واعلموا ان فیکم رسول اللہ (49 : 7) “ خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے ”۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ حضور ﷺ اس وقت موجود تھے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ ایک عظیم حقیقت ہے ۔ کیا کوئی یہ بات تصور کرسکتا ہے کہ آسمان کا زمین کے ساتھ دائمی رابطہ ہوجائے اور یہ رابطہ ہر وقت بحال رہے اور لوگوں کو نظر آئے۔ اور ہم یہ کہیں کہ ارادۂ الٰہی اہل زمین کے لئے متوجہ ہے ۔ لوگوں کو ان کے حالات بتائے جارہے ہیں۔ ان کی خفیہ باتیں ان کو بتائی جارہی ہیں۔ ان کی ظاہری باتوں سے ان کو خبردار کیا جا رہا ہے اور ان کی غلطیوں کو فوراً درست کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنے دل کی بات چھپاتا ہو لیکن آسمان سے اطلاع آجاتی ہے کہ یہ سوچا جارہا ہے۔ اللہ رسول اللہ ﷺ کو فوراً بتا دیتا ہے اور ہدایت کردیتا ہے کہ یہ ہدایات میرے بندوں کو دے دو ، حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی بات ہے ۔ یہ ایک بہت بڑی خبر ہے اور یہ ایک عظیم حقیقت ہے۔ بعض اوقات ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ کو اپنے درمیان چلتا پھرتا پاکر ، بعض لوگ اس طرف متوجہ نہ ہوں ۔ اس لیے ان کو متوجہ کیا جا رہا ہے ۔
واعلموا ان فیکم رسول اللہ (49 : 7) “ خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان رسول اللہ موجود ہیں ”۔ اس کو جانو ، اور اس کی قدر کرو ، یہ تو ایک عظیم معاملہ ہے۔
اور رسول اللہ ﷺ کی موجودگی کو جانو ، اس کے تقاضے یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے کوئی فیصلہ آنے سے پہلے ہی فیصلے نہ کرتے پھرو۔ کیونکہ رسول اللہ کے فیصلے وحی والہام پر مبنی ہیں۔ اور اللہ کی ہدایات پر رسول اللہ ﷺ جو فیصلے فرماتے ہیں انہی میں خیروبرکت ہے۔ اور اگر رسول اللہ ﷺ تمہاری ہی باتوں کے پیچھے چلیں تو تم اپنی نادانی سے اپنے آپ کو مشکلات میں مبتلا کردوگے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے اللہ کے الہام پر مبنی ہیں۔ اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ بندوں کی بہتری اس میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی تو بڑی رحمت ہے۔ آپ ﷺ کی تدبیر اللہ کی تدبیر ہے اور آپ ﷺ کا کہا ، اللہ کا کہا ہے۔
اس کے بعد ان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم کو ایمان کی جو نعمت دی گئی ہے ، اس کی قدر کرو ، یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنایا ، تمہارے دلوں میں ایمان کو خوبصورت بنا دیا ، تم نے اسے قیمتی جانا ، تمہارے دل اس سے لگ گئے ، اور کفر کو تمہارے دلوں کے لئے مکروہ بنا دیا۔ فسق و معصیت کو تم ناپسند کرنے لگے۔ یہ اللہ کی بڑی ہی رحمت اور کرم تھا۔
ولکن اللہ حبب الیکم ۔۔۔۔۔ ھم الرشدون (49 : 7) فضلاً من اللہ ۔۔۔۔ علیم حکیم (49 : 8) “ مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمہارے لیے دل پسند بنا دیا اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کردیا ۔ ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل و احسان سے راست رد ہیں اور اللہ علیم و حکیم ہے ”۔
اللہ کی طرف سے اپنے بندوں کے دلوں کو ایمان کے لئے کھول دینا ، ان کے دلوں کو ایمان کے ساتھ متحرک کردینا ، ان کے دلوں کے لئے ایمان کو حسین بنا دینا کہ وہ اس کی طرف لپکیں ، اور ایمان کے کمالات و جمالات دیکھ سکیں ، یہ دراصل ان بندوں پر بہت ہی بڑا فضل و کرم ہے اور بہت ہی بڑی نعمت ہے ۔ اس کے مقابلے میں ہر نعمت ہیچ ہے۔ یہاں تک کہ انسان کی زندگی اور اس کا وجود بھی ہیچ ہے۔ انسان کا وجود اور اس کی پوری زندگی بھی ایمان کے مقابلے میں کم قیمت اور ادنیٰ ہے۔ عنقریب یہ آیت آنے والی ہے۔
بل اللہ یمن علیکم ان ھدکم للایمان (49 : 17) “ بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ تمہیں اس نے ایمان کی طرف ہدایت کی ”۔ مفصل بات وہاں آئے گی ، انشاء اللہ !
جو بات یہاں فکر و نظر کے لئے دامن کش ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو یاد دلایا رہا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے اس بھلائی کا ارادہ کیا۔ اور یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے دلوں سے یہ شر نکالا ۔ یعنی کفر ، فسق اور معصیت کا شر۔ اور یہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے فضل و کرم سے تمہیں راہ راست پر لگایا ہے۔ اور یہ سب کام اللہ نے اپنے علم و حکمت کی بنا پر کیا اور یہ اطمینان دلایا کہ اس کے نتیجے میں تمہارے لیے خیر اور برکت ہوگی۔ اس لیے تم جلد بازی نہ کرو ، اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے تجاویز نہ رکھو اور حکم سے پہلے جوش و خروش نہ دکھاؤ کیونکہ اللہ ہی تمہارے لیے بہتر فیصلے کرتا ہے۔ اور ابھی تک تو رسول تمہارے اندر موجود ہیں۔ لہٰذا اپنے معاملات ان کی موجودگی میں اپنے ہاتھ میں نہ لو۔ یہی مقصد ہے اس تبصرے سے جو اس حکم پر کیا گیا کہ تم اپنے لیے مشکلات پیدا کرلو گے۔
انسان بہت ہی جلد بازی کرتا ہے۔ اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے اقدامات سے آگے کیا ہے۔ انسان اپنے نفس اور دوسروں کی بھلائی کے لئے تجاویز مرتب کرتا رہتا ہے لیکن اس کا علم اس قدر محدود ہے کہ وہ یہ نہیں جانتا کہ خیر کیا ہے اور شر کیا ہے۔
ویدع الانسان بالشر دعاء ہ بالخیر وکاین الانسان عجولا “ اور انسان شر کی دعا اس طرح کرتا ہے جس طرح کہ خیر کہ دعا کی جاتی ہے اور انسان بہت بڑا جلد باز ہے ”۔ اگر انسان اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دے اور اسلام میں پورا پورا داخل ہوجائے ، اللہ کی پسند کو اپنی پسند بنا لے اور اس بات پر مطمئن ہوجائے کہ اس کے لئے اللہ جس چیز کو پسند کرتا ہے وہ اس کی اپنی پسند سے افضل ہے۔ وہ اس کے لئے زیادہ مفید اور خیر و برکت لانے و الی ہے ، تو انسان راحت اور سکون محسوس کرے۔ اور اس زمین پر اس کی یہ مختصر زندگی نہایت ہی اطمینان اور خوشی سے گزرے لیکن یہ اللہ کا ایک عظیم احسان ہوتا ہے ۔ اور وہ جس پر چاہتا ہے یہ احسان کرتا ہے۔
آیت 7 { وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُوْلَ اللّٰہِ } ”اور جان لو کہ تمہارے مابین اللہ کا رسول موجود ہے۔“ انسانی سطح پر حضور ﷺ کے مختلف لوگوں کے ساتھ مختلف رشتے تھے۔ مثلاً بعض خواتین کے آپ ﷺ شوہر اور بعض کے باپ تھے۔ مردوں میں سے بعض کے آپ ﷺ داماد تھے ‘ بعض کے بھتیجے اور بعض کے سسر تھے۔ چناچہ اس حساس معاملے میں دو ٹوک انداز میں متنبہ کردیا گیا کہ خبردار ! تم میں سے کوئی کسی وقت یہ حقیقت نہ بھولنے پائے کہ محمد بن عبداللہ جو تمہارے درمیان موجود ہیں یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ کی یہ حیثیت تم میں سے ہر ایک کے سامنے ہر حال میں مقدم رہنی چاہیے۔ آپ ﷺ کا کوئی رشتہ دار محض اپنے کسی مخصوص رشتے کی بنا پر آپ ﷺ کے ساتھ کوئی معاملہ کرنے کا کبھی خیال بھی ذہن میں نہ لائے۔ { لَوْ یُطِیْعُکُمْ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ } ”اگر وہ تمہارا کہنا مانا کریں اکثر معاملات میں تو تم لوگ مشکل میں پڑ جائو“ چناچہ تم ہر معاملے میں رسول اللہ ﷺ کی مرضی اور منشاء کو پیش نظر رکھا کرو۔ آپ ﷺ سے یہ توقع نہ رکھو کہ آپ ﷺ فیصلے کرتے ہوئے تم لوگوں کی مرضی کا خیال رکھیں گے۔ { وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ } ”لیکن اے نبی ﷺ کے ساتھیو ! اللہ نے تمہارے نزدیک ایمان کو بہت محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں کے اندر کھبا دیا ہے“ { وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ } ”اوراُس نے تمہارے نزدیک بہت ناپسندیدہ بنا دیا ہے کفر ‘ فسق اور نافرمانی کو۔“ { اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرّٰشِدُوْنَ } ”یہی لوگ ہیں جو صحیح راستے پر ہیں۔“ صحابہ کرام رض کی شان کے حوالے سے قرآن کی یہ آیت خصوصی اہمیت اور عظمت کی حامل ہے۔