ما افاء اللہ .................... العقاب (95 : 7) ” جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسول کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول اور رشتہ داروں اور یتامی اور مساکین اور مسافروں کے لئے ہے تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔ جو کچھ رسول تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جاؤ۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ سخت سزا دینے والا ہے “۔
یہ آیت اس حکم کو بتارہی جس کا ذکر ہم نے پہلے کردیا ہے۔ اس حکم کی علت بیان کرتے ہوئے اس آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ اس کی وجہ دراصل اسلام کے نظام اقتصادی کا ایک عظیم اصول ہے۔
کئی لا یکون ........................ منکم (95 : 7) ” تاکہ وہ تمہارے مالداروں کے درمیان میں گردش نہ کرتا رہے “۔ اور اس کی علت کے بیان میں سالام کے دستوری نظام کا ایک دوسرا اعلیٰ ترین اصول بیان کردیا۔
وما اتکم .................... فانتھوا (95 : 7) ” جو کچھ رسول تمہیں دے ، وہ لے لو ، اور جس چیز سے وہ تمہیں روک دے اس سے رک جاؤ “۔ اگرچہ یہ دو اصول فے کی تقسیم کے ضمن میں وارد ہیں لیکن اسلام کے اقتصادی نظام اور اسلام کے دستوری نظام میں یہ بہت اہم اصول ہیں اور ان دونوں ہی پر دراصل اسلام کا اقتصادی اور دستوری نظام قائم ہے۔
پہلا قاعدہ اسلام کا اقتصادی اصل الاصول ہے اور اسلام کے اقتصادی نظریات اس پر مبنی ہیں۔ اسلام انفرادی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے لیکن انفرادی ملکیت پر یہ ایک پابندی اور چیک ہے۔ یعنی اسلام انفرادی ملکیت کو اس قدر وسیع آزادی نہیں دیتا کہ کچھ محدود مالدار لوگ ہی دراصل تمام دولت اور مفادات کو اپنی طرف سرمایہ کے زور سے کھینچ لیں۔ اور مال چند چوٹی کے لوگوں کے درمیان گردش کرے۔ اس لئے ہر وہ صورت حال جس کے اندر دولت صرف امراء کے درمیان گردش کرتی وہ اسلام کے نظریہ اقتصاد کے خلاف ہے۔ اور یہ اجتماعی عدل کے بھی خلاف ہے۔ اسلامی سوسائٹی کے اندر اجتماعی اور معاشی روابط اس طرح تشکیل پاتے ہیں کہ اس میں دولت چند محدود لوگوں ہی کے اندر گردش نہیں کرتی۔
اسلام نے اپنا اقتصادی نظام ان اصولوں کی بنیاد پر قائم کیا۔ اس نے زکوٰة فرض کی ، یہ اڑھائی فیصد اصل سرمایہ اور منافع دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ اور 011 یا 021 تمام زرعی پیداواروں پر عائد ہوتا ہے۔ اسی طرح مویشیوں میں اور ان خزانوں میں جو زمین سے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ شرح دراصل بہت ہی بڑی شرح ہے۔ پھر مجاہدین کے لئے 54 حصہ رکھا ہے خواہ فقیر ہوں یا غنی ہوں ، جبکہ فے صرف فقراء کے لئے رکھا ہے۔ اسی طرح اسلام نے زمین کی پیداوار کے اندر مالک اور مضارع کو شریک قرار دیا ہے اور امام کو یہ اختیار دیا کہ وہ لوگوں کی ضرورت سے زائد اموال ان سے لے کر فقراء میں تقسیم کردے۔ اور اگر بیت المال کو ضرورت ہو تو لوگوں کے اموال میں بیت المال کا حصہ مقرر کردے۔ پھر اسلام نے ذخیرہ اندوزی کو حرام قرار دیا ، ربا کو حرام قرار دیا اور ربا اور ذخیرہ اندوزی دونوں ہی اصل ذرائع ارتکاز دولت ہیں۔ غرض اسلام کا اقتصادی نظام اسی عظیم قاعدے پر قائم ہے کہ دولت چند اغنیاء کے اندر ہی گردش نہ کرے بلکہ تمام فقراء تک اس کا پھیلاؤ ہو۔ اور یہ قاعدہ انفرادی ملکیت پر حاوی ہے۔
اس طرح اسلام انفرادی ملکیت کی اجازت دیتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ سرمایہ دارانہ نظام نہیں ہے۔ نہ سرمایہ دارانہ نظام اسلامی نظام سے ماخوذ ہے کیونکہ رہا اور ذخیرہ اندوزی کے سوا کوئی سرمایہ دارانہ نظام نہیں ہوتا۔ اسلامی نظام ایک خاص نظام ہے جو اللہ علیم وخبیر کی طرف سے ہے۔ یہ الگ پیدا ہوا ، الگ چلا ، اور آج بھی وہ تمام دوسرے اقتصادی نظاموں سے الگ تھلگ ہے۔ یہ ایک منفرد ، متوازن ، عادلانہ اور تمام حقوق وواجبات کا خیال رکھنے والا نظام ہے۔ اور یہ نظام اس کائنات کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ اس لئے کہ اس کائنات کا خالق اللہ ہے ، انسان کا خالق اللہ ہے اور اس اقتصادی نظام کا خالق بھی اللہ ہے۔
دوسرا اصول اسلام کے دستوری نظام کا ہے کہ شریعت کا ماخذ خدا اور رسول اور قرآن اور سنت ہیں۔
وما اتکم .................... فانتھوا (95 : 7) ” جو کچھ رسول تمہیں دے ، وہ لے لو ، اور جس چیز سے وہ تمہیں روکے اس سے رک جاؤ “۔ اسلامی دستور اور قوانین کا یہ اصل الاصول ہے۔ اسلام کا قانونی نظام اس سے لیا گیا ہے کہ شریعت من جانب اللہ ہے اور اللہ کی جانب سے رسول لے کر آیا ہے۔ اور یہ قرآن اور سنت سے عبارت ہے۔ پوری امت مسلمہ معہ امام وقت مل کر بھی ان تعلیمات کی خلاف ورزی کے مجاز نہیں جو قرآن وسنت میں ہیں۔ اگر کوئی خلاف قرآن اور سنت قانون بنائے گا تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہ ہوگی کیونکہ اس قسم کا قانون اپنے پہلے جواز ہی کو کھو بیٹھتا ہے ۔ یہ نظریہ تمام انسانی ودساتیر اور قانون سازی کے نظریات سے یکسر مختلف ہے۔ کیونکہ ان نظریات کے مطابق قوم قانون سازی کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ یوں کہ کوئی قوم جو قانون چاہے ، اپنے لئے بنا سکتی ہے۔ اور جو قوم جو چاہے دستور و قانون بنا دے۔ لہٰذا اسلامی دستور نظام اقتدار کا سرچشمہ قرآن وسنت ہیں۔ جن کو رسول اللہ ﷺ نے پیش فرمایا ہے۔ امام امت کا نائب ہے۔ نہ امام اور نہ قوم رسول اللہ کی لائی ہوئی شریعت محمدی کی مخالفت کے مجاز ہیں۔
اب اگر کوئی مسئلہ قرآن وسنت میں نہ ہو تو اسے قرآن وسنت کے دوسرے اصولوں کی روشنی میں یوں حل کیا جائے گا کہ اس سے قرآن وسنت میں موجود کسی اصول کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔ یہ اصول شریعت کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ بھی ایک شرعی اصول ہے۔ لہٰذا ہر صورت میں سرچشمہ قانون قرآن اور سنت ہیں۔ اور دوسرے قوانین وقواعد اسی وقت معتبر ہوں گے جب وہ قرآن اور سنت کے کسی مسلمہ قاعدے کے خلاف نہ ہوں۔ امت کا اقتدار اس قاعدے کے اندر محدود ہے۔ یاد رہے کہ امام امت بھی اسی قاعدے کا پابند ہے۔ یہ ایک منفرد نظام قانون ہے اور کسی انسانی سوسائٹی کے ہاں اس قسم کا کوئی قانون نظام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں قانونی نظام بھی نظام کائنات کی طرح ایک فطری نظام ہوتا ہے۔ جس طرح کائنات کے لئے اللہ نے نظام فطرت وضع کیا ہے۔ اسی طرح انسانوں کے لئے اللہ نے نظام شریعت وضع کیا ہے تاکہ انسان کا بنایا ہوا قانون نظام فطرت سے ٹکرانہ جائے اور جو قانون بھی آج تک انسانوں کے بنائے ہیں وہ نظام فطرت سے ٹکرائے ہیں۔
ان دونوں اصولوں کو اس آیت میں اللہ سے مربوط کیا گیا ہے اور لوگوں کو دعوت دی ہے کہ ان اطاعت میں وہ اللہ سے ڈریں۔
واتقو ................ العقاب (95 : 7) ” اللہ سے ڈرو ، اللہ سخت سزا دینے والا ہے “۔ یہ وہ بڑی ضمانت ہے جو اسلامی قانون کو حاصل ہے ، اس لئے اسے توڑنے کی کوئی بھی کوشش نہیں کرتا۔ نہ اس سے بھاگنے کی کوئی گنجائش ہے۔ کیونکہ مومنین کو علم ہے کہ اللہ تو دیکھتا ہے۔ اعمال سے خبردار ہے۔ تمام لوگوں کو اسی طرف لوٹنا ہے ، اور اگر خلاف ورزی کی گئی تو وہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ مال کو پھیلانا ہے اور اسے دولتمندوں کے درمیان ہی گردش نہیں دینا ہے۔ اور شریعت کے جو احکام خدا اور رسول نے دیئے ہیں انہوں نے انہیں لینا ہے اور جس چیز سے منع کیا ہے اس سے منع ہونا ہے اور اس سلسلے میں کوئی سستی اور کوئی تسابل نہیں کرنا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔
اب رسول اللہ نے اس فے کو مہاجرین میں تقسیم کیا اور صرف دو غریب انصاریوں کو اس میں شریک فرمایا۔ یہ ایک خاص اقدام تھا اور اس کا مقصد یہی تھا کہ دولت صرف دولت مندوں میں جمع نہ ہوجائے۔
کئی لا یکون .................... منکم (95 : 7) ” تاکہ وہ مالداروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے “۔ حکم تو عام تھا کہ وہ فقراء کے لئے ہے خواہ مہاجر ہوں یا انصار یا بعد میں آنے والے ہوں ، چناچہ اگلی آیات میں اس پر بات ہوتی ہے۔
قرآن کریم احکام محض ایک خشک ایکٹ کی طرح بیان نہیں کرتا۔ وہ اسے زندہ اور عام بیان کے انداز میں دیتا ہے۔ وہ ایک زندہ حکم ہوتا ہے زندہ انسانوں پر نافذ ہوتا ہے اور حکم کے اندر ہی اس کے اخلاقی پہلو اور اسباب بھی دیئے جاتے ہیں۔
آیت 7{ مَآ اَفَــآئَ اللّٰہُ عَلٰی رَسُوْلِہٖ مِنْ اَہْلِ الْقُرٰی } ”جو مال بھی ہاتھ لگا دے اللہ اپنے رسول ﷺ کے بستیوں والوں سے“ { فَلِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِلا } ”تو وہ ہے اللہ کے لیے ‘ رسول ﷺ کے لیے ‘ قرابت داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں اور مسافروں کے لیے“ واضح رہے کہ اللہ اور رسول ﷺ سے مراد یہاں اسلامی ریاست ہے۔ پھر چونکہ رسول اللہ ﷺ کا اپنا ذاتی ذریعہ معاش تو کوئی تھا نہیں ‘ اس لیے یہ مال آپ ﷺ کے ذاتی اخراجات مثلاً ازواجِ مطہرات - کے نان نفقہ اور دوسری معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے بھی تھا۔ اس کے علاوہ اس میں حضور ﷺ کے قرابت داروں کی مد بھی رکھی گئی تاکہ آپ ﷺ اپنے قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک کے تقاضے پورے کرسکیں۔ اسی طرح اس مال میں ان تمام اقسام کے ناداروں اور محتاجوں کا بھی حق رکھا گیا جن کا ذکر اس آیت میں آیا ہے۔ { کَیْ لَا یَکُوْنَ دُوْلَۃًم بَیْنَ الْاَغْنِیَـآئِ مِنْکُمْج } ”تاکہ وہ تم میں سے مال داروں ہی کے درمیان گردش میں نہ رہے۔“ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ معاشرے میں دولت کی تقسیم منصفانہ ہو اور اس کی گردش کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔ یہ اسلامی معیشت کا بہت اہم اور بنیادی اصول ہے۔ اسی اصول کے تحت اللہ تعالیٰ نے مال فے زیادہ تر ناداروں اور محتاجوں کی محرومیوں کے ازالے کے لیے مختص فرما دیا۔ مالِ فے بھی اگر مال غنیمت کی طرح تقسیم کیا جاتا تو یہاں بھی سواروں کو دوہرا حصہ ملتا اور ظاہر ہے جس شخص کے پاس گھوڑا یا اونٹ ہے وہ تو پہلے ہی سے کچھ خوشحال ہے۔ تو اس تقسیم سے مال فے کا بھی زیادہ تر حصہ خوشحال لوگوں کو ہی ملتا۔ واضح رہے کہ اسلام کے نظام عدل و قسط میں تمام انسانوں کو معاشی طور پر برابر کردینے کا تصور نہیں پایا جاتا۔ ایسا ہونا عملی طور پر ممکن بھی نہیں۔ ظاہر ہے ایک سپاہی اور سپہ سالار کسی طرح بھی برابر نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ کمیونزم اپنے تمام تردعو وں اور انقلابی نعروں کے باوجود ایسی ”معاشی مساوات“ کی کوئی ہلکی سی جھلک بھی دنیا کو نہیں دکھا سکا۔ اس کے برعکس اسلام کا نظام معیشت معاشرے سے معاشی ناہمواریوں کو ختم کرنے اور امیر و غریب کے درمیان فرق و تفاوت کو کم سے کم کرنے پر زور دیتا ہے۔ اس کے لیے اسلام ہر وہ دروازہ بند کردینے کا حکم دیتا ہے جس کی وجہ سے چند ہاتھوں میں ارتکازِ دولت کا خدشہ ہو اور ہر وہ راستہ کھولنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جس سے گردش دولت کا رُخ امراء سے غرباء کی طرف پھرنے اور معاشی محرومیوں کے ازالے کا امکان ہو۔ آج معاشی پیچیدگیوں کی وجہ سے جدید معاشرے میں جو گھمبیر صورتحال جنم لے رہی ہے اس کا ادراک سب سے پہلے جس عالم دین کو ہوا وہ شاہ ولی اللہ دہلوی - تھے۔ شاہ ولی اللہ رح ایسی صورت حال کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جس ملک یا معاشرے میں تقسیم دولت کا نظام غیر منصفانہ ہوگا وہاں کچھ لوگ دولت کے انبار جمع کرکے مسرفانہ عیاشیوں اور بدمعاشیوں میں مبتلا ہوجائیں گے ‘ جبکہ محروم طبقے کے لوگ باربرداری کے جانور بن کر رہ جائیں گے۔ ایسی ہی صورت حال کے بارے میں حضور ﷺ کا فرمان ہے : کَادَ الْفَقْرُ اَنْ یَّـکُوْنَ کُفْرًا 1 کہ محرومی اور احتیاج انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے۔ گویا تقسیم دولت کا غیر منصفانہ نظام ایسی دودھاری تلوار ہے جس کی دو طرفہ کاٹ سے مذکورہ دونوں طبقوں کے افراد مذہبی و انسانی اقدار سے بیگانہ و بےنیاز ہو کر عملی طور پر معاشرے کے لیے ناسور بن جاتے ہیں۔ اُمراء کو تو اپنے اللوں تللوں سے ہی فرصت نہیں ملتی جبکہ غریب و نادار عوام دنیا ومافیہا سے بیخبر صبح سے شام تک کمرتوڑ مشقت میں مصروف رہتے ہیں۔ اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شیطان اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے آگے بڑھتا ہے اور محروم طبقے کے افراد کے دلوں میں ظالم استحصالی طبقے کے خلاف بغض و عداوت کی آگ سلگانا شروع کردیتا ہے : { اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِـعَ بَـیْـنَـکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآئَ } المائدۃ : 91 ”شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کر دے“۔ تصور کریں اگر ایک سیٹھ صاحب کی بیٹی کی شادی کے موقع پر کروڑوں روپے کا اسراف صرف بےجا نمود و نمائش کی مد میں ہو رہا ہوگا تو یہ سب کچھ دیکھ کر اس کے اس غریب ملازم کے دل میں نفرت و عداوت کے کیسے کیسے جذبات پیدا ہوں گے جس کی بیٹی گھر میں بیٹھی صرف اس لیے بوڑھی ہو رہی ہے کہ وہ اس کے ہاتھ پیلے کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ پھر ہمارے معاشرے میں جب ایک کروڑ پتی کی بیٹی لاکھوں کا جہیز لے کر دوسرے کروڑ پتی کی بہو بن جاتی ہے تو دولت مال داروں ہی کے مابین گردش میں رہتی ہے۔ { وَمَآ اٰتٰٹکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُج وَمَا نَہٰٹکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْاج } ”اور جو کچھ رسول ﷺ تم لوگوں کو دے دیں وہ لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے رک جائو۔“ ان الفاظ میں گویا اہل ایمان کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ مال فے سے متعلق نئے قانون کے تحت رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں کو بخوشی قبول کریں۔ ظاہر ہے لشکر اسلام میں شامل لوگ تو بنونضیر کے علاقے سے حاصل ہونے والے مال و اسباب کو مال غنیمت سمجھتے ہوئے اس میں سے حصے کی توقع کر رہے تھے۔ اب جب مذکورہ حکم کے تحت اس مال کو مال فے قرار دے کر اس کی تقسیم کا نیا قانون بنا دیا گیا تو لشکر کے شرکاء کو طبع بشری کے تحت ایک دھچکا تو ضرور لگا ہوگا۔ چناچہ اس حکم کے تحت بنونضیر کے محاصرے میں شامل اہل ایمان کو بالخصوص اور تمام اہل ایمان کو بالعموم دین کا بنیادی اصول بتادیا گیا کہ تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ کا ہر فیصلہ آخری حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ معاملہ چاہے کوئی بھی ہو ‘ اللہ کے رسول ﷺ تم لوگوں کو جو دے دیں وہ لے لیا کرو اور جس چیز سے آپ ﷺ منع کردیں اس سے منع ہوجایا کرو۔ { وَاتَّقُوا اللّٰہَط اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۔ } ”اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔“ اب اگلی آیات میں مال فے کی تقسیم کے بارے میں مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ جب یہ مال مذکورہ قانون کے تحت بیت المال میں آجائے گا تو اس کی تقسیم میں بنیادی طور پر ضرورت مندوں کی ضروریات کو ترجیح دی جائے گی۔ ظاہر ہے اللہ کے رسول ﷺ تو اس میں سے اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے وہی کچھ قبول کریں گے جو آپ ﷺ کی انتہائی بنیادی ضروریات کے لیے ناگزیر ہوگا۔ آپ ﷺ نے تو اپنی ذات اور ازواجِ مطہرات - پر شروع دن سے ہی فقر طاری کر رکھا تھا۔ سورة الاحزاب کے چوتھے رکوع میں واقعہ ایلاء کے بارے میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ ازواجِ مطہرات رض کی طرف سے نان نفقہ بڑھانے کے مطالبے پر حضور ﷺ نے ان رض سے علیحدگی اختیار فرما لی تھی۔ چناچہ مال فے کا بڑا حصہ کس کے لیے مختص کیا جائے گا :