سورۃ الحشر: آیت 6 - وما أفاء الله على رسوله... - اردو

آیت 6 کی تفسیر, سورۃ الحشر

وَمَآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنْهُمْ فَمَآ أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُۥ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ

اردو ترجمہ

اور جو مال اللہ نے اُن کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول کی طرف پلٹا دیے، وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے ہوں، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے تسلط عطا فرما دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama afaa Allahu AAala rasoolihi minhum fama awjaftum AAalayhi min khaylin wala rikabin walakinna Allaha yusallitu rusulahu AAala man yashao waAllahu AAala kulli shayin qadeerun

آیت 6 کی تفسیر

وما افاء اللہ .................................... رحیم (01) (95 : 6 تا 01)

” اور جو مال اللہ نے ان کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول کی طرف پلٹا دیئے ، وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے ہوں ، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے ، تسلط عطا فرما دیتا ہے ، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتامی اور مساکین اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (نیز وہ مال) ان غریب مہاجرین کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال باہر کیے گئے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی حمایت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ یہی راست باز لوگ ہیں (اور وہ ان لوگوں کے لئے بھی ہے) جو ان مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے۔ یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی ان (مہاجرین) کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچا لیے گئے وہی فلاح پانے والے ہیں۔ (اور وہ ان لوگوں کے لئے بھی ہے) جو ان اگلوں کے بعد آئے ہیں ، جو کہتے ہیں کہ ” اے ہمارے رب ہمیں اور ہمارے ان سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہل ایمان کے لئے کوئی بغض نہ رکھ ، ہمارے رب ، تو بڑا مہربان اور رحیم ہے۔ “

ان آیات میں فے کا حکم بیان ہوا یا فے جیسے دوسرے اموال کا۔ نیز ان آیات میں امت مسلمہ اور اسلامی سوسائٹی کی ایک نہایت ہی اہم صفت اور اس کی دائمی حالت کو بیان کیا گیا ہے جو امت مسلمہ کی امتیازی صفت رہی ہے اور امت کی پوری تاریخ میں اس کی امتیازی شان رہی ہے۔ یہ امت کی وہ خصوصیت رہی ہے جس کو اس نے مضبوطی سے پکڑے رکھا ہے۔ کسی دور میں بھی خدا کے فضل سے امت سے یہ صفت جدا نہیں ہوئی ہے۔ یہ صفت امت مسلمہ کی کسی نسل ، کسی قوم ، کسی شخص مسلم سے ایک طویل اسلامی تاریخ میں کبھی جدا نہیں ہوئی ہے۔ پھر اس دنیا میں جن جن علاقوں میں مسلمان ہیں ان میں سے کسی علاقے میں بھی مسلمانوں سے یہ صفت الگ نہیں ہوئی ہے اور یہ وہ عظیم حقیقت ہے اور اس پر گہرا غور کرنا چاہیے۔

وما آفاء ........................ شیء قدیر (95 : 6) ” اور جو مال اللہ نے ان کے قبضے سے نکال کر اپنے رسول کی طرف پلٹا دیئے ، وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے ہوں ، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے ، تسلط عطا فرما دیتا ہے ، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔

اوجفتم (95 : 6) ایجاف سے ہے۔ ایجاف کے معنی ہیں گھوڑے کو تیزی سے دوڑانا۔ رکاب کے معنی اونٹ کے ہیں۔ مسلمانوں کو بتایا جاتا ہے کہ بنو نضیر نے اپنے پیچھے جو مال چھوڑے ہیں انہوں نے اس پر گھوڑے نہیں دوڑائے اور نہ اونٹوں پر تیز سفر کرکے انہوں نے اسے حاصل کیا ہے۔ لہٰذا ان اموال کا حکم مال غنیمت کا نہیں ہے۔ مال غنیمت میں تو مجاہدین کا 5/4 حصہ ہوتا ہے اور 5/1 حصہ اللہ ، رسول اللہ ﷺ اور رشتہ داروں ، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا ہوتا ہے۔ جب کہ جنگ بدر کے اموال عنائم کے بارے میں اللہ نے فیصلہ کیا۔ اس فے کا حکم یہ ہے کہ یہ سب کا سب اللہ رسول اللہ ، رشتہ داروں ، یتیموں ، مساکین اور مسافروں کا ہے۔ اور اس میں تصرف حضور اکرم ﷺ کریں گے اور آیت میں جن رشتہ داروں کا ذکر ہے ، ان سے مراد رسول اللہ کے قرابت دار ہیں۔ اس لئے کہ صدقات ان کے لئے جائز نہ تھے اور زکوٰة میں ان کا حصہ نہ تھا اور نبی ﷺ کی کوئی دولت نہ تھی جسے ورثاء پالیتے اور ان میں فقراء بھی تھے ، جن کی کوئی آمدن نہ تھی۔ اس لئے ان کے لئے عنائم کے خمس میں حصہ رکھا گیا تھا جیسا کہ فے اور فے کی قسم کے اموال میں ان کا حصہ رکھا گیا تھا۔ رہے دوسرے لوگ تو ان کے احکام معروف ومعلوم ہیں اور یہ فنڈز حضور اکرم ﷺ کے تصرف خاص میں تھے۔

یہ تو تھا فے کا حکم جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن ان آیات میں اس حکم اور ان حالات پر اکتفا نہیں کیا گیا جن میں یہ حکم جاری ہوا بلکہ یہاں ایک دوسری حقیقت کا بھی اظہار کردیا گیا ہے۔

ولکن اللہ .................... من یشاء (95 : 6) ” بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے تسلط عطا کرتا ہے “۔ لہٰذا یہ اللہ کی تقدیر کا ایک حصہ ہے۔ جس کا ظہور ہوگیا۔

واللہ ........................ قدیر (95 : 6) ” اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔

یوں رسولوں کا معاملہ تقدیر الٰہی کا اظہار قرار پاتا ہے اور اللہ کی تقدیر کے چکروں میں رسولوں کا مقام بھی متعین کیا جاتا ہے کہ رسولوں کا ظہور اور غلبہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہوتی۔ دست قدرت یہ کام کرتا ہے۔ اگرچہ رسول بشر ہیں لیکن وہ اللہ کے ساتھ براہ راست مربوط ہوتے ہیں۔ اور ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس دنیا میں اپنے نظام قضاوقدر کا ظہور کرتا ہے اور رسول جو کام کرتے ہیں وہ اذن الٰہی سے کرتے ہیں اور اللہ کے ہاں وہ مقدر ہوتا ہے۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق حرکت بھی نہیں کرتے۔ وہ کوئی کام اپنی مرضی یا اپنے مفادات سے نہیں کرتے۔ وہ جنگ ، جہاد یا امن ، مصالحت یا مخاصمت صرف اللہ کے حکم سے کرتے ہیں اور وہ اللہ کی تقدیر کا ظہور ہوتا ہے اور اللہ کی تقدیر ان کے تصرفات اور ان کی حرکات سے ظاہر ہوتی ہے۔ اور وہ جو کچھ کرتے ہیں وہ اللہ کا فعل ہوتا ہے اور اللہ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔

آیت 6{ وَمَـآ اَفَـآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْہُمْ } ”اور جو مال کہ ہاتھ لگا دیا ہے اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے ان بنونضیر سے“ { فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّلَا رِکَابٍ } ”تو اے مسلمانو ! تم نے اس پر نہیں دوڑائے گھوڑے اور نہ اونٹ“ { وَّلٰـکِنَّ اللّٰہَ یُسَلِّطُ رُسُلَہٗ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُط } ”لیکن مسلط کردیتا ہے اللہ اپنے رسولوں علیہ السلام کو جس پر چاہتا ہے۔“ { وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْــرٌ۔ } ”اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت اور قدرت سے بنونضیر کے حوصلے پست کردیے اور انہوں نے تم لوگوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ اس مہم میں ان کے خلاف تمہیں جنگ تو لڑنا ہی نہیں پڑی۔ لہٰذا تم پر واضح ہونا چاہیے کہ بنونضیر کی جلاوطنی کے نتیجے میں جو مال تمہارے ہاتھ لگا ہے وہ مال غنیمت نہیں ہے۔ اب اگلی آیت میں اس مال کے مصارف کے بارے میں حکم دیاجا رہا ہے۔

مال فے کی تعریف وضاحت اور حکم رسول ﷺ کی تعمیل ہی اصل ایمان ہے۔ فے کس مال کو کہتے ہیں ؟ اس کی صفت کیا ہے ؟ اس کا حکم کیا ہے ؟ یہ سب یہاں بیان ہو رہا ہے۔ فے اس مال کو کہتے ہیں جو دشمن سے لڑے بھڑے بغیر مسلمانوں کے قبضے میں آجائے، جیسے بنو نضیر کا یہ مال تھا جس کا ذکر اوپر گذر چکا کہ مسلمانوں نے اپنے گھوڑے یا اونٹ اس پر نہیں دوڑائے تھے یعنی ان کفار سے آمنے سامنے کوئی مقابلہ اور لڑائی نہیں ہوئی بلکہ انکے دل اللہ نے اپنے رسول ﷺ کی ہیبت سے بھر دیئے اور وہ اپنے قلعہ خالی کر کے قبضہ میں آگئے، اسے " فے " کہتے ہیں اور یہ مال حضور ﷺ کا ہوگیا، آپ جس طرح چاہیں اس میں تصرف کریں، پس آپ نے نیکی اور اصلاح کے کاموں میں اسے خرچ کیا جس کا بیان اس کے بعد والی اور دوسری روایت میں ہے۔ پس فرماتا ہے کہ بنو نضیر کا جو مال بطور فے کے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دلوایا جس پر مسلمانوں نے اپنے گھوڑے یا اونٹ دوڑائے نہ تھے بلکہ صرف اللہ نے اپنے فضل سے اپنے رسول ﷺ کو اس پر غلبہ دے دیا تھا اور اللہ پر یہ کیا مشکل ہے ؟ وہ تو ہر اک چیز پر قدرت رکھتا ہے نہ اس پر کسی کا غلبہ نہ اسے کوئی روکنے والا بلکہ سب پر غالب وہی، سب اس کے تابع فرمان۔ پھر فرمایا کہ جو شہر اس طرح فتح کئے جائیں ان کے مال کا یہی حکم ہے کہ رسول اللہ ﷺ اسے اپنے قبضہ میں کریں گے پھر انہیں دیں گے جن کا بیان اس آیت میں ہے اور اس کے بعد والی آیت میں ہے، یہ ہے فے کے مال کا مصرف اور اس کے خرچ کا حکم۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ بنو نضیر کے مال بطور فے کے خاص رسول اللہ ﷺ کے ہوگئے تھے آپ اس میں سے اپنے گھر والوں کو سال بھر تک کا خرچ دیتے تھے اور جو بچ رہتا اسے آلات جنگ اور سامان حرب میں خرچ کرتے (سنن و مسند وغیرہ) ابو داؤد میں حضرت مالک بن اوس سے مروی ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب نے مجھے دن چڑھے بلایا میں گھر گیا تو دیکھا کہ آپ ایک چوکی پر جس پر کوئی کپڑا وغیرہ نہ تھا بیٹھے ہوئے ہیں، مجھے دیکھ کر فرمایا تمہاری قوم کے چند لوگ آئے ہیں میں نے انہیں کچھ دیا ہے تم اسے لے کر ان میں تقسیم کردو میں نے کہا اچھا ہوتا اگر جناب کسی اور کو یہ کام سونپتے آپ نے فرمایا نہیں تم ہی کرو میں نے کہا بہت بہتر، اتنے میں آپ کا داروغہ یرفا آیا اور کہا اے امیر المومنین میرا اور ان کا فیصلہ کیجئے یعنی حضرت علی کا، تو پہلے جو چاروں بزرگ آئے تھے ان میں سے بھی بعض نے کہا ہاں امیر المومنین ان دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیجئے اور انہیں راحت پہنچایئے، حضرت مالک فرماتے ہیں اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ ان چاروں بزرگوں کو ان دونوں حضرات نے ہی اپنے سے پہلے یہاں بھیجا ہے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا ٹھہرو، پھر ان چاروں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تمہیں اس اللہ کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ہمارا ورثہ بانٹا نہیں جاتا ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے ان چاروں نے اس کا اقرار کیا، پھر آپ ان دونوں کی طرف متوجہ ہوئے اور اسی طرح قسم دے کر ان سے بھی یہی سوال کیا اور انہوں نے بھی اقرار کیا، پھر آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے لئے ایک خاصہ کیا تھا جو اور کسی کے لئے نہ تھا پھر آپ نے یہی آیت (وَمَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَآ اَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَّلَا رِكَابٍ وَّلٰكِنَّ اللّٰهَ يُسَلِّــطُ رُسُلَهٗ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ) 59۔ الحشر :6) ، پڑھی اور فرمایا بنو نضیر کے مال اللہ تعالیٰ نے بطور فے کے اپنے رسول ﷺ کو دیئے تھے اللہ کی قسم نہ تو میں نے تم پر اس میں کسی کو ترجیح دی اور نہ ہی خود ہی اس میں سے کچھ لے لیا، رسول اللہ ﷺ اپنا اور اپنی اہل کا سال بھر کا خرچ اس میں سے لے لیتے تھے اور باقی مثل بیت المال کے کردیتے تھے پھر ان چاروں بزرگوں کو اسی طرح قسم دے کر پوچھا کہ کیا تمہیں یہ معلوم ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں، پھر ان دونوں سے قسم دے کر پوچھا اور انہوں نے ہاں کہی۔ پھر فرمایا حضور ﷺ کے فوت ہونے کے بعد ابوبکر والی بنے اور تم دونوں خلیفہ رسول ﷺ کے پاس آئے، اے عباس تم تو اپنی قرابت داری جتا کر اپنے چچا زاد بھائی کے مال میں سے اپنا ورثہ طلب کرتے تھے اور یہی یعنی حضرت علی اپنا حق جتا کر اپنی بیوی یعنی حضرت فاطمہ کی طرف سے ان کے والد کے مال سے ورثہ طلب کرتے تھے جس کے جواب میں تم دونوں سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے، ہمارا ورثہ بانٹا نہیں جاتا ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ حضرت ابوبکر یقیناً راست گو، نیک کار، رشد و ہدایت والے اور تابع حق تھے، چناچہ اس مال کی ولایت حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کی، آپ کے فوت ہوجانے کے بعد آپ کا اور رسول اللہ ﷺ کا خلیفہ میں بنا اور وہ مال میری ولایت میں رہا، پھر آپ دونوں ایک صلاح سے میرے پاس آئے اور مجھ سے اسے مانگا، جس کے جواب میں میں نے کہا کہ اگر تم اس شرط سے اس مال کو اپنے قبضہ میں کرو کہ جس طرح رسول اللہ ﷺ اسے خرچ کرتے تھے تم بھی کرتے رہو گے تو میں تمہیں سونپ دیتا ہوں، تم نے اس بات کو قبول کیا اور اللہ کو بیچ میں دے کر تم نے اس مال کی ولایت لی، پھر تم جو اب آئے ہو تو کیا اس کے سوا کوئی اور فیصلہ چاہتے ہو ؟ قسم اللہ کی قیامت تک اس کے سوا اس کا کوئی فیصلہ میں نہیں کرسکتا، ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ اگر تم اپنے وعدے کے مطابق اس مال کی نگرانی اور اس کا صرف نہیں کرسکتے تو تم اسے پھر لوٹا دو تاکہ میں آپ اسے اسی طرح خرچ کروں جس طرح رسول اللہ ﷺ کرتے تھے اور جس طرح خلافت صدیقی میں اور آج تک ہوتا رہا۔ مسند احمد میں ہے کہ لوگ نبی ﷺ کو اپنے کھجوروں کے درخت وغیرہ دے دیا کرتے تھے یہاں تک کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے اموال آپ کے قبضہ میں آئے تو اب آپ نے ان لوگوں کو ان کو دیئے ہوئے مال واپس دینے شروع کئے، حضرت انس کو بھی ان کے گھر والوں نے آپ کی خدمت میں بھیجا کہ ہمارا دیا ہوا بھی سب یا جتنا چاہیں ہمیں واپس کردیں میں نے جا کر حضور ﷺ کو یاد دلایا آپ نے وہ سب واپس کرنے کو فرمایا، لیکن یہ سب حضرت ام ایمن کو اپنی طرف سے دے چکے تھے انہیں جب معلوم ہوا کہ یہ سب میرے قبضے سے نکل جائے گا تو انہوں نے آ کر میری گردن میں کپڑا ڈال دیا اور مجھ سے فرمانے لگیں اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں حضرت ﷺ تجھے یہ نہیں دیں گے آپ تو مجھے وہ سب کچھ دے چکے حضور ﷺ نے فرمایا ام ایمن تم نہ گھبراؤ ہم تمہیں اس کے بدلے اتنا اتنا دیں گے لیکن وہ نہ مانیں اور یہی کہے چلی گئیں، آپ نے فرمایا اچھا اور اتنا اتنا ہم تمہیں دیں گے لیکن وہ اب بھی خوش نہ ہوئیں اور وہی فرماتی رہیں، آپ نے فرمایا لو ہم تمہیں اتنا اتنا اور دیں گے یہاں تک کہ جتنا انہیں دے رکھا تھا اس سے جب تقریباً دس گنا زیادہ دینے کا وعدہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تب آپ راضی ہو کر خاموش ہوگئیں اور ہمارا مال ہمیں مل گیا، یہ فے کا مال جن پانچ جگہوں میں صرف ہوگا یہی جگہیں غنیمت کے مال کے صرف کرنے کی بھی ہیں اور سورة انفال میں ان کی پوری تشریح و توضیح کے ساتھ کامل تفسیر الحمد اللہ گذر چکی ہے اس لئے ہم یہاں بیان نہیں کرتے۔ پھر فرماتا ہے کہ مال فے کے یہ مصارف ہم نے اس لئے وضاحت کے ساتھ بیان کردیئے کہ یہ مالداروں کے ہاتھ لگ کر کہیں ان کا لقمہ بن بن جائے اور اپنی من مانی خواہشوں کے مطابق وہ اسے اڑائیں اور مسکینوں کے ہاتھ نہ لگے۔ پھر فرماتا ہے کہ جس کام کے کرنے کو میرے پیغمبر ﷺ تم سے کہیں تم اسے کرو اور جس کام سے وہ تمہیں روکیں تم اس سے رک جاؤ۔ یقین مانو کہ جس کا وہ حکم کرتے ہیں وہ بھلائی کا کام ہوتا ہے اور جس سے وہ روکتے ہیں وہ برائی کا کام ہوتا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک عورت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس آئی اور کہا آپ گودنے سے (یعنی چمڑے پر یا ہاتھوں پر عورتیں سوئی وغیرہ سے گدوا کر جو تلوں کی طرح نشان وغیرہ بنا لیتی ہیں) اس سے اور بالوں میں بال ملا لینے سے (جو عورتیں اپنے بالوں کو لمبا ظاہر کرنے کے لئے کرتی ہیں) منع فرماتے ہیں تو کیا یہ ممانعت کتاب اللہ میں ہے یا حدیث رسول ﷺ میں ؟ آپ نے فرمایا کتاب اللہ میں بھی اور حدیث رسول اللہ ﷺ میں بھی دونوں میں اس ممانعت کو پاتا ہوں اس عورت نے کہا اللہ کی قسم دونوں لوحوں کے درمیان جس قدر قرآن شریف ہے میں نے سب پڑھا ہے اور خوب دیکھ بھال کی ہے لیکن میں نے تو کہیں اس ممانعت کو نہیں پایا آپ نے فرمایا کیا تم نے آیت (وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۘ) 59۔ الحشر :7) نہیں پڑھی ؟ اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھی ہے۔ فرمایا (قرآن سے ثابت ہوا کہ حکم رسول ﷺ اور ممانعت رسول ﷺ قابل عمل ہیں اب سنو) خود میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ نے گودنے سے اور بالوں میں بال ملانے سے اور پیشانی اور چہرے کے بال نوچنے سے منع فرمایا ہے (یہ بھی عورتیں اپنی خوبصورتی ظاہر کرنے کے لئے کرتی ہیں اور اس زمانے میں تو مرد بھی بکثرت کرتے ہیں) اس عورت نے کہا حضرت یہ تو آپ کی گھر والیاں بھی کرتی ہیں آپ نے فرمایا جاؤ دیکھو، وہ گئیں اور دیکھ کر آئیں اور کہنے لگیں حضرت معاف کیجئے غلطی ہوئی ان باتوں میں سے کوئی بات آپ کے گھرانے والیوں میں میں نے نہیں دیکھی، آپ نے فرمایا کیا تم بھول گئیں کہ اللہ کے نیک بندے (حضرت شعیب ؑ نے کیا فرمایا تھا (وَمَآ اُرِيْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰي مَآ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ 88؀) 11۔ ھود :88) یعنی میں یہ نہیں چاہتا کہ تمہیں جس چیز سے روکوں خود میں اس کا خلاف کروں، مسند احمد اور بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے اس عورت پر جو گدوائے اور جو گودے اور جو اپنی پیشانی کے بال لے اور جو خوبصورتی کے لئے اپنے سامنے کے دانتوں کی کشادگی کرے اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی پیدائش کو بدلنا چاہے، یہ سن کر بنواسد کی ایک عورت جن کا نام ام یعقوب تھا آپ کے پاس آئیں اور پوچھا کہ کیا آپ نے اس طرح فرمایا ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت کی ہے ؟ اور جو قرآن میں موجود ہے، اس نے کہا میں نے پورا قرآن جتنا بھی دونوں پٹھوں کے درمیان ہے اول سے آخر تک پڑھا ہے لیکن میں نے تو یہ حکم کہیں نہیں پایا، آپ نے فرمایا اگر تم سوچ سمجھ کر پڑھتیں تو ضرور پاتیں کیا تم نے آیت (وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۘ) 59۔ الحشر :7) نہیں پڑھی ؟ اس نے کہا ہاں یہ تو پڑھی ہے پھر آپ نے وہ حدیث سنائی، اس نے آپ کے گھر والوں کی نسبت کہا پھر دیکھ کر آئیں اور عذر خواہی کی اس وقت آپ نے فرمایا اگر میری گھر والی ایسا کرتی تو میں اس سے ملنا چھوڑ دیتا، بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اسے بجا لاؤ اور جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ، نسائی میں حضرت عمر ؓ عنہی اور حضرت ابن عباس ؓ ما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کدو کے برتن میں، سبز ٹھلیا میں، کھجور کی لکڑی کے کریدے ہوئے برتن میں اور رال کی رنگی ہوئی ٹھلیا میں نبیذ بنانے سے یعنی کھجوریا کشمش وغیرہ کے بھگو کر رکھنے سے منع فرمایا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت کی (یاد رہے کہ یہ حکم اب باقی نہیں ہے۔ مترجم) پھر فرماتا ہے اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے اس کے احکام کی ممنوعات سے بچتے رہو، یاد رکھو کہ اس کی نافرمانی مخالفت انکار کرنے والوں کو اور اس کے منع کئے ہوئے کاموں کے کرنے والوں کو وہ سخت سزا اور درد ناک عذاب دیتا ہے۔

آیت 6 - سورۃ الحشر: (وما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب ولكن الله يسلط رسله على من يشاء...) - اردو