سورۃ الانسان: آیت 30 - وما تشاءون إلا أن يشاء... - اردو

آیت 30 کی تفسیر, سورۃ الانسان

وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا

اردو ترجمہ

اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ نہ چاہے یقیناً اللہ بڑا علیم و حکیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama tashaoona illa an yashaa Allahu inna Allaha kana AAaleeman hakeeman

آیت 30 کی تفسیر

وما تشاءون .................... حکیما

یہ اس لئے تاکہ انسانوں کے دل یہ جان لیں کہ فاعل مختار دراصل اللہ ہے۔ وہی متصرف اور زبردستی کنٹرول کرنے والا ہے تاکہ سب دل اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ یہ ہے وہ حقیقت جو ان آیات میں بیان کی گئی ہے کہ اصل فاعل مختار اللہ ہے لیکن اللہ نے انسان کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ حق و باطل کو سمجھ سکے اور اللہ کی مشیت کے مطابق سچائی یا باطل کی طرف اپنا رخ کرسکے۔ اس کے لئے اللہ نے انسان کو علم ومعرفت بھی عطا کیا۔ اور رسول بھیج کر انسانوں کو حق و باطل کا راستہ بھی اچھی طرح سمجھایا۔ اور قرآن اور دوسری کتابیں اتار کر راستے کی نشاندہی بھی کردی۔ لیکن یہ سب امور اللہ کی قدرت اور مشیت کے دائرے کے اندر ہوتے ہیں۔ پس جو شخص اللہ کی طرف اپنا رخ کرتا ہے۔ اللہ اسے راہ راست کی طرف آنے کی توفیق دیتا ہے۔ جب وہ اپنا رخ اللہ کی طرف نہ کرے اور اللہ کے سامنے دست بدعا نہ ہو تو وہ ہدایت و فلاح سے محروم ہوجاتا ہے اور ایسے شخص کو توفیق نہیں ہوتی۔

آیت 30{ وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ } ”اور تمہارے چاہے کچھ نہیں ہوسکتا ‘ جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔“ { اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا۔ } ”یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا ‘ کمال حکمت والا ہے۔“

آیت 30 - سورۃ الانسان: (وما تشاءون إلا أن يشاء الله ۚ إن الله كان عليما حكيما...) - اردو