لینہ (95 : 5) کھجور کے بہترین درختوں کو کہتے ہیں۔ یہ اس وقت کی بہترین قسم تھے جسے سب جانتے تھے۔ مسلمانوں نے یہودیوں کے باغات میں سے بعض کو کاٹا تھا۔ بعض کو چھوڑدیا تھا۔ ان کے دلوں میں ایک خلجان تھا ، یعنی کاٹنے پر ، اور چھوڑنے پر۔ جبکہ اس سے قبل اور اس کے بعد مسلمانوں کے لئے جنگی ضابطہ یہی رہا کہ تحریق اور بربادی سے گریز کیا جائے۔ اس لئے اس واقعہ میں جو کچھ ہوا اس کی استثنائی حالت کے لئے یہ آیت آئی تاکہ مسلمانوں کے دل مطمئن ہوجائیں۔ آیت نے کہہ دیا کہ اگر باغات جلانے کو تم نے چھوڑا ہے اور اس سے اجتناب کیا ہے تو یہ بھی اللہ کا اذن تھا اور اگر کاٹ کر جلایا ہے تو یہ بھی اذن الٰہی تھا۔ کیونکہ اس مہم کی نگرانی اللہ براہ راست کررہا تھا۔ اس لئے اللہ نے مسلمان لشکروں سے ایسا کروایا۔ ان کے ہاتھوں تعذیر کو ظاہر کیا۔ لہٰذا یہ سب کاروائیاں اس کی مرضی سے ہوئیں۔ ان سے اللہ ان فاسقوں کو ذلیل کرنا چاہتا تھا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے پیارے باغات گر رہے تھے اور جل رہے تھے اور جو چھوڑے گئے تھے وہ بھی ان کے لئے باعث حسرت تھے کہ چھوڑ کر جارہے تھے۔ اللہ کی منشا تھی کہ دونوں طرح ان کو حسرت سے دو چار کرے۔
جن مومنین کے دل میں خلجان تھا کہ یہ تخریب وتحریق کیوں ہوئی ، ان کو اطمینان ہوا ، ان کو تسلی ہوگئی کہ یہ تو اللہ کی منشا تھی۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ تو دست قدرت کے آلات محض تھے۔
اس سورة کا یہ دوسرا پیراگراف بھی ایک نہایت ہی اہم مسئلے کو لیتا ہے کہ اس واقعہ میں جو اموال ہاتھ لگے اور حضور کی طرف پلٹے یا ایسے ہی واقعات بعد کے زمانے میں پیش آئیں تو ان کا حکم کیا ہے۔ یعنی وہ اموال جو جنگ اور قتال کے بغیر ہاتھ آجائیں۔ یا ایسے واقعات جن میں قدرت الٰہیہ نے مسلمانوں کے لئے اموال فراہم کیے۔ اور مسلمانوں نے اس میں کوئی زیادہ جنگی کاروائی نہ کی ہو۔
آیت 5{ مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَۃٍ اَوْتَرَکْتُمُوْہَا قَآئِمَۃً عَلٰٓی اُصُوْلِہَا فَبِاِذْنِ اللّٰہِ } لِینہ ایک خاص قسم کی کھجور کے درخت کو کہتے ہیں۔ یہودیوں کی گڑھیوں اور حویلیوں کے گرد یہ درخت باڑ کی شکل میں کثرت سے موجود تھے۔ مسلمانوں نے جب ان کا محاصرہ کیا تو حملہ کے لیے راستے بنانے کی غرض سے حسب ِضرورت ان میں سے کچھ درختوں کو انہوں نے کاٹ ڈالا۔ یہودیوں نے مسلمانوں کے اس عمل کو ہدفِ تنقید بنایا اور پروپیگنڈا کیا کہ یہ لوگ خود کو مومنین کہتے ہیں اور ان کے قائد اللہ کے رسول ﷺ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ‘ لیکن ان لوگوں کی اخلاقیات کا معیار یہ ہے کہ پھل دار درختوں کو بھی کاٹنے سے دریغ نہیں کرتے۔ یہودیوں کے اس پراپیگنڈے کا جواب اللہ تعالیٰ نے خود دیا۔ چناچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے مذکورہ اقدام پر اپنی منظوری sanction کی مہر ثبت کرتے ہوئے واضح کردیا کہ مسلمانوں نے یہ درخت جنگی ضرورت کے تحت اللہ کے رسول ﷺ کی موجودگی میں کاٹے ہیں۔ چناچہ جب اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے منع نہیں کیا تو پھر سمجھ لو کہ اللہ کی طرف سے اس کی اجازت دی گئی تھی۔ { وَلِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ۔ } ’ اب اگلی آیات میں مال فے کا ذکر آ رہا ہے جو اس سورت کا اہم ترین مضمون ہے۔ چناچہ ان آیات کے مطالعہ سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ مال فے کیا ہے اور یہ مال غنیمت سے کس طرح مختلف ہے۔ مالِ غنیمت تو وہ مال ہے جو باقاعدہ جنگ کے نتیجے میں حاصل ہو۔ اس سے پہلے سورة الانفال کی آیت 41 میں مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں حکم آچکا ہے۔ اس حکم کے مطابق مال غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ ‘ رسول ﷺ کے قرابت داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں کے لیے مخصوص ہوگا ‘ جبکہ باقی چار حصے اس جنگ میں حصہ لینے والے مجاہدین کے مابین تقسیم کردیے جائیں گے ‘ اور اس تقسیم میں سوار کو پیدل کے مقابلے میں دو حصے ملیں گے۔ اس کے برعکس ”مالِ فے“ وہ مال ہے جو مسلمانوں کو کسی جنگ کے بغیر ہی حاصل ہوجائے ‘ جیسے زیر مطالعہ واقعہ میں باقاعدہ جنگ کی نوبت نہیں آئی تھی ‘ مسلمانوں نے بنونضیر کا محاصرہ کیا اور انہوں نے مرعوب ہو کر ہتھیار ڈال دیے۔ چناچہ اس مہم کے نتیجے میں حاصل ہونے والی زمینیں اور دوسری تمام اشیاء مال فے قرار پائیں۔ آگے آیت 7 میں مال فے کے بارے میں واضح کردیا گیا کہ یہ مال ُ کل کا کل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ہے۔ اس میں سے اللہ کے رسول ﷺ اپنی مرضی سے غرباء و مساکین کو تو دیں گے لیکن عام مسلمانوں کو اس میں سے حصہ نہیں ملے گا۔