ان ھذہ .................... سبیلا
اور اس کے بعد یہ تصریح بھی کردی جاتی ہے کہ اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور ہر چیز اللہ کی مشیت کے مطابق ظہور پذیر ہوتی ہے۔ تاکہ لوگوں کی آخری توجہ اللہ کی طرف ہو۔ اور آخر کار سب لوگ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ انسان اپنی قوت پر مغرور ہونے کی بجائے اللہ کی قوت پر بھروسہ کرے۔ اور یہ عقیدہ رکھے کہ حقیقی قوت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے یعنی پوری طرح اللہ کے آگے جھک جائے۔
آیت 29{ اِنَّ ہٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌج } ”یقینا یہ تو ایک یاد دہانی ہے۔“ { فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًا۔ } ”تو جو چاہے اپنے ربّ کی طرف راستہ اختیار کرلے۔“ یعنی جس کا جی چاہے اپنے رب کے قرب کا راستہ اختیار کرلے۔ اس مضمون کے حوالے سے صوفیاء کے ہاں سیر الی اللہ ‘ تقرب الی اللہ ‘ سلوک الی اللہ وغیرہ اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔