، بلکہ دل کی آمادگی سے سر تسلیم خم کرنا مقصود ہے۔
وبشر المخبتین (22 : 33) الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم (22 : 35)
” اے نبی ﷺ بشارت دے دو عاجزانہ روش اختیار کرنے والوں کو ، جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ “ محض اللہ کا نام سنتے ہی ان کے شعور اور ان کے ضمیر میں اللہ کا خوف پیدا ہوجاتا ہے اور وہ کانپ اٹھتے ہیں۔
والصبرین علی ما اصابھم (22 : 35) ” جو مصیبت بھی ان پر آتی ہے اس پر صبر کرتے ہیں۔ “ لہٰذا اللہ ان کے بارے میں جو فیصلہ کرے ان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔
والمقیمی الصلوۃ (22 : 35) ” اور نماز قائم کرتے ہیں۔ “ اور اللہ کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح عبادت کرنے کا حق ہوتا ہے۔
ومما رزقنھم ینفقون (22 : 35) ” اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ “ وہ اپنے مال میں اللہ کے مقابلے میں بخل نہیں کرتے۔
یوں عقیدے ، نظریات اور دین کے بنیادی شعائر کے اندر ربط پیدا کر کے ذات باری کو ہر چیز کا محور بنا دیا جاتا ہے۔ اور اس طرح اسلامی نظام کا یہ جزء خصوصاً عبادات اس کے عقائد و نظریات کا مظہر اور رمز بن جاتی ہیں۔ اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کی پوری زندگی میں اس کے عقیدے کا رنگ ہو ، اس طرح ان کی قوت عمل اور ان کی سمت کے درمیان کوئی تضاد نہ ہو اور نفس انسانی شعور انسانی اور عمل انسانی کے درمیان کوئی تضاد اور کوئی کشمکش نہ ہو۔
اب سیاق کلام ذرا مزید آگے جاتا ہے اور اس مفہوم کو مزید تاکیدی انداز میں یوں پیش کیا جاتا ہے کہ محض کھانے پینے کے لئے ذبح کئے جانے والے جانوروں کے اس شعار اور عمل میں بھی اصل روح وہی ہے۔
والبدن جعلنھا ……وبشر المحسنین (37)
یہاں قربانی کے جانوروں میں سے صرف اونٹ کا ذکر کیا جاتا ہے ، اس لئے کہ یہ سب سے بڑا ہوتا ہے۔ اس کا قربانی میں ذبح کیا جانا تمہارے لئے مفید ہے۔ جب زندہ ہو تب بھی مفید ہے کہ تم اس پر سوار ہوتے ہو اور اس کا دودھ دوہتے ہو اور جب ذبح کردیا جائے تو بھی تم گوشت کھاتے ہو ، لہٰذا اس ” خیر “ کو ذبح کرتے وقت تمہارا فرض بنتا ہے کہ اس پر اللہ کا نام لو۔ جب اسے ذبح کے لئے تیار کیا جا رہا ہو تو بھی اس پر اللہ کا نام لو ، جب وہ صف کی شکل میں کھڑے ہوں۔
فاذکروا اسم اللہ علیھما صواف (22 : 36) ” پس ان پر اللہ کا نام لو جب وہ صف میں ہوں۔ “ اونٹوں کو اس طرح ذبح کیا جاتا ہے کہ وہ تین پائوں پر کھڑے ہوں اور ایک پائوں باندھا ہوا ہو اور جب وہ ذبح کے بعد گر جائیں اور ان کی پیٹھ زمین پر ٹک جائے تو پھر تم ان سے کھانا چاہو تو کھائو اور ان کا گوشت اس فقیر کو بھی کھلائو جو سوال نہیں کرتا اور اس کو بھی کھلائو جو سوال کرتا ہے۔ اسی لئے اللہ نے ان کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ لوگ اس ” خیر “ پر خدا کا شکر ادا کریں جو ان میں لوگوں کے لئے ہے۔ زندگی میں بھی اور ذبح ہونے کے بعد بھی۔
کذلک سخرنھا لکم لعلکم تشکرون (22 : 36) ” ان جانوروں کو ہم نے اس طرح تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو۔ “
تمہیں جو حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو اللہ کا نام لے کر ذبح کرو تو اس کا مقصد ہے لن ینال اللہ لحومھا و لادماوھا (22 : 38) ” نہ ان کا گوشت اللہ کو پہنچتا یہع نہ خون “۔ خون اور گوشت تو لالہ تک نہیں پہنچتا ، نہ اللہ کو ضرورت ہے ، اللہ کو مطلوب جذبہ خدا خوفی ہے۔ اس لئے مشرکین مکہ کی یہ حرکت کہ وہ جانوروں کو ذبح کر کے خون لے جا کر بتوں پر ملتے تھے محض ایک سوقیانہ حرکت ہے۔ اللہ اس سے بےنیاز ہے۔
کذلک سخرھا لکم لتکبروا اللہ علی ماھدکم (22 : 38) ” اس نے ان کو تمہارے لئے اس طرح مسخر کیا ہے تاکہ اس کی بخشی ہوئی ہدایت پر اس کی تکبیر کرو۔ “ اس نے تمہیں عقیدہ توحید کی ہدایت کی ہے۔ اس کی طرف متوجہ ہونے کی ہدایت کی ہے ، اللہ اور بندے کے درمیان حقیقی تعلق کے قیام کی ہدایت کی ہے اور اپنے اعمال کو صحیح سمت دینے کی ہدایت کی ہے۔
وبشر المسنین (22 : 38) ” اور بشارت دے نیکو کاروں کو۔ “ جن کا تصور بھی حسین ہے جن کا شعور بھی حسین ہے ، جن کی عبادت بھی پر احسان ہے اور اللہ کے ساتھ جن کا ربط بھی خدا خوفی کا ہے۔
یوں ایک مسلم کا ہر قدم ، اس کی ہر حرکت اور اس کی ہر سوچ ایسی ہوتی ہے کہ وہ اس میں ذات باری کو پیش نظر رکھتا ہے اس میں اس کا دل خوف خدا سے لبالب ہوتا ہے اور وہ ہر کام میں رضائے الٰہی کا طلبگار ہوتا ہے۔ غرض اس کی پوری زندگی اس مقصد کو پورا کر رہی ہوتی ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے اور دنیا میں بھی اس کی زندگی صحت مند اور مفید اور اس کی غایت کی شاخیں آسمانوں پر ہوتی ہیں۔
اسلام کے یہ شعائر اور مناسک مقرر ہیں۔ عبادات اور عبادات کے مقامات متعین کئے گئے ہیں اور ان کا احترام ضروری قرار دیا گیا ہے ، اس لئے ایک ایسی قوت کی ضرورت ہے جو ان شعائر کا احترام قائم کرے۔ آزادی فکر و نظر کے حق کو قائم کرے اور ہر شخص کے لئے ایسے مواقع پیدا کرے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق اللہ کی پرستش کرسکے۔ نیز مقامات عبادات کے تقدس کو بھی قائم رکھ سکے۔ نیز یہ ممکن بنایا جاسکے کہ مومنین ، عابدین اور عمل صالح کرنے الے نیک لوگ اپنے نظریہ حیات کے مطابق نظام زندگی قائم کرسکیں جس کا ایک طرف سے رابطہ اللہ تعالیٰ سے ہو اور دوسری جانب سے وہ نظام اس دنیا کے تمام انسانوں کے لئے موجب خیر و برکت ہو۔ غرض دنیا و آخرت کی بھلائی کا ضامن ہو۔
یہی وجہ ہے کہ ہجرت کے بعد مسلمانوں کو یہ اجازت دی گئی کہ وہ اب اللہ کی راہ میں ہتھیار اٹھا سکتے ہیں تاکہ وہ اپنی ملت کی مدافعت کرسکیں ، اپنے نظریہ اور عقیدہ کی مدافعت کرسکیں ، اگر کوئی دشمن ان کے علاقے پر حملہ آور ہو تو اس کا دفاع کرسکیں کیونکہ مسلمانوں پر ظلم و ستم اپنی انتہا کو پنچ گئے ہیں۔ اس قتال کا مقصد وحید صرف یہ ہے کہ لوگوں کے لئے بشمول اہل اسلام عقائد و نظریات کی آزادی قائم ہو سکے۔ اللہ کے دین کے نظام کے اندر ، اللہ کی نصرت کا وعدہ حقیقت کا روپ اختیار کرسکے اور وہ دین اسلام اور نظام اسلام کے وہ فرائض اد اکر سکیں جن کا ذکر ذیل کی آیات میں آیات ہے۔
ان اللہ ……عاقبۃ الامور (41)
اس کرہ ارض پر شر کی قوتیں ہر وقت کام کرتی ہیں ، خیر و شر اور ہدایت و ضلالت کے درمیان معرکہ ہر وقت برپا رہتا ہے اور یہ معرکہ اس وقت سے قائم ہے جب سے اللہ نے اس کرہ ارض پر انسان کو پیدا کر کے بھیجا ہے۔
شرہمیشہ سرکش ہوتا ہے اور باطل ہمیشہ قوت اور اسلحہ سے لیس ہوتا ہے۔ شر کی گرفت بےرحمانہ ہوتی ہے اور اس کی مار بےترسی سے ہوتی یہ۔ اگر اللہ کے کچھ بندوں کو راہ ہدایت معلوم ہوجائے تو وہ ان کی راہ روکتا ہے اور ان کو حق سے دور ہٹاتا ہے ، اگر کسی کا دل حق کے لئے کھل جائے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ایمان ، حق اور بھلائی کی پشت پر بھی قوت ہو ، تاکہ باطل کی پکڑ ، سرکشی ، فتنے اور زیادتی سے اسے روکا جاسکے اور حق کو دشمنوں اور سختیوں سے بچایا جائے۔
اللہ کا منشا یہ ہرگز نہیں ہے کہ ایمان ، بھلائی اور سچائی کو اس طرح کمزور چھوڑ دیا جائے کہ وہ میدان میں باطل کا مقابلہ نہ کرسکے۔ اس سلسلہ میں اہل حق کے دلوں میں پائیج انے والی قوت ایمانی پر زیادہ سے زیادہ بھروسہ کیا جاتا ہے اور انسانی فطرت اور انسانی ضمیر میں حق کے ولولہ سے کام لیا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر باطل قوتوں کے مقابلے میں حق کی کوئی قوت نہ ہو تو اہل حق اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ان کے قدم ڈگمگا سکتے ہیں۔ اہل حق کی فطرت کو بھی بگاڑا جاسکتا ہے۔ کیونکہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور مصائب برداشت کرنے کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے اور ایک حد پر جا کر انسانی قوتیں جواب دے دیتی ہیں۔ اللہ لوگوں کے قلوب و نفوس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے یہ نہیں چاہا کہ اہل ایمان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آزمائش میں ڈال دیا جائے۔ ہاں اس حد تک قوت کے استعمال سے روکا جاسکتا ہے کہ جب وہ مقابلے کی تیاری کر رہے ہوں۔ دفاع کی تیاریاں ہو رہی ہوں اور وسائل جہاد جمع کئے جا رہے ہوں جب وہ یہ کام کر چکیں تو پھر ان کو قتال کی اجازت ہے تاکہ وہ اہل کفر کی دست درازیوں کا رد کرسکیں۔
اذن قتال دینے سے قبل اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ وہ خود اہل ایمان کی طرف سے دفاع کرتے ہیں اور یہ کہ اللہ ان کی نصرت اور تعاون پر قدرت رکھتے ہیں۔
ان اللہ یدفع عن الذین امنوا (22 : 38) ” یقینا اللہ مدافعت کرتا ہے ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں۔ “ اللہ اہل ایمان کے دشمنوں کو پسند نہیں کرتا کیونکہ انہوں نے حق کا انکار کیا ہے اور وہ خائن بھی ہیں۔ لہٰذا یقینا ان کو رسوا کر کے رہے گا۔
ان اللہ لایحب کل خوان کفور (22 : 38) ” بیشک اللہ کسی خائن اور کفران نعمت کرنے الے کو پسند نہیں کرتا۔ “ اللہ نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ اہل ایمان کو اپنے دفاع کا پورا پورا حق پہنچتا ہے ، ان کا موقف درست ہے ، آداب جنگ کے اعتبار سے بھی کیونکہ وہ مظلوم ہیں ، وہ جارحیت کے مرتکب ہرگز نہیں ہوئے اور نہ ہی وہ سرکشی کرنے الے ہیں۔
اذن للذین یقتلون بانھم ظلموا (22 : 39) ” اجازت دے دی گئی ہے ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے ، کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔ “ ان کو چاہئے کہ وہ اللہ کی اس حمایت پر مطمئن ہوجائیں۔ اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا۔
وان اللہ علی نصر ھم لقدیر (22 : 39) ” اور اللہ یقینا کی مدد پر قادر ہے۔ “ ان کو اس معرکہ آرائی کی اجازت اس لئے دی گئی ہے کہ وہ پوری انسانیت کے لئے اس عظیم مہم میں کود رہے ہیں ، اس مہم کے نتائج صرف انہی کے لئے مفید نہ ہوں گے ، بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے مفید ہوں گے کیونکہ اس کے نتیجے میں ایمان اور نظریات کی آزادی کے بنیادی حقوق قائم ہوں گے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی جواز فراہم کرتی ہے کہ ان کو اپنے گھروں اور اپنے ملک سے بغیر کسی جواز کے نکالا گیا ہے۔
الذین اخرجوا من دیار ھم بغیر حق الا ان یقولوا ربنا لالہ (22 : 30) ” یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے۔ “ حالانکہ یہ بہت ہی سچی بات تھی جو کبھی کہی جاسکتی ہے۔ یہ اس بات کی نہایت ہی مستحق تھی کہ اسے بار بار دہرایا جائے۔ جب اس بات کی وجہ سے ان لوگوں کا اخراج عمل میں آیا تو یہ کھلی سرکشی اور ظلم تھا اور اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ مظلوموں کی جانب سے کوئی ذاتی دشمنی کسی کے ساتھ نہ تھی ، محض ان کا نظریہ ہی تھا جس کی وجہ سے ان کو نکال دیا گیا۔ اس کشمکش میں اس دنیا کے مفادات میں سے بھی کسی مفاد کا دخل نہ تھا کہ کوئی مفادات ، خواہشات یا کسی طمع و لالچ کا بہانہ کرسکے۔ یا ہمدردیں اور کسی اور ذاتی پسند و ناپسند کا بہانہ بنایا جاسکے۔ یہ صرف نظریاتی جنگ تھی۔
پھر یہ بھی ایک عمومی اصول ہے کہ کسی بھی نظریہ کے لئے قوت مدافعت کی بےحد ضرورت ہوتی ہے۔
ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع وبیع وصلوت و مسجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیراً (22 : 30) ” اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجے اور معبد اور مسجدیں ، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے ، سب مسمار کر ڈالی جائیں۔ “ صومعہ عبادت کی اس جگہ کو کہا جاتا ہے ، جہاں راہب عبادت کرتے ہیں۔ بیع نصاریٰ کی عبادت گاہ ہے۔ یہ صومعہ سے زیادہ وسیع ہوتی ہے۔ صلوت یہودیوں کی عبادت گاہ کو کہتے ہیں۔ مساجد مسلمانوں کی عبادت گاہیں ہوتی ہیں۔
اگرچہ یہ مقامات اللہ کی عبادت کے لئے مخصوص اور مقدس ہیں لیکن یہ سب مسمار ہو سکتے ہیں اگر ان کی شت پر قوت مدافعت نہ ہو۔ اہل باطل کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ان مقامات پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے بلکہ ان مقامات کی حمایت اور ان کا بچائو تب ہی ہو سکتا ہے کہ کسی عقیدے کے حامی اس کی پشت پر ہوں اور ان کے اندر قوت مدافعت بھی ہو اور وہ اپنے عقیدہ کے احترام کو بزور قوت دشمن سے منوا بھی سکتے ہوں۔ باطل تو سرکش ہوتا ہے وہ تب ہی رکتا ہے جب اس جیسی قوت اس کے مقابل کے پاس بھی ہو جس پر باطل حملہ آ ور ہو رہا ہے۔ محض اس لئے کہ حق ، حق ہے۔ باطل حملہ آور ہونے سے نہ رکے گا۔ لہٰذا حق کی پشت پر بھی ایک مساوی بلکہ برتر قوت ہونی چاہئے جو اس کا دفاع کرسکے۔ یہ ایک کلی فائدہ ہے جب تک انسان ہے ایسا ہی ہوگا۔
یہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم ان نصوص قرآنیہ پر غور کریں جن کے الفاظ تو بہت کم ہیں لیکن ان کے معانی بہت ہی وسیع ہیں۔ یہ نصوص انسانی نفس انسانی ، زندگی اور انسانی زندگی کے واقعات کے اہم رازوں پر مشتمل ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو قتال کی اجازت دے رہے ہی جن کے ساتھ مشرکین نے جنگ کی اور ان پر دست درازیاں کیں۔ یہ اس لئے کہ اللہ اہل ایمان سے مدافعت کی ذمہ داری لیتا ہے اور اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ خیانت گر اہل کفر اہل اسلام پر دست درازیاں کریں۔
ان اللہ یدفع ……کفور (22 : 38) ۔
” اللہ مدافعت کرتا ہے ان لوگوں کی طرف سے جو ایمان لاتے ہیں یقینا اللہ کسی خائن کا فر نعمت کو پسند نہیں کرتا۔ “ اللہ نے مسلمانوں کو یہ یہ ضمانت دے دی کہ وہ ان کی جانب سے مدافعت کرے گا اور جس کی مدافعت اللہ کرے تو یہ بات یقینی ہے کہ دشمن اس کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا۔ وہ اپنے دشمن پر غالب ہوگا ، تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ پھر ان کو قتال کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟ پھر جہاد کیوں فرض کیا گیا ہے ؟ پھر وہ کیوں لڑتے ہیں جس میں وہ قتل بھی ہوت یہیں ، زخمی بھی ہوتے ہیں اور ان کو جدوجہد اور مشقیں بھی کرنی ہوتی ہیں اور مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں اور قربانیاں بھی دینی ہوتی ہیں اور نتیجہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ غالب ہوتے ہیں حالانکہ اللہ بغیر ان کی جدوجہد کے بھی اور بغیر کسی مشقت اور قربانی کے بھی اور بغیر کسی قتل و قتال کے بھی ان کی جانب سے مدافعت کرسکتا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ کی حکمت اس باب میں بہت ہی گہری ار بہت ہی دور رس ہے۔ اللہ کی محبت اصل مقام تک پہنچنے والی ہے اور بہت ہی اونچی ہوتی ہے لیکن ہم جس قدر سمجھ سکے ہیں اور جس قدر ہماری عقلوں میں سمجھنے کی صلاحیت ہے اور جس قدر ہمارے تجربات ہیں ، ان کے مطابق جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ میری دعوت کے حاملین سست اور کاہل رہیں اور وہ نہایت ہی سستی سے بیٹھے رہیں اور ان پر اللہ کی نصرت آجائے اور وہ شہزادوں کی طرح بیٹھے ہوں۔ محض اس لئے کہ وہ قرآن پڑھتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں اور ہر حال میں اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ کام جو سب کے سب ضروری ہیں ان کو اس قابل نہیں بناتے کہ یہ لوگ دعوت اسلامی کی حمایت کریں اور اس کی جانب سے دفاع کریں۔ نماز ، عبادت ، اور دعاء تو ایک سپاہی کے لئے زاد راہ ہیں اور جنگ میں یہ اخلاقی قوت کا کام دیتے ہیں ، اہل ایمان کے پاس یہ مزید اسلحہ ہے جو دشمن کے پاس نہیں ہے۔ دشمن کے پاس جو روایتی اسلحہ ہے وہ مسلمان کے پاس بھی ہے اور تقویٰ ہے اور اتصال باللہ اس پر مزید ہے۔
اللہ کی مشیت یہ ہے کہ مسلمانوں اور اہل ایمان کا دفاع وہ خود مسلمانوں اور اہل ایمان کے ذریعہ سے کرے تاکہ معرکہ آرائی کے دوران مسلمان پختہ ہوجائیں۔ اس لئے کہ انسانی شخصیت کے اندر موجود خفیہ قوتیں تب ہی بیدار ہوتی ہیں ، جب انسان کو خطرہ درپیش ہو ، اور انسان اپنی مدافعت کر رہا ہو۔ مقابلے اور جنگ میں انسان اپنی پوری قوت لے کر دشمن کے مقابلے میں نکل آتا ہے۔ ایسے حالات میں انسانی قوت کا ہر ہر خلیہ محترک اور تیار ہوجاتا ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ دوسرے خلیوں کے ساتھ تعاون کرے اور مشرکہ کارروئیاں کرے۔ جس قدر قوت کی فراہمی اس سے ممکن ہو ، وہ فراہم کرے۔ غرض وہ اپنی قوت کا آخری ذرہ بھی نکال دے اور انسان اس مقام تک پہنچ جائے جو اس کے لئے مقدر ہوتا ہے۔
جو جماعت دعوت اسلامی کو لے کر اٹھتی ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی قوت کا ہر خلیہ اپنی قوت کا پورا ذخیرہ ، اپنی صلاحیتوں کا پورا جوہر ، اپنی تمام طاقتوں کو جمع کرتے ہوئے اس راہ پر لگا دے تاکہ خود اس کی تربیت اور ترقی مکمل ہو سکے ، وہ پختہ ہو سکے ار اس طرح وہ اس امانت کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہو سکے جو اس پر ڈالا گیا ہے۔
وہ نصرت اور کامرانی جس میں فتح یاب ہونے والے نے کوئی تکلیف نہ اٹھائی ہو ، اور جو کامیابی بڑی آسانی اور بغیر کانٹا چبھے حاصل ہوجائے ، اس کے نتیجے میں خود انسانی کارکنوں کی یہ حقیر صلاحیتیں نہیں ابھرتیں کیونکہ ان کے ظہور کے لئے کوئی محرک نہیں ہوتا ، مقابلہ اصل محرک ہوتا ہے۔
نیز جو کامیابی بڑے آرا م سے اور بیٹھے بٹھائے مل جاتی ہے ، وہ اسی طرح آسانی سے ناکامی میں بدل جاتی ہے اور ضائع ہوجاتی ہے۔ چونکہ یہ مفت میں ہوتی ہے اور کامیاب ہونے والے نے اس کی کوئی قیمت ادا نہیں کی ہوتی ، اس لئے اس کی نظروں میں اس کی کوئی قدر نہیں ہوتی۔ پھر جن لوگوں کو یہ بیٹھے بٹھائے مل جاتی ہے ان صلاحیتوں کو اس کے دماغ کا تجربہ نہیں ہوتا کیونکہ ان کی خفیہ قوتیں جب اس کے حصول کے لئے بیدار نہیں ہوتیں تو اس کے دفاع کے لئے کیسے بیدار ہوں گی۔ لہٰذا ان کے لئے دفاع ممکن ہی نہیں رہتا۔
یہ عملی اور یہ وجدانی تربیت انسان کو تب حاصل ہوتی ہے کہ اسے فتح بھی ہوئی ہو اور ہزیمت بھی اٹھانی پڑی ہو۔ اس کا کرو فر بھی دیکھا ہو ، قوت اور ضعف بھی دیکھا ہو ، اقدام اور پسپائی دونوں دیکھی ہوں اور دونوں کی خوشی اور کڑوا پن چکھا ہو۔ امید و بیم ، خوشی اور غم ، اطمینان اور قلق ، ضعف کا احساس اور قوت کا شعور یہ سب کچھ اس نے میدان جنگ میں دیکھا ہو۔
نیز اس نے نظریات کا اتحاد اور نظریاتی انتشار بھی دیکھا ہو۔ مختلف رجحانات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا تجربہ وہ کرتا ہے۔ جاعت کے اندر قوت کے مراکز اور ضعف کے مقامات سے وہ باخبر ہو اور ہر قسم کے حالات میں معاملات کی تدبیر کو وہ جانتا ہو۔ یہ تمام مراحل اس جماعت اور گروہ کے لئے ضروری ہیں جس نے دعوت اسلامی کو لے کر چلنا ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کوئی عملاً معرکے میں نہ اترے۔
اس وجہ سے اور اس کے علاوہ مزید خفیہ حکمتوں کی وجہ سے جنہیں صرف اللہ ہی جانتا ہے ، اللہ نے یہ طے کیا کہ وہ مسلمانوں کا دفاع خود مسلمانوں کے ذریعے کرے اور ایسا نہیں فرمایا کہ یہ ایک لقمہ تر ہوگا جو ان کے لئے آسمانوں سے پکا پکایا اتر جائے۔
بعض اوقات ایسے مظلوموں پر نصرت کا نزول دیر کردیتا ہے جن کو اپنے گھروں سے نکال دیا جاتا ہے اور ان پر ظلم محض اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے رب کو ایک سمجھتے ہیں۔ صرف اللہ کو رب سمجھتے ہیں لیکن اس میں اللہ کی گہری حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔
بعض اوقات نصرت لیٹ ہوجاتی ہے کیونکہ دعوت اسلامی کے حاملین ابھی پختہ نہیں ہوئے ہوتے اور ان میں کمزوریاں ہوتی ہیں۔ ان کی قوتیں مجتمع نہیں ہوتیں۔ اسلامی عناصر نے اپنی قوتوں کے تمام ذخائر کو میدان میں نہیں اتارا ہوا ہوتا ہے۔ اگر ایسی ناپختگی کی حالت میں اللہ کی نصرت آجائے تو وہ جلد ہی اسے کھودیں گی۔
بعض اوقات نصرت اس لئے بھی دیر کردیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے کہ مومن اپنی پوری قوت اس راہ میں جھونک دیں۔ اپنا آخری سرمایہ اور قوت نچوڑ کر ختم کردیں اور کوئی چیز ذخیرہ کر کے نہ رکھیں اور اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیں۔ جب تک انہوں نے ایسا نہیں کیا ہوتا ، نصرت نہیں آتی۔
بعض اوقات اس لئے بھی نصرت نہیں آتی کہ اللہ اہل ایمان کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے تمام حربے آزما لیں اور ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ نصرت صرف ان کی قوتوں کی وجہ سے ہی سے نہیں آتی بلکہ اللہ کی نصرت تب آتی ہے جب اہل ایمان اپنی قوت ، اپنی دولت اور اپنی صلاحیتوں کا آخری ذخیرہ بھی ختم کردیں اور ان کے سامنے صرف اللہ کی مدد کا ذخیرہ رہ جائے تب مدد آپہنچتی ہے۔
بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی مئوخر ہوجاتی ہے کہ امت مومنہ کا تعلق باللہ معیار مطلوب تک پہنچ جائے ، اسے مشکلات پیش آئیں اور وہ برداشت کرے ، اسے المناک نتائج سے دوچار ہونا پڑے اور وہ صبر کرے اور اسے اپنی پوری قوتیں صرف کرنے کا موقع ملے اور حالت یہ ہوجائے کہ اللہ کے سوا کوئی اور سہارا نہ رہغے اور اللہ کے سوا توجہات مرکوز کرنے کا اور کوئی نکتہ نہ رہے۔ یہ تعلق باللہ پھر اس بات کی بھی ضمانت ہوتا ہے کہ نصرت آنے اور فتح ملنے کے بعد امت سیدھی راہ پر گامزن رہتی ہے۔ وہ پھر پنی راہ نہیں چھوڑتی ۔ وہ سچائی ، عدل اور بھلائی کا راستہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتی جس کی وجہ سے اسے فتح نصیب ہوتی ہے۔
بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی نہیں آتی کہ امت اپنی جدوجہد ، اپنے انفاق اور اپنی قربانیوں میں خالص رضائے الٰہی کے لئے کام نہیں آتی۔ اس کی جنگ مفادات کے لئے ہوتی ہے ، یا وہ ذاتی رنجش کی وجہ سے لڑتی ہے ، یا اس کی جدوجہد میں دکھاوا ہوتا ہے ، حالانکہ اللہ کا منشا یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد صرف ال لہ کے لئے ہو ، صرف اللہ کے راستے میں ہو۔ اس کے ساتھ کوئی اور سوچ وابستہ نہ ہو ، کارکنوں کے شعور اور لاشعور میں رضائے الٰہی کے سوا کوئی اور مقصد نہ ہو۔ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کسی حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے یا شجاعت کی وجہ سے لڑتا ہے یا شخصیت کے اظہار کے لئے لڑتا ہے تو ان میں سے کون سی جنگ فی سبیل اللہ ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا۔
من قاتل لتکون کلمۃ اللہ ہی العلیا ” جس نے اس لئے جنگ کی کہ اللہ کا کلما بلند ہو تو صرف یہ فی سبیل اللہ ہے۔ “ بعض اوقات اسلامی عناصر کو اس لئے بھی کامیابی نہیں ہوتی کہ جس شر کے مقابلے میں امت کام کر رہی ہوتی اس میں خیر کا کوئی پہلو ہوتا ہے۔ اللہ اس شر کو مہلت دیئے جاتا ہے تاکہ شرک و اس خبر سے تہی دامن کر دے تاکہ اگر ہلاکت آئے تو خالص شر پر آئے اور اس میں خیر کا کوئی پہلو نہ ہو اور ایسا نہ ہو کہ شر کے ساتھ خیر کا ایک ذرہ بھی ضائع ہوجائے۔
بعض اوقات اللہ کی نصرت اس لئے بھی نہیں آتی کہ جس باطل کے خلاف امت مسلمہ اور جماعت مومنہ برسر پیکار ہوتی ہے اس کا کھوٹ عوام الناس کی نظروں میں آشکار اور پوری طرح واضح نہیں ہوا ہوتا۔ ایسے حالات میں اگر شر کو شکست دے دی جائے تو شر کو بھی معاشرے میں سے بعض ایسے لوگ حامی و مددگار مل جائیں گے جنہوں نے ابھی تک شر کے کھوٹ کو سمجھا نہیں ہوتا اور وہ اس کے فساد ، زوال کو سمجھے ہی نہیں ہوتے اور اس پر مطمئن نہیں ہوتے لہٰذا اس شر کی بعض جڑیں نیک لوگوں کے ذہنوں میں بھی ہوتی ہیں ، جو حقیقت سے بیخبر ہوتے ہیں۔ اس لئے اللہ باطل کو ایک عرصہ تک برسر اقتدار رکھتا ہے تاکہ تمام لوگوں کے ذہن صاف ہوجائیں اور جب وہ نیست و نابود ہوجائے تو اس پر رونے والی ایک آنکھ بھی معاشرے میں موجود نہ ہو۔
بعض اوقات نصرت میں دیر اس لئے بھی ہوتی ہے کہ معاشرہ ابھی تک قبول حق کے لئے ہی تیار نہیں ہوتا اور سچائی کو اٹھانے کے اہل بھی نہیں ہوتا۔ جس کی حامل اور داعی جماعت مومنہ ہوتی ہے۔ اگر ایسے حالات میں حق کو نصرت بھی مل جائے تو بھی اسے قرار نصیب نہیں ہوتا اور خود معاشرہ کے اندر سے ردعمل شروع ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اللہ کی مشیت ہوتی ہے کہ کچھ مزید عرصے کے لئے حق و باطل کی کشمکش جاری رہے تاکہ معاشرہ سچائی کے استقبال کے لئے تیار ہوجائے۔
یہ وجوہات ہو سکتی ہیں اور ان کے علاوہ اور وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جن کو صرف اللہ جانتا ہے ۔ کبھی کبھار ، نصرت الٰہی میں دیر لگ جاتی ہے۔ کارکنوں کو زیادہ قربانیاں دینی پڑتی ہیں ، ان پر مصائب بڑھ جاتے ہیں ، لیکن آخر کار فتح و نصرت جماعت مومنہ کے لئے ہوتی ہے اور جدوجہد کے زمانے میں اللہ کی ضمانت دفاع بہرحال اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حصول نصرت کی کچھ شرائط ہیں۔ کچھ تقاضے ہیں جو پورے کرنے پڑتے ہیں۔ اس کی ایک قیمت ہے جو ادا کرنی ہوتی ہے۔ اس کے کچھ اسباب ہوتے ہیں جو فراہم کرنے پڑتے ہیں اور اس کے لئے ایک مخصوص فضا ہوتی ہے جو پیدا کرنا پڑتی ہے (یاد رہے کہ یہ محض من اور سلویٰ نہیں ہے۔ )
ولینصرن اللہ ………عاقبۃ الامور (22 : 31) ” اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے ، اللہ بڑا طاقتور ہے اور زبردست ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں ، زکوۃ دیں ، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کی کے ہاتھ میں ہے۔
اللہ کا تاکیدی وعدہ ہے ، نہایت ہی باوثوق وعدہ ہے ، اٹل قاعدہ ہے کہ جو اس کی نصرت کرے گا تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا لیکن یہ سوالیہ نشان اپنی جگہ ضرور ہے کہ اللہ کن لوگوں کی نصرت کرتا ہے ، تاکہ ان کو نصرت کا مستحق سمجھا جائے۔ کیونکہ اللہ تو قوی ہے ، عزیز ہے ، اس کے موالے تو کبھی شکست نہیں کھاتے تو وہ کون ہیں ؟ وہ یہ ہیں ؟
الذین ان مکنھم فی الارض (22 : 31) ” یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم اقتدار ” بخشیں “ ۔ نصرت آجائے اور ان کا اقتدار اعلیٰ قائم ہوجائے تو اقاموا الصلوۃ (22 : 31) ” نماز قائم کریں گے۔ “ اللہ کی بندگی کریں گے اور اللہ کی طرف نہایت ہی مطیع فرمان ہو کر ، عاجز ہو کر ، سرتسلیم خم کرتے ہوئے رجوع کریں گے۔
واتوا الزکوۃ (22 : 31) ” زکوۃ دیں گے۔ “ مال کا حق ادا کریں گے۔ نفس کی فطری کنجوسی پر قابو پائیں گے۔ اسے حرص و آز سے پاک کریں گے۔ شیطان کے وسوسوں پر غلبہ پائیں گے ، جماعت اور سوسائٹی کے اندر پائے جانے والے رخنے دور کریں گے۔ ضعیفوں اور محتاجوں کا حق ادا کریں گے ، ان کو ایک زندہ جسم کے حقوق دیں گے جیسا کہ رسول اللہ نے فرمایا ” مومن باہم محبت ، باہم ہمدردی ، بامہ رحم و کرم میں جسد واحد کی طرح ہوتے ہیں ، اگر جسم کے کسی ایک عضو میں تکلیف ہو تو پورا جسم بےچین ہوتا ہے اور تمام جسم بےخوابی کا شکار ہوتا ہے۔
وامروابالمعروف (22 : 31) ” نیکی کا حکم دیں گے “ وہ نیکی اور اصلاح کے داعی بھی ہوں گے لوگوں کو زبردستی بھی نیکی پر آمادہ کریں گے۔
ونھوا عن المنکر (22 : 31) ” اور وہ برائی سے منع کریں گے۔ “ شر و فساد کا مقابلہ کریں گے۔ وہ امت مسلمہ کا یہ نشان بحال کریں گے کہ وہ منکر کو برداشت نہیں کرتے اور اگر وہ اسے دفع کرسکتی ہو تو دفع کرتی ہے اور اگر وہ معروف قائم کرسکتی ہے تو قائم کرے گی۔
ایسے لوگ اللہ کی نصرت کے مستحق ہوت یہیں جو اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لئے پوری جدوجہد کریں۔ صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہوں ، کسی اور پر نہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کی مدد ہوگی۔
لہٰذا اللہ کی نصرت کا وعدہ قائم ہے اسباب نصرت پر۔ نصرت کے تقاضے پورے کرنے پر اس کے فرائض اور ذمہ داریاں پوری کرنے پر ، اس کے بعد بھی بات اللہ کی مرضی پر ہے۔ وہ اپنی مخلوق کے اندر جس طرح چاہتا ہے ، تصرفات کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ شکست کو فتح میں بدل دیتا ہے اور بعض اوقات فتح کو ہزیمت میں بدل دیتا ہے۔ خصوصاً جب نصرت کے بنیادی عناصر ہیں ، خلل آجائے اور لوگ ذمہ داریاں اور تقاضے پورے نہ کریں۔
وللہ عاقبۃ الامور (22 : 31) ” اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ “ اللہ کی نصرت وہ ہوتی ہے جس کے ذریعہ اسلامی نظام زندگی قائم ہو ، حق ، انصاف ، آزادی اور خیر و اصلاح کا دور دورہ ہو۔ پیش نظر اعلیٰ مقاصد ہوں نہ کہ کچھ افراد ، اشخاص ، شخصیات اور ان کے ذاتی مقاصد کو پس پشت ڈال کر بلند اصولوں کو سامنے رکھنا ہوگا تب نصرت الٰہی حاصل ہوگی۔
بہرحال نصرت الٰہی کے اسباب ہوتے ہیں۔ اس کی قیمت پیشگی ادا کرنا ہوتی ہے۔ اس کے تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں۔ بعض شرائط لازمی ہوتی ہے۔ یہ نصرت کسی کو مفت میں نہیں ملتی نہ اللہ کو کسی کے ساتھ محبت ہوتی ہے اور نصرت اس شخص کو نہیں ملتی نہ اس جماعت کو ملتی ہے جو اس کے مقاصد اور تقاضے پورے نہ کرتی ہو۔