سورۃ الانسان: آیت 28 - نحن خلقناهم وشددنا أسرهم ۖ... - اردو

آیت 28 کی تفسیر, سورۃ الانسان

نَّحْنُ خَلَقْنَٰهُمْ وَشَدَدْنَآ أَسْرَهُمْ ۖ وَإِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ أَمْثَٰلَهُمْ تَبْدِيلًا

اردو ترجمہ

ہم نے ہی اِن کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں، اور ہم جب چاہیں اِن کی شکلوں کو بدل کر رکھ دیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Nahnu khalaqnahum washadadna asrahum waitha shina baddalna amthalahum tabdeelan

آیت 28 کی تفسیر

نحن خلقنھم .................... تبدیلا

یہ ذرا ان لوگوں کو تنبیہہ اور تذکیر ہے جو اپنی قوتوں پر مغرور ہیں کہ تمہاری قوت بلکہ تمہارے وجود کا سرچشمہ بھی درحقیقت ہم ہیں۔ اور اس کے بعد مومنین کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اگرچہ تم قلیل و ضعیف ہو لیکن تم جس ذات کی دعوت لے کر اٹھے ہو وہ نہایت ہی قوت والی ذات ہے۔ اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ تمام واقعات اللہ کی قدرت سے وجود میں آتے ہیں اور ان کی پشت پر اللہ کی قدرت کار فرما ہوتی ہے۔ اور تمام امور اس کی حکمت کے مطابق سرانجام پاتے ہیں اور وہ احکم الحاکمین ہے۔

واذا شئنا ................ تبدیلا (18:76) ” اور جب ہم چاہیں ان کو بدل کر رکھ دیں “۔ اللہ کے مقابلے میں یہ کچھ نہیں کرسکتے۔ اللہ نے ہی ان کو پیدا کیا ہے۔ یو قوت اللہ ہی نے ان کو دی ہے۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان کے مقابلے میں ایک دوسری قوم اٹھا دے جو ان کی جگہ لے لے۔ اللہ نے جو ابھی تک ان کو مہلت دی ہے اور ان کی جگہ دوسری قوت نہیں اٹھائی تو یہ اللہ کا فضل وکرم ہے اور اس کا فیصلہ اور حکمت ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ اس آیت میں بھی رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور آپ کے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ اہل ایمان کے موقف اور دوسروں کے موقف کی وضاحت کی گئی ہے۔ اور ان لوگوں کو تنبیہہ کی گئی ہے جو اس دنیا کے معاملات میں غرق ہیں ، جو اپنی قوت پر مغرور ہیں کہ وہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کریں ، یا نہ کریں کہ شکر ادا کرنے کی بجائے وہ اللہ کی نعمتوں کو ذریعہ غرور بنائیں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ نعمتیں اور یہ مہلت دراصل آزمائش ہے۔ جس طرح سورت کے آغاز میں تصریح کی گئی تھی۔

اس کے بعد ان کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم کو جو مہلت دی گئی ہے اس کی ایک ایک گھڑی تمہارے لئے بہت قیمتی ہے ، قرآن کریم اللہ کی رحمت ہے۔ یہ مسلسل نازل ہورہا ہے اور یہ سورت بھی ایک تذکرہ ہے۔

آیت 28{ نَحْنُ خَلَقْنٰـہُمْ وَشَدَدْنَآ اَسْرَہُمْ } ”ہم نے ہی ان کو تخلیق فرمایا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں۔“ { وَاِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَآ اَمْثَالَہُمْ تَبْدِیْلًا۔ } ”اور ہم جب چاہیں گے ان جیسے بدل کر اور لے آئیں گے۔“ عام طور پر اس آیت کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے ایک قوم کو ختم کر کے اس کی جگہ کسی دوسری قوم کو لے آئے۔ لیکن اس سے پہلے چونکہ انسانی تخلیق اور انسانی جسم کے جو ڑبند درست کرنے کا ذکر ہوا ہے اس لیے میرے نزدیک اس جملے کا درست مفہوم یہ ہے کہ آخرت میں ہم ان لوگوں کو ان کے دنیوی زندگی والے جسموں جیسے اور جسم عطا کردیں گے۔ واضح رہے کہ یہ مضمون قبل ازیں سورة بنی اسرائیل : 99 ‘ سورة الواقعہ : 61 اور سورة یٰسٓ : 81 میں بھی آچکا ہے۔

آیت 28 - سورۃ الانسان: (نحن خلقناهم وشددنا أسرهم ۖ وإذا شئنا بدلنا أمثالهم تبديلا...) - اردو