وان طائفتین من المؤمنین ۔۔۔۔۔ یحب المقسطین (9) انما المؤمنون اخوۃ ۔۔۔۔۔ لعلکم ترحمون (10) (49 : 9 تا 10) “ اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑجائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرادو اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں ، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو ، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا ”۔
یہ ایک عملی قانون ہے اور یہ خود اسلامی معاشرے کو جھگڑوں ، خصوصیات اور خانہ جنگی سے بچانے کے لئے بنایا گیا ہے۔ یہ نہ ہو کہ لوگ ذاتی مفادات اور محض جذبات کے تحت لڑائیاں شروع کردیں۔ اور یہ قانون اس مناسبت سے بنایا گیا ہے کہ اس سے قبل ایک فاسق کی خبر کے نتیجے میں خود ومومنین میں سے ایک گروہ کے خلاف جنگ کے مواقع پیدا کیے گئے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ تنازعات سے قبل بھی تفتیش کی جائے کہ غلط خبروں پر تنازعہ نہ شروع ہو اور اگر ہوجائے تو پھر یہ قانون ہے۔
بعض روایات میں اس آیت کے نزول کا سبب بھی متعین حادثہ بتایا جاتا ہے یا یہ کہ بغیر کسی مخصوص واقعہ کے اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات کے لئے قانون بنا دیا ہو۔ بہرحال اسلامی سوسائٹی کو بچانے کے لئے یہ نہایت ہی مضبوط قانون ہے۔ اس کے ذریعہ اسلامی سوسائٹی اور اسلامی حکومت انتشار اور فرقہ بندی اور خانہ جنگی سے محفوظ رہتی ہے اور اجتماع تصادم کے وقت عدل و انصاف کے قیام کی راہ تجویز کی گئی ہے کہ اصلاح اور انصاف کے ذریعہ اس قسم کے مسائل کو حل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اور اس میں بھی خدا خوفی ، اللہ کی رحمت کی طلب کو اصل مقصد بنایا گیا ہے۔
ہر آیت کسی مخصوص واقعہ کے سبب نازل ہوئی ہے۔ یا محض فرضی حالت کے لئے یہ قانون بنایا گیا ہو ، بہرحال دونوں فریقوں کے برسر پیکار ہونے کے باوجود دونوں کو مومن کہا گیا ہے اور اس میں احتمال کے باوجود یہ کہا گیا ہے کہ ان میں سے ایک دورے پر دست درازی کرنے والا ہو۔ بلکہ اس احتمال کے باوجود کہ بعض اوقات دونوں دست درازی کرنے والے ہوں۔
اس صورت میں جو لوگ غیر جانبدار ہوں ان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ دونوں کے درمیان اصلاح کریں۔ اگر اصلاح کے بعد بھی زیادتی کرنے والا گروہ باز نہ آئے اور حق بات یا حق کے فیصلے کے آگے نہ جھکے یا دونوں کی زیادتی کا تعین ہونے کے باوجود دونوں حکم تسلیم نہ کریں یا صلح کو رد کریں تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ باغی اور نافرمان گروہ کے خلاف یا دونوں کے خلاف لڑیں اور ان کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھیں جب تک کہ دونوں اللہ کے حکم سے سامنے سر تسلیم خم نہیں کردیتے۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اہل ایمان کے درمیان کسی صورت میں بھی جھگڑا نہ ہو۔ اور جن باتوں میں ان کا اختلاف ہو اور جن کی وجہ سے جنگ شروع ہوئی ہو ان میں وہ اللہ کے احکام کے سامنے جھکیں۔ اگر باغی اللہ کے حکم کو قبول کریں ، اور مومنین دونوں کے درمیان مصالحت کرا لیں اور یہ عدل اور انصاف پر مبنی ہو اور اللہ کی اطاعت کی طلب ، رضا کے حصول کے لئے ہو تو :
ان اللہ یحب المقسطین (49 : 9) “ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ” ۔ اور اس قانون کے بعد یہ نصیحت و تبصرہ کہ سب مومن بھائی ہیں کہ اہل ایمان کے درمیان اخوت اور رابطہ قائم ہونا چاہئے ۔ یہ اسلامی اخوت ہی ہے جس نے تمہیں ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھا کیا ہے اور صدیوں کی لڑائیوں کے بعد تمہیں باہم الفت بخشی ہے۔ اس لیے اللہ سے ڈرو۔ اس وجہ سے تم رحمت خداوندی کے سزاوار ہو سکتے ہو۔
آیت 9 { وَاِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا } ”اور اگر اہل ِایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔“ اہل ایمان بھی تو آخر انسان ہیں۔ ان کے درمیان بھی اختلافات ہوسکتے ہیں اور کسی خاص صورت حال میں اختلافات بڑھ کر جنگ اور قتال پر بھی منتج ہوسکتے ہیں۔ جیسے کہ حضرت علی رض اور حضرت عائشہ رض کے درمیان یا حضرت علی رض اور امیر معاویہ رض کے درمیان اختلافات جنگ کی شکل اختیار کر گئے تھے۔ چناچہ اگر کہیں ایسی صورت حال پیدا ہو تو امت مسلمہ کے تمام افراد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ متحارب فریقین کے درمیان صلح کروائیں۔ اگر مسلمانوں کے دو فریق آپس میں لڑ رہے ہوں تو باقی مسلمان خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتے ‘ کیونکہ اگر ان کے درمیان صلح نہ کرائی گئی تو مسلمانوں کی جمعیت اور طاقت میں رخنہ پڑے گا جس کی وجہ سے بالآخر مسلمانوں کی مجموعی طاقت اور غلبہ دین کی جدوجہد کو نقصان پہنچے گا۔ اس لحاظ سے کسی بھی ملک یا خطہ کے مسلمانوں کے باہمی جھگڑوں کو ختم کرانا باقی مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے۔ { فَاِنْم بَغَتْ اِحْدٰٹہُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ } ”پھر اگر ان میں سے ایک فریق دوسرے پر زیادتی کر رہا ہو تو تم جنگ کرو اس کے ساتھ جو زیادتی کر رہا ہے“ اگر فریقین میں صلح کرا دی گئی ‘ لیکن اس کے بعد بھی ان میں سے ایک فریق اس صلح کی پابندی نہیں کر رہا اور دوسرے فریق پر زیادتی کیے جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پوری امت مسلمہ پر زیادتی کر رہا ہے اور پوری ملت اسلامیہ کو چیلنج کر رہا ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں پوری ملت کی ذمہ داری ہے کہ وہ زیادتی کرنے والے فریق کے خلاف بھر پور طاقت استعمال کرے۔ { حَتّٰی تَفِیْٓئَ اِلٰٓی اَمْرِ اللّٰہِ } ”یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف۔“ { فَاِنْ فَآئَ تْ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا بِالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ } ”پھر اگر وہ لوٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان صلح کرا دو عدل کے ساتھ اور دیکھو ! انصاف کرنا۔ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔“ کہیں ایسا نہ ہو کہ زیادتی کرنے والے فریق کے خلاف طاقت کے استعمال کے دوران تم لوگ انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھو۔ ایسا ہرگز نہیں ہوناچاہیے۔ طاقت کا یہ استعمال صرف انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی حد تک ہو۔ ظاہر ہے ایک زیادتی کو روکنے کے لیے مزید کسی زیادتی کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
دو متحارب " مسلمان جماعتوں " میں صلح کرانا ہر مسلمان کا فرض ہے یہاں حکم ہو رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کوئی دو جماعتیں لڑنے لگ جائیں تو دوسرے مسلمانوں کو چاہیے کہ ان میں صلح کرا دیں آپس میں لڑنے والی جماعتوں کو مومن کہنا اس سے حضرت امام بخاری نے استدلال کیا ہے کہ نافرمانی گو کتنی ہی بڑی وہ انسان کو ایمان سے الگ نہیں کرتی۔ خارجیوں کا اور ان کے موافق معتزلہ کا مذہب اس بارے میں خلاف حق ہے، اسی آیت کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو صحیح بخاری وغیرہ میں مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول للہ ﷺ منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ کے ساتھ منبر پر حضرت حسن بن علی بھی تھے آپ کبھی ان کی طرف دیکھتے کبھی لوگوں کی طرف اور فرماتے کہ میرا یہ بچہ سید ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی دو بڑی بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے گا۔ آپ کی یہ پیش گوئی سچی نکلی اور اہل شام اور اہل عراق میں بڑی لمبی لڑائیوں اور بڑے ناپسندیدہ واقعات کے بعد آپ کی وجہ سے صلح ہوگئی۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اگر ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑائی کی جائے تاکہ وہ پھر ٹھکانے آجائے حق کو سنے اور مان لے صحیح حدیث میں ہے اپنے بھائی کی مدد کر ظالم ہو تو مظلوم ہو تو بھی۔ حضرت انس نے پوچھا کہ مظلوم ہونے کی حالت میں تو ظاہر ہے لیکن ظالم ہونے کی حالت میں کیسے مدد کروں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا اسے ظلم سے باز رکھو یہی اس کی اس وقت یہ مدد ہے مسند احمد میں ہے حضور ﷺ سے ایک مرتبہ کہا گیا کیا اچھا ہو اگر آپ عبداللہ بن ابی کے ہاں چلئے چناچہ آپ اپنے گدھے پر سوار ہوئے اور صحابہ آپ کی ہمرکابی میں ساتھ ہو لیئے زمین شور تھی جب حضور ﷺ وہاں پہنچے تو یہ کہنے لگا مجھ سے الگ رہیے اللہ کی قسم آپ کے گدھے کی بدبو نے میرا دماغ پریشان کردیا۔ اس پر ایک انصاری نے کہا واللہ رسول اللہ ﷺ کے گدھے کی بو تیری خوشبو سے بہت ہی اچھی ہے اس پر ادھر سے ادھر کچھ لوگ بول پڑے اور معاملہ بڑھنے لگا بلکہ کچھ ہاتھا پائی اور جوتے چھڑیاں بھی کام میں لائی گئیں۔ ان کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں اوس اور خزرج قبائل میں کچھ چشمک ہوگئی تھی ان میں صلح کرا دینے کا اس آیت میں حکم ہو رہا ہے۔ حضرت سدی فرماتے ہیں عمران نامی ایک انصاری تھے ان کی بیوی صاحبہ کا نام ام زید تھا اس نے اپنے میکے جانا چاہا خاوند نے روکا اور منع کردیا کہ میکے کا کوئی شخص یہاں بھی نہ آئے، عورت نے یہ خبر اپنے میکے کہلوا دی وہ لوگ آئے اور اسے بالا خانے سے اتار لائے اور لے جانا چاہا ان کے خاوند گھر پر تھے نہیں خاوند والوں نے اس کے چچا زاد بھائیوں کو اطلاع دے کر انہیں بلا لیا اب کھینچا تانی ہونے لگی اور ان کے بارے میں یہ آیت اتری۔ رسول اللہ ﷺ نے دونوں طرف کے لوگوں کو بلا کر بیچ میں بیٹھ کر صلح کرا دی اور سب لوگ مل گئے پھر حکم ہوتا ہے دونوں فریقوں میں عدل کرو، اللہ عادلوں کو پسند فرماتا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں دنیا میں جو عدل و انصاف کرتے رہے وہ موتیوں کے منبروں پر رحمن عزوجل کے سامنے ہوں گے اور یہ بدلہ ہوگا ان کے عدل و انصاف کا (نسائی) مسلم کی حدیث میں ہے یہ لوگ ان منبروں پر رحمن عزوجل کے دائیں جانب ہوں گے یہ اپنے فیصلوں میں اپنے اہل و عیال میں اور جو کچھ ان کے قبضہ میں ہے اس میں عدل سے کام لیا کرتے تھے۔ پھر فرمایا کل مومن دینی بھائی ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اسے اس پر ظلم و ستم نہ کرنا چاہیے۔ صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہے اور صحیح حدیث میں ہے جب کوئی مسلمان اپنے غیر حاضر بھائی مسلمان کے لئے اس کی پس پشت دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے آمین۔ اور تجھے بھی اللہ ایسا ہی دے۔ اس بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں صحیح حدیث میں ہے مسلمان سارے کے سارے اپنی محبت رحم دلی اور میل جول میں مثل ایک جسم کے ہیں جب کسی عضو کو تکلیف ہو تو سارا جسم تڑپ اٹھتا ہے کبھی بخار چڑھ آتا ہے کبھی شب بیداری کی تکلیف ہوتی ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے مومن مومن کے لئے مثل دیوار کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے پھر آپ نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا مسند احمد میں ہے مومن کا تعلق اور اہل ایمان سے ایسا ہے جیسے سر کا تعلق جسم سے ہے، مومن اہل ایمان کے لئے وہی درد مندی کرتا ہے جو درد مندی جسم کو سر کے ساتھ ہے۔ پھر فرماتا ہے دونوں لڑنے والی جماعتوں اور دونوں طرف کے اسلامی بھائیوں میں صلح کرا دو اپنے تمام کاموں میں اللہ کا ڈر رکھو۔ یہی وہ اوصاف ہیں جن کی وجہ سے اللہ کی رحمت تم پر نازل ہوگی پرہیزگاروں کے ساتھ ہی رب کا رحم رہتا ہے۔