سورۃ الحجرات: آیت 1 - يا أيها الذين آمنوا لا... - اردو

آیت 1 کی تفسیر, سورۃ الحجرات

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُقَدِّمُوا۟ بَيْنَ يَدَىِ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو اور اللہ سے ڈرو، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo la tuqaddimoo bayna yadayi Allahi warasoolihi waittaqoo Allaha inna Allaha sameeAAun AAaleemun

آیت 1 کی تفسیر

سورت کا آغاز ہی نہایت ہی محبوب آواز سے ہوتا ہے۔

یایھا الذین امنوا (49 : 1) ” اے ایمان والو “ یہ اللہ کی طرف سے پکار ہے ، ان لوگوں کو جو اللہ پر ایمان بالغیب لانے والے ہیں اور یہ پکار کر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے دلوں کے اندر جوش و خروش پیدا فرماتا ہے ، کیونکہ اللہ سے مومنین کا تعلق ، تعلق ایمان ہے۔ اہل ایمان کے اندر یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے ہیں۔ انہوں نے اللہ کے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں اور اس چھوٹے سے سیارے پر یہ لوگ اللہ کے بندے ، اللہ کے کارکن اور اس کی فوج ہیں اور ان کو اللہ نے یہاں کسی مقصد کے لئے بھیجا ہے اور اسی لیے اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا کردی ہے اور ایمان کو ان کے لئے محبوب بنا دیا ہے اور اس فوج میں اللہ نے ان کو بھرتی کر کے ان پر احسان کیا ہے ۔ لہٰذا ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ اس موقف پر کھڑے رہیں جہاں اللہ نے ان کے کھڑے کرنے کا حکم دیا ہے اور اللہ کے سامنے وہ یوں کھڑے ہوں جس طرح عدالت میں ایک شخص فیصلے کے انتظار میں کھڑا ہوتا ہے یا ایک ماتحت فوجی اپنے افسر سے ہدایات کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔ وہی کرتا ہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور اس کام کے لئے تیار ہوتا ہے جس کا اسے حکم دیا جاتا ہے۔ پوری طرح سر تسلیم خم کرتے ہوئے۔

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ ان اللہ سمیع علیم (49 : 1) ” اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور اس کے رسول کے آگے پیش قدمی نہ کرو ، اور اللہ سے ڈرو ، اور وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے “۔ اے ایمان والو ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی مرضی کی تجاویز نہ پیش کرو ، نہ اپنے نفوس کے بارے میں نہ اپنے ماحول کی زندگی کے بارے میں اور اللہ اور رسول ﷺ کا فیصلہ کرنے سے قبل کسی معاملہ پر اپنا فیصلہ خود صادر نہ کرو ، اور کسی معاملے میں اللہ اور رسول ﷺ کا فیصلہ ہو تو اس میں اپنے فیصلے صادر نہ کرو۔

قتادہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگ اپنی ان خواہشات اور تجاویز کا اظہار کرتے تھے کہ کیا ہی اچھا ہو کہ فلاں فلاں معاملے میں احکام آجائیں۔ اگر اس طرح ہوجائے تو بہت بہتر ہو۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی ان تجاویز کو ناپسند فرمایا۔ عوفی کہتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے باتیں کرنے سے روک دیا گیا۔ مجاہد کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے خواہ مخواہ فتویٰ نہ مانگا کرو ، خود اللہ جو چاہے نازل فرمادے۔ ضحاک کہتے ہیں ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ اور اصول دین اور قوانین شریعت کو چھوڑ کر اپنے فیصلے نہ کرو ، اور علی بن طلحہ نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف نہ کہو۔

یہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں فکری اور نظریاتی آداب ہیں۔ اللہ سے ہدایات اخذ کرنے اور نافذ کرنے کے یہ آداب ہیں کہ جو حکم آئے اس کی تعمیل کرو اور باقی کے بارے میں خاموش رہو۔ یہی اصول دین اور شریعت کا بہترین رویہ ہے ۔ یہ خدا خوفی اور اس کی اس حقیقت پر مبنی ہے کہ اللہ تو سب کچھ دیکھ رہا ہے اور یہ سب باتیں اس مختصر سی آیت میں بتا دی گئی ہیں۔

یوں مسلمانوں کا اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تعلق تھا۔ کوئی شخص اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی تجویز نہ دیتا تھا۔ کوئی رسول اللہ ﷺ کے سامنے کسی رائے کا اظہار نہ کرتا تھا۔ جب تک آپ ﷺ رائے طلب نہ فرمائے۔ کوئی بھی کسی معاملے یا حکم میں فیصلہ کا اس وقت تک نہ کرتا تھا جب تک وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے اقوال کی طرف رجوع نہ لیتا ۔

امام احمد ، ابو داؤد ، اور ترمذی نیز ابن ماجہ نے نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ جب حضرت معاذ ابن جبل کو یمن کا گورنر بنا کر بھیج رہے تھے تو ان سے پوچھا کہ تم فیصلہ کس طرح کرو گے انہوں نے عرض کیا اللہ کی کتاب کے ساتھ تو فرمایا کہ اگر اللہ کی کتاب میں حکم نہ ہو تو عرض کیا کہ سنت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ، آپ ﷺ نے فرمایا اگر سنت میں بھی کوئی ہدایت نہ پاؤ تو انہوں نے کہا کہ اپنے رائے کے مطابق اجتہادی فیصلہ کروں گا۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے ان کے سینے پر ضرب لگائی اور فرمایا خدا کا شکر ہے کہ اللہ نے رسول خدا کے نمائندے کو وہ توفیق دی جو رسول اللہ ﷺ کی خواش تھی۔

اور دوسری روایت میں ہے کہ حضور ﷺ ان سے پوچھ رہے تھے کہ آج کون سا دن ہے جس میں تم ہو۔ اور وہ جگہ کون سی جہاں تم ہو ۔ وہ سب جانتے تھے لیکن وہ سب جانتے تھے لیکن وہ سب جواب دیتے ہیں کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ بہت زیادہ جانتے ہیں اور یہ وہ اس لیے کہتے تھے کہ کہیں ان کا قول اللہ اور رسول ﷺ سے پیش قدمی نہ ہوجائے۔

ابوبکرہ نقیع ابن الحارث ؓ کی حدیث میں آتا ہے کہ حجتہ الوداع کے موقعہ پر حضور اکرم ﷺ نے پوچھا یہ کو مہینہ ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور رسول اللہ زیادہ جانتے ہیں۔ حضور ﷺ خاموش ہوگئے اور ہم نے یہ خیال کیا شاید مہینے کا نام بدل گیا ہے اور حضور ﷺ کوئی دوسرا نام لیں گے تو حضور ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذوالحجہ نہیں ہے ہم نے کہا ہاں ، رسول خدا ﷺ یہ ذوالحجہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے کہا اللہ اور رسول خدا ﷺ زیادہ جانتے ہیں تو حضور ﷺ خاموش ہوگئے اور ہمارا خیال ہوا کہ شاید حضور بلد حرام کا نام بدل گے۔ آپ نے فرمایا کیا یہ بلد حرام نہیں ہے ؟ تو ہم نے کہا کہ ہاں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کون سا دن ہے ؟ تو ہم نے کہا اللہ اور رسول اللہ ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ آپ خاموش ہوگئے اور ہم نے کہا کہ شاید حضور ﷺ اس کا نام بدل دیں گے آپ نے فرمایا کیا یہ یوم الخر نہیں ہے ؟ ہم نے کہا ہاں۔۔۔

یہ تھی صورت حال جناب بنوی ﷺ میں صحابہ کرام ؓ کے ادب اور احترام کی۔ نہایت احتیاط ، تقویٰ ، خشیت ۔ یہ آیات نازل ہونے کے بعد ان کے اندر یہ ادب اور احترام پیدا ہوا تھا ۔ کیونکہ ان آیات میں کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ سمیع وعلیم ہے۔

دوسرا ادب و احترام یہ تھا کہ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ گفتگو میں آداب نبوت کو ملحوظ رکھو۔ نہایت احترام سے اور دلی احترام سے بات کرو۔ تمہاری حرکات اور تمہاری آواز سے احترام ظاہر ہو۔ آپ کی شخصیت اور آپ کی مجلس اور گفتگو نہایت ہی ممتاز ہو۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی پسندیدہ انداز میں ان کو ڈراتا ہے۔

آیت 1{ یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ} ”اے اہل ِایمان مت آگے بڑھو اللہ اور اس کے رسول سے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ یقینا اللہ سب کچھ سننے والا ‘ سب کچھ جاننے والا ہے۔“ یہ آیت گویا اسلامی ریاست کے آئین کی بنیاد ہے۔ اسلامی ریاست کے آئین کی پہلی شق یہ ہے کہ حاکمیت اللہ کی ہے اوراقتدارِ مطلق کا مالک صرف اکیلا وہ ہے۔ اس نظری و اعتقادی حقیقت کی تعمیل و تنفیذ کا طریقہ اس آیت میں بتایا گیا ہے۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو حدود قائم کردی ہیں ان حدود سے کسی بھی معاملے میں تجاوز نہیں ہوگا۔ اس آیت کے مفہوم کو پاکستان کے ہر دستور میں ان الفاظ کے ساتھ شامل رکھا گیا ہے : No Legislation will be done repugnant to the Quran and the Sunnah۔ یہ شق گویا اسلامی ریاست کے آئین کے لیے اصل الاصول کا درجہ رکھتی ہے۔ چناچہ آئین پاکستان میں اس شق کے شامل ہونے سے اصولی طور پر تو پاکستان ایک اسلامی ریاست بن گیا ‘ لیکن عملی طور پر اس ”ذمہ داری“ سے جان چھڑانے کے لیے کمال یہ دکھایا گیا کہ ان الفاظ کے ساتھ ایک ہاتھ سے آئین کے اندر اسلام داخل کر کے دوسرے ہاتھ سے نکال لیا گیا۔ آئین پاکستان کو قرآن و سنت کے مطابق بنانے کے مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل Islamic Ideological Council تشکیل دی گئی اور اسے بظاہر یہ اہم اور مقدس فریضہ سونپا گیا کہ وہ پارلیمنٹ کی ”قانون سازی“ پر گہری نظر رکھے گی اور اس ضمن میں کسی کوتاہی اور غلطی کی صورت میں حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی۔ یہاں تک تو معاملہ ٹھیک تھا ‘ لیکن اس میں منافقت یہ برتی گئی کہ آئین کی رو سے حکومت کو نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل کرنے کا پابند نہیں کیا گیا۔ چناچہ کونسل نے اقتصادیات اور غیر سودی بینکاری کے حوالے سے بہت مفید سفارشات مرتب کی ہیں۔ بہت سے دوسرے معاملات میں بھی تحقیقاتی رپوٹیں حکومتوں کو بھجوائی ہیں۔ کونسل کی سفارشات جمع ہوتے ہوتے الماریاں بھر گئیں ‘ لیکن کسی حکومت نے ان میں سے کسی ایک سفارش کو بھی تنفیذ کے حوالے سے لائق اعتناء نہ سمجھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کونسل کی تمام تحقیقات اور سفارشات کلی طور پر لاحاصل مشق exercise in futility ثابت ہوئیں۔ بہر حال زیر مطالعہ آیت کی رو سے جب کسی ریاست کے آئین میں مذکورہ شق شامل کرلی جائے گی تو اصولی طور پر وہ ریاست اسلامی ریاست بن جائے گی۔ اس کے بعداس ریاست کے قانون ساز ادارے کو چاہے پارلیمنٹ کہیں ‘ مجلس ملی کہیں یا کانگرس کا نام دیں ‘ اس کی قانون سازی کا دائرئہ اختیار legislative authority قرآن وسنت کی بالادستی کے باعث محدود ہوجائے گا۔ یعنی اس ”قدغن“ کے بعد وہ مقننہ اپنے ملک کے لیے صرف قرآن و سنت کے دائرے کے اندر رہ کر ہی قانون سازی کرسکے گی۔ اس دائرے کے اندر جو قانون سازی کی جائے گی وہ جائز اور مباح ہوگی اور اس دائرے کی حدود سے متجاوز ہوتا ہوا کوئی بھی قانون ناجائز اور ممنوع قرار پائے گا ‘ چاہے اس قانون کو مقننہ کے تمام ارکان ہی کی حمایت حاصل کیوں نہ ہو۔ اسلامی مقننہ کی اس ”محدودیت“ کو اس مثال سے سمجھیں کہ کسی دعوت میں بلائے گئے مہمانوں کی تواضع روح افزا شربت سے کی جائے ‘ سیون اَپ سے یا دودھ سوڈا وغیرہ سے ‘ اس بارے میں فیصلہ تو کثرت رائے سے کیا جاسکتا ہے ‘ لیکن تمام میزبان اپنے سو فیصد ووٹوں سے بھی مہمانوں کو کوئی ایسا مشروب پلانے کا فیصلہ نہیں کرسکتے جس کا پینا قرآن و سنت میں ممنوع قرار دیا جا چکا ہے۔ اس نکتے کو رسول اللہ ﷺ نے اس مثال کے ذریعے نہایت عمدگی سے واضح فرمایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْاِیْمَانِ کَمَثَلِ الْفَرَسِ فِیْ آخِیَّتِہٖ ، یَجُوْلُ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلٰی آخِیَّتِہٖ … 1 یعنی ”مومن کی مثال اور ایمان کی مثال اس گھوڑے کی سی ہے جو اپنے کھونٹے کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ وہ گھومنے پھرنے کے بعد پھر اپنے کھونٹے پر واپس لوٹ آتا ہے…“ ظاہر ہے مومن تو وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتا ہے اور ان کے احکام کو مانتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے کھونٹے سے بندھ چکا ہے ‘ اب وہ اس کھونٹے کے گردا گرد ایک دائرے میں اپنی مرضی سے چرچگ ُ سکتا ہے ‘ لیکن اس دائرے کی حدود کا تعین اس کھونٹے کی رسی حدود اللہ کے اندر موجود گنجائش کی بنیاد پر ہی ہوگا۔ اس کے برعکس ایک وہ شخص ہے جو مادر پدر آزاد ہے۔ وہ نہ اللہ کو مانتا ہے ‘ نہ رسول ﷺ کو جانتا ہے اور نہ ہی ان کے احکام کو پہچانتا ہے ‘ وہ اپنی مرضی کا مالک ہے ‘ جو چاہے کرے اور جس چیز کو چاہے اپنے لیے ”جائز“ قرار دے لے۔ چناچہ ایسے افراد اگر کسی ملک یا ریاست کے قانون ساز ادارے میں بیٹھے ہوں گے تو وہ کثرت رائے سے اپنی ریاست اور قوم کے لیے جو قانون چاہیں منظور کرلیں۔ وہ چاہیں تو ہم جنس پرستی کو جائز قرار دے دیں اور چاہیں تو مرد کی مرد سے شادی کو قانونی حیثیت دے دیں۔ اب اس کے بعد جو چار آیات آرہی ہیں وہ اہل ایمان پر اللہ کے رسول ﷺ کے حقوق کا تعین کرتی ہیں۔ حضور ﷺ کی تعظیم ‘ آپ ﷺ کی محبت اور آپ ﷺ کے اتباع کا جذبہ گویا ایک مسلمان معاشرے کی تہذیب اور اس کے تمدن کی بنیاد ہے۔ اس بارے میں ایک عمومی حکم { وَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ } ہم سورة الفتح میں پڑھ آئے ہیں۔ اس حکم کی شرح گویا اب اگلی آیات میں بیان ہو رہی ہے۔

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اپنے نبی کے آداب سکھاتا ہے کہ تمہیں اپنے نبی کی توقیر و احترام عزت و عظمت کا خیال کرنا چاہیے تمام کاموں میں اللہ اور رسول کے پیچھے رہنا چاہیے، اتباع اور تابعداری کی خو ڈالنی چاہیے حضرت معاذ کو جب رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا تو دریافت فرمایا اپنے احکامات کے نفاذ کی بنیاد کسے بناؤ گے جواب دیا اللہ کی کتاب کو فرمایا اگر نہ پاؤ ؟ جواب دیا سنت کو فرمایا اگر نہ پاؤ ؟ جواب دیا اجتہاد کروں گا تو آپ نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے قاصد کو ایسی توفیق دی جس سے اللہ کا رسول خوش ہو (ابو داؤد و ترمذی ابن ماجہ) یہاں اس حدیث کے وارد کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ حضرت معاذ نے اپنی رائے نظر اور اجتہاد کو کتاب و سنت سے مؤخر رکھا پس کتاب و سنت پر رائے کو مقدم کرنا اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے آگے بڑھنا ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ کتاب و سنت کے خلاف نہ کہو۔ حضرت عوفی فرماتے ہیں حضور ﷺ کے کلام کے سامنے بولنے سے منع کردیا گیا مجاہد فرماتے ہیں کہ جب تک کسی امر کی بابت اللہ کے رسول ﷺ کچھ نہ فرمائیں تم خاموش رہو حضرت ضحاک فرماتے ہیں امر دین احکام شرعی میں سوائے اللہ کے کلام اور اس کے رسول ﷺ کی حدیث کے تم کسی اور چیز سے فیصلہ نہ کرو، حضرت سفیان ثوری کا ارشاد ہے کسی قول و فعل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر پہل نہ کرو امام حسن بصری فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ امام سے پہلے دعا نہ کرو۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں اگر فلاں فلاں میں حکم اترے تو اس طرح رکھنا چاہیے اسے اللہ نے ناپسند فرمایا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حکم اللہ کی بجاآوری میں اللہ کا لحاظ رکھو اللہ تمہاری باتیں سن رہا ہے اور تمہارے ارادے جان رہا ہے پھر دوسرا ادب سکھاتا ہے کہ وہ نبی ﷺ کی آواز پر اپنی آواز بلند کریں۔ یہ آیت حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے بارے میں نازل ہوئی۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ قریب تھا کہ وہ بہترین ہستیاں ہلاک ہوجائیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ان دونوں کی آوازیں حضور ﷺ کے سامنے بلند ہوگئیں جبکہ بنو تمیم کا وفد حاضر ہوا تھا ایک تو اقرع بن حابس کو کہتے تھے جو بنی مجاشع میں تھے اور دوسرے شخص کی بابت کہتے تھے۔ اس پر حضرت صدیق نے فرمایا کہ تم تو میرے خلاف ہی کیا کرتے ہو فاروق اعظم نے جواب دیا نہیں نہیں آپ یہ خیال بھی نہ فرمائیے اس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابن زبیر فرماتے ہیں اس کے بعد تو حضرت عمر اس طرح حضور ﷺ سے نرم کلامی کرتے تھے کہ آپ کو دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر فرماتے تھے قعقاع بن معبد کو اس وفد کا امیر بنائیے اور حضرت عمر فرماتے تھے نہیں بلکہ حضرت اقرع بن حابس کو اس اختلاف میں آوازیں کچھ بلند ہوگئیں جس پر آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُـقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ) 49۔ الحجرات :1) نازل ہوئی اور آیت (وَلَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُجَ اِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) 49۔ الحجرات :5) ، مسند بزار میں ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بالْقَوْلِ كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ) 49۔ الحجرات :2) ، کے نازل ہونے کے بعد حضرت ابوبکر نے حضور ﷺ سے کہا یا رسول اللہ ﷺ قسم اللہ کی اب تو میں آپ سے اس طرح باتیں کروں گا جس طرح کوئی سرگوشی کرتا ہے صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ثابت بن قیس کئی دن تک حضور ﷺ کی مجلس میں نظر نہ آئے اس پر ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ﷺ میں اس کی بابت آپ کو بتاؤں گا چناچہ وہ حضرت ثابت کے مکان پر آئے دیکھا کہ وہ سر جھکائے ہوئے بیٹھے ہیں۔ پوچھا کیا حال ہے۔ جواب ملا برا حال ہے میں تو حضرت ﷺ کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کرتا تھا میرے اعمال برباد ہوگئے اور میں جہنمی بن گیا۔ یہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور سارا واقعہ آپ ﷺ سے کہہ سنایا پھر تو حضور ﷺ کے فرمان سے ایک زبردست بشارت لے کر دوبارہ حضرت ثابت کے ہاں گئے حضور ﷺ نے فرمایا تم جاؤ اور ان سے کہو کہ تو جہنمی نہیں بلکہ جنتی ہے مسند احمد میں بھی یہ واقعہ ہے اس میں یہ بھی ہے کہ خود حضور ﷺ نے پوچھا تھا کہ ثابت کہاں ہیں نظر نہیں آتے۔ اس کے آخر میں ہے حضرت انس فرماتے ہیں ہم انہیں زندہ چلتا پھرتا دیکھتے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔ یمامہ کی جنگ میں جب کہ مسلمان قدرے بددل ہوگئے تو ہم نے دیکھا کہ حضرت ثابت خوشبو ملے، کفن پہنے ہوئے دشمن کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں مسلمانو تم لوگ اپنے بعد والوں کے لئے برا نمونہ نہ چھوڑ جاؤ یہ کہہ کر دشمنوں میں گھس گئے اور بہادرانہ لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے ؓ۔ صحیح مسلم شریف میں ہے آپ نے جب انہیں نہیں دیکھا تو حضرت سعد سے جو ان کے پڑوسی تھے دریافت فرمایا کہ کیا ثابت بیمار ہیں ؟ لیکن اس حدیث کی اور سندوں میں حضرت سعد کا ذکر نہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت معطل ہے اور یہی بات صحیح بھی ہے اس لئے کہ حضرت سعد بن معاذ اس وقت زندہ ہی نہ تھے بلکہ آپ کا انتقال بنو قریظہ کی جنگ کے بعد تھوڑے ہی دنوں میں ہوگیا تھا اور بنو قریظہ کی جنگ سنہ005ہجری میں ہوئی تھی اور یہ آیت وفد بنی تمیم کی آمد کے وقت اتری ہے اور وفود کا پے درپے آنے کا واقعہ سنہ009ہجری کا ہے واللہ اعلم۔ ابن جریر میں ہے جب یہ آیت اتری تو حضرت ثابت بن قیس راستے میں بیٹھ گئے اور رونے لگے حضرت عاصم بن عدی جب وہاں سے گزرے اور انہیں روتے دیکھا تو سبب دریافت کیا جواب ملا کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل نہ ہوئی ہو میری آواز بلند ہے حضرت عاصم یہ سن کر چلے گئے اور حضرت ثابت کی ہچکی بندھ گئی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور اپنی بیوی صاحبہ حضرت جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی سلول سے کہا میں اپنے گھوڑے کے طویلے میں جارہا ہوں تم اس کا دروازہ باہر سے بند کر کے لوہے کی کیل سے اسے جڑ دو۔ اللہ کی قسم میں اس میں سے نہ نکلوں گا یہاں تک کہ یا مرجاؤں یا اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو مجھ سے رضامند کر دے۔ یہاں تو یہ ہوا وہاں جب حضرت عاصم نے دربار رسالت میں حضرت ثابت کی حالت بیان کی تو رسالت مآب نے حکم دیا کہ تم جاؤ اور ثابت کو میرے پاس بلا لاؤ۔ لیکن عاصم اس جگہ آئے تو دیکھا کہ حضرت ثابت وہاں نہیں مکان پر گئے تو معلوم ہوا کہ وہ تو گھوڑے کے طویلے میں ہیں یہاں آکر کہا ثابت چلو تم کو رسول اللہ ﷺ یاد فرما رہے ہیں۔ حضرت ثابت نے کہا بہت خوب کیل نکال ڈالو اور دروازہ کھول دو ، پھر باہر نکل کر سرکار میں حاضر ہوئے تو آپ نے رونے کی وجہ پوچھی جس کا سچا جواب حضرت ثابت سے سن کر آپ نے فرمایا کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم قابل تعریف زندگی گزارو اور شہید ہو کر مرو اور جنت میں جاؤ۔ اس پر حضرت ثابت کا سارا رنج کافور ہوگیا اور باچھیں کھل گئیں اور فرمانے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں اللہ تعالیٰ کی اور آپ کی اس بشارت پر بہت خوش ہوں اور اب آئندہ کبھی بھی اپنی آواز آپ کی آواز سے اونچی نہ کروں گا۔ اس پر اس کے بعد کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ للتَّقْوٰى ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ عَظِيْمٌ) 49۔ الحجرات :3) الخ، نازل ہوئی، یہ قصہ اسی طرح کئی ایک تابعین سے بھی مروی ہے۔ الغرض اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے سامنے آواز بلند کرنے سے منع فرما دیا امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب نے دو شخصوں کی کچھ بلند آوازیں مسجد نبوی میں سن کر وہاں آکر ان سے فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ تم کہاں ہو ؟ پھر ان سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو ؟ انہوں نے کہا طائف کے آپ نے فرمایا اگر تم مدینے کے ہوتے تو میں تمہیں پوری سزا دیتا۔ علماء کرام کا فرمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی قبر شریف کے پاس بھی بلند آواز سے بولنا مکروہ ہے جیسے کہ آپ کی حیات میں آپ کے سامنے مکروہ تھا اس لئے کہ حضور ﷺ جس طرح اپنی زندگی میں قابل احترام و عزت تھے اب اور ہمیشہ تک آپ اپنی قبر شریف میں بھی باعزت اور قابل احترام ہی ہیں۔ پھر آپ کے سامنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے جس طرح عام لوگوں سے باآواز بلند باتیں کرتے ہیں باتیں کرنی منع فرمائیں، بلکہ آپ سے تسکین و وقار، عزت و ادب، حرمت و عظمت سے باتیں کرنی چاہیں۔ جیسے اور جگہ ہے آیت (لَا تَجْعَلُوْا دُعَاۗءَ الرَّسُوْلِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاۗءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ۭ قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖٓ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ يُصِيْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 63؀) 24۔ النور :63) اے مسلمانو ! رسول ﷺ کو اس طرح نہ پکارو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو، پھر فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں اس بلند آواز سے اس لئے روکا ہے کہ ایسا نہ ہو کسی وقت حضور ﷺ ناراض ہوجائیں اور آپ کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ ناراض ہوجائے اور تمہارے کل اعمال ضبط کرلے اور تمہیں اس کا پتہ بھی نہ چلے۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے کہ ایک شخص اللہ کی رضامندی کا کوئی کلمہ ایسا کہہ گزرتا ہے۔ کہ اس کے نزد یک تو اس کلمہ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ لیکن اللہ کو وہ اتنا پسند آتا ہے۔ کہ اس کی وجہ سے وہ جنتی ہوجاتا ہے اسی طرح انسان اللہ کی ناراضگی کا کوئی ایسا کلمہ کہہ جاتا ہے کہ اس کے نزدیک تو اس کی کوئی وقعت نہیں ہوتی لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس ایک کلمہ کی وجہ سے جہنم کے اس قدر نیچے کے طبقے میں پہنچا دیتا ہے کہ جو گڑھا آسمان و زمین سے زیادہ گہرا ہے پھر اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کے سامنے آواز پست کرنے کی رغبت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ کے نبی ﷺ کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کرتے ہیں انہیں اللہ رب العزت نے تقوے کے لئے خالص کرلیا ہے اہل تقویٰ اور محل تقویٰ یہی لوگ ہیں۔ یہ اللہ کی مغفرت کے مستحق اور اجر عظیم کے لائق ہیں امام احمد نے کتاب الزہد میں ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر سے ایک تحریراً استفتاء لیا گیا کہ اے امیرالمومنین ایک وہ شخص جسے نافرمانی کی خواہش ہی نہ ہو اور نہ کوئی نافرمانی اس نے کی ہو وہ اور وہ شخص جسے خواہش معصیت ہے لیکن وہ برا کام نہیں کرتا تو ان میں سے افضل کون ہے ؟ آپ نے جواب میں لکھا کہ جنہیں معصیت کی خواہش ہوتی ہے پھر نافرمانیوں سے بچتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے پرہیزگاری کے لئے آزما لیا ہے ان کے لئے مغفرت ہے اور بہت بڑا اجر وثواب ہے۔

آیت 1 - سورۃ الحجرات: (يا أيها الذين آمنوا لا تقدموا بين يدي الله ورسوله ۖ واتقوا الله ۚ إن الله سميع عليم...) - اردو