پھر منافقین کی یہ تاکید شدید جو انہوں نے اپنے بھائیوں سے کی۔
لئن اخرجتم ................ لننصرنکم (95 : 11) ” ” اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے ، اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات ہرگز نہ مانیں گے ، اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے “۔
لیکن اللہ ان کی حقیقت کو خوب جانتا ہے۔ وہ ان کی قرار داد سے بالکل مختلف قرار دیتا ہے اور ان کی تاکیدات کے برعکس موکد حقیقت بتاتا ہے۔
وللہ یشھد ................ ینصرون (21) (95 : 11۔ 21) ” مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ قطعی جھوٹے ہیں۔ اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ ہرگز نہ نکلیں گے ، اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی ہرگز مدد نہ کریں گے اور اگر یہ ان کی مدد کریں بھی تو پیٹھ پھیر جائیں گے اور پھر کہیں سے کوئی مدد نہ پائیں گے “۔ چناچہ ایسا ہی ہوا جس کی شہادت اللہ نے دی تھی۔ انہوں نے جو فیصلے کیے تھے اور جن کا اعلان کیا تھا ان میں سے ایک پر بھی عمل نہ کیا۔
اس کے بعد اللہ مسلمانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے جو ان منافقین اور ان اہل کتاب کافروں کے دلوں میں خوب بیٹھی ہوئی ہے۔
آیت 12{ لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَہُمْ } ”اگر وہ نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔“ { وَلَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَہُمْ } ”اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔“ { وَلَئِنْ نَّصَرُوْہُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ قف ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ } ”اور اگر انہوں نے کبھی ان کی مدد کی بھی تو پیٹھ دکھا دیں گے ‘ پھر ان کی کہیں سے مدد نہیں ہو سکے گی۔“ منافقین اپنے کردار و عمل سے ثابت کرچکے ہیں کہ وہ پست حوصلہ ‘ بزدل اور جھوٹے لوگ ہیں۔ اگر ان میں جوانمردی اور غیرت و حمیت کی کوئی رمق ہوتی تو یہ دوغلا پن اختیار نہ کرتے ‘ بلکہ ایمان لانے کے بعد سچے مسلمانوں کا طرزعمل اختیار کرتے کہ ع ”ہرچہ بادا باد ماکشتی در آب انداختیم !“ لہٰذا اپنے دعو وں کے مطابق یہ کبھی بھی یہودیوں کا ساتھ نہیں دیں گے ‘ اور اگر ان میں سے کوئی اِکا دُکاسرپھرے لوگ حق دوستی نبھانے کے جوش میں یہودیوں کے ساتھ کہیں کھڑے ہو بھی گئے تو مشکل وقت آنے پر وہ بھی میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔