لانتم .................... یفقھون (95 : 31) ” ان کے دلوں میں اللہ سے بڑھ کر تمہارا خوف ہے ، اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے “۔ ان کی حالت یہ ہے کہ یہ اللہ کے مقابلے میں مومنین سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ اگر یہ اللہ سے ڈرتے تو پھر اللہ کے کسی بندے سے نہ ڈرتے کیونکہ خوف اور خشیت تو ایک ہوتی ہے۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی اللہ سے بھی ڈرے اور لوگوں سے بھی ڈرے۔ عزت صرف اللہ کی ہے۔ اور تمام دوسری مخلوق اللہ کے مقابلے میں کوئی عزت اور غلبہ نہیں رکھتی۔ تمام دوسری مخلوقات اللہ کے احکام کے تابع ہے۔ قرآن کہتا ہے۔
وما من ................ بنا صیتھا ” زمین میں جو چیز بھی چلنے والی ہے اس کی چوٹی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ “ اس لئے جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہ کسی اور سے نہیں ڈرتا۔ لیکن جو لوگ اس حقیقت کو نہیں پاتے وہ ماسوائے اللہ سے ڈرتے ہیں اور وہ دوسری قوتوں سے اللہ کی نسبت زیادہ ڈرتے ہیں۔
ذلک .................... یفقھون (95 : 31) ” یہای سے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے “۔ اس کے بعد ان کے دلوں میں قائم ایک دوسری حقیقت کو بیان کیا جاتا ہے جو سابقہ حقیقت ہی کا نتیجہ ہے یعنی مسلمانوں کے خوف کا۔ یہ حقیقت بھی ان منافقین اور کافرین کے دلوں میں بیٹھی ہوئی ہے۔
آیت 13{ لَاَانْتُمْ اَشَدُّ رَہْبَۃً فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنَ اللّٰہِ } ”اے مسلمانو ! یقینا تمہارا ڈر ان کے دلوں میں اللہ کی نسبت شدید تر ہے۔“ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا تم لوگوں سے ڈرتے ہیں۔ { ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ } ”یہ اس لیے ہے کہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔“ یہ لوگ سمجھ بوجھ سے عاری ہیں۔ انسان کی اصل سمجھ اور عقل تو وہ ہے جو اسے اللہ سے متعارف کرائے اور ایمان کی راہ سجھائے۔ اسی طرح انسان کے لیے علم بھی وہی فائدہ مند ہے جو اسے اس حقیقت سے آگاہ کر دے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اور دنیا کی زندگی بس کھیل اور تماشا ہے۔ چونکہ منافقین ایسی عقل سے بیگانہ اور ایسے علم سے نابلد ہیں اس لیے وہ اللہ سے ڈرنے کے بجائے انسانوں سے ڈرتے ہیں اور آخرت کی قیمت پر دنیا سنوارنے کی فکر میں مگن ہیں۔